شیر دل: اچھے موضوع پر بنائی گئی ہلکی فلم —— خرم سہیل

0
  • 83
    Shares

فلم کتنی ہی بری ہو یا اچھی لیکن اس کو بنانے میں بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ 23 مارچ یوم پاکستان سے ایک دن پہلے ریلیز ہونے والی فلم’’شیر دل‘‘ بہت محنت سے ایک اچھے موضوع پر بنائی گئی بُری فلم ہے، جس میں جذبۂ حب الوطنی، 1965 کی جنگ کا ماضی، موجودہ پاک بھارت تعلقات کشیدگی اور سب سے بڑھ کر بھارتی پائلٹ’’ابھی نندن‘‘ کی پاکستان میں کریش لیڈنگ کے بعد، ڈرامائی انداز میں گرفتاری و رہائی کا تناظر اور عوام کے جذبات کو مخاطب کرنے کی غیر متاثر کن کوشش کی گئی ہے۔ ایک شاندار ٹریلر دکھا کے، جس انداز میں یہ فلم بڑی اسکرین پر پیش کی گئی، اس کو دیکھنے کے بعد محسوس ہوا، بڑی اسکرین تو دور کی بات، یہ فلم لیپ ٹاپ کی چھوٹی اسکرین پر بھی دیکھنے کی نہیں ہے۔ حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں پاکستان ائیر فورس کے انتہائی متاثرکن کرداراور اس پہ ملنے والی عالمی تحسین کے تناظر میں عوام کی توقعات ویسے ہی بہت بلند ہوچکی تھیں، جس کے بعد اس فلم نے ان توقعات کو کسی درجہ مایوسی میں بدل دیا۔

فلم کا ٹریلرسب سے پہلے اس فلم کے ٹریلر پر بات کرنا ضروری ہے۔ رواں برس میں اس فلم کی ریلیز کا دور دور تک کوئی تذکرہ نہیں تھا، لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں عین موقع پر، اس فلم کا ٹریلر جب ریلیز کیا گیا، تو کہانی کا موضوع جان کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے ڈان نیوز پر اس فلم کے ٹریلرکے بارے میں تفصیلی بات بھی کی۔ فلم کے ٹریلر کے مطابق یہ فلم 1965 کی جنگ کے پس منظر میں موجودہ دور کے ایک پائلٹ کی جنگی جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس فائٹر پائلٹ کی جدوجہد کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انڈین پائلٹ سے مڈ بھیڑبھی دکھائی گئی، لیکن فلم میں چند منٹوں کے ان جذباتی مناظر کے بعد اسکرین پر راوی چین ہی چین لکھتا ہے، اس لیے مکمل فلم دیکھنے کے بعد یہ تبصرہ پیش خدمت ہے۔ پاکستانی فلم سازوں سے گزارش ہے، آپ ٹریلر میں وہی تاثر دیا کریں، جو کچھ آپ کی فلم میں ہوتا ہے، ورنہ قول وفعل کا یہ تضاد آپ کی فلم کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوتا، جیسا کہ اس فلم میں ہوا ہے۔

کہانی فلم کے رائٹرنعمان خان ہیں، جو اس فلم کے پروڈیوسر بھی ہیں۔ اس فلم کی کہانی کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے، ایک نوجوان (فلائٹ لیفٹینٹ حارث مصطفی) جس کے دادا پاکستان ایئر فورس میں تھے، انہوں نے 1965 کی جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کیا تھا، اب ان کا پوتا اسی نقش قدم پر چلنے کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ اس کے والدین اور محبوبہ، جو بعد میں بیوی بھی بن جاتی ہے، وہ اور باقی سب اس حق میں نہیں ہوتے، البتہ دادی چاہتی ہیںکہ پوتا ضرور ایئرفورس میں جائے۔ ابتدائی چند منٹوں میں دادا اور پوتے کے رشتے کے جذباتی تعلق اور دادی کی خواہش کے پس منظر میں فلم آگے بڑھتی ہے، اس کے بعد فلم میں نہ کہیں کوئی کہانی ہے، نہ ہی جذبہ ٔ حب الوطنی کا رنگ، فلم کے آخرمیں بھارتی پائلٹ ’’ابھی نندن‘‘ کا منظر بھی زبردستی شامل کیا ہوا محسوس ہو رہا ہے اورکہیں کہیں کچھ رومانوی مناظربنانے کی کوشش اور کہانی ختم۔ کچھ مناظرمیں ہلکے پھلکے مزاحیہ مکالمے فلم بین کو کچھ لطف دیتے ہیں، پوری فلم کی کہانی کا ردھم ایک ہی جیسا ہے، نہ کہیں کرداروں اور کہانی میں کوئی ٹکرائو بنا، جس کی وجہ سے کہانی میں تنائو یا دلچسپی کی کیفیت ابھرتی، نہ کوئی اور کلائمکس بلکہ فلم جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی، یکسانیت اور اکتاہٹ پیدا کرتی چلی گئی۔

مثال کے طور پر کہانی میں کئی واقعات کو دیکھ کر محسوس ہوا، انہیں بہت مرتبہ پاکستانی فلموں میں دیکھ چکے ہیں، جس طرح پاکستان ایئرفورس اکیڈمی پہنچنے پر کیڈٹس کے ساتھ سینئر جو سلوک کرتے ہیں، وہی پرانے گھسے پٹے واقعات، جہازوں کے جنگی مناظر کے مابین کسی ربط کا نہ ہونا وغیرہ۔

پھر فلم میں ایک جگہ پس منظر میں ایم ایم عالم پارک دکھایا گیا، کیا ہی اچھا ہوتا، ایم ایم عالم، راشد منہاس یا عہد موجود کے قومی ہیروپائلٹ حسن صدیقی یا دیگر پاک فضائیہ کے بہادرسپوتوں کی کہانی پر کوئی فلم بنائی جائے، جو واقعی ہی جذبہ ٔ حب الوطنی کی عکاسی کرسکے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے پاک فضائیہ کی تھیم پرہی ایک فلم’’پرواز ہے جنوں‘‘بنی تھی، اس کابھی مسئلہ فلم کی کہانی کا اچھا نہ ہونا تھا۔ صرف اچھا موضوع منتخب کرلینے سے تو کچھ نہیں ہوتا، اس موضوع سے انصاف اور ایک اچھی کہانی متقاضی ہوتی ہے کہ فلم کے پردے پر کچھ دکھانے کو ہوورنہ سینما ہال میں خریدے ہوئے مہنگے ٹکٹ کے بعد، فلم ختم ہونے کا انتظار تکلیف دہ ہو جاتا ہے اور گرم کافی بھی ایسی ٹھنڈی کہانی میں مزا نہیں دیتی۔

اداکاری و موسیقی جب کہانی اچھی نہ ہو تو اداکار بھی کتناہی زور لگالیں، فلم متاثر نہیں کرتی۔ فلم میں ہیرو (میکال ذوالفقار) اس کی دادی (ثمینہ احمد) اور ولن (حسن نیازی) کے علاوہ کوئی اداکار متاثر کن ثابت نہ ہوسکا۔ فلم کی ہیروئن ’’ارمینا رانا خان‘‘ شروع سے آخرتک بغیر ضرورت کے کئی مرتبہ کہانی میں آتی اور جاتی رہیں، ایک ہی ردھم میں سارے مکالمے بولتی رہیں۔ وہ شاید ماڈل اچھی ہوں، اداکاری میں ان کا مستقبل روشن دکھائی نہیں دیتا، باقی اداکاروں میں سبیکا امام، ابراہیم علوی، بلال شاہد، ملک عقیل، عمران اُپل اور لیلیٰ زبیری سمیت کم و بیش کے ساتھ یہی مسئلہ تھا کہ ان کے کردار کہانی سے انصاف نہ کرسکے، جس کے ذمے دارفلم ساز، ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر ہیں۔

فلم کی موسیقی کوئی سر پیر نہیں تھا، نہ ہی کوئی گانا فلم کی تھیم کے ساتھ منسوب تھا، بس گانے آئے اور گزر گئے، اس طرح کے سنجیدہ موضوع کی فلم میں بھی فلم ساز نے دو آئٹم نمبر شامل کر دیے، اس جسارت کی داد دینی چاہیے۔ فلم کی تشہیرمیںموسیقی کوزیادہ توجہ نہ مل سکی۔ بہرحال اس فلم میں نوجوان نسل کے ابھرتے ہوئے بینڈ ’’سوچ‘‘ نے میوزک دیا۔ عدنان نے ان گیتوں کولکھا، گایا بھی اورموسیقی بھی ترتیب دی۔ فلم کے نمایاں گیتوں میں، سانسوں میں باقی ہے دم، یاریاں تھے، جو ناظرین کی زیادہ پسندیدگی حاصل نہ کرسکے۔

فلم سازی، ہدایت کاری اور تکنیکی شعبےنعمان خان اس فلم کے پروڈیوسر اور رائٹر ہیں۔ بطور پروڈیوسر ایک ایسے موضوع کو منتخب کرنا، پھر پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں فلم کی ریلیز کا فیصلہ کرنا، 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر ایک دن پہلے فلم کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کرنا اور فلم کی تشہیر میں 1965 کا جذباتی پہلو استعمال کرنا، جو فلم کا ایک دو فیصد حصہ تھا، یہ سب چیزیں انہیںصرف ایک موقع شناس فلم ساز کے طور پر ثابت کر رہی ہیں۔

مثبت پہلو سے دیکھیں تو انہوں نے جس طرح ہالی ووڈ کے ڈی او پی’’رِکی بٹلینڈ‘‘ سے کام لیا، جن کے کریڈٹ پر فاسٹ اینڈ فیورس اور اسٹار ٹریک جیسی فلمیں ہیں، یہ اچھا فیصلہ تھا، اس کااثر فلم پر بھی ہوا، تکنیکی طور پر فلم میں جھول نہیں تھا۔ کئی فریمز بھی بہت شاندار تھے۔ گرافکس کے شعبے میں’’اسکاٹ نیومین‘‘ کو شامل کرنا بھی مثبت بات تھی، ان سب پہلوئوں سے فلم تکنیکی طور پر مضبوط ہوئی، لیکن خود فلم لکھنے کا فیصلہ انتہائی غلط تھا، جس نے پوری فلم کی لٹیا ڈبو دی۔

ہدایت کاری کے فرائض ’’اظفر جعفری‘‘ نے انجام دیے، نئی نسل کے ڈائریکٹر کے طور پر ابھی تک وہ اپنے کام سے فلم بینوں کو متاثر نہیں کرپائے، اس فلم نے بھی کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑا، جبکہ پاکستان ایئرفورس کے وسائل، کئی غیر ملکی تکنیکی ماہر اور دیگر سہولتیں میسر تھیں۔

حرف آخر پاکستانی فلم سازوں سے یہ درخواست ہے، ایسے نازک اور جذباتی موضوعات کواشیائے خوردونوش کی طرح بیچنے کی کوشش نہ کیا کریں، کمرشل ضرورتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن پوری دنیا میں انہی ضرورتوںسے نمٹتے ہوئے فلم ساز اچھا کام بھی کر رہے ہیں، ماضی میں پاکستانی سینما میں بھی اچھا کام ہوا، اب تو ٹیکنالوجی، اسپانسرز، فنانسرز اور دیگرسہولتیں بھی وافر طور پر دستیاب ہیں، اگر کہانی اور تھیم پر کام کرلیا جائے اور کسی مخصوص موقع کو کیش کروانے کی بجائے صرف فلم کی تخلیق پر دھیان مرکوز رکھا جائے، تو شاید اچھی فلم بن جائے گی۔

پاکستانی سینما کی واپس بحالی کی باتیں تو ہو رہی ہیں، انڈین فلمیں بھی پاکستان میں ریلیز ہونا بند ہوگئی ہیں، کیا اس تناظر میں پاکستانی فلم سازوں کو نہیں لگتا کہ وہ بچکانہ رویے ترک کرکے خود کو باشعور اورزیرک فلم ساز ثابت کریں، ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا، کم ازکم یوم پاکستان کے موقع پر اس فلم کو دیکھ کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب انتظار ہے۔
پاکستانی سینما خالی پڑے ہیں، فلم بین منتظر ہیں، پاکستانی فلم سازوں سے امیدیں ہیں، اگر اب بھی اپنی صلاحیتیں ثابت نہ کرسکے، تو پھر شاید مشکل ہوگا کہ بحالی کا عمل زیادہ دیر جاری رہ سکے، یہ ایک زمینی حقیقت ہے، جس پر پاکستانی فلمی صنعت کے ذمے داروں کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

خرم سہیل  khurram.sohail99@gmail.com

یہ بھی پڑھیئے: قصہ صہبا اختر کی اداکاری اور غلام محمد قاصر کی سادگی کا —– شاہد مسعود

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: