نوجوانوں میں شدت پسندی کی لہر —– حلیمہ سعدیہ

0
  • 40
    Shares

ہر دوسرے دن کوئی خبر روح کو گھائل کر دیتی ہے۔ اور دہشت لاشعور میں مزید سرائیت کر جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی “ہابس کی فطری ریاست” میں رہ رہے ہوں جس میں کوئی اخلاقی اور مذہبی اقدار نہیں ہے۔

ان ہونے والے واقعات اور غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے روح اور زہن میں پیدا ہونے والا خوف اور دہشت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ حالیہ بہاولپور والے واقعے نے تو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ آخر ہمارے نوجوانوں کے زہنوں میں بھرے جانے والے زہر کا تریاق کیسے ممکن ہوگا؟ اصلاح کیسے کی جائے؟ اس سب کا انت کیا ہوگا؟ سوالات کی زہنوں میں بھیڑ سی لگ گئی ہے۔

یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں سمجھدار، محنتی اور پروگریسو دانشوروں کا قحط پڑگیا ہے۔ ہمارے بنیادی مسائل کی جڑوں کو سمجھنے کے بجائے ہمارے سو کالڈ دانشور ہمیں انتہائی سطحی قسم کے حالات میں گھسیڑ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم نظریاتی اور روحانی بنیادیں حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

ہم سب ایک دوسرے کے خلاف اپنی مذہبی اور اخلاقی اقدار، روایات اور سماج کے خلاف بغاوت کا جو راستہ اپنا چکے ہیں اس کا نتیجہ ہر دوسرے دن انتہائی غیر منظم واقعات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

کون کہتا ہے ہم آزاد ہیں۔ ہم تو سپارٹیکس کے گلیڈایٹرز ہیں جو رومی شہنشاہوں کی خوشی کے لئے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، کوئی بھی اٹھتا ہے اور ہمارے زہنوں کے لئے شکنجے تیار کرنا شروع کر دیتا ہے، کبھی لسانیت کے نام پر، کبھی عقائد کے نام پر کبھی مسالک کے نام پر، گروہی اور فروعی مسئلوں پر۔ یہی سب کچھ دوسرے سرے پر بھی نظر آتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ معاملات کو اس نہج تک پہنچانے میں حکمرانوں کا بھی ہاتھ رہا ہے جو ” تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں، مگر ہم نے بھی کبھی سنجیدگی سے حقیقت پسند قوم کی طرح استدلال کا رویہ اپنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔

ہمیں جی خود ہمیں ہی اب سوچنا ہوگا۔ اپنی نوجوان نسل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کچھ عملی اور ٹھوس اقدام اٹھانا ہونگے۔ ان کی سوچوں کے بدلتے زاویوں پر نظر رکھنا ہوگی۔ ان کی زہنی اور جسمانی تبدیلیوں کا ادراک رکھتے ہوئے کاونسلنگ کرنا ہوگی۔ انہیں کسی لسانی تنظیم یا کسی لیڈر کا آلئہ کار بننے سے روکنا ہوگا۔ اپنے نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ تمہاری کسی جذباتی حرکت کے بعد تمہیں نہایت آزادی سے گرفتار کیا جائے گا۔ پیٹا جائے گا اور مار دیا جائے گا۔ تمہیں پٹیاں پڑھانے والے یہ عالمان دین یا دائیں بازو والے لبرلز میں سے کوئی شخص تمہاری جگہ مرنے نہیں آئے گا۔

بحثیں ختم ہوچکیں! ہمیں ٹھوس عمل چاہئے۔ بہت ہوگئیں ایسے تصوراتی نظاموں کی باتیں جنہیں کوئی نہیں سمجھتا۔ اب ہمیں ایک حقیقی سچ مچ کے نظام کی داغ بیل رکھنا ہوگی اس سے پہلے کے دیر ہوجائے۔۔۔۔

(Visited 188 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: