مولانا حسرت موہانی: درویشی و انقلاب کا مسلک ——– فتح محمد ملک

0
  • 241
    Shares

جب میں آج کے پاکستان میں آئے روز، نام نہاد سیاسی رہنماؤں کی ہوسِ زر کی کہانیاں سُنتا ہوں تو مجھے تحریکِ پاکستان میں درویشی و انقلاب کا مسلک بے اختیار یا د آنے لگتا ہے۔ علامہ اقبال نے خود کو’ درویشِ خدا مست‘ کہا، قائداعظم کے بارے میں میر تقی میر بہت پہلے یہ پیش گوئی کر چکے تھے کہ’ جن روزوں درویش ہوئے تھے پاس ہمارے دولت تھی‘اور رئیس الاحرار مولانا حسرت موہانی کے ہاں مشقِ سخن بھی جاری رہتی تھی اور چکی کی مشقت بھی۔ میں جب بھی تحریکِ پاکستان کے ساتھ مولانا حسرت موہانی کی اٹوٹ وابستگی اور قائداعظم کے ساتھ نظریاتی یگانگت کا خیال کرتا ہوں تو مجھے ہمیشہ ایک ناقابلِ فراموش واقعہ یاد آتا ہے۔ہوا یوں کہ مولانا حسرت موہانی حسبِ معمول حرمِ کعبہ میں فریضۂ حج ادا کرنے میں مصروف تھے کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے اچانک انھیں دیکھتے ہی گلے سے دبوچ لیا اور غضبناک ہوکرپوچھا:’تم مسلم لیگ میں کیوں شامل ہوئے تھے؟‘ اس پر حسرت موہانی نے جواب دیا تھا :’یارِ من ! شیر اپنا راستہ خودمنتخب کرتا ہے اور ہمیشہ اُسی راستے پر رواں دواں رہتا ہے۔۱ ‘ سچ ہے مولانا حسرت موہانی برطانوی ہند کے وہ سیاست دان تھے جنہوں نے سب سے پہلے آزادیٔ کامل کا مطالبہ کر کے مہاتما گاندھی کو پریشان کر دیا تھا۔ ہمارے شاعروں اور دانشوروں میں وہ اس اعتبار سے بھی منفرد و ممتاز ہیں کہ اُنھوں نے اقبال کے انقلابی اسلامی تصورات کو اپنے سیاسی فکر و عمل کا سرچشمۂ فیضان ثابت کر دکھایا تھا۔ وہ تحریکِ پاکستان کے سامراج دشمن اور حریت پسند رہنماؤں میں اپنی مثال آپ تھے۔ ۱۳مئی ۱۹۵۱ء کو اُن کی وفات کی خبر سُن کر حمید نظامی مرحوم نے اپنی ذاتی ڈائری ’’ نشانِ منزل‘‘ میں لکھا تھا کہ:

’’آج مولانا حسرت موہانی انتقال کر گئے انا للّہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا کی موت سے تاریخ کا ایک باب ختم ہو گیا۔ مرحوم وضعداری، خودداری اور استقلال کا پیکر تھے۔ دس بارہ برس مسلم لیگ کے صفِ اوّل کے لیڈروں میں شمار رہا مگر قائداعظم کی بھی کبھی خوشامد نہ کی۔ ان کے منہ پر بھی صاف صاف کھری کھری سُنا دیتے تھے۔ مسلم لیگ نے اپنی اجلاس لکھنو (۱۹۳۷ء) میںاپنا نصب العین آزادی کامل مولانا حسرت موہانی کی تجویز پر ہی منظور کیا تھا۔ ملک تقسیم ہوا تو بڑے بڑے مسلم لیگی لیڈر پاکستان بھاگ آئے مگر مولانا حسرت موہانی آخر وقت تک ہندوستانی پارلیمنٹ میںحق گوئی کا فرض ادا کرتے رہے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔‘‘

اس عجب آزاد مرد نے مسلم لیگ ہی کو آزادئ کامل کا مسلک اپنانے پر مجبور نہیں کر دیا تھا بلکہ اس سے ربع صدی پیشتر کانگرس اور مسلم لیگ کے مشترکہ سیشن میں بھی آزادیٔ کامل کے لیے ریزولیوشن پیش کیا تھا۔ جب مہاتما گاندھی کو بتایا گیا کہ کل کے اجلاس میں مولانا حسرت موہانی آزادیٔ کامل کی آواز بلند کرنے والے ہیں تو مہاتما گاندھی فوراً مولانا کی رہائش گاہ پر آئے مگر اُن کی ساری منطق اور سارے استدلال کے باوجود مولانا اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ دوسرے روز جب مولانا نے آزادیٔ کامل کے حصول کا ریزولیوشن پیش کیا تو خود مہاتما گاندھی نے اس مطالبہ کو غیرذمہ دارانہ اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے اُس کی پُرزور مذمت کی۔ یوں مولانا حسرت موہانی برٹش انڈیا کے پہلے سیاستدان اور دانشور ہیں جنہوں نے آزادیٔ کامل کو برصغیر کی تحریکِ آزادی کا جلی عنوان بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُنھوں نے یہ مطالبہ ایک ایسے زمانے میں کیا تھا جب مسلم لیگ کے سرآغا خان اور کانگرس کے مہاتما گاندھی برطانوی استعمار کے عتاب سے تھر تھر کانپ رہے تھے۔ یہی صورتِ حال مولانا کے درج ذیل شعر میں منعکس ہے:

گاندھی کی طرح بیٹھ کے کیوں کاتیں گے چرخہ؟
لینن کی طرح دیں گے نہ دُنیا کو ہلا ہم

اسی طرح یہ شعر غالباً سرآغا خان کی نذر کیا گیا تھا:

درویشی و انقلاب مسلک ہے مرا
صوفی مومن ہوں، اشتراکی مسلم

سیدالاحرار مولانا حسرت موہانی سیاست دان اور صحافی بھی تھے اور شاعر اور عاشق بھی۔ ان ہر چار میدانوں میں اُنھوں نے حق گوئی اور بیباکی کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ اپنے رسالہ ’’اردوئے معلی‘‘ میں جب اُنھوں نے مصر میں برطانوی استعمار کی ہلاکت خیزیوں پرکسی کے قلمی نام سے ایک طویل مضمون شائع کیا تو برطانوی ہند کی حکومت نے انھیں مجبور کیا کہ وہ مضمون نگار کا اصل نام اور پتہ بتا دیں۔ یہ مضمون مولانا کے رسالہ کے ایک قلمی معاون نے لکھا تھا۔ جبر و استبداد کی کڑی آزمائش میں بھی مولانا نے صحافتی اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے مضمون نگار کا نام بتانا گوارا نہ کیا مگر خود قید بامشقت کی سزا قبول کر لی۔ اپنی کتاب ’’مشاہداتِ زنداں‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’صبح سے شام تک چکی پیسنا بجائے خود ایک سخت مشکل کام تھا لیکن راقم الحروف کے لیے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ تھا کہ ابتدائے قید سے لے کر آخر تک کوئی کتاب رسالہ یا اخبار کسی قسم کا پڑھنے کو نہ ملا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ شب و روز میں جس شخص کا تقریباً کل وقت شغل نوشت و خواند میں گزرتا ہو اسے دفعتاً ان تمام دلچسپیوں سے یک قلم عرصہ دراز کے لیے علیحدہ کر دینا کتنے بڑے جبر کی بات ہے۔ ‘‘۲

ان کی محبوب بیگم کی عزت نفس کا یہ حال تھا کہ حسرت کے قید و بند کے زمانے میں جب ایک سرمایہ دار نے بیگم حسرت موہانی کو مالی امداد کی پیشکش کی تو ان کی غیرت فقر نے اس امداد کو قبول کرنا گوارا نہ کیا۔ جب امداد کی پیش کش کرنے والے نے مولانا سے اپنی عقیدت کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ اگر حسرت سے ایسی ہی عقیدت ہے تو ان کی کتابیں خریدیں مگر میں امداد قبول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔

بابائے قوم حضرت قائد اعظم نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی مولانا کو پاکستان آنے کی دعوت دی جب کہ یوپی ہی کے ایک اور لیڈر چوہدری خلیق الزماں کو بھارت میں رہ کر مسلمانوں کی خدمت کا مشورہ دیا۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ چوہدری خلیق الزماں تو پہلے فرصت میں نئے ملک کے نئے مواقع سے فیض یاب ہونے کے جذبہ سے پاکستان چلے آئے مگر مولانا حسرت موہانی بھارت میں رہ کر بھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کا فریضہ انتہائی جرأت اور پامردی کے ساتھ ادا کرتے رہے۔

مجید نظامی مرحوم نے مولانا کی وفات پر اپنے مختصر تاثرات قلمبند کرتے وقت اسمبلی کے اندر مولانا کی جرأت گفتار اور صلابت کردار کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا اسمبلی کے باہر بھی مسلمانوں کے حقوق اور ان کی فکری آزادی اور تہذیبی انفرادیت کی حفاظت کا حق ادا کرتے رہے۔

طلوعِ آزادی کے ساتھ ہی بھارتی مسلمانوں کو براہِراست یا بالواسطہ کانگریسی سیاست کا جزو لاینفک بنانے کی مساعی شروع ہو گئیں تھی۔ دسمبر ۱۹۳۷ء میں ایک کل جماعتی مسلم کانفرنس کا انعقادکیا گیا جس میں تمام مسلم ادارے سیاسی حیثیت سے ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ مولانا حسرت موہانی کی سیاسی بصیرت اور دینی نظر نے اس کانفرنس کوناکام بنا دیا تھا۔ اپنے ۲۷دسمبر۱۹۴۷ء کے ’’روزنامچہ‘‘ میں مولانا رقم طراز ہیں:

’’مولانا ابوالکلام آزاد نے صاف صاف اقرار کیا کہ آج کی کانفرنس کا صرف ایک مقصد ہے وہ یہ کہ تمام مسلم ادارے سیاسی حیثیت سے ختم ہوں کل فرقہ وارانہ جماعتیں کانگریس میں مدغم ہو جائیں۔ اس پر ہم لوگ یہ کہہ کر چلے آئے کہ ’’ہم لوگوں کی شرکت بیکار ثابت ہوگی۔‘‘ دوران گفتگو میں چلتے چلتے میں نے ایک فقرہ ابوالکلام کے متعلق چست کر دیا اور جس سے ان کی ساری کارستانیوں پر پانی پھر گیا اور جس سے وہ انتہا درجہ بھنائے۔ میں نے کہا کہ ۱۸۵۷ء میں برٹش گورنمنٹ کی بدگمانیاں رفع کرنے کی غرض سے سرسید نے مسلمانوں کو صرف تعلیمی اور سماجی امور پرزور دینے کی تلقین کی تھی بالکل اسی طرح ۱۹۴۷ء میں آپ کانگریس کے ساتھ مسلمانوں کو بلاشرط وفاداری سکھاتے ہیں اور اسلامی اداروں کو سماجی امور کے لیے محدود کر دینے کے درپے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔‘‘

مولانا جب تک زندہ رہے بھارت کی اسمبلی میں ہمیشہ اپنی اختلافی آواز بلند کرتے رہے۔ وہ واحد پارلیمانی لیڈر تھے جنھوں نے بھارت کے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اپنی زندگی میں آخری بار فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد وہ براستہ کراچی دہلی روانہ ہوئے تھے۔ کراچی میں اپنے مختصر قیام کے دوران اُنھوں نے قائداعظم کے مزار پرفاتحہ خوانی کی تھی۔

شریعت اور طریقت، درویشی اور انقلاب اورادب اور سیاست کا جیسا سچا اور جیتا جاگتا امتزاج مولانا حسرت موہانی کی ذات میں پایا جاتا تھا وہ اُن کے معاصرین میں سے کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔کاش ہماری آج کی سیاست کے خواجگانِ زرپرست اُن کی شخصیت و کردار سے سبق اندوز ہونے کے لیے تھوڑا سا وقت نکال سکیں!

حواشی
۱۔ حسرت موہانی(انگریزی)، حامد حسن قادری، لاہور، ۲۰۰۳ء، صفحہ ۳۰۴۔
۲۔ بحوالہ’’ نگار‘‘، پاکستان،مئی۲۰۰۷ء، کراچی، صفحہ۲۶۔

(Visited 310 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: