ایں سعادت بزور بازو نیست ——– علی عبد اللہ

0
  • 18
    Shares

چونکہ “العلماء ورثۃ الانبیاء” یعنی علما [حق] انبیاء کے وارث ہیں، لہٰذا وہ ان کے علم، حلم، تقوی اور عجز کا ایک نمونہ بھی ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو علم کا سمندر ہونے اور اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ظاہری و باطنی طور پر نہایت سادہ اور عاجزی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ریٹائرڈ جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب چند ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں جو علم کا دجلہ و فرات و نیل ہونے کے باوجود نہایت معتدل مزاج اور سادگی کا پیکر ہیں۔ ایک دن پہلے ہی مفتی تقی صاحب کے ٹوئیٹر ہینڈل پر یہ ٹویٹ ہوا، ’’کسی فرد يا گروپ کے انفرادی عمل کو اسکے دین سے و ابستہ نہیں کیا جا سکتا نہ اسکی ذمہ داری پوری کمیونٹی پر ڈالی جا سکتی ہے نیوزی لینڈ کے حادثے نے یہ حقیقت واضح کر دی‘‘ اور آج ان پر قاتلانہ ہو گیا۔ یقیناً حملہ کرنے اور کروانے والے ملک و قوم اور اسلام دشمن ہیں۔

مفتی تقی عثمانی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو شیخ عبد الفتاح ابوغدہ “تفاحۃ الہند و با کستان” کے لقب سے یاد کرتے تھے اور ایک مرتبہ ازراہ محبت فرمایا “لوکنت تفاحۃ لاکلتک”۔ شیخ یاسین الفادانی المکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تمام اسناد آپ کو دیکر آپ کے نام کتابی شکل میں شائع کی جس کا نام ” الفیض الرحمانی باجازۃ فضیلۃ الشيخ محمد تقی العثماني” ہے۔

اسی طرح شاہ حکیم محمد اختر صاحبؒ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے تھے ” آپ ہمارے پاکستان کے علی میاں (ابو الحسن علی ندوی) ہیں اور مفتی اعظم مولانا محمد شفیعؒ کہتے تھے کہ” دیکھنا تقی ایک دن مجھ سے بھی آگے نکل جائے گا”۔ ایسے القابات اور عزت ہر ایک کو نہ عطا ہوتی ہے اور نہ ہی راس آتی ہے۔ لیکن مفتی تقی عثمانی عجز و انکساری کا وہ پیکر ہیں جن کا لفظ لفظ دلوں میں سرائیت کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور بے پناہ مقبولیت کے باوجود سادگی کا دامن پکڑے ہوئے ہیں۔

اکتوبر 1943 میں پیدا ہونے والے مفتی تقی عثمانی صاحب 2019 کے بااثر ترین 50 اسلامی شخصیات میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے 1967 میں کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور 1970 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی ادب نمایاں پوزیشن سے مکمل کیا۔ تخصص فی الفقہ کے بعد درس حدیث کی اجازت انہیں مختلف جید علماء سے ملی جن میں مفتی محمد شفیع، مولانا ادریس کاندھلوی، قاری محمد طیب، عبد الفتاح ابو غدہ اور مولانا محمد زکریا کاندھلوی وغیرہ شامل ہیں۔ مفتی صاحب اسلامی بینکنگ میں بین الاقوامی سطح پر معروف ہیں۔ اسلامک فنانشل انسٹیٹیوٹ بحرین کے چیئرمین اور بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے مستقل ممبر بھی ہیں۔ علاوہ ازیں ساٹھ سے زائد عربی، انگریزی اور اردو کتب کے مصنف بھی ہیں جن میں آسان ترجمہ قران، اسلام اور ہماری زندگی، اسلام اور سیاسی نظام جیسی معروف کتب بھی شامل ہیں۔ جبکہ تین سو جلدوں پر مشتمل حدیث انسائکلو پیڈیا اور تجارتی فقہ پر مشتمل کتابوں پر کام جاری ہے۔

مفتی محمد تقی صاحب عالم اسلام اور پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور دین و ملت کے لیے ان کی بے شمار خدمات ہیں۔ معتدل مزاجی کے باعث ہر طبقہ میں مقبول عام ایسے علماء پر قاتلانہ حملے باعث تشویش ہیں۔ حکومت کو فوری اس حملے کا نوٹس لے کر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ مزید ایسے واقعات دوبارہ جنم نہ لے سکیں۔

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: