دانش: ایک مہا بودھی پیڑ ——– فارینہ الماس

0
  • 139
    Shares

نفسیات دانوں کا ماننا ہے کہ انسان جب چیزوں کو اپنے لاشعور سے شعور میں لے آتا ہے تو وہ ان کے بوجھ سے نجات پالیتا ہے لیکن اگر وہ چیزوں کو اپنے شعور سے لاشعور میں دھکیلنے یا دفنانے کی کوشش کرےتو ان کا بوجھ اس کے اندر تنائو، کشمکش یا خوف کی افزائش کا باعث بن جاتا ہے۔ جو اس کے نفسی و شخصی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس صورت میں دو طرح کے ردعمل سرزد ہوتے ہیں کہ یا تو اسکے اندر پلنے والا جبر اور گھٹن اس کی محرومی و کمتری بن کر اسے کھا جاتے ہیں تو یا پھر وہ متشدد اور جابر بن کر اس سماج کو کھانے لگتا ہے۔ یعنی، فراموشی کی دلدل میں دھکیلا ہوا شعور ایسا روگ ہے کہ جو انسان کو سفاکی کی حد تک بے حس بنا سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان احساسات و جذبات کو جو سماجی و خاندانی سطح پر واقعات و حادثات کی صورت ہمارے اندر الجھائو پیدا کرتے ہیں انہیں شعور میں رکھتے ہوئے ان کا اظہار کیسے کیا جائے۔ تحلیل نفسی کے طریقوں کے علاوہ ایک اہم اور کارآمد طریقہ جمالیاتی اظہار ہے۔ یہ زندگی و کائنات کی روانی و ارتعاش میں اہم ہے۔ یہ اگر روح میں زندہ ہو تو ہیلن کیلر جیسے بصری طور پر محروم انسان کو بھی جمال کائنات کے نظارے دکھا دیتا ہے اور اگر یہ مردہ ہو تو حسیات و بصریات کی دولت سے مالامال لوگ بھی حیات و کائنات کو صرف سیاہ دھبوں میں ٹٹولتے ہوئے عمر بسر کر جاتے ہیں۔ ایک اہم انسانی اظہار فکری و لفظی اظہار ہے جو فرد کے علاوہ پوری انسانیت کے لئے مددگار ہوتا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک بودھی درخت ہونا چاہئے تا کہ زندگی کی گہما گہمی و مادی حسرتوں کے الجھائو سے جب جی بھرنے لگے تو اسی بودھی درخت کی چھایا میں پناہ لے سکے۔ جہاں وجود، ناموجود ہو جائے لیکن قلب حاضر و بیدار۔

ایک حساس و روحانی بیدار انسان کا درد بہت گہرا اور بے انت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے درد میں پوری انسانیت یا پورا سماج سمٹ آتا ہے۔ اگر وہ اپنی ذات کا اظہار نہ کر پائے تو گھٹ گھٹ کر مر بھی سکتا ہے۔ اسی لئے اپنےمحسوسات و ادراک کی تصویر کشی سی یا پھر لفظوں کے بتوں میں خیال تراش کر طمانیت پاتا ہے۔

اور ایک ایسا سماج جسے مرنے سے بچانے کو اسے مہذب سماج میں ڈھالنا ناگزیر ہو، جہاں بنا سوچے سمجھے، انتہا پسندانہ اعمال کو بے خوف و خطر اپنائے جانے کے وسیع امکانات موجود ہوں، جہاں نہ صرف معاشی ڈھانچے کو سنبھالا دیا جانا اشد ضروری ہو بلکہ پورے فلسفہء حیات و اندھے اعتقادات کو بھی نظرثانی کی ضرورت ہو وہاں لفظوں کا اظہار محض اظہار نہیں بلکہ ایک اہم فریضہ بن جاتا ہے۔

ہمارا معاشرہ جسے ابھی معاشرہ سازی کے انتہائی اہم مراحل کو طے کرنا ہے، جہاں ابھی قوم اپنی شناخت کی گمنامیوں اور بے نامیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھری ہے ایک ایسا معاشرہ جہاں اعتقادات و خیالات کی کمی بیشی تباہی کا پیش خیمہ بننے لگی ہے۔ یہاں سماج کے بگاڑ پر کھل کر بات تک کرنا کتنا دشوار ہے اس کا اندازہ لگانا محال ہے۔ لیکن ایک حقیقی ناصح کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایسے سماج کو آئینہ دکھاتے ہوئے انتہائی ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔ وہ اپنے الفاظ سے فکری و جذباتی اشتعال پیدا کرنے کی بجائے فکری تربیت کا اہتمام کرے اور اس راہ میں لگائی جانے والی تہمتوں اور بہتانوں کو سہنے اور ان سے نپٹنے کے لئے بھی تیار ہو۔

اگر دیکھا جائے تو سوشل میڈیا پر ناصحانہ عزائم لے کر آنا اور چھا جانا جس قدر سہل ہے اسی قدر یہاں تہمت کاروں اور افترا سازوں کے نشتر سہنا بھی بہت دشوار ہے۔ اس مشکل کا سامنا محض قلم کاروں ہی کو نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں یعنی بلاگنگ سائٹس کے منتظمین و مدیران کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسا وقت بھی آتا ہے جب لوگ تحریر سے متاثر ہو کر انتہائی فراخ دلی سے دعائوں اور نیک تمنائوں کے تحائف دیتے ہیں اور ایسا وقت بھی جب کسی نظرئیے یا رائے کے اختلاف میں انتہائی کٹھور دلی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح لوگ براہ راست منتظمین کو بھی بے نقط سنانے میں بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ یہاں شاید ایسے دیگر، بے پناہ گھمبیر اور پیچیدہ مسائل بھی ہوں گے جن کا احاطہ صرف مدیران ہی کر سکتے ہیں۔

بلاگنگ سائیٹس کے لکھاریوں یا منتظمین کو درپیش رہنے والا ایک بڑا چیلنج، فکر و عمل کی دو انتہائوں سے نپٹنے کا بھی ہے۔ وہ انتہائیں جن کے ارتفاع پر پہنچے ہوئے لوگ اپنے نظرئیے کی ہر حال میں تائید چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیائی ویب میگزین میں لکھنے سے پہلے مجھے اس حقیقت کا قطعاً ادراک نہ تھا کہ کس طور اس ملک کے باسیوں کو دو انتہائوں نے گھیر رکھا ہے۔ ایک طرف انتہا کو جاتے اسلامسٹ اور دوسری طرف انتہا کو چھوتے لبرلز جو توازن و اعتدال کی اہمیت کو سنجیدگی سے ماننے اور منوانے کے سرے سے قائل ہی نہیں۔

یہاں لکھنے کی ابتدا پر میرا پالا لبرلز کی ایک مشہور زمانہ سائیٹ سے پڑا۔ دو چار تحریریں چھپنے کے بعد احساس ہوا کہ جیسے اس سائیٹ کو کھولتے ہی جنسیات سے متعلقہ معجونوں اور ادویات کی باس آنے لگی ہو۔ جنسیات اس ملک ہی نہیں بلکہ پورے انسانی سماج کا ایک اہم مسئلہ ضرور ہے لیکن محض ایک ہی مسئلے کی تکرار سے یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے اس قوم کے پاس سوچنے اور کھوجنے کو باقی کچھ رہا ہی نہیں۔ پھر اسی دوران ایک قدرے متوازن سوچ کے حامل لوگوں کی سائیٹ سے واسطہ پڑا۔ یہاں سال ڈیڑھ سال تک میں نے بہت کچھ لکھا اور دوسرے لکھنے والوں سے بہت کچھ سیکھا۔ لیکن پھر اچانک انکشاف ہوا کہ ایڈمن کی طرف سے میرے مضامین بدنام زمانہ بھینسا اور موچی جیسے گروپوں اور پیجز ہی کی طرز کے گروپوں میں شیئر کئے جاتے ہیں۔ دل کو ایک دھچکا سا لگا۔ غصے اور اشتعال میں اس سائیٹ کو خیر باد کہہ دیا۔ پھر ایک ایسی سائیٹ کی نوید ملی جو عین ایسی انتہا پسند لبرلز کی سائیٹس کا جواب تھی۔ میں نے اپنی تحریریں وہاں بھیجنا شروع کر دیں۔ اسلاموفوبیا، ہم جنس پرستی، مسلم نسل کشی اور الحاد جیسے موضوعات پر میں نے کھل کر لکھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گماں ہوا کہ یہ سائیٹ مذہبی انتہاپسندوں کے نرغے میں آ رہی ہے۔ سو وہاں لکھنا بھی کم کر دیا۔ اس سلسلے میں اکثریتی رائے تو یہی ہو گی کہ ایک لکھاری کا کام اپنی تحریروں میں معیار قائم کرنا اور اس سے قاری کو متاثر کرنا ہونا چاہئے اسے دوسروں کے نظریات یا خیالات سے ڈر کر اپنا راستہ بدلنا نہیں چاہئے۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے لیکن سوشل میڈیائی جرائد کی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ ان کا مجموعی تاثر کسی خاص مکتبہ فکر سے باسانی جوڑا جا سکتا ہے اور مجھے اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے میرے قارئین تک میرا کیا تاثر جاتا ہے یا وہ لوگ جن کے ساتھ میں کام کر رہی ہوں آیا ان کے خیالات میرے خیالات سے میل کھاتے بھی ہیں یا نہیں۔

میرا نظریہ کیا ہے؟ کسی بھی انتہا پسندانہ سوچ سے پرے رہتے ہوئے ایک متوازن خیال میرے کسی بھی نظرئیے کی بنیاد ہے۔ اپنے قدیمی اعتقادات میں سے اعتقادات کو برقرار رکھنا، غیر ضروری و منفی عقیدوں کو رد کرنا اور قابل قبول، ناگزیر جدید عقائد کو ان میں جگہ دینا، یہ وہ واحد راستہ ہے جو ایک معتدل اور متوازن و کارآمد نظرئے کو پنپنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اسی سے حقیقی انسانی قدریں جنم لیتی ہیں جو بنا کسی انتشار و خلفشار کے، بڑی خاموشی سے معاشرے کو تبدیلی کی راہ پر ڈالتی ہیں۔

ایسے ہی معتدل و متوازن پلیٹ فارم کی حسرت نے ایک دن مجھے ’’دانش‘‘ سے ملا دیا۔ دانش کا کمال یہ رہا کہ یہاں بھی مجھے کئی مواقع پر اختلاف کرنا یا اختلاف سہنا پڑا لیکن ایسا موقع کبھی نہ آیا کہ میں مکمل طور پر اسے خیر باد کہہ دوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں مجھے کبھی جبراً یا سہواً نظریاتی ہم آہنگی اختیار کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ کیونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی محسوس ہوا کہ دانش کا چلن عین میری فطرت و رغبت خیال کے مطابق ہے۔ یہاں ایڈمن سے لے کر ہر لکھاری معتدل اور سلجھی ہوئی سوچ کا حامل ہے۔ یہاں نہ تو کوئی واعظ فرمانے کا شوق پورا کرتا ہے اور نہ ہی لبرلزم کی حدوں کو پار کرنے کی بھونڈی حرکت کرتا ہے۔ دوسری سائیٹس پر تو برغبت و رضا دہریت کا پرچار کرتی تحریروں کو بھی جگہ دی جاتی ہے شاید یہ ان کی روشن خیالی ہے یا سائیٹ کی مقبولیت کے سستے اور بیہودہ حربے لیکن دانش نے کبھی ایسی تحریروں کو جگہ نہیں دی۔
دانش کے اعلیٰ کرداری و ارفع خیالی کا ذکر ہو اور مدیر شاہد اعوان صاحب کی کاوشوں اور انتھک محنتوں کا ذکر نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا۔ ایسا صاف دکھائی دیتا ہے کہ ان کے متعین کردہ ضابطہ اخلاق سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کسی کو اجازت ہے نا جرات۔ یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ انکا مطمع نظر محض ایک بلاگنگ سائیٹ چلانا نہیں بلکہ انتشار و خلفشار کے اس دور میں زبان و خیال کی ایک بھرپور تحریک چلانا ہے۔ مجھے ان کے اندر بیک وقت ایک مصلح، ایک فلسفی اور ایک روحانی شخصیت کی چھب نظر آتی ہے۔

دانش کی ایسی ہی خوبیوں کی وجہ سے میں نے اسے ہمیشہ اپنے لئے ایک مہا بودھی درخت کی مانند پایا۔ جس کی چھایا تلے آ کر اپنا من ہلکا کرنے کے عمل نے ہمیشہ میری روح کو طمانیت دی۔ گو کہ اپنی میلان طبع کے باعث اکثر خاموشی و فراموشی کی راہ اپنا کر کنارہ کش ہوتی رہتی ہوں لیکن شاہد صاحب یکدم سامنے آ کر بڑے مان سے جھنجھوڑ دیتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں ’’بی بی کیوں غفلت برتتی ہو کہیں پھر سے اپنا آپ بھول گئی تو۔۔۔۔۔‘‘ اور میں پھر سے مسائل زمانہ کی کسی نئی کہانی کے لفظ بننے لگتی ہوں۔

آخر میں دانش کے لئے اس کی دوسری سالگرہ پر ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں اور یہ دعا کہ اس بودھی درخت کی چھپر چھایا ہمیشہ قائم رہے۔ آمین

(Visited 343 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: