پاکستان ہاوسنگ اسکیم اور عوام کا ’’کردار‘‘ —- خرم شہزاد

0
  • 64
    Shares

وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی جو اعلانات کئے ان میں ایک اعلان غریب افراد کے لیے سستے گھروں کی تعمیر بھی تھا۔ ایسے بہت سے اعلانات ماضی کی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں لیکن آج تک غریب افراد کو ایسے مکانات نہ مل سکے، ہاں ایسا ضرور ہوا کہ لوگوں کی ساری عمر کی جمع پونجی ایسی اسکیموں کی نظر ہو گئی اور کرائے کے گھروں میں رہنے والے بھی سڑکوں پر آ گئے۔ بہت خراب ماضی کے حامل ہاوسنگ اسکیم اعلانات کی وجہ سے موجودہ منصوبہ بھی اپنے آغاز سے بہت پہلے زیر بحث آ گیا اور اس منصوبے کے بارے کوئی مثبت رائے قائم ہونے کے بجائے تحفظات بیان کئے جانے لگے۔ حکومتی ٹیم لیکن اپنے کام میں لگی رہی اور تانے بانے بنے جاتے رہے اور ایک روز رجسٹریشن کے لیے آن لائن فارم جاری کر دیا گیا۔ اعلان کی بازگشت ابھی فضاء میں موجود تھی کہ پورا پاکستان ویب سائٹ پر ٹوٹ پڑا جس کی وجہ سے ویب سائٹ بیٹھ گئی۔ حکومتی اداروں نے تھوڑی ہی دیر میں ویب سائٹ تو بحال کر دی لیکن ہر کام میں کیڑے نکالنے والی عوام کو باتیں کرنے کے لیے ایک اور بہانہ مل گیا۔ آخری خبروں کے مطابق وزیر اعظم پاکستان اسکیم کا باقاعدہ آغاز کر چکے ہیں اور بینکوں کی معاونت سے شروع ہونے والے اس کام کے خدوخال بہت حد تک واضح ہو چکے ہیں لیکن اگر کوئی بات واضح نہیں ہوئی یا ابھی تک اس پر کوئی بات نہیں ہوئی تو وہ پاکستانیوں کا اپنا ذاتی کردار ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے مطابق پاکستان ہاوسنگ اسکیم غریب لوگوں کو سستے گھر فراہم کرنے کا منصوبہ ہے لیکن جس طرح سے ہر پاکستانی نے فارم ڈاون لوڈ کیا اور جمع کروانے کے لیے قطار میں سب سے پہلے کھڑا ہوا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ پورا پاکستان ہی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ ہم کہیں بھی چلے جائیں، کسی سے بھی سوال کریں، دوسرا فورا اپنی غربت کا رونا رونے لگ جائے گا۔ تیسری دنیا کا ملک ہونے کی وجہ سے یقینا پاکستان میں غربت موجود ہے لیکن یہ غربت کتنی اور کس قدر ہے اس پر بات ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم غریب کسے سمجھتے ہیں اور کسے واقعی ہی غریب قرار دیا جا سکتا ہے یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔ جیسے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بیس سے چالیس ہزار کے موبائل عام استعمال کرتی ہے لیکن پھر بھی یہ سب غربا کے درجے میں اپنے آپ کو شامل رکھنا چاہتے ہیں۔ انہی موبائلز کا دو سے تین ہزار ماہانہ خرچہ بھی ہوتا ہے لیکن چونکہ کوئی نوکری انہیں ملتی نہیں اور اپنا کام کرنا انہیں آتا نہیں یا شائد اپنا کام کرنا کسر شان سمجھتے ہوں، اس بے روز گاری کی وجہ سے بھی خود کو غریب ہی کہلاتے ہیں۔ پاکستان کے چالیس فیصد سے زائد گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں ایک سے زائد سواریاں (کم سے کم موٹر سائیکل) موجود ہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ گھر کے ہر مرد کے پاس اپنی سواری موجود ہوتی ہے کیونکہ اسے اپنے وقت کے مطابق اپنے کام پر جانا ہوتا ہے۔ ایسے گھرانوں کا بھی سروے کروایا جائے تو یہ سب بھی اپنے آپ کو غریب لوگوں میں شمار کرتے ہیں کیونکہ ان میں اکثریت یا تو کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہوتی ہے یا پرانے خاندانی گھروں میں گزارہ کر رہے ہوتے ہیں جہاں سے نکلنا سب کی اولین خواہش ہوتی ہے۔ غربت اور کم وسائل یقینا پاکستان میں بڑے مسائل ہیں لیکن پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد جو کہ کرائے کے گھروں میں بھی رہائش پذیر ہے، وہ پندرہ سے بیس ہزار روپے یا اس سے زائد کرایہ دے رہے ہیں۔ دس سے بارہ ہزار روپے کرایے والا مکان ملنا بڑے شہروں میں تو مفت ملنا سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ تمام لوگ بھی خود کو غرباء میں شامل رکھتے ہوئے پاکستان ہاوسنگ اسکیم پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ فارم ڈاون لوڈ کرنے اور جمع کروانے والوں میں ایک بڑی تعداد بیرون ملک رہنے والے افراد کی بھی ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے افراد کم سے کم چالیس سے پچاس ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو تسلی ہوتی ہے کہ پہلی تاریخ کو پچاس ہزار اکاونٹ میں آ جانے ہیں، اسی لیے ستر ہزار کے خرچ کی لسٹ پہلے سے تیار ہوتی ہے۔ پاکستان میں موجود اپنے گھر والوں کی اسی شاہانہ زندگی کے باعث بیرون ملک رہنے والے افراد عرصے سے باہر رہنے کے باوجود نہ تو کوئی خاص رقم پس انداز کر سکتے ہیں اور نہ ان کے پاس کوئی اور صورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بڑھاپے کو محفوظ سمجھ سکیں۔ اسی وجہ سے بیرون ملک رہنے والے افراد کی کثیر تعداد نے بھی اپنے آپ کو غریب کے خانے میں رکھتے ہوئے ہاتھ پھیلا دئیے ہیں۔

آپ یقینا اس سب کو لفاظی کہہ رہے ہوں گے لیکن کیا واقعی ایسی صورت حال نہیں ہے؟ کیا اچھے خاصے کھاتے پیتے افراد نے بھی ہاوسنگ اسکیم کے لیے درخواست جمع نہیں کروائی ہیں؟ بہت سے لوگ حلفا کہہ سکتے ہیں کہ ان کے جاننے والوں نے اس اسکیم کے لیے بالکل اپلائی نہیں کیا لیکن یہ بھی ہمارے لوگوں کی ایک بد قسمتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے شاہانہ مزاج سے تغافل تو دیکھاتے ہیں لیکن لنگر خانے کے چاولوں سے لے کر مفت کی شراب تک کچھ بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے اور ایسی کسی بھی اسکیم کے اعلان ہونے کی دیر ہوتی ہے کہ جب تک لوگ سوچیں، ہم درخواست جمع بھی کروا چکے ہوتے ہیں۔

پاکستانیوں کی انہی عادات اور حرکات کو دیکھتے ہوئے ماضی کی حکومتوں کے اعلانات اور ناکام منصوبوں کا جائزہ لیا جائے تو عوام کو بھی مورد الزام ٹھہرائے بنا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ غریبوں کی فلاح کے شروع کئے جانے والے بہت سے منصوبوں کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ علاقے کے ہر صاحب حیثیت شخص نے بھی حرص و ہوس اور لالچ میں جھولی پھیلا دی جس کی وجہ سے اصلی غریب کسی بھی منصوبے کے ثمرات پانے سے ناکام رہا۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ نہ تو عوام اپنے گریبان میں جھانکتی ہے اور نہ ہی کوئی اور ان کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود ناشکری کا مظاہر ہ کیوں کیا گیا اور درخواست دیتے ہوئے کیا کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس طرح وہ کسی اصلی غریب کا حق مار رہا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اتنے غریب نہیں جتنے خود کو ظاہر کرتے ہوئے درخواست گزار بنے ہوئے ہیں۔ خدارا اپنے رب کی عنایات پر شکر گزار ہوں اور جو اس ملک میں واقعی غریب اور بے گھر ہیں انہیں ایسی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے دیں۔ کسی کا حق کھاتے ہوئے اپنی چالاکیوں پر دل ہی دل میں مت مسکرائیں اور سمجھیں کہ آپ نے کچھ بنا لیا ہے۔ آپ کا یہ بنا بنایا کچھ سال میں پھر تقسیم ہونے کے لیے تیار ہو گا۔ اس لیے گزارش ہے کہ چند روز کی اس زندگی میں کچھ تو اپنے کردار کا مظاہرہ کریں اور کسی دوسرے کے منہ میں بھی نوالہ جانے دیں۔ شائد اسی طرح سے ملک میں سکون، امن اور خوشحالی کا راستہ کھل سکے اور ہم سب ایک اچھے معاشرے کی طرف اپنے سفر کو شروع کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  دانش: ایک مہا بودھی پیڑ ——– فارینہ الماس
(Visited 104 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: