ہمارا سب سے بڑا مسئلہ: نوید تاج غوری

0

 نقطے۔۔۔
اکثر مجالس میں، سوچنے اور پوچھنے والوں میں یہ سوال بہت اٹھتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے، یا بڑے لیول پر دیکھیں تو مسلمانوں کا یا مسلم ملکوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم عروج سے زوال کا سفر روشنی کی رفتار سے طے کر رہے ہیں۔ ہماری ساکھ، ہمارے نظریات ہمارے کردار پر انگلیاں کیوں اٹھ رہی ہیں۔ ان سب اور ایسے ملتے جلتے سوالات پر لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ امریکہ و مغربی طاقتیں ہیں۔ کسی کی نظر میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ الیکٹرانک میڈیا اور فحاشی کا پھیلنا ہے۔ کچھ کو لگتا ہے کہ فلسطین اور کشمیر جیسے علاقوں کی آزادی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ اور منصوبہ بندی اس کی وجہ بتاتا ہے تو کسی کو "کافروں” کی ایجادات و نصاب سے سازش کی بو آتی ہے۔
تاہم میرا خیال ہے کہ اس سوال کا حل اور اس زوال کی وجہ ہمارے اپنے اندر ہے۔ اپنی بکل دے وچ چور ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اخلاقیات سے عاری مذہبیت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مذہب کے نام پر روا منافقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے تعصب کی بھٹی میں رواداری، تحمل، بردباری، انصاف اور اخلاص پر مبنی تعلیمات کو جھونک کر اپنے اپنے سانچوں میں اپنا اپنا مذہب ڈھال لیا ہے۔ اس خود ساختہ مذہبیت میں سرحد و سمندر پار دوسری اقوام پر تو اسلام کے نفاذ کے لیے جہاد ہوتا ہے ، مگر اپنے اندر اور اپنے معاشرے کے بدترین اخلاقی جرائم نظر نہیں آتے۔ اس مذہبیت میں ہنود و یہود و نصاریٰ کی سازشیں تو گھپ اندھیرے میں بھی ان کو روز روشن سی نظر آتی ہیں، مگر اپنے نفس کے فریب اور شیطان کی دغا بازی، قرآن اور سیرت کی روشنی کے باجود نظر نہیں آتی۔ اس مذہبیت میں ہاتھ میں کلاشنکوف اور زبان پر اللہ اکبر کے نعرے ہوتے ہیں مگر دل میں خدا کا خوف اور عمل و کردارمیں سیرتِ رحمتہ للعالمین ﷺ کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔
ایک طرف سوچ کا یہ عالم ہے تو دوسری طرف علم و تحقیق کو ہم نے دینی دنیاوی اور کفر و اسلام میں تقسیم کر رکھا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے لئے مرنا سب چاہتے ہیں، جینا کوئی نہیں۔ شہادت میدان جنگ میں مانگتے ہیں کسی تجربہ گاہ، کسی درسگاہ یا میدان تحقیق میں نہیں۔ ہمیں بھلا میڈیکل، انجینئرنگ، آرکیالوجی، ماحولیات، جینیٹکس، سپیس سائنسز، کوانٹم کمیوٹنگ، نینو ٹیکنالوجی، ایڈوانس میٹیرئلز، سائکولوجی، نیچرل ریسورسز، عمرانیات، سیاسیات، شماریات، حتی کہ جنگی آلات اور سامانِ حرب پہ بھی عملی تحقیق اورعلمی کام کی کیا ضرورت ہے۔ چند گورے جب یہ کام کر لیں گے تو ہم بڑے آرام سے کسی آیت کو نکال کر کہہ دیں گے، "دیکھا، یہ تو پہلے ہی قرآن میں لکھا ہوا تھا!”
خدا کے بندو، آرمی کو بھی اپنا نظام چلانے کے لئے ،انجینئرز، ڈاکٹرز، ریسرچرز،اکاونٹنٹ، کلرک، باورچی، مالی، درزی، موچی، نائی، دھوبی، الیکٹریشن، کنسٹرکشن والوں، اور دوسرے سویلئنز جیسے کنٹریکٹرز، مینوفیکچررز، سپلائرز وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف بندوق چلانے والے سپاہی اور ا فسر مکمل ادارہ نہیں چلا سکتے، تو آپ خدا کے پسندیدہ مذہب میں صرف تیر و تلوار والے مجاہد بن کر، باقی سب کام کفار کے حوالے کرکے دنیا پہ غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو بسم اللہ۔۔۔
حالت ہماری یہ ہے کہ ہم چاہے کسی طبقے یا کسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، برداشت کا پیمانہ یہ ہے کہ کسی دوسرے کی رائے اور نقطہ نظر ہم سننے تک آمادہ نہیں۔ حرص و ہوس اس نہج پر ہے کہ ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو دھوکا دے رہا ہے۔ باڑ کھیت کو کھا رہی ہے، اور بندہ بندے کو۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ خدا کا قہر اگر آج مسلمانوں کی طرف متوجہ ہے تو یہ کچھ اور نہیں اللہ تعالیٰ کے اصولِ عدل کا ظہور ہے۔ مذہب کے نام پر اگراس اخلاقی حیثیت کے لوگ کھڑے ہیں اور لوگ جوق در جوق ان کی پیروی پر راضی ہیں تو خدا بھی مسلمانوں کی بربادی پر راضی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی کسی قوم سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ وہ اصول پر معاملہ کرتا ہے۔ اگر اسلام کے نام لیوا اور رسول کریم ﷺ کی نمائندگی کرنے والے اسی اخلاق و کردار کے لوگ ہیں تو مبارک ہو، مسلمانوں کی پستی ابھی ختم نہیں ہوگی۔ جب تک مسلمانوں اوران کی مذہبی لیڈر شپ کے علمی اور اخلاقی رویے نہیں بدلیں گے، مسلمانوں کا حال اور ان کا مستقبل بھی نہیں بدلے گا۔

…………………………………………..

"کچھ ہڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، تحریریں مگرلاؤڈ تھنکنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی فسوں کاری میں غم روزگاراورغم جاناں کے بیچ، بس نمک کی کان میں نمک ہونے سے بچتا ہوں۔ "
نوید تاج غوری

About Author

"کچھ ہڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، تحریریں مگرلاؤڈ تھنکنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی فسوں کاری میں غم روزگاراورغم جاناں کے بیچ، بس نمک کی کان میں نمک ہونے سے بچتا ہوں۔ "

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: