’’اقبال: وجود زن اور تصویر کائنات‘‘ ایک تجزیہ ——– اعجاز الحق اعجاز

0
  • 25
    Shares

’’اقبال: وجود زن اور تصویر ِکائنات‘‘ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ کی حال ہی میں شائع ہونے والی تصنیف ہے۔ اقبال کے فکرو فن پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے تاہم اقبالیات کے ایسے بہت سے گوشے ہیں جن پر کام ہونا باقی ہے۔ ایک ایسا ہی تشنہ تحقیق کام اقبال کا تصور نسواں ہے۔ یہ سوالات اکثر اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ اقبال عورت کے متعلق کیا خیالات رکھتے ہیں اور وہ معاشرے میں اس کے آزادنہ کردار کو کس حد تک تسلیم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اقبال کے بارے میں یہ غلط فہمی بھی جنم لیتی رہی ہے کہ شاید اقبال عورت کو محض ایک چراغ خانہ سمجھتے ہیں اور اس کے سماجی کردار پہ قدغن لگانے کے حق میں ہیں اور اس کی تعلیم کے بھی خلاف ہیں۔ ان تمام غلط فہمیوں کا ازالہ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صاحبہ کی یہ کتاب پڑھ کے ہوجاتا ہے۔ اقبال نہ عورت کی تعلیم کے خلاف ہیں ، نہ اسے صرف گھر ہی میں بٹھائے رکھنا چاہتے ہیں اور نہ اس پہ بے جا قدغنیں لگانے کی حمایت کرتے ہیں۔ اقبال عورت کے مثبت اور متحرک معاشرتی کردار کے حق میں ہیں۔ اقبال کا تصور نسواں قدامت پسندانہ ہرگز نہیں۔ وہ جدید عورت کے مسائل اور اس کے حقوق کا ادراک رکھتے ہیں۔ ایک مفکر کی حیثیت سے اقبال نے اس سوال پر ضرور غور کیا کہ عورت کی مذہبی ،تہذیبی اور ثقافتی شناخت کیا ہے ؟ اور اس شناخت کی دریافت میں انھوں نے افراط و تفریط سے کام لینے کے بجائے ایک متوازن نکتہ نظر کو اہمیت دی ہے۔ یاد رہے کہ اقبال جب ان سوالات پہ غور و فکر کر رہے تھے اس دور کا معاشرہ زیادہ مرد مرکز(Phallocentric) تھا۔ یہ اہم بات ہے کہ اقبال نے عورت کو محض ایک ثقافتی مظہر یا شے کے بجائے ایک ذات (Self) کے طور پر لیا ہے اور ایک مکمل انسان کے طور پر اس کے نقوش ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ مگر اقبال کا ایک دائرہ کار ہے اور وہ خود کو اس سے باہر نہیں جانے دیتے اور وہ ہے اسلامی تہذیب و معاشرت کا دائرہ جس میںعورت اور مرد کی ذمہ داریوں اور حقوق کے اپنے اپنے دوائر ِ کار متعین ہیں۔ مگر اقبال نے عورت کے متعلق بہت سے ثقافتی تعصبات اور کلیشوں سے اوپر اٹھنے کی سعی ضرور کی ہے۔ وہ عورت کے متحرک قومی کردار کے حق میں ہیں جس میں افراد ِ قوم کی تربیت ان کے نزدیک بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک جذبہ امومت قوموں کی سیرت کی صورت گری کرتا ہے جس سے پہلو تہی قوموں کے حق میں مہلک ہے۔ جاوید نامہ میں اقبال نے ایک نبیہ مریخ کا ذکر کیا ہے جو عورت کو فرائض امومت سے غفلت پہ اکساتی ہے اور یہ بھول جاتی ہے کہ عورت کی اصل شناخت مردوں جیسا رنگ و روپ اپنانے میں نہیں بلکہ بحیثیت عور ت اپنی شناخت منوانے میں ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقبال عورت کے متعلق محض کٹر اور اسٹیریو ٹائپ خیالات نہ رکھتے تھے ، بلکہ اس صنف لطیف کے متعلق ان کے خیالات ان کے جذباتی و رومانی احساسات وجذبات کے آئینہ دار بھی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحبہ نے ایما ویگے ناسٹ اور عطیہ فیضی کے نام خطوط سے اقتباسات پیش کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان خطوط میں عورت کا تصور ایک پختہ اور روشن دماغ فرد کے طور پر قائم ہوا ہے۔ یہ عورت محض امور ِ خانہ داری اور فرائض امومت ہی میں نہیں الجھی ہوئی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مختلف سیاسی ،معاشرتی ،ادبی اور فلسفیانہ مسائل و مباحث پہ غور و فکر اور اظہار ِ خیال کرتی ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحبہ نے حیات اقبال کے ایسے واقعات پہ بھی روشنی ڈالی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہین اور تعلیم یافتہ خواتین کے مقام و مرتبے کو سراہتے ہیں۔مثلاً جب ۱۹۳۱ء میں اقبال اٹلی کی رائل اکیڈمی کے ایما پر اٹلی تشریف لے گئے تو ایک روز ایک دانشوراطالوی خاتون سے ملنے گئے اور فلسفہ و ادب پر اس سے کافی دیر گفتگو کرتے رہے۔ اسی طرح ایک اور اطالوی خاتون سے بھی ان کی ملاقات ہوئی جو وسط ِ ایشیا کے بہت سے حصوں کی سیاحت کر چکی تھی اور ہندوستان سے گزرتے ہوئے لاہور میں بھی کچھ دیر ٹھہری تھی۔ اقبال اس خاتون سے وسط ایشیا کی سیاست اور بالشویک روس کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔ اسی سفر کے دوران جب اٹلی کے پرانے مقامات کی سیاحت کا پروگرام بنا تو اور لوگوں کے علاوہ ایک جرمن خاتون بھی ان کے ہمراہ تھی جس سے اقبال ان مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہے۔ اقبال نے اس دوران جس اجلاس میں خطاب فرمایا اس میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی جن میں لیڈی ارون ، لیڈی ریڈنگ ، لیڈی منٹو اور مسز سروجنی نائیڈو وغیرہ شامل تھیں۔ اسی طرح 1919 ء میں مدراس کے دورے کے دوران ان کی ملاقات کچھ تعلیم یافتہ خواتین سے ہوئی جن میں سیٹھ ہاشم اسماعیل کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو سینئیر کیمبرج کے بعد جرمنی سے طب کی تعلیم حاصل کر چکی تھیں۔ اقبال ان تعلیم یافتہ خواتین کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اقبال کا سب خواتین کے ساتھ رویہ بے حد نرمی اور شائستگی کا ہوتا تھا اور وہ خواتین کا دل سے بہت احترام کرتے تھے۔اقبال نے اپنے بچوں کی گورنس کے طور پہ ایک جرمن خاتون مس ڈورس کا انتخاب کیا۔ اس عورت کے ساتھ اقبال کا برتائو بہت اچھا تھا۔ اقبال ہمیشہ اس سے بہت احترام سے پیش آتے اور دل سے قدر کرتے۔

ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اقبال کے تصور نسواں کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’ علامہ کے ہاں وجود زن سے متعلق پہلا نمایاں زاویہ عورت کے ایک جمالیاتی و ذہنی اور تاثراتی اور عقلی و استدلالی تصور کے ساتھ وابستہ ہے جہاں عورت کائنات کا ایک اہم عنصر ٹھہرتی ہے اور اس کی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کا باعث ہے جب کہ عورت کے تصور کے ضمن میں دوسرا زاویہ امومت سے وابستہ ہے جسے انھوں نے نسبتاً زیادہ اہمیت دی ہے اور جو اصلاً فرائض نسواں سے منسلک ہے۔‘‘

 

ڈاکٹر صاحبہ نے اقبال کی اس تقریر کا بھی حوالہ پیش کیا ہے جو انھوں نے مدراس میں انجمن مسلم خواتین کے سپاس نامے کے جواب میں کی تھی۔ اس تقریر کا یہ اقتباس قابل غور ہے :

’’ میرا عقیدہ رہا ہے کہ کسی قوم کی بہترین روایات کا تحفظ بہت حد تک اس قوم کی عورتیں ہی کرسکتی ہیں۔اگرچہ انحطاط کے دور میں عورت کے حقوق سے بے پروائی ہوئی ، مسلمان مردوں نے مسلمان عورتوں سے تغافل برتا لیکن عورت باوجود اس تغافل کے اپنا منصب پورا کرتی رہی۔کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو اپنی ماں کی تربیت کے اثرات اپنی طبیعت میں نہ پاتا ہو یا بہنوں کی محبت اس کے دل پر اپنا نشان نہ چھوڑتی ہو۔ وہ خوش نصیب شوہر ، جن کو نیک بیویاں ملیں ، خوب جانتے ہیں کہ عورت کی ذات مرد کی زندگی کے ارتقا میں کس حد تک ممدو معاون ہے۔ـ‘‘

یہاں یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ اقبال کے نزدیک عورت مرد کی زندگی کا ایک آلہ نہیں بلکہ اس کی اپنی ایک الگ ، مستند اور آزادشخصیت ہے ،وہ مرد کی باندی نہیں ، کھلونا اور فقط عیش و عشرت کا سامان نہیں۔

اقبال نے عورت کی جو تعظیم کی ہے اور اسے تقدیس کے جس زاویہ نگاہ سے دیکھا ہے بہت کم شعرا اور مفکرین کے ہاں یہ اندازِ نظر ملتا ہے۔ اقبال کے نزدیک وجود زن ہی سے تصویر کائنات میں رنگ ہے مگر یہ رنگ تخلیق و تعمیر و تکریم کا رنگ ہے۔اسی رنگ کو ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے اپنی اس کتاب میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

کتاب کے فلیپ میں جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال تحریر فرماتی ہیں :
’’علامہ اقبال کے تصورِ نسواں کا ذکر ہوتا ہے تو بات ’وجودِ زن‘ سے شروع ہوتی ہے، اس سلسلے میں زیادہ تر فرائض امومت کا تذکرہ ہوتا ہے اور حقوق نسواں کو فکر اقبال کی روشنی میں دیکھنے کی طرف زیادہ توجہ نہیں ملتی۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے اپنی تصنیف میں اس امر کو ثابت کیا ہے کہ علامہ مرحوم نے عورت کے سماجی کردار، انفرادی شخصیت کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں پر بھی اظہار ِ خیال کیا ہے۔ ‘‘

(یہ کتاب دارالنوادر ، کتاب سرائے ، الحمد مارکیٹ اردو بازار لاہور سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ قیمت مناسب ہے)

(Visited 104 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: