چانکیہ اور چندر گپت موریہ: ہمارے یا تمھارے —– ملک آفتاب اعوان

0
  • 98
    Shares

ہماری تعلیم ویسی ہی رہی ہے جیسی اکثر پاکستانیوں کی, یعنی بے مقصد اور بے سمت۔ بی ایس سی تک فزکس اور میتھ پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ ہماری اصل دلچسپی تو سائنس نہیں بلکہ زبان و ادب سے ہے تو انگریزی اور اردو میں ایم اے کر ڈالا۔ مگر اپنی اصل دلچسپی کے موضوع کی تلاش کے سفر کے دوران اپنے فارغ وقت میں (جو کہ وافر مقدار میں ہوتا تھا) ہم جو کتابیں اکثر پڑھتے تھے وہ تاریخ کی ہوتی تھیں۔ تاریخ کی کتابیں ہمیں اس لئے بھی پسند تھیں کہ فلموں کی طرح ان میں بھی ایک طرف ہیروز ہوتے تھے تو دوسری ولن۔ طارق بن زیاد ہیرو تھا اور راڈرک ولن۔ محمد بن قاسم ہیرو تھا اور راجہ داہر ولن، محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری ہیرو تھے اور جے پال اور پرتھوی راج ولن۔ اس لئے یہ کتابیں پڑھنے سے ہمیں ایک ٹکٹ میں دو مزے ملتے تھے۔ اپنی تاریخ کے بارے میں گیان تو حاصل ہوتا تھا ہی، ساتھ ساتھ معرکہ حق و باطل کے ناول پڑھنے کا مزہ بھی حاصل ہوتا تھا۔ ہیرو اور ولن منتخب کرنے کے لئے ہمارا ایک آسان سا معیار تھا۔ جو مسلمان تھا وہ ہیرو تھا اور جو مسلمان نہیں تھا وہ ولن تھا۔

لیکن تاریخ کی ان بلیک اور وہائیٹ کتابوں میں بھی کچھ سخت مقامات تھے جو کہ کفار کی ہم معصوم مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی سازشوں کا نتیجہ تھے – مثلاً سکندر اور پورس کی لڑائی میں ہم نے ہمیشہ سکندر کو حق پر سمجھا کیونکہ وہ مسلمان تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس بد بخت نے محض ہم بھولے بھالے مسلمانوں کو چکمہ دینے کے لئے اپنا نام ایسا رکھا ہوا تھا ورنہ تو وہ مسلمان تو کیا بطور الیگزنڈر عیسائی بھی نہ تھا۔ اسی طرح ہم بہت عرصہ دارا اور نوشیروان کو بھی مسلمان بھائی سمجھ کر اُن کے عاشق رہے، بعد میں علم ہوا کہ اُن دونوں ظالموں نے تو اسلام کا نام بھی نہیں سنا تھا کیوں کہ ان کے زمانے میں اسلام نامی کسی مذہب کا وجود ہی نہ تھا۔ اسی طرح چندر گپت موریہ اور اشوک اعظم کے بارے میں ہمارے خیالات کبھی بھی کچھ زیادہ مثبت نہ رہے، کیوں کہ وہ اپنے ناموں کی وجہ سے ہمیں اپنے ازلی دشمن ہندوؤں کے ہیرو لگتے تھے۔ بہت عرصہ گزرنے کے بعد ہم پر انکشاف ہوا کہ وہ بیچارے تو ہندو بھی نہیں تھے ان میں سے ایک جین مذہب کا پیروکار تھا اور دوسرا بدھ مت کا۔ اور ان سے ہمارا اسلام قبول نہ کرنے کا گلہ بالکل بے جا تھا کیوں کہ غلطی سے ان کی پیدائش حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے ہوئی تھی۔ اس لئے ان دونوں بیچاروں کو راہ راست اختیار نہ کرنے کا طعنہ بے سود تھا۔

آہستہ آہستہ ہمیں یہ احساس ہونے لگا کہ کسی کو بطور اپنا ہیرو پسند کرنے کے لئے نام کا اسلامی یا غیر اسلامی کا ہونا کوئی خاص قابلِ اعتبار معیار نہیں۔ بلکہ نام کا اسلامی ہونا تو کیا خود ہیرو کا بھی مسلمان ہونا بھی کوئی خاص قابل اعتبار معیار نہیں تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اب ہم نے کفار کی لکھی ہوئی تاریخ کی کتابیں بھی پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ اور دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ تھی کہ ہمیں اب احساس ہونے لگا تھا کہ مسلمان ہونا بذاتہٖ کوئی ایسی خوبی نہیں جو کہ کسی کو ہیرو بنانے کے لئے کافی ہو۔ کئی ایسے مسلمان حکمرانوں کے بارے میں بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا کہ جن کے ظلم و ستم اور برائی کی وجہ سے خلق خدا کا جینا حرام تھا اور کئی ایسے غیر مسلم حکمرانوں سے بھی شناسائی ہونے لگی جو کہ اپنی رعایا کے لئے باپ جیسا رویہ رکھتے تھے اور صحیح معنوں میں ہیرو کہلانے اور سمجھے جانے کے حقدار تھے۔ ہم نے یہ جانا کہ خواہ مخواہ اگر بغیر کسی ذاتی خوبی کے کسی کو ہیرو سمجھنا ہی ہے تو اس کے لئے ہم جغرافیہ ہونا زیادہ بہتر ہے۔ کم از کم یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ فلاں ہمارے علاقے کا ہے۔

بد قسمتی سے مذہبی شناخت کی بنیاد پر تاریخی شخصیات کو پسند نا پسند کرنے کا مسئلہ صرف ہمارا نہیں بلکہ لوگوں کی اکثریت کا ہے۔ ہم اپنی دھرتی کے کئی عظیم سپوتوں کو صرف اس لئے نا پسند کرتے یا پھر نظر انداز کرتے ہیں کیوں کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ ہندو مت یا دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اور بعض اوقات ایسے تاریخی کرداروں کو صرف ان کی اسلامی ناموں کی وجہ سے ہیرو کا درجہ دینے پر تیار ہو جاتے ہیں جن کا اصل مقام محض ذرا اعلیٰ درجے کے لیٹروں سے زیادہ کا نہیں۔ محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کا تو میں ذکر نہیں کرتا کہ اُن کے بارے میں دو آراء موجود ہیں، مگرظہیر الدین بابر اور نادر شاہ افشار جیسے کردار جنہوں نے صرف اقتدار اور مال و دولت کے لالچ میں بر صغیر کا رخ کیا اور یہاں پہلے سے موجود مسلمان حکمرانوں کے خلاف جنگیں کیں، ہماری تاریخ میں مثبت الفاظ سے یاد کرنا شاید مناسب نہیں۔

دوسری طرف ان عظیم کرداروں کا ذکر کرنا بھی ہم مناسب نہیں سمجھتے جو کہ صحیح معنوں میں اس دھرتی کے سپوت تھے اور ان کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مسلمان ناموں کے حامل نہ تھے۔ ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت بھی اس بات سے واقف نہیں کہ ہندوستان کا پہلا عظیم حکمران چندر گپت موریہ ہو یا اس کا پوتا یا اشوکِ اعظم، ان کی عظیم سلطنت، جو کہ برصغیر کی حدوں سے باہر نکل کر موجودہ افغانستان کی حدوں تک پھیلی تھی، کا مرکزی مقام وہ علاقے تھے جو کہ آج پاکستان کا حصہ ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں ہماری جغرافیائی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہونے کے حق دار ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ چندر گپت موریہ جین مذہب سے تعلق رکھتا تھا جب کہ اشوک اعظم نے بدھ مت اختیار کر لیا تھا مگر ہم انہیں ہندو حکمران سمجھ کر ان سے آنکھیں چراتے ہیں۔ موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی عظیم تہذیبوں پر بھی ہم فخر کرنا گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ہمارے خیال میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے اِن علاقوں میں کچھ بھی قابل فکر نہ تھا اور اگر تھا بھی تو بھی اس پر ہمیں فخر کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ نہ ان لوگوں کی نام مسلمانوں والے تھے اور نہ ہی ان تہذیبوں کے نام عربی میں تھے ۔

دیکھا جائے تو موجودہ ہندوستان کے لئے چندر گپت موریہ اور اشوک کا بھی وہی مقام ہونا چایئے جو کہ اُن کے لئے غزنوی، غوری اور بابر کا ہے یعنی بیرونی علاقوں کے غیر مذہب کے حکمران جو کہ اقتدار کی توسیع کی خاطر ان علاقوں پر حملہ آور ہوئے جو کہ آج ہندوستان میں شامل ہیں۔

تاریخ کا پہلا سیاسی مفکر اور فلسفی اور ارتھ شاستر جیسی کلاسیک کتاب کا مصنف کوٹلیہ چانکیہ بھی ہمارے مصنفوں کی چاند ماری کا شکار رہتا ہے۔ اور اکثر ہندوستانی حکمرانوں کو ہم چانکیہ کا پیروکار اس طرح کہتے ہیں جیسا کہ یہ کوئی گالی ہو۔ حالانکہ بقول دائرۃ المعارف وکی پیڈیا یہ ایک آفاقی تحریر ہے۔ اور کوٹلیہ چانکیہ نے اس میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔ بقول دائرۃ المعارف علوم و فنون، معیشت، ازدواجیات، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسم و رواج، توہمات، ادویات، فوجی مہمات، سیاسی و غیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع چانکیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سما گیا ہے، جو ہم سوچ سکتے ہیں۔ میکیا ولی کی دی پرنس جو کہ ماضی میں ہمارے کئی حکمرانوں کی پسندیدہ کتاب رہی ہے اپنی وسعت اور ہمہ گیری کے حوالے سے ارتھ شاستر کے سامنے پانی بھرتی ہے۔ مگر ہم اٹلی کے میکیا ولی کو تو ایک عظیم مفکر مان لیں گے مگر اپنی دھرتی پر لکھی گئی اس کتاب کے مصنف کو ہر اس برے نام سے یاد کریں گے جو کہ ہمارے ذہن میں آسکتا ہے۔

یہی حال تحریک آزادی کے ایک انقلابی کردار بھگت سنگھ کا ہے۔ فیصل آباد میں پیدا ہونے والا بھگت سنگھ ہر لحاظ سے ہمارا ہیرو کہلانے کا حق دار ہے کیونکہ وہ فیصل آباد میں پیدا ہوا اورآزادی کی خاطر جدوجہد کی پاداش میں لاہور میں پھانسی چڑھا۔ مگر ہمارے نوجوانوں کے لئے اس کا نام بھی نامانوس ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ سرحد کی دوسری جانب والے بھی ہم جیسے ہی تاریخ دان ہیں۔ ان کے لئے اشوک اور چندر گپت ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں حالانکہ نہ ہی ان کی حکومت کا مرکزی مقام ان علاقوں میں تھا جو کہ آج ہندوستان کا حصہ ہیں اور نہ ہی وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ ہندوستان کے لئے چندر گپت موریہ اور اشوک کا بھی وہی مقام ہونا چایئے جو کہ اُن کے لئے غزنوی، غوری اور بابر کا ہے یعنی بیرونی علاقوں کے غیر مذہب کے حکمران جو کہ اقتدار کی توسیع کی خاطر ان علاقوں پر حملہ آور ہوئے جو کہ آج ہندوستان میں شامل ہیں۔ باالفاظ دیگر غیر ملکی لٹیرے اور غاصب۔ مگر چوں کہ ان کے نام ہندوؤں جیسے ہیں اس لئے وہ بھی اُسی طرح اُن کے ہیرو ہیں جس طرح ہم بابر اور نادر شاہ کو اپنا ہیرو بنائے بیٹھے ہیں۔ چانکیہ ان کے لئے عظیم ہے اور ہمارے لئے قابل نفرین۔ جبکہ ان کو چانکیہ پر فخر کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہم کو مراکش میں رہنے والے ابنِ طفیل نامی فلسفی کی کتابوں پر خوش ہونے کا۔ اسی طرح وہ بھی موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں کو اسی طرح اپنا سمجھتے ہیں جس طرح ہم اندلس میں عرب حکمرانوں کی سلطنت کو اسلامی سلطنت سمجھ کر فخر کرتے رہتے ہیں۔ جب کہ نہ ہم میں اور اندلس میں کوئی قدرِ مشترک ہے اور نہ موجودہ ہندوستان میں اور موہن جو دڑو کی تہذیب میں۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اب ان تاریخی مغالطوں کو درست کریں۔ افغانستان کے ہیرو اُس کو واپس کریں اور اپنے اصل ہیرو ہندوستان سے واپس لیں کیوں کہ وہ درحقیقت موجودہ ہندوستان کے لئے لٹیرے اور غاصب تھے۔ اور ہندوستان سے بھی کہیں کہ ہماری طرح امپورٹڈ ہیروز سے کام چلانا بند کرو۔ تمھارے اپنے پاس بہت سے قابلِ فخر لوگ ہیں ان کو اختیار کرو۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق لازم نہیں، اس موضوع پہ کسی بھی تحریر کے لئے دانش کے صفحات حاضر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی لیفٹ کا کنفیوذ آدمی —— احمد الیاس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: