آپ کا حجاب دوسروں پر احسان نہیں —- سائرہ فاروق

1
  • 211
    Shares

کچھ دنوں سے یہ پوسٹر “مجھے گھر کی ملکہ بننا پسند اور تجھے گلی کی کتیا بننا پسند ہے” بارہا نظروں سے گزرا اور جتنی بار گزرا اتنی ہی بار حیران پریشان کر گیا…

ہمارے ہاں شدت پسندی کسی برینڈ کی طرح عام لوگوں کے حواسوں پر سوار ہے…. جس میں ہر صنف بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے ـ کچھ خواتین مردوں سے مقابلہ کرنے نکلی ہیں تو یہاں پر ہی کچھ خواتین، خواتین کے مقابل آن کھڑی ہوئی ہیںـ گویا اک تکون ہے جس کے نہ دماغ ملتے ہیں نہ شعور!

یعنی اگر آپ حجاب لیتی ہیں، تو آپ نے اپنے لئے ایک راستے کا تعین کیا لیکن حجاب نہ لینے والیوں کو غیر انسانی گالی سے نواز کر آپ دوسروں کے راستے کا تعین کیسے کر سکتی ہیں؟

حجاب لینے کے بعد ننگے سر والیوں کو گالی دینے کا اختیار آپ کو کس نے دے دیا؟

یاد رکھیں ہم خواتین مارچ کے خلاف ہرگز نہیں….. ہم صرف چند نعروں کے خلاف ہیںـ

اگر وہ نعرے سماجی بگاڑ کے لیے خطرناک ٹھہرے ہیں تو آپ کے نعرے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں ـ یوں ایک دوسرے کے مقابل آکر چیخ کر، چلا کر فلک شگاف نعروں سے ڈرا کر آپ سماج میں تبدیلی نہیں لا سکتےـ

آپ کوئی سیاسی پارٹیاں تھوڑی ہی ہیں جو اپنے اپنے حقوق اور ایجنڈے کے تحت ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہو گئی ہیں ـ آپ کی جنس جب ایک ہے تو مسائل بھی ایک جیسے ہی ہیںـ “اختلاف رائے کا مطلب محاذ آرائی نہیں ہے بلکہ اسے الگ رائے رکھنے کے معنی میں لیا جائے ـ جس کا احترام بھی ضروری ہے”ـ

مگر جب بات ذاتی مفاد سے ہٹ کر اجتماعی مفاد پر آتی ہے تو رائے بھی ایک ہوجاتی ہے اور نعرے بھی۔

اپنے حجاب کے غرور میں خود کو جنتی دوسروں کو جہنمی کا فیصلہ “یاد رکھیں” آپ کے پاس نہیں ہے….پس اس کے سرٹیفکیٹ مت بانٹیں۔

اور نہ ہی جانوروں کے نام لے کر دوسروں کو مخاطب کرنے سے آپ کی بات وزنی یا قابل غور ہوتی ہے ..گالی کمزور، مریل لوگوں کا شیوا ہے۔

حجاب کے ساتھ اتنی پروقار نظر آنے کے بعد توہین آمیز جملے… آپ کا سارا وقار چھین لیتے ہیں…

کم از کم اپنا نہ سہی اس حجاب کی عظمت کا ہی خیال کیجئے…

اس کے علاوہ صنفِ مخالف کو بھی جس نشانے پر رکھ کر آپ اٹھی ہیں یہ صنف مخالف آپ کے گھر میں بھی پائی جاتی ہےـ سوال یہ ہے کہ “مرد اور عورت ایک دوسرے کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو کر کس قسم کی سوسائٹی تخلیق کرنا چاہتے ہیں؟”

اس سماج پر پہلا بنیادی حق کسی ایک جنس یا اس جنس کے ماتحتی میں ہرگز نہیں بلکہ یہ دو جنسوں کے درمیان توازن اور اعتدال کا معاملہ ہے ـ بینرز پر مرد مخالف نعرے اور پھر ان پر گرما گرم بحث ومباحثہ فقط ایک دوسرے سے مسابقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ـ کیونکہ ان میں سے ہی کوئی آپ کے والد محترم، بھائی یا بیٹا بھی ہوگا… تو کیا آپ نے ان کے رویوں پر گھر کے اندر بیٹھ کر آواز بلند کی؟
چلیں مار ہی کھائی، بجا! لیکن کیا آپ نے کوشش کی؟ یا بات کی….؟

یاد رکھیں تبدیلی کی بنیاد گھر سے شروع ہوتی ہے آپ آج سے شروع کریں معاشرہ کل سے بہتر ہوگا
بات تو صرف احساس کی ہے۔

(Visited 288 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. کیا ہی خوبصورت اور متوازن تحریر ہے۔ بہت سی دعائیں ایسی متوازن سوچ والوں کے لیے۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: