کراچی ترقیاتی پیکج: عمران خان حکومت کا اچھا اقدام — ڈاکٹر رئیس صمدانی

0
  • 54
    Shares

کراچی بھی عجیب و غریب قسمت لے کر پیدا ہوا ہے، جو حاکم بھی آئے انہوں نے اسے سبز باغ دکھائے، اس کے وسائل سے خوب فیض یاب ہوئے لیکن کسی ایک نے بھی پاکستان کے سب سے بڑے شہر، غریب پرورشہر اور امیر سے امیر بنانے والی مشین کو اون نہیں کیا۔ اس شہر نے حاکم ِوقت کو جھولی بھر بھر کے ووٹ دئے ہوں یا نہ دئے ہوں، اس کی سیاسی سوچ ہمیشہ مختلف رہی ہے۔ یہ شہر ایوب خان کے خلاف گیا مادر ملت کو سر پر بیٹھایا، جس کے نتیجے میں ظلم کے پہاڑ اس پر ڈھائے گے، اس شہر نے بھٹو کے خلاف ووٹ دیا اور بے یار و مدد گار رہا، بے نظیر کے خلاف، آصف زرداری کے خلاف ووٹ دیا، ٹھکرایا گیا، زبان کی بنیاد پر بھائی کو سر پر بیٹھا یا، وہاں سے جو کچھ ملا سب کے سامنے، نواز شریف تین بار حکمراں بنیں، انہوں نے انہی کے درپر حاضری دی جن کو کراچی نے ووٹ دیا لیکن نون لیگ کی حکومت نے بھی کراچی کو اپنا نہیں بنایا۔ کراچی کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جس کو سر پر بیٹھانا جانتا ہے اسے زمین بوس کرنے میں دیر بھی نہیں لگاتا۔ بھائیوں کو سر پر بٹھایا، وقت آیا تو انہیں پٹخنے میں دیر نہیں لگائی۔ 2018ء کے انتخابات میں کراچی نے کپتان کو سر پر بیٹھایا، عزت دی، ووٹ دئے۔ کپتا ن کے وعدے پر اعتبار کیا، وہ سیٹیں جو سابقہ ادوار میں بھائیوں کو دیتے رہے تھے کپتان کی جھولی میں ڈال دیں۔ اس امید اور آرزوکے ساتھ کہ شاید کپتان کراچی کواون کر لے۔ اس کے ساتھ جو ناانصافی ماضی کی حکومتیں کرتی رہیں ہیں ان کا ازالہ کپتان کردے۔ کپتان کی حکومت نے میاں نواز شریف کی طرح ملک کی صدارت ایک بار پھر کراچی کو دیدی، وزیر و مشیر بھی کئی بنادیے۔ کراچی کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی بھی کی۔ اپنے 100 دنوں کی کارگزاری میں کراچی کو بدلنے کی نوید سنائی تھی، اس پر در آمد کے لیے اپنی جماعت کے منتخب اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کا کام کراچی شہر کو صاف شفاف اور کرپشن سے پاک اقدامات کے ذریعہ بہتر اور ترقی یافتہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ اس کمیٹی کی کارکردگی چار ماہ بعد یہ سامنے آئی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 162ارب روپے کا ایک پیکج تیار کیا۔ جو ملک کے وزیر اعظم عمران خان صاحب بطور خاص اسلامی آباد سے کراچی تشریف لائے اور اہل کراچی کو یہ خوش خبری سنائی۔

کراچی سے اپنی آنکھیں بند کیے رکھنا، اسے اگنور کرنا، جب پانی سر سے اوپر چلا جائے، کراچی ڈوبنے کے قریب پہنچ جائے تو پھر اہل کراچی کی تسلی و تشفی کے لیے اس کے آنسو پونچھنے کے لیے، دنیا کو دکھانے کے لیے ماضی کی حکومتیں بھی ترقیاتی پیکچ کے نام سے کراچی کا منہ بند کرتی رہیں ہیں۔ ایوب خان صاحب نے کراچی کو کیا دیا، کچھ نہیں بلکہ یہاں موجود دارالخلافہ کراچی سے اٹھا کر اپنے آبائی گا ؤں کے نذیک لے گئے، اگر بس چلتا تو وہ اسلام آباد کے بجائے ہری پور کو دارالخلافہ بنادیتے۔ بھٹو صاحب کو بھی اہل کراچی نے ٹھکرادیا انہیں پورے پاکستان سے ووٹ ملے کراچی سے انہیں ایک یا دو نشستیں ہی مل سکیں، پھر انہوں نے جو کراچی کے سا تھ کرنا تھا وہ کیا، لیکن ترقیاتی کام ہوئے وہ تو ہونا ہی تھے، کراچی میں جو ترقی ہوئی اور خود رو پودوں کی طرح ہے، چاہے حکومت کی خواہش ہو یا نہ ہو، یہاں تعمیرات تو ہونی ہی ہیں، بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہونا ہی ہیں، ہوٹل بننا ہی ہیں، کاروبار ہونا ہی ہے، بنک قائم ہونے ہی ہیں۔ اسٹیل مل ضرور قائم ہوا لیکن اس میں بھرتیاں کر کے اس کو ڈبو دیا۔ یہی صورت حال بے نظیر، نواز شریف، آصف علی زرداری کے دور حکومت میں بھی ہوا۔ 2018 کے انتخابات میں پی پی لیاری کی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھی، ایسی صورت حال میں سندھ حکومت کراچی کے لیے کیا کرے گی۔ البتہ جنرل پرویز مشرف کو کتنا ہی برا کہا جائے، فوجی ڈکٹیٹر کہا جائے اس نے پاکستان کو ہی نہیں بلکہ کراچی کے لیے دل کھول کر کام کرنے کی اجازت دی اور کام ہوا بھی۔ اگر اس دور میں کراچی میں کام نہ ہوا ہوتا تو آج کراچی انتہائی ابتر حالت میں ہوتا۔ پیکیجیز کا اعلان بے نظیر نے بھی کیا، نواز شریف نے بھی کیا لیکن وہ پیکیجز کراچی کی جغرافیائی حدود، آبادی، اقتصادی مرکز اور سب سے بڑے شہر ہونے کے اعتبار سے نا کافی تھے۔ ان سے کراچی کی سڑکیں بھی تعمیر نہ ہوسکیں۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جب کہ مرکز میں تحریک انصاف کی، یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا، نوازشریف کی حکومت مرکز میں تھی جب کہ پیپلز پارٹی کے حکومت سندھ میں تھی۔ سندھ میں بھی یہی صورت حال ہے کہ کراچی سندھ کی سیاسی پارٹی پی پی کے مخالف رہا ہمیشہ سے، گویا سندھ کے دیہی ووٹرز نے ہمیشہ سندھ کے شہری ووٹرز پر حکمرانی کی، کراچی کا حوصلہ دیکھیں کہ وہ اس صورت حال کا مقابلہ کرتا چلا آرہا ہے۔ 2018ء کے انتخابات کے بعد کراچی کی صورت حال انتہائی ابتر ہوچکی تھی، اس کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، اسپتالوں کو برا حال، تعلیمی اداروں کا نظام چوپٹ، پانی کی قلت، بجلی گھنٹوں غائب، اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار کا بازار گرم، قتل و غارت گری اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ جب پانی سر سے اوپر چلا گیا، کراچی کے شہری بلبلا اٹھے، کراچی کے شہری ہی نہیں بلکہ دنیا نے حکمرانوں کی توجہ اس جانب منزول کرائی تو بھتہ مافیا کا راج، موبائل جھین کی وارداتیں کھلے عام ہورہی تھیں۔ ایسی صورت حال میں حکومت سندھ مجبور ہوئی نظر کرم کرنے پر اور کچھ ترقیاتی کام ہوئے، سڑکوں کی مرمت ہوئی، کوڑے کرکٹ اٹھانے کے انتظامات ہوئے، جس کا کام شہر کو صاف ستھرا رکھنا ہے وہ کہتا پھرتا ہے کہ میرے پاس اختیارات نہیں، میں کیا کروں۔ بات بھی درست تھی اس کی کہ اسے تو اہل کراچی نے کرسی پر بیٹھنے کے لیے میئر بنایا تھا، کام کرنے کے لیے تو نہیں۔ اس لیے اہل کراچی اس قدر غیر سیاسی نہیں، لاعلم نہیں کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میئر کراچی کے پاس کام کر نے کے اختیارات نہیں، اس کا کام صرف کرسی پر آرام سے بیٹھنا ہے۔ کوئی پوچھے صاحب بہادر سے کہ بھئی جب تمہارے پاس اختیارات بھی تھے کرسی بھی اس وقت کتنے ترقیاتی کام کیے تھے جو اب بے اختیاری میں کروگے۔

مرکزی حکومت نے چار ماہ گزار دئے منصوبہ بناتے بناتے۔ چار ماہ میں جو منصوبہ تیار ہوکر سامنے آیا اور عمران خان صاحب نے اپنے دورہ کراچی میں اس اعلان کیا ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی پورے ملک کی ترقی ہے۔ اس کے لیے نئے ماسٹر پلان کی تیاری کا بھی اعلان بھی کیا۔ کراچی کی سیاسی، اقتصادی، سابقہ حکومتوں کے کراچی کو اگنور کرنے کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو کراچی کے لیے جس رقم کا اعلان کیا گیا ہے وہ ناکافی ہے لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے کراچی کے کیے جو پیکج کا اعلان کیا اس کی کچھ تفصیل بھی انہوں نے بیان کی جو مختلف اخبارات میں رپورٹ بھی ہوئی۔ وزیر اعظم نے فرمایا کہ ’’یہ پیکج سرکاری و سائل اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے تیارکیا گیا ہے۔ پیکج میں18منصوبے شامل ہیں جن میں پبلک ٹرانسپورٹ کے 10اور واٹر سیورج کے7 منصوبے ہیں۔ شہر میں گرین لائن بس منصوبہ فعال کرنے کے لیے 8ارب روپے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی ٹرانسپورٹرز کے لیے نئی ٹرانسپورٹ اسکیم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گا ہے۔ اسکیم کے تحت ٹرانسپورٹرز بنک سے آسان قرضے حاصل کر سکیں گے۔ 500 ٹرانسپورٹرز کو 500نئی بسیں خریدنے کے لیے قرضہ دیا جائے گا، قرضے کی مدت 6سال ہوگی اور اس پر سود وفاق ادا کرے گا۔ لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا اور ٹریک کو بہتر بنانے کے لیے 2ارب کا خصوصی فنڈ جاری کیا جائے گاجب کہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے دوبارہ مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کراچی کے 6اضلاع میں شمسی توانائی کے 200آر او پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 5ایم جی ڈی پانی کا آر او پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کے فور کی نئی لاگت کی 50فیصد فنڈنگ وفا قی حکومت کرے گی۔ کراچی کے علاوہ وزیر اعظم عمرا ن خان نے اس موقع پر حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام کے فیصلے کا بھی اعلان کیا۔ 162ارب روپے کے اس کراچی پیکج پر اگر ایمانداری، سچائی اور چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ عمل ہوجائے تو کراچی شہر کے اہم مسائل حل ہوجائیں۔ ساتھ ہی سندھ کی حکومت بھی کراچی کی ترقی پر خصوصی توجہ دے، میئر کراچی کو جو اختیارات حاصل ہیں ان کے استعمال میں رکاوٹ نہ بنیں۔ جو اختیارات میئر سے لے لیے گئے ہیں وہ قانونی مسائل ہے ان کے لیے کراچی کے شہر کے مفاد میں حکومت اور اپوزیش مل کر قوانین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ عمران خان کے کراچی پیکج کی کامیابی کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ نیز وفاقی حکومت کو اس پیکج پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ عمران خان از خود اس کی پروگریس کو مانیٹر کرتے رہیں۔ ایسی صورت میں ہی کراچی شہر کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھئے: بنتا بگڑتا کراچی: سلگتے سوال —— عطا محمد تبسم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: