اقبال اور ملکہ وکٹوریہ کا قصیدہ ——– اعجاز الحق اعجاز

0
  • 72
    Shares

ہر آئے روز اقبال کے قصیدہ ملکہ وکٹوریہ کو بنیاد بنا کر اقبال کی تضحیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تضحیک استعمار مخالفین سے زیادہ استعمار پرستوں اور مغربی تہذیب کے قصیدہ خوانوں کی طرف سے سامنے آرہی ہے یعنی وہ لوگ جو یہ جتاتے نہیں تھکتے کہ اگر انگریز برصغیر میں نہ آتا تو یہاں کے باسی شاید پتھر کے زمانے میں جی رہے ہوتے۔ اول تو یہ قصیدہ نہیں کہ جو ملکہ سے کسی مفاد کے حصول کی خاطر لکھا گیا بلکہ ایک مرثیہ ہے جو اس ملکہ کی وفات پہ 1901 میں لکھا گیا۔

یہ علامہ کی شاعری کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا۔ شاعرانہ مبالغہ آرائی سے تو آپ واقف ہی ہیں۔ ابھی اقبال اقبال نہ بنا تھا۔ نہ ملت کے لیے تڑپ اس کے اندر پیدا ہوئی تھی نہ کوئی واضح مقصد ابھی اس کے سامنے تھا۔ اقبال ابھی بس ایک مبتدی تھا یہ اس کی شاعرانہ نومشقی کا زمانہ تھا جب اصل اہمیت موضوع سے زیادہ شاعرانہ صلاحیت اور قادرالکلامی کے اظہار پہ ہوتی ہے۔ اصل اقبال بعد ازاں تیزی سے ارتقا پذیر ہوا ہے خاص طور پہ یورپ سے واپسی کے بعد۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ اقبال نے شاعری ترک کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر پھر سر عبد القادر کے مشورے کو مان کر ملی شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تو اس قصیدے سے بھی برات کا اظہار کر دیا۔ انھیں خود یہ فضول شے محسوس ہوئی لہٰذا انھوں نے اسے کسی بھی مجموعہ کلام میں شامل کرنا پسند نہ کیا۔ اسے اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ لہٰذا یہ اقبال کا متروک کلام ہے۔ اب اسے ہمارے لوگ کچرے سے اٹھا کر کوٹھے پہ چڑھا رہے ہیں۔ یہ ہماری قوم کا مزاج ہے کہ لوگوں کے گندے کپڑوں پہ بھی نظر رکھتے ہیں۔ جب اقبال نے اسے اپنے کلام میں شامل کرنا پسند نہیں کیا تو کیوں ہم اسے زبردستی شامل کرنے پہ تلے ہیں۔ یہ ہمارا نفسیاتی عارضہ ہے اور کچھ نہیں۔

اقبال جن حالات و واقعات سے emerge ہوا ہے ان کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ اقبال نے جب یہ قصیدہ لکھا تو سر سید احمد خاں کی پیدا کردہ تحریک کے اثرات ہر کہیں نظر آ رہے تھے۔ سر سید اور ان کی تحریک کے دیگر اکابرین مسلمانوں کے مفاد کے لیے انگریز سے محاذ آرائی کے بجائے مصالحت کا ہاتھ بڑھانا چاہتے تھے۔ حالی سے زیادہ مسلمانوں کا سچا ہمدرد کون تھا اس نے بھی ملکہ اور دیگر انگریزوں کے قصاید لکھے ہیں۔ محمد حسین آزاد کی اس دور کی مرتب کردہ درسی کتب دیکھ لیجیے۔ ان کا آغاز ہی ملکہ کی مدح سے ہوتا ہے۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور سیاسی مزاحمت نے ایک دم نہیں بلکہ بتدریج زور پکڑا۔ ابھی تو مسلم لیگ بھی وجود میں نہیں آئی تھی۔ بانیان مسلم لیگ کا ابتدا میں انگریزوں سے رویہ کس کے علم میں نہیں۔ کیا وہ پہلے دن ہی لٹھ لے کر انگریزوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے یا ان سے اپنے حقوق کی بحالی کے مطالبات پیش کرنے کی مصالحانہ ابتدا کر رہے تھے۔

اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اردو کے کس بڑے کلاسیکی شعرا نے شاہوں کے قصاید نہیں لکھے؟ قصیدہ تو ایک بہت بڑی صنف ادب رہی ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اقبال کیا ایک قصیدہ گو شاعر تھے؟ انھوں نے تو جو دو ایک قصاید لکھے وہ بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیے۔ اقبال کا مزاج یہ نہ تھا۔ ہاں وہ بعض مسلمان حکمرانوں کی تعریف ضرور کرتے ہیں مگر اس تعریف کے پس پردہ ان کی کوئی ذاتی احتیاج نہ تھی بلکہ ملی مقاصد تھے۔ اقبال نہ قصیدہ گو تھے نہ ہجو گو اور نہ مرثیہ گو۔ جس بات کو وہ حق سمجھتے تھے وہ کرتے تھے۔ اقبال کی ساری رد استعمار شاعری اور دیگر تحریروں کو ایک طرف رکھ کر ایک متروک قصیدے اور سر کے خطاب کو پکڑ کر بیٹھے رہنا ایک ذہنی عارضہ ہی کہلا سکتا ہے یا تعصب نفرت اور تنگ نظری کا حاصل۔

ملکہ وکٹوریا کا ایک دیو ہیکل مجسمہ لاہور کے ایک بڑے چوک پہ قیام پاکستان کے بعد بھی کئی دہائیوں تک ایستادہ رہا اور اب لاہور کے عجائب گھر میں اپنے بیٹے اور پوتے کے مجسموں کے ساتھ فروکش ہے۔ ان ’’استعمار مخالفین‘‘ کو علامہ کے قصیدے کے ساتھ ساتھ ان مجسموں پہ بھی نگاہ ڈالنی چاہیے کہ یہ بھی لاہور کے مہماں ہیں یہ جس طرح لٹھ لے کر اقبال کے درپے ہیں اسی لٹھ سے ان مجسموں کا شکار کرنا پسند فرمائیں گے؟؟؟؟

(اس سلسلے میں دانش پہ میرا مضمون اقبال کی رداستعماریت بھی پڑھا جاسکتا ہے جس میں سر کا خطاب اور وظائف کی حقیقت پہ اظہار خیال کیا گیا ہے)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: