ٹک ٹک دیدم سیلفی کشیدم —- لالہ صحرائی کا انشائیہ

0
  • 161
    Shares

پیر رومی علیہ رحمۃ نے ایک کتاب لکھی تھی ‌”فیہ ما فیہ” یعنی اس میں وہ کچھ ہے جو کچھ اس میں ہے، عربی کا ایک مقولہ بھی کچھ ایسا ہے کہ برتن میں سے وہی کچھ نکلے گا جو کچھ اس میں ہے۔

ان دونوں باتوں کا تعلق اخلاقی تربیت سے ہے، سیانے بزرگ انسان کی ایسی تربیت کرنا چاہتے تھے کہ اس میں سے اچھے اخلاق نمودار ہوں لیکن انسان ہمیشہ سے وہ اعلٰی چیز رہا ہے جو ان باتوں کو نہیں سمجھتا بلکہ وہ صرف اسی چیز کو سمجھنا چاہتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے، جہاں تک اخلاقی تربیت کا تعلق ہے تو یہ تربیت بھی اسے خلافِ اخلاق کاموں کی چاہئے، سیلفی بھی ایک ایسی ہی چیز ہے جو اسی قسم کی معکوس تربیت سے حاصل ہوئی ہے۔

عربی کہاوت کیمطابق سیلفی لینے والے بھی اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ انسان کے باہر بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو انسان کے اندر ہوتا ہے یا بوقت سیلفی دراصل وہ باہر سے اپنی اندرونی منشاء کے عین مطابق لگ رہے ہوتے ہیں اسی لئے اس موقع کو کیپچر کر لینا چاہتے ہیں لہذا بے اختیار ان کا ہاتھ سیلفون کے کیمرے پر جا پڑتا ہے۔

دنیا میں فوٹو بنانے کا رواج کیمرے کی ایجاد سے پہلے بھی موجود تھا اور بعد میں بھی ایک آرٹ کا درجہ رکھتا ہے بلکہ مونا لیزا کے پورٹریٹ سے لیکر ہمارے ایک صدر صاحب کی بارہ لاکھ روپے کی لاگت سے بننے والی تصویر تک ہر مثالی تصویر منظر کشی کے آرٹ ہونے کا منہ بولتا سے لیکر منہ چیختا ثبوت ہے۔

مونا لیزا کا منہ دیکھ کر واقعی منہ بولتا ثبوت لگتا ہے اور سابق ہیڈ آف دی اسٹیٹ کا فوٹو دیکھ کے منہ چیختا ثبوت لگتا ہے اسلئے کہ اتنی لاگت تو مونا لیزا کی تصویر پر نہیں آئی جتنی ہمارے ہز ایکسیلینسی کے فوٹو پر آگئی، یہ واحد موقع تھا جب سارا باشعور طبقہ اتنی مہنگی تصویر دیکھ کے بلکہ اتنی مہنگی تصویر کہہ کے چیخ اٹھا تھا۔

یہ بات ویسے غور طلب ہے کہ ہز ایکسیلینسی کی اتنی مہنگی تصویر بنوانے کی بجائے کوئی دوسرا طریقہ سوچ لیا جاتا تو چار پیسے بچ جاتے جبکہ ایسے طریقے سوچنے والے مفکرین کی ہمارے دیس میں کوئی کمی بھی نہیں ہے، مثال کے طور پر نواب ککو صاحب کا نظریہ ہے کہ تصویر میں نور لانے کے لئے عوام کے اتنے پیسے خرچوانے کی بجائے اس موقع پر اگر “مائزہ سوپ استعمال کرو اور چھا جاؤ” والا صابن استعمال کرا لیا ہوتا تو ہمارے کافی سارے پیسے بچ سکتے تھے، بس زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ کا صابن لگ جاتا۔

پھر جہاں صابن بنانے والی آپا کو ایک لاکھ روپے نقد کا گاہک مل جاتا وہیں اس صابن کو صدارتی ایوارڈ برائے “حسن کارکردگی” بھی لازمی طور پہ مل جانا تھا لیکن کچھ تو آپا کے نصیب میں یہ خوشی نہی تھی اور کچھ ہمارے نصیب میں یہ دکھ بھی جھیلنا تھا کہ بھوکے ننگے عوام اپنے ہز ایکسیلینسی کو بارہ لاکھ کی تصویر بھینٹ کریں۔

تصویر کشی کی یہی گرانی دیکھ کر لوگ جب تصویر بنوانے سے الرجک ہوگئے تو اللہ بھلا کرے ایک مسلمان جابر بن مجبور ابن مجبر کا جو باقائدہ سائنسدان بننے سے رہ گیا تھا، اس نے نیشاپور میں اپنے گھر کی چھت پر واقع رسدگاہ میں اپنی گرلفرینڈ کیساتھ سیلفی بنانے کا باقائدہ کامیاب تجربہ کرکے عوام کو بتایا۔

سیلفی کا ظہور اور وہ بھی جب ایک غیر سائینسدان مسلمان کے ہاتھوں ہو تو اس میں ایک ہمہ گیر برکت کا عنصر پیدا ہونا بھی ایک لازمی امر تھا چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے سیلفی دنیا بھر میں مقبول ہوتی چلی گئی، مغربی دنیا نے ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی ہماری نقل کرنے کو روا رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے مغرب نے بھی اسے اپنا لیا۔

سیلفی ایک طرف وقت بچاؤ اور پیسے بچاؤ کے سنہری اصول پر کام کرتی ہے تو دوسری طرف یہ کام ایسا ہے جو بجا طور پر خود انحصاری کی طرف “غیر سائنسدان مسلمانوں کا پہلا قدم” قرار دیا جا سکتا ہے، خود انحصاری کے بارے میں ایک مسلمان فلسفی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ یہ عمل بلکل ایسا ہی ہے جیسے خود سے شادی کرنا یا جب تک شادی نہیں ہوتی تب تک جیسے تیسے اپنا گزارا خود چلانے کے مترادف ہے۔

سیلفی کے بارے میں اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے کہ “سیلفی دراصل اپنے ہاتھوں اپنی مٹی پلید کرانے کے مترادف ہے” بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیلفی کا تعلق بیک وقت من کے اندر اور باہر سے ہے یعنی سیلفی لینا خود سے خود تک کا سفر ہے اور یہ وجدۃالوجود سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا خاص مشرب ہے۔

نواب ککو صاحب اپنی چھپ نہ سکنے والی کتاب “وجدۃالوجود” میں کہتے ہیں کہ جب انسان میں خود انحصاری کی عقبی روح بیدار ہوتی ہے تو انہیں اپنی منزل ہمیشہ اپنے ہاتھ یا دسترس میں نظر آتی ہے اور وہ کسی بھی خوشی کے موقع پر اس منزل کو زرا سا ہاتھ پلہ مار کے حاصل کرلیتا ہے۔

اس کتاب کے حاشیے میں ککو صاحب فرماتے ہیں عقابی روح انسان کو اونچائی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ عقبی روح انسان کو اس کی اپنی طرف سفر کرنے کا ذوق بخشتی ہے جو نظریہ وجدۃالوجود کی اصل روح ہے۔

ایک دوسرے پائیدان یعنی فٹ نوٹ میں ککو صاحب مزید فرماوت ہیں کہ وجدۃالوجود کا تعلق مابین الطبیعات سے ہے جو انسان کی اندرونی طبیعت کے اظہار کا آئینہ دار ہے اور سیلفی اس سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

سیلفی لینا خود سے خود تک کا سفر تو ہے لیکن یہ ایک کلک میں کبھی مکمل نہیں ہوتا بلکہ ایک بار سیلفی لے کر ایسا لگتا ہے جیسے ابھی بھی کچھ کمی رہ گئی ہے، اس کمی کو پورا کرنے کیلئے دوسری سیلفی لی جاتی ہے اور بعض اوقات یہ سلسلہ کافی دراز بھی ہو جاتا ہے یعنی وجدۃالوجود کے ماننے والوں میں ہر وجد آفرین موقع پر سیلفی لینا اتنا ہی فرض ہے جتنا ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد مور کا اپنے پنکھ پھیلا کر ناچنا اور پھر اپنے پاؤں دیکھ کے مطمئن نہ ہونا اور پھر مزید اطمینان کیلئے دوبارہ پنکھ پھیلا کر ناچنا۔

سیلفی لینے میں بعض بہت خطرناک مقام بھی آتے ہیں اس لئے اس راہ میں قدم رکھنے سے پہلے آپ کے پاس ایک کامل قسم کے کیمرے والا سیلفون ہونا اشد ضروری ہے ورنہ سیلفی کے خدوخال مجروح ہونے کا سخت احتمال رہ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ جو اس مشرب کے اس سنہری اصول کی پاسداری نہیں کر پاتے وہ اپنے مابین الطبیعت وجد کو بدرجۂ اُتم پورٹریٹ کرنے میں بھی بلکل ناکام رہتے ہیں، ایسے لوگوں کی سیلفی دیکھ کے خوامخواہ اس مینڈک کی یاد آتی ہے جو تالاب کے کنارے اس بات پر منہ پھلائے بیٹھا ہوتا ہے کہ جب تالاب میں اتنا پانی ہے تو باہر بارش برسانے کی کیا ضرورت تھی؟

اس کا یوں منہ بنانا کسی حد تک سمجھ میں بھی آتا ہے، نہ جانے اس بیچارے کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی جب وہ خشکی اینجوائے کرنے کے لئے باہر آئے تو آگے خشکی کو پانی پانی ہوا دیکھے، میڈیکل سائینس کے چاقو برداروں کو ڈائسیکشن کرتے وقت مینڈک کے ان جزبات کا بھی کھوج لگانا چاہئے کہ ان پر کیا گزرتی ہو گی تاہم وہ لوگ بھی مینڈک کا یہ درد بخوبی سمجھ سکتے ہیں جو مری میں برف باری دیکھنے جائیں لیکن گلوبل وارمنگ کے تحت وہاں گرمی پڑتی ہوئی نظر آئے، بس ایسا ہی کچھ مینڈک کے ساتھ ہوتا ہوگا اور ایسا ہی سیلفی لینے والے کیساتھ ہوتا ہے جب اس کی سیلفی مینڈک جیسی نظر آئے۔

سیلفسٹوں کے خود ساختہ امام جناب ککو نواب صاحب اپنی کتاب میں ایک طویل بحث کے بعد اس خیال کو رد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ سلفسٹوں کی نفسیات اس مرغی کی طرح ہے جو ہر چند لمحوں بعد اپنے پروں کے اندر چونچ مارنے کی عادی ہوتی ہے یا سامنے والی مرغی کو چونچ مارتی ہے تاہم وہ ان کی بار بار سیلفی لینے کی عادت کو اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ ایک اچھا وجدۃالوجودی وہ ہوتا ہے جو ہر لمحے کے اندر روپوش وجد کو پا لینا چاہتا ہے گویا وہ اپنے حسن کی ندرت کو ہر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک نظر دیکھنا اپنا سیلفسٹی فریضہ سمجھتا ہے۔

نواب ککو نے اپنی ایک دوسری کتاب “ٹک ٹک دیدم سیلفی کشیدم” جو انہوں نے خاص طور پہ اس مقصد کے لئے لکھ کے بغداد کی ایک لائبریری میں رکھوائی ہے کہ وہ ہلاکو خان کے بغداد پر حملے جیسے کسی استبدادِ زمانہ کے ہتھے چڑھ جائے تاکہ بعد میں اس کے ضائع ہو جانے کا بھرپور ماتم کیا جا سکے، اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ سیلفیوں کی کئی اقسام ہیں جن کی باآسانی درجہ بندی کی جا سکتی ہے، جیسے بعض سیلفیاں دریائی گھوڑے جیسی نظر آتی ہیں، بعض ٹیلوں پر رہنے والے کِرلے کی مانند سر اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں اور بعض پریشان حال گائے کی طرح سے نظر آتی ہیں جن کے ساتھ سیلفی لینے والے نے “فیلنگ سَیڈ” کا کیپشن بھی لگا رکھا ہوتا ہے، بعض سیلفیوں میں ایسے کندھے اچکا کے کھڑے ہوا جاتا ہے جیسے مرغا کسی مرغی کو دیکھ کر اپنے پر پھیلائے کھڑا ہوتا ہے۔

سیلفیوں کی مزید اقسام میں منہ بولتا اور منہ چیختا ثبوت کے بعد منہ چومتا ثبوت قسم کی سیلفیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں، ایسی سیلفیاں عموماً برگر بچے اور بچیاں شئیر کرتے ہیں جن میں وہ کیمرے کی طرف ہونٹ گول کر کے سیلفی بناتے ہیں، اس کیفیت کو کسی شرارتی انگریز نے ڈک۔فیس سیلفی قرار دیا ہے حالانکہ یہ سیلفی کا منہ چومتا ثبوت اور مقبول ترین سٹائل ہے۔

لڑکیوں کی سیلفیاں لڑکوں میں بہت مقبول ہوتی ہیں، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس مقبولیت کے پیچھے بیوٹی سوپ والوں کا ہاتھ ہے، دوسری طرف لڑکوں کی سیلفیاں صنف مخالف میں اتنی مقبول نہیں ہو پاتیں اسلئے ان کی حمایت میں گرافک ڈیزائننگ والوں نے کئی قسم کے فلٹر ایجاد کر دئے ہیں لہذا اصل مقابلہ اب بیوٹی کی بجائے، کیمرے کی صفائی، بیوٹی سوپ اور فلٹر کے مابین ہو رہا ہے۔

ککو صاحب کے مطابق سیلفیوں پر یہ اعتراض بھی بیجا ہے کہ لڑکیوں کے سر جوڑ کے سیلفیاں لینے سے جوئیں شئیر ہو جاتی ہیں یا لڑکوں کے آپس میں سر جوڑ کے سیلفی لینے سے معاشرے میں خشکی اور سکری کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ اس خیال کا فائدہ بھی صرف اینٹی لائس اور اینٹی ڈینڈرف شیمپو کی مارکیٹنگ کرنے والوں کو ہے۔

فلسفہء مابین الطبیعت کے مطابق سیلفی ایک مقدس امانت ہے جو حسن تقدس کے ساتھ عوام تک پہنچانی بہت ضروری ہے لیکن کچھ لوگ اس امانت میں خیانت کے مرتکب بھی ہوتے ہیں ایسے لوگ گرلفرینڈ کے ساتھ سیلفیاں بنوا کر اپنے دوستوں میں بانٹتے ہیں اور پھر اسی حرکت کے نتیجے میں بریک۔اپ جیسی لعنت کے مستحق بھی ٹھہرتے ہیں، “سیلفی کا انجام چھترول” والا محاورہ بھی انہی لوگوں کی بدولت ہی دامنِ ادب میں جگہ بنا پایا ہے۔

سیلفی چونکہ اپنے ارتقائی مراحل طے کر رہی ہے اس لئے کہیں بھی کسی بھی موقع پر بنائی جا سکتی ہے، اس کیلئے کوئی مقام اور موقع خاص نہیں بلکہ سیلفی کیلئے باتھ روم، ڈریسنگ ٹیبل، گاڑی کی اگلی پچھلی سیٹیں، اسٹڈی ٹیبل اور دفتری کرسی بھی موزوں چوائس ہیں جبکہ ہوٹلوں، پارکوں، کلاس رومز اور حرم شریف میں سیلفی لینا بھی جائز ہے لیکن رکوع و سجود میں سیلفی لینا بلکل ممنوع ہے تاہم ماشاءاللہ، جزاک اللہ جیسے ریمارکس کے حصول کیلئے روزے کی حالت میں اپنے اترے ہوئے منہ کی سیلفی بھی شوق سے لی جا سکتی ہے۔

سیلفسٹوں کو چاہیئے کہ جس طرح جی چاہے سیلفیاں بنائیں، منہ کھول کے، بازو لہرا کے، قہقہہ لگاتے ہوئے، ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے یا کوئی بھی دوسرا ناٹک جو آپ اس موقع پر بحسنِ خوبی کرسکتے ہیں بے شک اختیار کر لیں لیکن اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ آپ کی سیلفی میں کوئی ایسا پوز نہیں ہونا چاہئے کہ سیلفی کی درجہ بندی کرتے وقت مؤرخ آپ کو کسی بھانڈے ٹینڈے کے مشابہ قرار دیدے، اگر خدانحخواستہ ایسا ہوا تو سیلفی کی تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور اس سانحے کے ذمہ دار بھی آپ خود ہی ہوں گے۔

سیلفی کا مستقبل بہت تابناک ہے، آج کا سیلفیا جو کسی موقع پر آج صرف ایک سیلفی لیتا ہے آئیندہ کے دور میں ایک ہی موقع پر دو سیلفیاں لیا کرے گا جس کے ساتھ کچھ اسطرح کے کیپشن لگے ہوں گے؛

فلاں کام سے پہلے ……… فلاں کام کے بعد
نہانے سے پہلے………… نہانے کے بعد
پیپر دینے سے پہلے……… پیپر دینے کے بعد
سونے سے پہلے……… سونے کے بعد
رونے سے پہلے……… رونے کے بعد
ڈیٹنگ سے پہلے………… ڈیٹنگ کے بعد
چِیٹنگ سے پہلے……… پکڑے جانے کے بعد

دیگر سیلفیوں کے بعد اب ماحول میں روحانی سیلفیاں بھی آتی جا رہی ہیں تاہم ایک بڑا روحانی طبقہ ابھی بھی تصویر کی حرمت کا قائل ہے، لیکن وہ وقت بھی دور نہیں جب امام صاحب کی ایسی سیلفیاں بھی آنے لگیں گی؛

اسٹیج پر جانے سے پہلے………
تقریر کرنے سے پہلے…………
جمعہ پڑھانے سے پہلے………
اور اس تقریر سے پہلے جس کے بعد محلے کی دوسری مسجد والوں سے لڑائی ہوئی تھی وغیرہ وغیرہ۔

سیلفی کے معاملے میں نہ تو سیلف کانشیئیس ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی سیلفش ہونا چاہئے، یہ خود سے خود تک کا سفر ہے جس کا محرک اپنی ذات کی پہچان کرکے اسے فی سبیل الایویں ای دوسروں تک پہنچانا لازمی ہے اور اس کا ماخذ چونکہ وجد مابین الطبیعت کے سوا کچھ اور نہیں اسلئے وجدان کے ظاہر ہوتے ہی میرے دوستو سیلفی لینے میں کوئی دیر نہیں کرنی چاہئے خواہ کیسی بھی آئے، پھر اس کے اوپر کوئی اچھا سا فلٹر لگا لینا چاہئے تاکہ بنیادی انسانی حقوق کے تحت دیکھنے والے بھی سکون سے زندہ رہ سکیں۔

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: