ببیں تفاوت رہ ——– حبیبہ طلعت

1
  • 79
    Shares

کرائسٹ چرچ میں ایک فرد یا کسی گروہ کی جانب سے مسجد میں نماز پڑھتے نمازیوں پر دہشت گردی کی مذموم کارروائی کے بعد مقامی سماج کی جانب سے ہمدردانہ اور پر خلوص سماجی رویہ سامنے آیا۔ جس کے حوالے سے ایک محترم لکھاری نعمان علی خان کے ایک چشم کشا شذرے نے رنگ، نسل اور سماجی رویے کو منعکس کیا، جسے پڑھ کر سوچ کے کئی در وا ہو ئے اور تاریخ، سیاست اور سماجی حوالوں سے متعدد سوالات نے ذہن میں کھلبلی مچا دی کہ آخر ہم پاکستانیوں اور غیروں کی سوچ کا فرق کیا ہے اور اس کی بنیادیں کہاں ہیں؟

چونکہ ہمارا موضوع مختلف انسانی گروہوں کے باہمی تعلقات کی بنیادوں کا تجزیہ ہے۔ سو یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ظہور اسلام کے بعد عربوں کی سلطنت قائم ہوئی تو دنیا بڑی حد تک سفید اور غیر سفید میں تقسیم ہو گئی اور ایسی جغرافیائی تقسیم سامنے آئی کہ عرب کی وسیع و عریض سلطنت میں سفید فام آبادی والے ملک نہ ہونے کے برابر ہی شامل ہوئے۔

یہ بھی ایک اتفاق ہی ہے کہ اموی سلطنت کے اسپین کے ایک علاقے پر قبضے کے باوجود سفید فام مسلمان نہیں ہوئے نہ بنائے گئے۔ جبکہ عرب حکومت کے قبضے میں آنے والے بقیہ تمام ممالک کے غیر سفید فام افراد اسلام لے آئے، چاہے وہ افریقہ ہو یا ترکی یا ایران یا افغانستان یا عربی بولنے والے لوگ۔

اس ستم ظریفی نے عیسائیت اور سفید فام نسل کو ہم معنی کر دیا۔ جبکہ عیسائی دنیا کی نظر میں تمام غیر سفید فام جو اکثریتی طور پر مسلمان تھے فطری طور پر کافر سمجھے گئے۔

اگر ہم تاریخ کے پس منظر میں انسانی نفسیات کا جائزہ لیں تو نسل پرستی انسان کی فطرت میں داخل نظر آتی ہے۔

مذہب مجموعی طور پر اس ذہنیت کو بدلنے میں ناکام رہا۔ اول تو عیسائیت بدھ مت اور اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب علاقائی مذاہب رہے۔

جن میں بدھ مت ایک فلسفے کے طور پر بہتر جانا جا سکتا ہے بدھ مت اور عیسائیت نے نسلی تمیز کو مٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی جبکہ اسلام کی بھرپور کوشش کے باوجود خود رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی حیات مبارکہ میں مہاجر اور انسان کی تمیز نہیں مٹ سکی۔ جبکہ امن کے پرچارک گوتم نے نہ کوئی حکومت قائم کی نہ اس کی زندگی میں بدھ مت پھیلا۔

تو تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انسانوں نے اپنی معاشرتی بنیاد ہمیشہ نسل پر بنائی۔ تاریخ میں قوموں کی دوستیاں، دشمنیاں یا چپقلش مذہب کی بنیاد پر کبھی نہیں رہی۔ ہاں ایسی کسی چپقلش کی صورت میں مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر ہمیشہ استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے پردے پر ہمیں جہاں صلیبی جنگیں نظر آتی ہیں جن میں ایک سیاسی معاملے کو مذہب کا رنگ دیا گیا۔ وہیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ خود مسلمان سلطنتیں یا فوجیں آپس میں متحارب ہوئیں اور بعض حالات میں مسلمان، عیسائیوں اور ہندووں کے ساتھ مل کر دوسرے مسلمانوں سے متصادم ہوئے۔ اسی طرح یورپ کی عیسائی قومیں متواتر ایک دوسرے سے جنگ کرتی رہیں۔

گوروں کی اس تاریخ کے نتیجے میں آخر کار وطن پرستی کا فلسفہ سامنے آیا۔ جو عملی طور پر دنیا کے ہر خطے میں رائج تھا۔ جیسے ہندوستان میں پنجابی چاہے سکھ ہو، مسلمان ہو یا ہندو وہ پنجابی وطنیت کی بات کرتا ریا یہی صورت بنگال اور سندھ کے ساتھ رہی جبکہ دیگر علاقوں جیسے مرہٹ واڑہ تلنگانہ وغیرہ میں بھی۔

ہندوستان میں مسلم قومیت کی فکر کو فروغ انگریز کی آمد کے بعد ملا۔ انگریز کی آمد کے بعد مسلمانوں کی کوئی سیاسی قیادت تو رہ نہیں گئی تھی، اس خلا کو مذہبی قیادت نے پر کیا۔ یہ مذہبی قیادت ظاہر ہے لوگوں کو مذہبی خطوط پر ہی منظم کر سکتی تھی۔ چنانچہ مسلمانوں نے خاص طور پر انگریزوں کو ایک اجنبی نسل کی جگہ ایک کافر قوم کے طور پر لیا۔ پاکستان بننے تک مسلمانوں کی قیادت زیادہ تر کافر دشمنی کی بات کرتی رہی۔ ظاہر ہے یہ سوچ ہم کو وراثت میں ملی۔ بدقسمتی سے جمہوریت کے بار بار قتل کی وجہ سے مولوی کی شدت پسند سوچ کو پنپنے میں مدد ملی۔

اب دوسری جنگ عظیم کے بعد مغرب کی نظر میں مذہب کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ سرد جنگ دو سفید فام گروہوں کے درمیان ہوئی جو عیسائی ہی تھے۔ صلیبی جنگوں کو مذہب کا رنگ دیا گیا تھا مغرب کی طرف سے جبکہ بنیادی طور پر صلیبی جنگیں بھی سیاسی ہی تھیں۔ گویا کہ مذہب کی (سیاست کے نقطہ نظر سے) کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔

بڑی طاقتوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی کروڑوں لوگوں کو مارا ان میں بدھ بھی شامل، مسلمان بھی اور عیسائی بھی شاید سب سے زیادہ تعداد میں بودھ مرے ہیں۔ عیسائی جنوبی امریکہ اور مشرقی یورپ میں اور مسلمان فلسطین، لبنان، افغانستان عراق تو مغرب نے جن لوگوں کو اپنے مفاد میں مارا ان کو بودھ مسلمان یا عیسائی ہونے کی وجہ سے نہیں ان کو اپنے سیاسی مفاد میں بھینٹ چڑھایا۔

دوسری جانب ہمارا مذہبی خلفشار ساری دنیا کو اسلام دشمن بتاتا رہا کہ مغرب ہے تو اسلام دشمن، اسرائیل ہے تو اسلام دشمن، ہندو ہے تو اسلام دشمن، برما ہے تو اسلام دشمن، افریقی کافر، عیسائی ہیں تو اسلام دشمن۔ نہیں ہر جارحانہ کارروائی اسلام دشمنی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ سیاسی مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

کیا بنگلہ دیش کی تحریک مدافعت اسلام دشمنی کی بنیاد پر تھی؟ یا یمن کی لڑائی اسلام دشمنی پر ہے؟ یا افغانوں کی آپس کی جنگ اسلام دشمنی ہے؟ تو یہ مولوی سوچ ہے جس نے ضیا دور میں امربیل کی طرح تمام ذہنوں کو کھا لیا۔

اس وقت مغرب کا رویہ بنیادی طور پر وطن پرستی کا ہے کیونکہ ان کو ایک ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے۔

لیکن دراصل ان کی سوچ قوم پرستی کی ہے جس کی بنیاد نسل پرستی ہے۔ اس وقت اگر امریکہ کیوبا پر جنگ مسلط کرتا ہے یا شمالی کوریا پر دباؤ ڈالتا ہے یا جنوبی امریکہ کے ممالک میں کوئی کارروائی کرتا ہے یا چین کے ساتھ سرد جنگ میں ہے تو یہ اسلام دشمنی کی وجہ سے نہیں۔

بعینہ اگر وہ شام، عراق افغانستان، پاکستان اور کسی اور مسلمان علاقے پر حملہ کرتا ہے تو وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے نہیں مگر ہمارے اسلام پسند جن کا اردو پریس پر قبضہ ہے ہر بات کو اسی عینک سے دیکھتے ہیں جو مولوی نے بنائی تھی۔

اب اگر مغرب والے مسلمانوں کے ساتھ رونما ہونے والے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں تو اس کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں عین ممکن ہے کہ پس منظر میں سیاسی مفادات ہوں مگر جذباتیت اور تقلید کے طویل برسوں نے دانشوروں کی سوچ کو مقید کر رکھا ہے ورنہ انسانی اوصاف اور سماجی اقدار پر کسی نسل کا اجارہ نہیں ہے۔

عام آدمی ان کا بھی اچھا اور نیکدل ہے اور ہمارا بھی
صحافی ان کے بھی کرپٹ ہیں اور ہمارے بھی
سیاستداں ان کے بھی تنگ نظر ہیں اور ہمارے بھی
اور مذہبی رہنما ان کے بھی احمق ہیں اور ہمارے بھی۔

یہ بھی پڑھیے: حقوق نسواں کی آڑ میں تخریب کاریاں —– ڈاکٹر مریم عرفان

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: