میٹرک پاس محمد علی ———- خرم شہزاد

0
  • 85
    Shares

محمد علی کب اور کیسے فلم اسٹار محمد علی بنے، آج اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں اور شائد ہونی بھی نہیں چاہیے کہ ان کا ایک دور تھا جو گزر گیا اور گزرے ہوئے دور کی صرف یادیں رہ جاتی ہیں یا وہ دور ہماری باتوں میں رہ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ خاص طور پہ آج کی نوجوان نسل نے تو بمشکل ان کا نام سنا ہو گا اور ان کا کام دیکھنے والے نوجوان تو ضرور دیکھنے لائق ہوں گے کیونکہ آج کا نوجوان تو صرف وہی دیکھتا اور سنتا ہے جو مارکیٹ میں ــ’اِن‘ ہوتا ہے۔ آوٹ آف مارکیٹ اینڈ ویب چاہئے جو بھی ہو جیسا بھی ہو، ان کے کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ ایسا ضرور ہے کہ جن لوگوں کو تھوڑا بہت ان کا کام یاد ہے یا مختلف ٹی وی چینلز کے سامنے دن گزارنے والوں میں سے کچھ لوگوں سے جب محمد علی صاحب کے بارے میں بات کی جائے تو وہ طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہتے ہیں اچھااااا وہ محمد علی، جو اپنی ہر فلم میں کہتا تھا کہ ماں میں نے میٹرک پاس کرلیا۔ اس بات کے جواب میں آپ مقابل کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ آج کا نوجوان نہ اس زمانے کا احساس کر سکتا ہے اور نہ اپنے محسوسات میں اس قدر گہرا ہو سکتا ہے کہ کسی اورشخص یا زمانے کے دکھ درد اور خوشی کو اپنے اوپر طاری کر سکے۔

جس زمانے میں محمد علی صاحب نے فلموں میں کام شروع کیا، اس سے ذرا پہلے کا دور ایساہی تھا کہ ایک میٹرک پاس کو دیکھنے باقاعدہ لوگ آیا کرتے تھے۔ ایک میٹرک پاس کی خوشی صرف ایک گھر تک محدود نہیں ہوتی تھی بلکہ آس پڑوس بھی ایسے خوشی سے نہال ہوئے پھرتے تھے جیسے ان کے گھر کے کسی فرد نے بھی میٹرک پاس کر لیا ہو۔ یہی زمانے اور زندگی کے رنگ فلموں میں بھی نظر آتے تھے جس کی وجہ سے ساٹھ سے اسی کی دہائی میں بننے والی بہت سی فلموں میں ہیرو ماں سے یہی جملہ کہتا اور جواب میں ماں کے چہرے پر چھا جانے والی خوشی کو آج صرف دیکھا جا سکتا ہے لیکن محسوس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تب ایک میٹرک پاس شخص کمانے لائق سمجھا جاتا تھا۔ اس کا میٹرک پاس کر لینا اس کے قابل عزت روزگار کی ضمانت ہوتا تھا، آج کے جیسے حالات نہیں تھے کہ ایم ایس سی اور ڈبل ایم اے بھی نوکریوں کے لیے جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہوں۔ ایک غریب گھرانے کا ایسا فرد جس کے کندھوں پر سارے گھر کی ذمہ داری ہو اور وہ کمانے لائق ہو جائے، اس سے بڑی خوشی شائد ہی دنیا میں کوئی اور ہو سکتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ایسے کچھ گھرانوں سے ملاقات کا موقع ملا جہاں بیٹے کی ملازمت کی خوشی میں نہال ہوتی خواتین کو دیکھا، ان کے چہروں کی خوشی، دلوں کا سکون اور بار بار شکر ادا کرنے کو اٹھتے ہوئے ہاتھ ہفت اقلیم کی دولت رکھنے والوں کو شرمندہ کرتے تھے۔ پہروں اس منظر کا حصہ رہتے ہوئے بھی خواتین سے ایک لفظ سننے کو نہیں ملتا تھا کہ وہ اتنی بولائی پھرتی تھیں کہ زبان سے ایک لفظ تک ادا نہیں ہوتا تھا، بس دلوں کے احساس اور آنکھوں کے آنسو اپنی زبان میں بہت کچھ کہہ رہے ہوتے تھے۔ ایسے میں نجانے کیوں کبھی کبھار محمد علی صاحب یاد آ جایا کرتے تھے اور دل ایک انجانی سی کیفیت میں سارے منظر کو اپنے اندر قید کرنے لگ جاتا۔

محمد علی صاحب نے فلموں میں صرف میٹرک ہی پاس نہیں کیا تھا بلکہ ان کی جاندار اداکاری اور باکمال ڈائیلاگ ڈیلیوری انہیں ہم عصروں میں ممتاز کرتی تھی۔ ہر طرح کا اور ہر عمر کے شخص کا کردار انہوں نے اتنا جاندار کیا کہ صحیح معنوں میں ناقدین کا منہ بند کر دیا۔ کردار سے انصاف کرتے ہوئے اس میں ڈوب جانا اور جذباتیت سے بھرپور تاثرات کی وجہ سے انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب بھی دیا گیا۔ اپنی فلمی دنیاسے پرے وہ عام زندگی میں بھی ایک شاندار شخصیت کے مالک تھے، ان کا رکھ رکھاو، چال ڈھال اور لباس اس قدر شاندار ہوتا تھا کہ آج کے نوجوان فلمی ہیرو اس کے پاسنگ بھی نہیں۔انہیں دیکھ کر ہالی وڈ کے سوٹڈ بوٹڈ ہیروز کا خیال آتا تھا۔

آج محمد علی صاحب ہم میں نہیں اور اس موقع پر مجھے کوئی بہترین معلوماتی مضمون لکھنے کی خواہش بھی نہیں کہ ان کے بارے تقریبا تمام معلومات گوگل سے مل سکتی ہیں۔ وہ جو انہیں نہیں جانتے، ان کے لیے ایک بھرپور معلوماتی مضمون بھی لفظوں کی جگالی سے زیادہ کچھ نہیں اور جو جانتے ہیں ان کے لیے ’ہاں بس ٹھیک ہے‘ والی بات ہو گی۔ مجھے تو بس انہیں یاد کرنا ہے، ان کی شاندار شخصیت کو ایک بار سلام پیش کرنا ہے۔ ایک غریب،مزدوری کرنے اور برف کے کارخانوں میں کام کرنے والا شخص فلمی دنیا میں آتا ہے اور چھا جاتا ہے، یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ محنت محبت اور شکر کی نہ ختم ہونے والی داستان تھی جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے تھے لیکن ہم نے نہیں سیکھا۔ کم از کم آج فلمی صنعت کے زوال کا رونا رونے والے ہی جہد مسلسل کا مطلب ان کی زندگی سے سیکھ اور سمجھ سکتے تھے لیکن یہاں لوگ اس ڈر سے بھی کچھ نہیں سیکھتے کہ کہیں مجھ پر فلاں کی چھاپ کا الزام نہ لگ جائے۔ مجھے اپنا آپ اوریجنل پیش کرنا ہے اور اس کے لیے مجھے کسی استاد کی کوئی ضرورت نہیں، جب ایسی سوچ ہو گی تو فلمی صنعت کے ڈوبنے میں بھلا کیا کمی رہ جائے گی۔ آج عجیب حرکتوں کو کامیڈی اور ہیروئن کے بازوں میں رہنے کو فلمی دنیا کی معراج سمجھنے والے اداکاری اور جذبات کو بھلا کہاں سمجھ سکتے ہیں، ایسے میں زوال کے رونے رونا صرف مجبوری ہی نہیں وقت کا تقاضا بھی ہو جاتا ہے۔ محمد علی صاحب ہماری فلمی دنیا کا ایک شاندار عہد تھا جو تمام ہوا، آج اس عہدسے سیکھتے ہوئے اور اس عہد کی یادوں کے سہارے اچھے مستقبل کے لیے اچھی امیدیں رکھی جا سکتی ہیں لیکن ویسا شاندار شخص بھی تو کوئی ہو۔

(Visited 357 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: