کب تک مژہ مژہ پہ سمندر اٹھائیے ۔ ۔ ۔ ۔ ’’گردباد‘‘ ایک جائزہ——– عبد اللہ فیصل

0
  • 86
    Shares

تہہ دار تخلیق کی ایک پہچان ہوتی ہے کہ وہ آسانی سے تفہیم کی گرفت میں نہیں آتی، اس کے باوجود اپنے حسن اور معنویت کا احساس دلا دیتی ہے۔ اس کے اندر کا تجربہ اپنے رگ و ریشے میں معنی کی اتنی جہتیں سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ دیکھنے والوں کو مختلف روپ اور الگ الگ رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایک ہی نگاہ جب اس کی طرف دو با رہ دیکھتی ہے تو اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ ادب اپنے تخیلاتی فکر و اظہار کے تحریری انضمام کی عملی صورت کا نام ہے مگر چوں کہ یہ چیز غیر ادبی تحریروں میں بھی واضح ہو جاتی ہے لہٰذا فکر و اظہار کا تخلیقی ہونا بھی ضروری ہے۔ فکشن تخیل کے اسی اظہار کا اہم ترین رُخ ہے جس کی جڑیں اردو اور دیگر زبانوں کے ادب میں ازمنہ قدیم سے موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ناقدین یہی سمجھتے رہے کہ اردو زبان میں ناول ہمیشہ سے کم زور صنف رہی ہے ۔ میں خود بھی ایک مدت مدید یہی سمجھتا رہا۔ جب شمس الرحمٰن فاروقی اور جناب سید محمد اشرف کی تخلیقات سامنے آئیں تو ذہن میں ایک تاثر ابھرا کہ اس ضمن میں تو پڑوسی ملک بازی لے گیا۔ پھر اتفاقاََ اردو کے تراجم پڑھنے کا موقع ملا تو اس بات اور بھی تقویت ملی کہ بھارتی ادیب بہت عمدہ نثر لکھتے ہیں ۔ مگر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ محمد عاطف علیم نےاپنا دوسرا ناول “گردباد “تحفتاََ عنایت کیا ۔ ناول اکتوبر 2017 میں ملا مگر اس وقت میں اسلام آباد سے کراچی مراجعت کی تیاری کر رہا تھا۔ سارا سامان ڈبوں میں بند۔ کراچی آکر گھر ملنے کا عمل اور پھر آباد کاری جون تک مکمل ہوئی۔ اپنی سستی کی وجہ سے یہ ناول اکتوبر2018 میں پڑھااور دیر تک خود کو کوستا رہا کہ پہلے کیوں نہ پڑھ ڈالامگر خیر ہر کام کا ایک وقت معین ہے۔

یہ ناول پڑھ کر بڑی ڈھارس بندھی بلکہ خوشی ہوئی کہ ایسی چنگاریاں بھی اپنے خاکستر میں ہیں۔ “یہ چند سطور “گردباد” کو پڑھ کر دل میں آنے والے خیالات کی عکاسی کی ایک ناکام سی کوشش ہے ۔ “گردباد” عاطف علیم کا دوسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے وہ”مشک پوری کی ملکہ” نامی ایک ناول لکھ چکے ہیں ۔ “گردباد” ایک انتہائی تہہ دار تخلیق ہے۔ محمد عاطف علیم کی تحریر میں بہت سی پرتیں ہیں۔ یہ زندگی کے نشیب و فراز کی مزاج داں ہے اور زمانے کے مزاج کا مظہر بھی، انسانی جذبات و احساسات اور نفسیاتی ضرورتوں کا وسیلہ ہے اور حیرت و استعجاب کے لمحات عطا کر کے جمالیاتی تلذذ سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ بھی۔ یہ ماننا پڑے گا کہ وہ الفاظ کے بازی گر ہیں۔ بازی گری ایک فن ہے جس کی حیثیت افادی ہے مگر اس افادی فن میں بھی مہارت نہ ہو تو فن کا مظاہرہ ناممکن ہے۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھیں تو سمجھ میں ایک بات آتی ہے کہ جنون اور لگن کے بغیر مہارت اور بازی گری کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتی اور بظاہر اس لگن میں تخلیق کار کا وجدان شامل ہو کر کسی نہ کسی سانچے میں ڈھل کر اپنے تخیل کا اظہار کرتا ہے جس کو ہم اجمالاََ ہیئت کہہ سکتے ہیں۔ یہ سانچہ ہر عہد میں تبدیل ہوتا رہتا ہے ساتھ ہی ساتھ ناول نگار بھی عمر اور تجربے کی سیڑھیوں سے گزرنے کے بعد اپنے لیے مختلف سانچے تراشتا ہے جسے ہم لکھاری کا کتھارسس یا تجزیاتی اقدام کہیں گے۔ تخلیق کی ہر ہیئت زمانے کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان کے ذرائع تلاش کرتی رہی ہے۔ نرمل ورما اس بارے اپنے مضمون ــ’’کہانی، شاعری اور ناول ‘‘میں بیان کرتے ہیں:

’’دورِ جدید تک آتے آتے کہانی اپنی اجتماعی یادوں کے خاندان سے باہر نکل کر دھیرے دھیرے ایک شخص کے ذاتی اور پرائیویٹ تصور کو ہی بیدار کرنے لگی۔ اب اس کی جڑیں ادیب کی ذاتی حسیت میں پوشیدہ رہتی ہیںاور یہ شخصی حسیت کہانی پر جلوہ گر رہتی ہے‘‘

کائناتی آفاقیوں سے ذات تک سمٹنے کا تجربہ اور پھرساخت اور ہئیت کی سطح پر نت نئی تبدیلیوں کی روداد ایک خاصے طویل عرصے پر محیط ہے۔ محمد عاطف علیم کے اسلوب میں نہ صرف یہ عمل سمٹ کر ضم ہو گیا ہے بلکہ اس میں پنجاب کے مختلف علاقوں کی تہذیب، سیاسی تبدیلیاں، اقدار کا کھوکھلا پن اور آخر کار ان کی شکست و ریخت، رومان اور حقیقت کا ٹکرائو، فطرت نگاری، کردار نگاری اور دیگر پہلوئوں کی گہری سوجھ بوجھ شامل ہے۔ ناول میں اسلوب اور ساخت کے بہت سے تجربوں کی گنجائش ہے جو انھوں نے کام یابی سے اپنےدونوں نالوں میں سموئے ہیں۔ زندگی میں شادمانی، غم، روحانیت، جوش ، ہیجان، حُزن ہر رنگ موجود ہے۔ یہ ناول نگار کی دماغی اور نفسیاتی ساخت پر منحصر ہے کہ وہ زندگی کے کینوس سے کون کون سے رنگ منتخب کر کے اپنی تحریر کو رنگین بناتا ہے۔ اس ناول میں محمد عاطف علیم نے وہ رنگ چنے ہیں جن کو دیکھنے کی بہت کم لوگ ہمت کرتے ہیں ۔ مگر عاطف علیم نے تو ان رنگوں کو اپنا لیا اور شاید وہ ان رنگوں کے ذریعے ہم سے کہنا چاہ رہے ہیں:

کل کہیں ایسا نہ ہو
میرے لفظ اگر تمہیں سنائی نہیں دیتے
تو مجھ پر ہنستے کیوں ہو
اور مجھے پتّھر کیوں مارتے ہو؟
کل کہیں ایسا نہ ہو
کہ سماعتیں بحال ہو جائیں
اور یہ زخم تمہیں تکلیف پہنچائیں

ناول “گردباد” دو سطحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خارجی طور پر قاری ایک رو میں بہتا ہے۔ وہ پڑھتاہے، ٹھہرتا ہے، سوچتا ہے اور پھر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تخلیق رواداری یا عجلت میں پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ اسے تو سہج سہج کر ، آہستہ آہستہ لطف اندوز ہو کر پڑھا جانا چاہیے۔ آپ بظاہر اختتام بھی پڑھ لیتے ہیں مگریہ تحریر اختتام کے بعد ہی تو شروع ہوتی ہے جہاں سے یہ داخلی سطح پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ قاری کے سوچنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ کہانی آہستہ آہستہ قاری کے دل و دماغ پر اثر کرتی ہےمگر کیا کہانی کوئی جان دار شے ہے جو یہ سب کر پاتی ہے یا پھر یہ کہانی کار کا اعجاز ِ قلم ہے کہ وہ جو کچھ لکھتا ہے ان لفظوں میں جان آ جاتی ہے۔

تخیل اپنا آسماں اور زمیں خود بناتا ہے۔ قاری کے دلوں میں خود بخود منتقل ہونے کا راستہ خود تشکیل کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ امر ہونے کی بھی قوت رکھتاہے۔ ضرورت صرف اس تخیل کو مناسب الفاظ میں کاڑھنے کی ہے۔ یہاں ایک چیز جو کہانی کار کو ممتاز بناتی ہے کہ وہ متنوع موضوعات کو احاطہ تحریر میں لے کر آتے ہیں مگر کسی تخلیقی رویے کو اس پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ کہانی خود بخود اپنے موضوع کو لے کر اس طرح بڑھتی ہے کہ اپنے تخلیق شدہ منظر نامے کی جزیات تک واضح ہو جاتی ہیں اور پڑھنے والا اسے اندرونی سطح پر اثر انداز ہوتے دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے مگر یہ خاموشی ایک زبان بن جاتی ہے۔ یہ ناول خاموشی کی ایسی ہی زبان رکھتاہے تبھی تو اس کے شبد خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ عاطف علیم کے تخیل کی داد دینی پڑے گی کہ انھوں نےجس بھی گائوں یا شہر کی منظر کشی کی ہے وہ بظاہر ہم سب نےدیکھے ہوئے ہیں مگر ان کی تحریر پڑھتے وقت وہ ایک نئے زاویے سے سامنے آتے ہیں۔ اُس زاویے سے جو شاید اب تک ہم دیکھ نہیں پائے یا پھر ہم جانتے بوجھتے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس زاویے کے متعلق ہم سب کے ذہنوں میں ایک ڈراوا بٹھا دیا گیا کہ خبردار اس طرف دیکھا تو پتھر کے ہو جائو گے۔ یہ ناول یقیناََ اپنے پڑھنے والوں کی فکری ارتقاء کا باعث بنے گا کہ ہمارے ساتھ کون کون کیا کیا کرتا رہا ہے۔

ای ایم فاسٹر نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ـ’’Aspects of Novel ‘‘ میں کرداروں کی دو اقسام بیان کی ہیں ایک جامد یا سپاٹ کردار (Flat Characters) اور دوسری متحرک کردار (Round Character)۔ جامد یا سپاٹ ایسے کردار ہیں جن میں کوئی تبدیلی یا بڑھوتری واقع نہیں ہوتی۔ وہ کہانی کی ابتدا سے لے کر اخیر تک ایک جیسے رہتے ہیں۔ متحرک کردار کہانی کے ساتھ ساتھ مختلف نفسیاتی اور شخصیاتی تبدیلیوں کا اظہار کرتے ہیں اور فنی اعتبار سے زیادہ مستند سمجھے جاتے ہیں۔ اس ناول میں بھی بہت سے کردار ہیں جو سب کے سب اپنے جملہ خصائص اور عیوب کے ساتھ اس طرح واضح ہوتے ہیں گویا ذہنوں سے چپک جاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر کردار اپنی ظاہری ہیئت، نفسیات ، لہجے اور عادات و اطوار کے ساتھ سامنے آتا ہے جس سے کہانی کا کہانی پن مزید واضح ہو جاتا ہے۔ کرداروں کی اوپری پرت سے زیادہ ان کی ذہنی اور دلی کشمکش اہمیت اور توجہ کے قابل ہوتی ہے۔ ناول کے کردار بظاہر وہ نہیں رہتے جو سامنے نظر آتے ہیں۔ یہ داخلی اور خارجی کرداروں کی وہی تقسیم ہے جو فرائڈ کے تحلیلِ نفسی کے عملی تجربات کا نتیجہ ہے۔ اصطلاحاََ اسے Behaviourism کہا گیا اور بہت سی تخلیقات کواس اصطلاح کی روشنی میں جانچا گیا۔

اس ناول میں عاطف علیم نے بہت سے کردار تخلیق کیے ہیں۔ مرکزی کردار موج دین یا موجو اور شمو اور موج دین کے بیٹے حمید کا ہے۔ محمد عاطف علیم کی نظر غائر صرف کیمرے کی مانند کام نہیں کرتی بلکہ وہ تو ایکس رے مشین کی مانند اپنے کرداروں کے خیالات اور اذہان کی بھی عکاسی کرتے ہیں گویا ان کے نزدیک گفتگو اور عمل کے ساتھ ساتھ کسی بھی کردار کی نفسیات، اس کے خیالات اور محسوسات بھی اہمیت کے حامل ہیں اور ہر دو طرح کی حسیت (داخلی اور خارجیت) کی کسوٹی پر کھرا اترتے ہیںاور اسی بدولت قاری تحریر پڑھتے پڑھتے کہانی کے کرداروں میں ڈھل جاتا ہے جس سے کہانی مزید بھلی لگتی ہے۔ ناول نگار نے کسی بھی کردار کے خارجی پورٹریٹ کے ساتھ ساتھ اس کا داخلی عکس بھی تخلیق کیا ہے بلکہ ظاہر سے زیادہ باطن کی تصویر کشی کی ہے۔ یہ ہیولے وجود سے فقط تاثر لیتے ہیں اس پر انحصار نہیں کرتے۔ ان میں تحرک، ادراک اور شعور ہے اسی لیے یہ زیادہ واضح اور روشن ہیں۔ اس ناول میں جو عنصر مجھے بے حد پسند ہے وہ ان کرداروں کی ذہنی کیفیت کی عکاسی ہے۔ موج دین گائوں کا ایک موچی جسے اس کے گائوں کا چوہدری شمو سے بیاہ دیتا ہے۔ شمو فلموں میں کام کرنے اور کتھک ڈانس سیکھنے کی شوقین کوٹھے سے نکل کر چوہدری کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک چڑیا۔ حمید لڑکپن اور نوجوانی کی سرحدیں پھلانگتا موج دین کا بیٹا۔ کہانی اس وقت انتہائی سفاک ہو جاتی ہے جب گائوں کی پنچایت ظلم و بربریت کا وہ فیصلہ کرتی ہے جس کی بدولت یہ تینوں کردار اس جسمانی، ذہنی اور روحانی کیفیت سے گزرتے ہیں جس کی بدولت ان تینوں کی زندگی بدل جاتی ہے۔ شمو اور حمید نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ شمو جو پہلے ہی سے نفسیاتی کشمکش میں ہے اس واقعے کے بعد اس کے ذہن میں ایک ایسی گرہ بیٹھ جاتی ہے کہ وہ خود کو ناپاک تصور کرتی ہے اور خود کو صاف کرنے کے لیے آخر کار اس چوہدری کو قتل کر دیتی ہے جو پنچایت کے فیصلے کے بعد اس کے جسم کو پامال کرتا ہے۔ حمید جس ذہنی کشمکش سے گزرتا ہے وہ اس کی گائوں کے چوہدریوں کے خلاف نفرت کے دریا کو ایک بالکل مختلف سمت میں موڑ دیتی ہے اور وہ کشمیر میں جہاد کرنے چلا جاتا ہے اور وہیں کسی مہم میں مارا جاتا ہے۔ موج دین خود بھی اذیت کے سمندر سے گزرتا ہے مگر اپنے ایک بچپن کے دوست چراغ شاہ کی مدد سے ایک کاروبار شروع کرتا ہے اور ایک بڑے کاروبار کا مالک بن جاتا ہے۔ چراغ شاہ کا کردار بڑا مضبوط کردار ہے جس کے ذریعے عاطف علیم نے بہت سے راز افشا کروائے ہیں۔ ہمارے ملک کے تناظر میں کہ یہاں شدت پسندی اور ملائیت کب داخل ہوئی۔ یہ وہ ناسور ہیں جس پر بات تو سبھی کرتے ہیں مگر اس کے نقطہ آغاز اور موجودہ تباہی کا باعث قرار دینے سے ڈرتے ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ گہرا، تہہ دار اور پیچیدہ کردار شمو کا ہے جو چوہدری کو مارنے کے بعد گرفتاری پیش کرتی ہے اور اس قتل کو تسلیم کرکے پھانسی قبول کر لیتی ہے۔ پورے ناول میں شمو، موج دین اور حمید کی ذہنی کشمکش کو جس طرح عاطف علیم لے کے چلے ہیں وہ کمال ہنر مندی اور صناعی کا ایک ایسا نمونہ ہے کہ جس می مثالیں کم کم دیکھنے میں آتی ہیں۔

اس ناول میں ایک طرف ہمارے ہر دیہی علاقے میں ہونے والےاخلاقی اور سماجی جرائم کی عکاسی کی گئی ہے۔ ایک انسان کی عزت نفس، اس کی شخصیت اس کا اپنا آپ جس طرح ذلیل اور مٹی میں کیا جاتا ہے یہ سب اس ناول میں نظر آئے گا مگر جیسا کہ پہلے بیان کیا کہ چونکہ صرف ظاہری تصویر کشی نہیں کی گئی بلکہ اس پامالی کے بعد تین مرکزی کرداروں کی نفسیات پر کیا اثر پڑتا ہے وہ سب کی سب اپنی پوری شدت سے عیاں کر دی ہے۔ کہانی اک سفر سے شروع ہوتی ہےجس میں یہی مرکزی کردار اپنی عزتِ نفس اور جسم کی پامالی کے بعد اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کر دئیے جانے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔ اسی کی دہائی کا لاہور اور وہاں جانے کے بعد ان کی زندگی،ساتھ ہی ساتھ ان پر بیتنے والی واردات کی یادیں، موجودہ حالات کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پرت در پرت کھولنا۔ ماننا پڑے گا کہ بازی مار لی ہے عاطف علیم نے۔

محمد عاطف علیم کی اس تخلیق کا سب سے بڑا کمال اس میں لکھا وہ سچ ہے جسے بیان کرنے کے لیے بہت زیادہ ہمت اور جرات درکار ہے۔ اس ناول میں عاطف علیم نےتاریخ کی وہ سچی تصویر دکھائی ہے کہ ہم سب جو شتر مرغ کی طرح ریت میں گردنیں دبائے ہیںان کی گردنیں مزید دب گئی ہیں۔ شرمندگی سے اور ندامت سے کہ اب تو شاید ہم سچ کو سچ بھی نہیں کہہ سکتے۔ ہاں بڑے بڑے جھوٹ آسانی سے ہضم کر لیتے ہیں۔ یہ ناول ہر اس انسان کا المیہ ہے جس کی عزت اور عزت نفس روند دی گئی ہے۔ یہ ناول اس مملکت خداداد کا نوحہ ہے جسے شدت پسندی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ یہ ناول ایک سفر سے شروع ہوتا ہے اور پھر محمد عاطف علیم کی تحریر اسے اپنے ساتھ اس سفر پر لے جاتی ہے جس پر سوچ اور سوال جیسے سنگ میل موجود ہیں۔ سوچ کا سنگ میل بار بار تنگ کرتا ہے کہ عاطف علیم نے ہم خواب زد ہ ہجوم کو جھنجھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ سوال کا سنگ میل ہمارے سامنے ایک عفریت کی طرح منہ کھول کر کھڑا ہے کہ چلیں اب تک ہمارے ساتھ جو ہوا سو ہوا ، مگر اب ایسا کیا کیا جائے کہ ہماری آنے والی نسلیں وہ سب کچھ نہ دیکھیں جو ہم نے جھیلا، ہم نے برداشت کیا۔

مجھے یقین ہے کہ عاطف علیم بہت زیادہ خواب دیکھتے ہیں اور جب ان خوابوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے خوابوں میں بلکہ اس بوجھ میں دوسروں کو بھی شریک کرنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ نہ جانے عاطف علیم کی تحریر پڑھ کر لگتا ہے کہ وہ ایک گھٹن زدہ معاشرے میں ایک باغی روح ہے جسے انتظار ہے کہ سب اپنی اپنی زنجیریں توڑیں،آزادی سے اپنے خواب دیکھیں اور ان کی تعبیر حاصل کریں۔ آخر کب تک ہم اسی گومگو کیفیت میں رہیں جس کی طرف توصیف تبسم نے اشارہ کیا ہے کہ

برسے جو کُھل کے ابر تو دل کا کنول کھِلے
کب تک مژہ مژہ پہ سمندر اُٹھائیے

بہرحال اب مزید بور کیے بغیر درخواست کروں گا کہ اس ناول کا مطالعہ کیجیے۔ اپنے ماضی کے بارے میں جان کاری حاصل کریں اور اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے ایک روشن صبح کی بنیاد رکھیں۔

(Visited 93 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: