نجیبہ عارف! ہمیں آپ پہ ناز ہے کہ آپ ہمارا اعتبار ٹھہریں —- تیمیہ صبیحہ

1
  • 171
    Shares

نہ تو ذکر ہے محمد عمر میمن کا، نہ ہی ان کی عمر اخیر میں در آنے والی “بیٹی” کا، نہ ہی یہ آخری ای میل ہے، نہ ہی قصیدہ ہے کسی صدر نشینِ شعبہ کا ــ بس اک گدگداہٹ سی ہے جو دھیرے دھیرے ہوئی چلی جا رہی ہے، اک اکساہٹ ہے جو اچک اچک منہ زور ہوتی جا رہی ہے کہ احوال پہلے میل کا رقم کر، حوالہ قرطاس کر دیا جاے ـ آخری میل سے پہلے ہی پہلے ـــ

بات ان دنوں کی ہے جب جامعہ میں خود کو مہان منتری سمجھ ہم اردو والوں کو گھس بیٹھیے سے جانا کرتے تھے ـ جو کسی بیرونی سازش کے نتیجے میں ہمارا بیس سالہ عربی و بین الاقوامی سانچہ تہہ برد کرنے کو بپا کیے گئے تھے ـ روزانہ گزر تو انہی راہداریوں میں ہوتا تھا جہاں “شعبہ اردو” کی تختیاں ٹھوکی گئی تھیں اور دن میں کئی مرتبہ ہم اس کمترین، از کاررفتہ نام کی طرف نگاہ غلط انداز ڈال کے اپنے مقفع و مسجع شین قاف میں کارپردازان جامعہ کی عاقبت نا اندیشی کو ملامت کیا کرتے ـ اردو والوں کی شوخ و شنگ، چمکیلی بھڑکیلی، قیصرانی وضع قطع نے ہمارے خیال کو تقویت پہنچا رکھی تھی کہ پڑھنے لکھنے والوں کا اس گلی محلے کی زبان سے کیا تعلق ــــ

یونہی اک روز جب ممتا کی چھاؤں میں رونق افروز ہوے کچھ دن ہو رہے تھے، امی نے چلتے چلتے غالبا رفیع الدین ہاشمی صاحب کا لکھا تبصرہ تھمایا ـ ” معیار” …ششماہی مجلہ، شعبہ اردو بین الاقامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ـ اس تعارفی تبصرے نے چونکایا .. تصور میں دراڑ سی پڑ گئی ـ معین الدین عقیل صاحب کے علاوہ کسی نام سے واقفیت نہ تھی ـ سوچا جا کے دیکھتے ہیں، کس “معیار” کا تیر مارا ہے ان اردو والوں نےـ
اسلام آباد واپسی کے بعد اپنے شعبے کا رخ کرتے ایک دن بلا ارادہ رستے میں پڑتے شعبہ اردو کی تختی لگے دروازے کا کواڑ گھما دیا ـ سامنے ہی سجی اک محترمہ تھیں جنکی بڑی سی مسکراہٹ نے اندر آنے اور پھر “تشریف رکھنے” پر مجبور کر دیا ـ انکے بالمقابل ایک شفیق صورت، قدرے سنجیدہ بزرگ براجمان تھے ـ
اپنا نام بتایا، مسکراہٹ گہری ہو گئی
شعبہ بتایا، اس مسکراہٹ میں کچھ شناسائی یا کچھ عقیدت سی پیدا ہوئی اور ایک کھنکتی آواز آئی، “اصول الدین سے تو ہمیں ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں” … اور ہم نے اپنے تصور کو شکستہ ہوتے دیکھا ـ
عرض مدعا کیا، “معیار”!! وہ مسکراہٹ آنکھوں میں اتر گئی ـ “یہ لیجیے” تازہ بتازہ شمارے ہمیں اعزازی تھما دیے گئے ـ

انسیت کو موقر بنانے کے واسطے ٹھوک دیا کہ مدیر تو معین صاحب ہیں ناں!، اب کے وہ حضرت جو خاموش یہ مکالمہ سن رہے تھے، کے لبوں میں جنبش ہوئی، “جی! یہ خاکسار معین الدین عقیل ہے”، اور چھنا چھن کچھ من کے اندر ٹوٹاـ بھرم رکھنے کو گردن گھمائی اور بولی، “اچھا اچھا! آپ وہ سفرنامہ جاپان والے”ـــ وہ ہنس کے گویا خود سے بولے، “جاپان میری پہچان ہو گیا ہے؟” میں نے عجز کا اعتراف کیا کہ آپکی جاپان سے لکھی ڈائری کے علاوہ آپ کو پڑھا نہیں ہےـ مگر وہ ریت کے ذروں کو گہر بنانا جانتے تھے ـ اپنی رو میں کہتے جا رہے تھے، “آپکی معیار میں دلچسپی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ـ یہ آپکا اپنا مجلہ ہے ـ لکھیے ـ اسلام اور اردو کا امتزاج، برصغیر کی اسلامی روایت اور زبان کا ارتقا، ہم مل کے بہت اچھا آہنگ تشکیل دے سکتے ہیں ـ آپ ضرور لکھیے ـ ”
کیا میں لکھوں؟ جامعہ میں کبھی کسی نے یہ راہ نہ دکھائی تھی ـ
کیا میں لکھ سکتی ہوں؟ دس سالہ جامعاتی زندگی میں کسی نے یہ اعتبار نہ دیا تھا ـ

نجیبہ عارف! میں نہیں جانتی آپ کون ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں؟ کیا آپ جامعہ پنجاب کے دنوں میں “تلقین شاہ” کی بیٹھک میں حاضری دیتی تھیں؟ “داستان سراے” میں آپکا گزر تھا؟ یا آپ سیدھا عکسی جی کی تلاش ماورا کی اسیر ہو گئیں؟ میں نہیں جانتی، اکادمی ادبیات کون آپ کو لے گیا؟ اور لٹرری فیسٹول میں آپ کہاں براجمان ہوتی ہیں؟ مجھے نہیں معلوم آپ ردیف قافیوں سے الجھتی ہیں یا تنقید و تجزیے سے کھیلتی ہیں؟ـ آپ بابوں کے پاس کیا لینے جاتی ہیں؟ اور ساز سنگیت میں کیسی شکتی پاتی ہیں؟ آپ کھیتوں کھلیانوں ٹوٹے مندروں اور کھنڈروں میں کیا ڈھونڈتی ہیں؟

ہاں! مگر مجھے یہ معلوم ہے کہ آپکی سوچتی آنکھوں، مسکراتے لبوں، سرد ہاتھوں، گرم معانقوں کے پیچھے چھپا، پارے ایسا شفاف سرمست دل ہے جو سیدھا دل میں ترازو ہوتا ہے ـ آپ کی گفتگو وہ سبک رو دھار ہے، جو ہاتھ پکڑ کر منزل کا کنارا دکھاتی ہے، آپ کا دبلا سراپا وہ بھاری آدرش دیتا ہے جو امید کا دیا بجھنے نہیں دیتا، آپ کی نرم شبنمی مسکراہٹ وہ ایقان ہے کہ جزع فزع شکوہ شکایت سے دل داغدار نہ ہو، آپ کی آنکھوں کی جوت وہ رنگ دیتی ہے جس سے زندگی گلنار ہوتی ہے ـ آپ وہ ہیں جس نے “اردو ” کو معتبر کر دیا!! اور ہمیں یہ اعتماد دیا کہ خود کو “اردو والے” کہتے ہیں، سر اٹھا کے کہتے ہیں ـ!!
رب کی سلامتی ہو آپ پر!!

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: