امراؤ جان ادا کی ایک صدی بعد توسیع ——– نعیم الرحمٰن

0
  • 32
    Shares

بھارت کے افسانہ نگار اور نقاد انیس اشفاق نے اپنے پہلے ناول ’دکھیارے‘ سے اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔ جس میں لکھنؤ کی تہذیب اور کلچر کا بیان کمال کا ہے۔ انیس اشفاق کا تازہ ناول ’خواب سراب‘ میں انہوں نے بہت منفرد اور دلچسپ تجربہ کیا ہے۔ ناول ایک سو بیس سال قبل مرزا محمد ہادی رسوا کے مشہور زمانہ ’امراؤ جان ادا‘ کی توسیع ہے۔ رسوا نے اپنے ناول میں کہانی اور بعض امور کو جہاں چھوڑا تھا۔ انہی کو انیس نے موضوع بنایا ہے۔ ’امراؤ جان ادا‘ کے دو سو اٹھارہ صفحات کے مقابلے میں ’خواب سراب‘ کی ضخامت دو سو پچاس صفحات ہے۔ جسے سنگ میل نے شائع کیا ہے۔ جس کی نو سو روپے قیمت بھی کافی مناسب ہے۔

مرزا محمد ہادی رسوا جنگ آزادی اٹھارہ سو ستاون کے سال میں پیدا ہوئے۔ وہ ہر فن مولا قسم کے انسان تھے۔ شاعر، ادیب، ماہر فلکیات، انجینئر، دانشور، ماہر علم نجوم اور کیمیادان غرض کس شعبے میں انہیں درک نہ تھا۔ اردو، فارسی، سنسکرت، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی، یونانی کئی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ دیگر کاموں کے ساتھ انہوں نے چند ناول بھی تحریر کیے۔ جن میں ’’امراؤ جان ادا‘‘ ، ’’مرقع لیلی ٰ مجنوں‘‘ ، اختری بیگم ‘‘ ، ’’ذاتِ شریف‘‘ اور ’’شریف زادہ‘‘ شامل ہیں۔

امراؤ جان ادا کا شمار اردو کے ابتدائی ناولوں میں کیا جاتا ہے۔ انتظار حسین نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’کسی ادبی روایت میں جب کوئی نئی فارم آتی ہے تو وہ بننے سنورے میں کچھ وقت تو لیتی ہے۔ مگر اردو ناول کے سلسلہ میں عجب ہوا کہ ابتدائی دور میں ایسا ناول لکھا گیا جو مثال کی حیثیت اختیار کر گیا۔ امراؤ جان ادا کو اردو کا پہلا شاہکار ناول کہنا چاہیے۔ باقی آج کے زمانے تک کتنے ایسے ناول ہیں جنہیں یہ درجہ دیا جا سکتا ہے، یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ پھر یہ بھی عجیب واقعہ ہے کہ مرزا ہادی رسوا کی اصل دلچسپی تو نئے پرانے علوم سے تھی۔ ریاضی، فلکیات، منطق، فلسفہ، کیمیا ان علوم سے خصوصی رغبت تھی۔ ناول تو سمجھ لیجئے کہ بس چلتے چلتے لکھے۔ لیکن ان کا سارا کام پیچھے رہ گیا۔ قبولِ عام کا شرف امراؤ جان ادا کو حاصل ہوا۔ اس حد تک کہ انہیں کے لکھے ہوئے دوسرے ناول بھی اس کی چکا چوند میں گم ہو گئے۔ حالانکہ اپنے زمانے میں اُن دوسرے ناولوں نے بھی اچھی شہرت حاصل کی تھی۔‘‘

مشہور براڈ کاسٹر، مصنف اور دانشور رضا علی عابدی اپنی کتاب ’ریل کہانی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’کوئٹہ اسٹیشن پر مرزا محمد ہادی رسوا یاد آئے۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ انہوں نے امراؤ جان ادا جیسی یادگار کتاب لکھی مگر اب کسے یاد ہو گا کہ جب یہ ریلوے لائن بچھائی جا رہی تھی، مرزا صاحب کی ملازمت کوئٹہ میں تھی۔ وہ روڈ کی انجینئرنگ کالج سے سند لے کر آئے تھے اور اس ریلوے لائن کے سروے میں شریک تھے۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ ہادی رسوا نہ ہوتے تو ایک شریف گھرانے کی لڑکی کوٹھے تک اور ہندوستان کے میدانوں سے ریل گاڑی کوئٹے تک نہ پہنچتی۔‘‘

ناول کے بارے میں خود مرزا محمد ہادی رسوا کہتے ہیں کہ ’’میں یعنی مرزا ہادی رسوا اس ناول کے پڑھنے والوں کے سامنے لکھنؤ کی ایک سچی اور اصلی کہانی پیش کر رہا ہوں۔ یہ کہانی ایک بڑے رئیس کی حویلی سے ایک کمسن بچی کے غائب ہو جانے اور کوٹھے پر پہنچ کر ایک مشہور طوائف بن جانے کی ہے۔ صاحبو! میں اس کہانی کو ہرگز نہ لکھتا اگر اس میں حزن و الم کے مرقعے موجود نہ ہوتے۔ اس کے لکھنے کا مقصود یہ بتانا ہے کہ حویلیوں اور محلوں کی تہذیب جگہیں بدل جانے کے باوجود اپنی شکل نہیں بدلتی اور اس کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ اصالت کے قامت پر شرافت کا جامہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ غدر کے بعد لکھنؤ میں جو کچھ ہوا اور جس طرح ہوا، قارئین اس قصے میں پڑھیں اور عبرت حاصل کریں۔

امراؤ جان ادا میں بے شمار کردار ہیں۔ لیکن مرکزی کردار چار ہیں۔ جن کے گرد کہانی گھومتی ہے۔ جن میں امراؤ جان ادا جو لکھنؤ کے ایک رئیس کے اغوا شدہ بچی ہے۔ جسے خانم کے پاس فروخت کر دیا گیا۔ خانم جو ایسی کی بچیوں کو خرید کر تربیت دیتی ہے۔ اس کی اپنی بیٹی بسم اللہ جان بھی اس میں شامل ہے۔ جو ماں کی تربیت میں خانم کی صحیح جانشین ثابت ہوتی ہے۔ ایک اور کردار خورشید جان کا بھی ہے جو ایک زمیندار کی اغوا ہو کر کوٹھے پر پہنچنے والی بیٹی ہے۔ جو کبھی بھی کوٹھے کے اس ماحول سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ ناول کا پلاٹ رواں دواں اور کسی پیچیدگی سے مبرا ہے۔ امراؤ کے اغوا سے لیکر آخر تک واقعات فنکارانہ چابکدستی سے بیان کیے گیے ہیں۔ ناول کا یہی اسلوب قاری کو کسی مرحلے پر اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتا جبکہ تجسس اور سنسنی خیزی سے اختتام تک قائم رہتی ہے۔

مرزا ہادی رسوا نے بھی اسے لکھنؤ کے ایک رئیس کی اغوا شدہ بیٹی کی سچی کہانی کہا اور ناول کی تحریر کے حوالے سے بھی ہمیشہ یہ بحث جاری رہی کہ سچی کہانی ہے یا خیالی۔ علی عباس حسینی اور تمکین جعفری کا بھی یہی خیال ہے کہ امراؤ جان ادا سچی کہانی پر مبنی ہے۔ ناول کی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں ناول پر کئی فلمیں بھی بنائی گئیں۔ جن میں ریکھا اور رانی جیسی اداکاراؤں نے امراؤ جان ادا کا کردار ادا کیا ہے۔

اس تمام پس منظر میں بھارت کے نامور ادیب اور نقاد انیس اشفاق نے ’’امراؤ جان ادا‘‘ کے پہلی بار اٹھارہ سو ننانوے میں شائع ہونے کے ایک سو بیس سال بعد ناول کو آگے بڑھایا ہے۔ انیس اشفاق کا ایک رپورتاژ ’خوشبوئے خاک‘ ایک ناول ’دکھیارے‘ افسانوں کا مجموعہ’ کتبے پڑھنے والے‘ اور کراچی کا یاد نامہ ’در شہر دوست داراں‘ کے علاوہ ادب اور تنقید کی کئی کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی تحریروں میں لکھنؤ کی روایتی تہذیب نمایاں نظر آتی ہے۔ جو اب صرف کہانیوں ہی میں رہ گئی ہے۔ انیس اشفاق کے اسلوب اور اس میں رچی بسی لکھنؤ کی تہذیب کے بارے میں انتظار حسین لکھتے ہیں کہ ’’یہاں اب نوابی عہد کی چمک دمک موجود نہیں ہے۔ اب لکھنؤ ایک اجڑا ہوا شہر ہے لیکن اسی خراب حالی میں اُس تہذیب کے ایسے نشانات نظر آنے لگتے ہیں جو اب مٹ چکے ہیں لیکن جن میں اب بھی پہلی کی سی دلکشی موجود ہے۔ انیس اشفاق نے کسی طرح کا اہتمام کیے بغیر ان چیزوں کی عکاسی کی ہے۔

وہ بڑی روانی اور سہولت کے ساتھ لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کرداروں کو اُسی طرح پیش کیا ہے جیسے وہ ہیں۔ ناول نگار اس معاملے میں بہت حساس ہے۔ وہ اپنے کرداروں کی گفتگو اور اُن کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔ دکھیارے میں ایک بیوہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایک پرانی اور خستہ حال کربلا کے ایک گوشے میں رہ رہی ہے۔ کرتوں کی کڑھائی ان دونوں کی کمائی کا ذریعہ ہے لیکن اُن کا یہ پیشہ محض پیشہ نہیں ہے جو کام وہ کر رہی ہیں اس میں لکھنؤ کی تہذیبی نفاست کا عکس نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ لوگ بہت مذہبی نہیں ہیں لیکن مذہب کے گہرے شعور کا اظہار اُن کے اعلیٰ تہذیبی رسوم میں نظر آتا ہے۔ انیس اشفاق اچھا ہے تم لکھنؤ کے بارے میں لکھو، بہت کچھ ہے ابھی لکھنؤ پر لکھنے کو۔‘‘

شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول دکھیارے کے بارے میں کہناہے کہ ’’اس مختصر سے ناول سے ان کی نثر کے کئی دلکش پہلو نمایاں ہو رہے ہیں۔ آہستہ رو آہنگ، تھوڑی سی پر اسراریت، گذشتہ اور اکثر کھوئی ہوئی باتوں کی یاد اور تلاش۔ ناول پر یہ چیزیں چھائی ہوئی ہیں، بیماری، بیمار داری، موت اور گھروں سے بے دخلی ، گذشتگاں کا انتظار اور یہ سب اس خوبی سے پلاٹ میں جذب ہیں کہ احساس نہیں ہوتا کہ قصہ ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔ انیس اشفاق کی زبان خوبصورت اور درست ہے۔‘‘

محمد سلیم الرحمٰن لکھتے ہیں کہ ’’بڑے بھائی کی صورت میں انیس اشفاق نے ایک ایسا کردار وضع کیا ہے جو اردو فکشن میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ دکھیارے میں جو ماحول ہے اور جو کردار پیش کیے گئے ہیں وہ مانوس اور معمولی سے لگتے ہیں۔ ناول بھی، اگر اسے بے احتیاطی سے پڑھا جائے، ڈرامے سے خالی نظر آئے گا۔ جہاں ڈرامہ نہ ہو، ہلچل نہ ہو، اس پر بے رنگ اور بے رس ہونے کا گمان ہو سکتا ہے۔ ذرا غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بیان کا یہ پیرایہ ایک گردابی تماشا ہے جس میں کردار پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سیدھا سادہ بیانیہ پڑھنے والے کو رکنے اور سوچنے کے مواقع کم فراہم کرتا ہے۔ آخر میں حیرانی ہوتی ہے کہ کن راستوں پر چل کر کہاں آ نکلے ہیں۔‘‘

زاہدہ حنا نے انیس اشفاق کی نثر کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’نثر میں عالم آشوب قرۃ العین حیدر نے لکھا اور بٹوارے کے بعد لکھنؤ کا شہر آشوب، انیس اشفاق کے قلم سے نکلا جسے انہوں نے دکھیارے کا نام دیا۔ یہ اس لکھنؤ کا قصہ ہے جس نے زوال کا زہر پی لیا اور اب اس کی نبضیں چھوٹ رہی ہیں۔‘‘

انیس اشفاق نے دکھیارے کے بعد دو یکسر مختلف اور انوکھے ناول لکھے ہیں۔ ’پرندے اور پری ناز ‘میں انہوں نے نیر مسعود کے طویل افسانے ’طاؤس چمن کی مینا‘ کی کہانی کو آگے بڑھایا ہے اور دوسرے ناول ’خواب سراب‘ میں مرزا محمد ہادی رسوا کے شاہکار ’امراؤ جان ادا‘ کی توسیع کی ہے۔ ناول کے آغاز میں انیس اشفاق نے لکھا ہے کہ ’’کربلائیں، درگاہیں، امام باڑے، باغ، روضے، سیرگاہیں اور محل سرائیں میں انہیں میں زندہ ہوں اور میرا نام لکھنؤ ہے۔‘‘ کتاب کا انتساب ’ رسوا کے لکھنؤ کے نام‘ ہے۔

خواب سراب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مرزا ہادی رسوا نے امراؤ جان ادا پر ایک سے زیادہ مسودے تحریر کیے۔ جن میں سے ایک مسودے میں یہ لکھا ہے کہ امراؤ کسی سے شادی کر کے کوٹھا چھوڑ گئی تھی اور اس کی ایک بیٹی بھی تھی تا ہم انہوں نے یہ اصل مسودہ شائع کرنے کے بجائے محفوظ کر لیا۔ کیونکہ طوائف کی شادی والا ناول عوام میں مقبول نہیں ہو سکتا۔ خواب سراب کا مرکزی کردار علی حیدر ہے جو اس مسودے اور امراؤ کی بیٹی کو تلاش کرنا مقصد ِزندگی بنا لیتا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار اور راوی کے بیان سے اس کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ ’’ بہت پہلے جب میں بہت چھوٹا تھا اور ماں انگلی پکڑ کر مجھے اپنے ملنے والوں کے یہاں لے جایا کرتی تھی اور ان کے ساتھ بیٹھ کر دیر دیر تک باتیں کیا کرتی تھی، تب کچھ بڑی بوڑھیوں کی زبانی امراؤ جان کا نام میں نے پہلی بار سنا تھا اور یہ بھی سنا تھا کہ امراؤ جان کا واقعہ لکھنے کے بعد رسوا نے بہت سے لوگوں کو بتایا کہ تھا کہ انہوں نے وہی لکھا ہے جو دیکھا ہے اور قصے میں جو کچھ بڑھایا ہے وہ قصے کو بڑھانے کے لیے ضروری تھا۔ میرے بزرگوں نے بتایا کہ رسوا نے اس کہانی کو الگ الگ طرح سے لکھا تھا اور اِنہیں الگ الگ طرح سے لکھی ہوئی کہانیوں میں سے ایک میں جس کا مسودہ رسوا کی موت کے بعد لوگوں کے ہاتھ لگا، اس میں امراؤ جان کے یہاں ایک اولاد کا ہونا بتایا گیا تھا۔ جن لوگوں کے ہاتھ مسودہ لگا، انہیں اس سے آگے کا اس لیے نہیں معلوم کہ آگے کی عبارتیں مٹ چکی تھیں لیکن کتاب کے اختتام پر یہ عبارت محفوظ تھی۔ ’راقم نے اس نسخے کی ایک نقل اور بھی تیار کی ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ رسوا نے وہ مسودہ جس میں انہوں نے امراؤ جان کے یہاں اولاد کا ہونا دکھایا تھا، اپنے صندوق میں اس لیے رکھ دیا تھا کہ انہیں معلوم تھا کہ پڑھنے والے امراؤ جان کو ماں کی شکل میں قبول نہیں کریں گے۔ اپنے بڑوں سے منتقل ہوتی ہوئی یہ بات جب میرے کانوں تک پہنچی اور جب میں اسے سنتے سنتے بڑا ہوا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ معلوم کروں کہ امراؤ جان کی اصل کہانی کیا وہی ہے جس کا مسودہ رسوا نے الگ رکھ دیا تھا۔

راوی نے جس کا نام بھی ناول کے آخر میں بتایا گیا ہے۔ اپنی والدہ ذاکیہ بیگم کے انتقال کے بعد ہادی رسوا کے گمشدہ مسودے کی تلاش کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ وہ پرانی کتابیں فروخت کرنے والے بے شمار افراد سے ملتا ہے اور کئی لائبریریوں میں بھی جاتا ہے۔ اس تلاش اور جستجو میں اس کی ملاقات مختلف افراد سے ہوتی ہے۔ مختلف لوگوں سے ملاقات میں اس کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے کہ امراؤ جان کی اولاد بھی تھی اور اس کی نسل کبھی نہ کبھی ضرور مل جائے گی۔ بچپن میں اسے گلی سے گزرتے اسے ایک بہت بوسیدہ مکان کی تاریک ڈیوڑھی میں گوری رنگت اور سبک ناک نقشے والی ادھیڑ عمر عورت اپنے سامنے پاندان ایک کھلے پاندان کے ساتھ بیٹھی نظر آتی۔ وہ جب بھی اس مکان کے سامنے سے گزرتا اس عورت کی طرف ضرور دیکھتا۔

اپنی تلاش کے سلسلے میں راوی ایک بڑی حویلی کی بوڑھی اور تنہا وارث جہاں دار بیگم کے گھر پہنچتا ہے۔ جن کے گھر وہ بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ بھی جاتا رہا تھا۔ جہاںدار بیگم، مرزا ہادی رسوا کی رشتہ دار تھیں اور رسوا آخری عمر میں حویلی کے ایک حصے میں رہائش پذیر تھے۔ جہاں ان کی بہت سی کتابیں بھی محفوظ تھیں۔ راوی ان سے کتابوں میں مسودے کی تلاش کی اجازت حاصل کر لیتا ہے۔ تنہا جہاں دار بیگم اس کی والدہ کو یاد کرتے ہوئے نا صرف اسے اجازت دیتی ہے بلکہ اسے اولاد کی طرح چاہنے بھی لگتی ہے۔ ان سے اسے مرزا ہادی رسوا کے بارے میں بہت سے نئی باتیں بھی معلوم ہوتی ہیں۔ اسی کتب خانے سے بالآخر اسے مرزا رسوا کا گمشدہ مسودہ بھی مل جاتا ہے۔ لیکن اس تلاش کے دوران اسے امراؤ کی ہم نام طوائف کی بیٹی شیبا، انہیں کی ہم پیشہ کی دو بیٹیاں کمو اور ہینگا ملتی ہیں۔ کمو اور ہینگا کی ماں سردار جہاں سے بھی اسے بہت معلومات حاصل ہوتی ہے۔ ان کرداروں کے ذریعے انیس اشفاق نے لکھنؤی تہذیب کو بہت خوبی سے اجاگر کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ماؤں کے پس منظر کے بعد آگے ان کی اولاد کے لیے اچھی تربیت اور شریفانہ زندگی بسر کرنے کے باوجود نارمل زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ ان تینوں لڑکیوں کی زندگی بھی ایسی ہی گزرتی ہے۔ وہ انتہائی ہنرمند اور سلیقہ شعار ہونے کے باوجود بہت مشکل سے گزر بسر کرتی ہیں۔ شیبا کو جب گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو جہاں آرا بیگم اسے اپنے پاس بلا لیتی ہیں راوی علی حیدر اور شیبا مل کر کتب خانے میں مرزا رسوا کا مسودہ تلاش کر لیتے ہیں۔ لیکن جہاں آرا بیگم کے انتقال کے بعد ان کے خود ساختہ وارث انہیں یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

مسودہ ملنے کے بعد اس کے شائع شدہ کتاب سے موازنے کا کام شیبا انجام دیتی ہے۔ جس کی روشنی میں علی حیدر کو امراؤ جان کی بیٹی کے بارے میں علم ہوتا ہے اور وہ اس کی تلاش شروع کر دیتا ہے اور تلاش بسیار کے بعد پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں جو خاتون بوسیدہ مکان میں بیٹھی نظر آتی تھیں وہی امراؤ جان کی بیٹی شمیلہ ہے۔ لیکن وہ گھر چھوڑ چکی تھیں۔ علی حیدر کی تلاش ایک بار پھر شروع ہو جاتی ہے۔ جو رائیگاں نہیں جاتی۔ اس کی ملاقات شمیلہ اور اس کی بیٹی سبیلہ سے ہو جاتی ہے۔ علی حیدر ان سے امراؤ جان کی بہت سی ایسی باتیں جو کسی کو معلوم نہیں جان لیتا ہے۔

اس حصے کا سب سے درد ناک حصہ وہ ہے۔ جب امراؤ جان اپنے باپ کی حویلی میں پہنچتی ہے۔ اس کی ماں بیٹی کے اغوا کے بعد مر چکی ہے۔ بڑے رئیس کی حویلی اجڑ چکی ہے۔ باپ بیٹی کی تلاش سے مایوس ہو کر قلاش ہو چکا ہے۔ گھر کے تمام نوکر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اسی حال میں اس کا انتقال ہو جاتا ہے۔ بیٹی باپ کو دیکھ کر بھی اسے بتا نہیں پاتی۔ امراؤ جان جس کا اصل نام نجم النساء تھا۔ بتایا کہ ’’ہمارے پردادا آفتاب الدولہ نواب خورشید بہادر ابو الفتح نصیر الدولہ محمدعلی شاہ کے زمانے میں ناظم سرکار دولتمدار تھے اور انہیں چودہ پارچے خلعت عطا ہوا تھا اور دادا ہمارے سلطانِ عالم واجد علی شاہ کے زمانے میں بندوبست کے مہتمم تھے اور شاہی کارخانے میں ان کا بڑا دخل تھا۔ دونوں کو اپنی خدمتوں کے صلے میں بہت زمینیں اور جاگیریں ملی تھیں۔ دادا نے ہمارے ابا جان نواب علی نقی بہادر کے لیے تحسین گنج میں ایک بڑی حویلی بنوائی تھی اور اسی سے متصل ایک آراستہ باغ بھی انہیں دیا تھا۔ دربان ہماری ڈیوڑھی پر آٹھ پہر پہرہ دیتے اور دروازے پر ہمارے ہاتھی بندھے رہتے۔ ہمارے دادا نے ہمارے ابا جان کو یہ کہہ کر شاہی ملازمت سے دور رکھا کہ گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ نئی کتاب میں امراؤ جان کی فیض علی سے شادی کا قصہ کچھ یوں بیان ہوا ہے۔ ’’تو مرزا رسوا صاحب! اس مکان میں جو کانپور میں فیض علی نے کرائے پر لیا تھا، ہم وہاں بہت دن تک رہے۔ سچ پوچھیے تو میں فیض علی کو اندر اندر بہت چاہنے لگی تھی اور مشکل وقت اُن کا ساتھ چھوڑنا مجھے گوارا نہ تھا۔ اس مکان میں کچھ دن رہنے کے بعد ایک روز فیض علی سہ پہر کے وقت آئے اور مجھ سے ایک مسجد میں چلنے کو کہا۔ میں نے سبب پوچھا تو بولے مغرب سے پہلے پہلے تم فیض علی کے نکاح میں آ جاؤ گی۔ میں کچھ نہ بولی۔ مسجد میں دو مولویوں نے ہمارا نکاح پڑھایا۔ فیض علی نے مجھے اور ان مولویوں کو شیرینی کھلائی اور دو چار اشرفیاں اُن مولویوں کے ہاتھ پر رکھ کر مجھے اپنے گھر لے آئے۔ اب میں نے ایک بیوی کی طرح پورا گھر سنبھال لیا۔ فیض علی سے امراؤ جان کی ایک بیٹی بھی ہوئی۔‘‘

ایک دن بیٹھے بیٹھے امراؤ جان کے جی میں آئی اپنے باپ کی حویلی چلیں۔ کہاروں سے تحسین گنج میں نواب علی نقی بہادر کی حویلی کی طرف چلنے کو کہا۔ قسمت کی مار دیکھئے جس کا باپ سونے چاندی کے منقش پایوں والی پالکی میں بیٹھ کر گھر سے نکلتا تھا اور جس کی پالکی باناتی آج اس کی بیٹی سادہ سے پردوں والی ایک معمولی ڈولی میں بیٹھ کر اپنے باپ کی حویلی کی طرف جا رہی تھی۔ حویلی کے قریب پہنچ کر میں نے ڈولی کا پردہ ہٹا کر حویلی کی طرف نگاہ ڈالی تو دیکھا ہر طرف ویرانی برس رہی ہے۔ ڈیوڑھی سے دربان غائب ہیں اور اس کی چھت پر دیواروں کی اینٹیں جگہ جگہ سے باہر نکل آئی تھیں۔ یہ دیکھ کر میں نے سینے پر دو ہتڑ مارا۔ مہری جو میرے ساتھ تھی اس نے مجھے سنبھالا۔ دوبارہ حویلی کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا، ڈیوڑھی کے باہر جو املی کا گھنا درخت تھا اس کے نیچے ایک بڑا سا کھرا پلنگ پڑا ہے۔ جس پر ایک بہت بوڑھا شخص بیٹھا حقہ پی رہا ہے اور ایک بوڑھی عورت اس کے سامنے بیٹھی ہے۔ میں نے مہری سے اسے بلانے کو کہا وہ عورت ڈولی کے قریب آئی تو میں نے اسے پہچان لیا۔ یہ ہماری کھلائی سعیدن تھی جس کی گود سے میں بڑی مشکل سے اترتی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا بوا یہ حویلی کس کی ہے۔ وہ بولی نواب علی نقی بہادر کی۔ یہ جو پلنگ پر بیٹھے حقہ پی رہی ہیں خود نواب صاحب ہیں۔ بیٹی کے غم میں گھل گھل کر آدھے ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے پوچھا کون بیٹی۔ اس پر اس نے میرے غائب کیے جانے کی پوری کہانی سنائی۔ میں نے پوچھا نواب صاحب کی بیگم وہ بولی بی بی جس دن ہماری بی بی کواُس گوہر خان نے اس گھر سے غائب کیا اُسی دن سے انہوں نے بستر پکڑ لیا۔ ہر وقت نجمو نجمو پکارا کرتیں۔ کھانا پینا سب چھوڑ دیا۔ پھر ایک دن بستر پر لگے لگے ان کی آنکھ بند ہو گئی۔ مرزا رسوا کیا بتاؤ حویلی اور بوڑھے باپ کو اس حال میں دیکھ کر مجھ پر کیا گزری۔ دو مہینے بعد کلیجے میں پھر ہوک سی اٹھی۔ ڈولی میں مہری کو ساتھ لے کر پھر حویلی جا پہنچی۔ تو لوگوں کو جمع دیکھا۔ مہری نے معلوم کیا تو پتہ چلا نواب علی نقی بہادر کا جنازہ اٹھ رہا ہے۔‘‘

یہ انتہائی دلدوز داستان ہے۔ علی حیدر نے سبیلہ کے ساتھ محرم کے ایام مختلف امام باڑوں اور کربلاؤں میں گزارے۔ اس پورے حصے میں لکھنؤ کی تہذیب، امام بارگاہوں کا احوال، نوحہ اور سوز خوانی، ایام عزا اور سوگ منانے کی تفصیلات اس طرح بیان کی ہیں کہ سب کچھ آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔ ناول کا نام ’خواب سراب‘ بھی ایک علامت ہے کہ امراؤ جان ادا کی طرح یہ سب کچھ بھی حقیقت یا تصور ہے۔ یہ قاری کا اپنا تصور ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک صدی سے زاید مدت کے بعد اردو ادب کے ایک بے مثال ناول کی اس طرح توسیع کی یہ انوکھی کوشش ہے۔ جو صفحہ اول سے آخر تک قاری کو جکڑ کر رکھتی ہے اور کسی بھی مرحلے پر اس کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔ مصنف کے تخیل نے انوکھا تصور دیا ہے۔ انیس اشفاق بے مثال ناول تحریر کرنے پر مبارک باد کے حقدار ہیں۔ خواب سراب کسی بھی طرح امراؤ جان ادا سے کم نہیں ہے۔ اس پلاٹ نے مزید نئے ناولوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔ خود انیس اشفاق نے اسی انداز میں ’پرندے اور پری ناز‘ میں نیر مسعود کے طویل افسانے ’’ طاؤس چمن کی مینا‘‘ کو آگے بڑھایا ہے۔ مرزا حامد بیگ نے امتیاز علی تاج کے ڈرامے انار کلی کے پس منظر میں دلچسپ ناولٹ لکھا ہے اور انار کلی کے کردار کے حوالے سے کچھ نئے انکشافات کیے ہیں۔ شاید اردو ادب میں یہ سلسلہ مزید آگے بڑھ سکے۔

(Visited 226 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: