عرب دنیا کے طرم خان اور جارڈ کشنر کا مقام —– فرحان کامرانی

0
  • 187
    Shares

تاریخ ہند پڑھئے تو معلوم ہو گا کہ علامہ اقبالؒ کا ’’شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر‘‘ والا کلیہ قوموں کی تاریخ کے حوالے سے کس قدر سچا ہے۔ جب مغلوں میں شمشیر اٹھانے کی خواہش کم ہوئی تو ہر حاکم اپنی جگہ پر مطلق العنان بن گیا۔ جب ان حاکموں پر شمشیر بھاری ہوئی تو کمپنی بہادر نے اپنی شمشیر نیام سے برآمد کیے بغیر ہی محض شمشیر کی طرف اشارہ کر کے ان حاکموں کے تاج اتروا لئے۔ واجد علی شاہ کی ریاست اودھ اتنی فرومایہ نہ تھی کہ ایک بھی گولی چلے بغیر انگریز کی جھولی میں گر جاتی۔ مگر واجد علی شاہ تو شادیوں میں مصروف تھے۔ ان کی تو سات سو بیگمات تھیں، ان کو تو سیڑھی پر چڑھنے کے لئے کس انتظام کی ضرورت ہوتی تھی کبھی تاریخ اودھ میں پڑھئے گا۔

ہند کی سلطنت مسلمانوں کے ہاتھوں سے یکدم نہیں نکلی تھی۔ پہلے مرکز کمزور ہوا اور صوبے مضبوط ہوئے، پھر صوبے بھی کمزور ہوئے اور انگریز مضبوط ہو گیا۔ پھرجنگ آزادی ہوئی اور ناکام ہوئی۔ اب انگریز مطلق حاکم تھا، مرکز مٹ چکا تھا، جو ریاستیں بچی تھیں انہیں جھنڈے پر یونین جیک لگانا تھا۔ ملکہ کا ترانہ پڑھنا تھا اور انگریز کو بھاری خراج ادا کرنا تھا۔ اب جو بھی نواب، راجہ بچا تھا اسے معلوم تھا کہ اس کی بقا اب صرف انگریز کے جوتے کے نیچے ہے۔ اس جوتے کے سایہ عافیت سے نکلنے کی صورت میں بلب گڑھ، جھجھر، فرخ آباد کے نوابوں اور دہلی کے بادشاہ کا سا عبرت ناک حال ہو سکتا تھا۔ مگر اس دور کے نواب، راجہ عیاشیوں میں مغلیہ دور کے اواخر سے ہزار گنا زیادہ ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ اب بھی بڑے بڑے بھاری القاب اپنے لئے کرتے تھے۔ اب بھی ان کے قصیدے جو تحریر ہوا کرتے ان میں ان کی تلوار کی دھار کا بڑے زور سے ذکر ہوتا تھا، اب بھی ان کی تاج پوشی پر توپوں کی سلامی ہوتی تھی۔ مگر اس ساری گھریلو ’’عظمت‘‘ کے باوجود بھی ان نوابوں راجوں کی نظریں سائل کی طرح ریذیڈنٹ بہادر کے سامنے جھک جاتی تھیں۔

پھر وہ وقت آیا کہ ہند آزاد ہوا اور پاکستان وجود میں آیا، ہند میں فوراً ہی اور پاکستان میں ایوب دور میں ان کاغذ کے بادشاہوں سے بادشاہتیں لے لی گئیں اور یہ ’’دبیر الملک‘‘ اور ’’سیف بے نیام‘‘ بڑی آسانی سے بے تاج ہو گئے اور بس اپنے محلوں کے بیچ رہنے پر ہی قانع ہو گئے۔ عرب دنیا کی اتنی بہت سی ریاستیں جن کے نام گننے سے ہی انسان تھک جاتا ہے مثلاً سعودی عرب، عجمان، دبئی، ابو ظبی، اومان، یمن، اردن، مصر، مراکش، لیبیا، جبوتی، الجبریہ، عراق، شام، لبنان وغیرہ وغیرہ سب ہی سلطنت عثمانیہ کے حصے تھے جو رفتہ رفتہ یا تو یورپی طاقتوں کے قبضے میں آ گئے یا پھر یہاں کے حکام نے انگریزوں سے ساز باز کر کے سلطنت سے بغاوت کر دی۔ جو یورپیوں کے قبضے میں تھے وہ جنگ عظیم دوئم کے بعد آزاد ہونے لگے اور جو انگریز کے ساتھ مل کر ہی سلطنت سے آزاد ہوئے تھے وہاں بادشاہتیں قائم ہو گئیں۔

سلطنت عثمانیہ کی بندر بانٹ میں آل سعود کو جزیرہ نما عرب میں خطہ حجاز و نجد اور کئی علاقے مل گئے تھے۔ مکہ اور مدینہ جو اسلام کے مرکز ہیں اب آل سعود کے ہاتھ میں تھے۔ پھر جب عربستان میں تیل نکلا تو عمومی خوشحالی بھی ان ملکوں کو مل گئی۔ اب یہ ممالک نیم مردہ تاج برطانیہ کے حلقہ اثر سے نکل کر امریکا بہادر کی جھولی میں گر گئے۔ پیسے کے ساتھ صحرا نشینوں نے عیاشی سیکھی، پھر رولز رائس بھی آئی اور فرار ی بھی اور سونے چاندی کے تخت بھی آئے اور رقاصائیں بھی۔ تابوت میں آخری کیل جب ٹھکی جب صدام حسین نے امریکا کے ہی اشارے پر کویت پر قبضہ جمایا اور سارے عالم عرب پر سکتہ طاری ہو گیا کہ سعودی، بحرینی، اماراتی، یمنی، اومانی اور قطری صدام کی فوج کا مقابلہ کیونکر کرسکیں گے۔

اب امریکا بہادر نے اپنی خدمات فراہم کیں اور عربوں نے فوراً لبیک کے نعرے بلند کئے۔ پھر امریکا نے کویت کو آزاد کرایا اور وہاں آج تک بیٹھا ہے، سعودیہ کو صدام سے بچایا اور وہاں اپنی افواج اتار دیں جو صدام کی پھانسی کے بھی تیرہ سال بعد تک وہیں بیٹھی ہیں۔ یوں امریکی قوت بالکل کمپنی بہادر کی طرح اپنے پنجے گاڑ چکی اور سارے ہی عرب ممالک امریکا کی پرسنلی اسٹیٹ بننے پر راضی ہو چکے۔ آج امریکا کا باغی کوئی عرب ملک نہیں، آج امریکا کے پنجے سے باہر کوئی عرب ملک نہیں۔ آج ایسا کوئی عرب ملک نہیں جو امریکا کو خراج نہ دیتا ہو، بس خراج کا نام بدل کر کچھ اور کر دیجئے۔ بشار الاسد کہنے کو امریکہ کے پنجے میں نہیں مگر وہ روس اور ایران کی کٹھ پتلی بن چکا۔ لبنان اب ایران اور امریکا کی بیک وقت کٹھ پتلی ہے، عراق بھی بیک وقت امریکا اور ایران کی کالونی ہے۔

اب آل سعود کے ’’سعودیہ‘‘ میں ایک نابغہ روزگار عالم پناہ، ولی عہد پیدا ہوا ہے جو بڑا آزاد خیال ہے۔ دیکھئے عورتیں گاڑی چلا ر ہی ہیں، تالیاں! شہزادہ معظم کے گہرے دوست ٹرمپ کے داماد محترم ریذیڈنٹ بہادر بلکہ وائسرائے عربستان محترم جارڈکشنر صاحب ہیں۔ وہی جارڈکشنر جنہوں نے اپنے سسر محترم ٹرمپ بہادر سے کہہ کر بیت المقدس کو اسرائیل کا وفاق قرار دلوایا اور ایسا وہ آخر کیوں نہ کریں؟ آخر وہ یہودی ہیں، نیویارک ٹائمز کے مطابق ان کے دادا، دادی، ہٹلر کے کرائے یہودیوں کے قتل عام سے بچے ہوئے یہودی تھے، ان سے شادی کرنے کے لئے ٹرمپ کی صاحبزادی کو یہودیت میں داخل ہونا پڑا۔ اب جارڈکشنر کے اشارے پر سلطان قابوس صاحب فرما رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے، محمد بن سلمان صاحب بھی فرما رہے ہیں کہ اسرائیل کو ہونے کا حق ہے، سعودی فضائی حدود اسرائیل کے لئے کھول دی گئی ہیں اور فلسطین کا مقدمہ اب عربوں کے لئے بھی ماضی کی بات ہے۔

یہ بڑے بڑے طرم خان، یہ بڑے بڑے القاب والے، یہ بھاری ناموں والے، یہ بڑے محلوں والے، یہ دولت والے، یہ تیل کے کنوؤں والے یہ سب شہنشاہ، عالی جاہ، عالم پناہ سب کے سب ٹرمپ کے عرب دنیا کے وائسرائے، ایک یہودی، ایک صہیونی، جارڈکشنر کے اشارہ ابرو پر یہ کھڑے ہو جاتے ہیں، بیٹھ جاتے ہیں، لیٹ جاتے ہیں۔ یہ تو جارڈکشنر کی مہربانی ہے کہ وہ خراج مانگ رہا ہے، تاج بھی مانگ لے تو ان میں سے کون چوں بھی کر سکتا ہے؟ کوئی بھی نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: