مرحبا شیرِ خدا یا علی المرتضیٰ ————– نادیہ ندیم

1
  • 75
    Shares

عشق وہبی جذبہ ہے سو عشّاق سے عشق کی ابتدا کا سوال عبث ہے عشق ان کی مٹی میں شامل ہوتا ہے
ہم نے جب ہوش سنبھالا تو حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کی محبت کو اپنے آپ میں بے پناہ محسوس کیا۔

حکمت سے لبریز پر مغز اقوال حضرت علی کرم الله وجہہ کے مقبولِ خاص و عام ہونے کی ایک بنیادی وجہ ہیں ہر ذی شعور مسلمان آپ کرم ﷲ وجہہ کے کسی نہ کسی قول کے حصار میں خود کو محفوظ پاتا ہے۔ آپ کے فرامین زندگی کے ہر مرحلے میں کسی رہبر، ہادی کی طرح راہ سجھاتے ہمت بندھاتے آگے بڑھاتے، راہرو پر سایہ فگن رہتے ہیں۔ وہم کی بھول بھلیوں، دھوکے کی گھاٹیوں اور دنیا کی دلدل سے یقین کی محفوظ وادی میں قدم جمانے میں کامیابی شہرِ علم کے اسی بابِ اطہر سے نصیب ہوتی ہے۔ خواص کا آپ سے تعلق ایک الگ سلسلہ ہے جس کے رموز سے بہت سے بانصیب آشنا ہیں۔

رجب المرجب کی ان مبارک ساعتوں میں عشاق حضرت علی المرتضی کرم ﷲ وجہہ کا جشنِ ولادت مناتے ہیں سو اسی سعید موقع پر آپ کے ذکرِ پاک کی سعادت حاصل کرتے ہیں کہ اہلِ بیت کی محبت جزوِ ایمان ہے۔

حضور پاک ﷺکا فرمان ہے۔
روزِ محشر چار آدمیوں کی سفارش کروں گا۔ اول جو میرے اہلِ بیت سے محبت رکھے۔ دوم وہ جو ان کی ضروریات پورا کرنے والا ہو سوم وہ جو ان کے معاملات بخوش اسلوبی نبھائے چہارم وہ جو دل وزبان سے ان کی محبت کا اقرار کرنے والا ہو۔

ولادت بچپن خاندان:

آپ کا نام علی’ حضرت محمد ﷺ نے تجویز کیا۔ لقب حیدر’ کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ آپ اور رسول ﷲﷺکا نسب ایک ہے آپ حضرت محمدﷺ کے چچازاد بھائی ہیں۔ والد کا نام ابو طالب والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ والدین بھی وہ جنہوں نے حضرت محمد ﷺکو بچپن سے ہی اپنی آغوشِ محبت میں رکھا اور ان کے ساتھ احسن و شفیق برتاؤ کیا۔ حضرت امیر حمزہ رضی ﷲ کا قول ہے کہ “حضرت ابو طالب سابق الایمان تھے “آپ نے حضرت محمدﷺکی تبلیغِ دین میں ہر طرح سے مدد کی۔
حضور پاکﷺکا فرمان ہے کہ “دین کی سربلندی کے لئے کسی بھی مشرک کی مدد لینا ‘ نبی کے لئے حرام ہے”۔

حضرت فاطمہ بنت اسد حضرت عبدالمطلب کی بھتیجی تھیں بنو ہاشم کی پہلی خاتون جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کی ولادت 13 رجب بمقام کعبہ شریف ہوئی۔ آپ کی پہلی غذا لعابِ دہن محمدﷺتھا۔ آپ کو پہلا دیداد بھی چہرہ انور ﷺ عطا ہوا۔ آپ ابتدا ہی سے ہر طرح سے فضیلتوں کے حامل رہے۔
آپ کے بھائی حضرت جعفر’ حضرت عقیل’حضرت طالب اور بہنیں حضرت طلیق’حضرت فاختہ المعروف ام ہانی’حضرت جمانہ’ حضرت ریطہ ہیں۔

تربیت’ اوائل عمری’ ہجرتِ مدینہ’شادی:

حضرت ابو طالب کثیر العیال تھے حضور اکرمﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی ﷲ سے مشورہ کرکے خود حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کی کفالت کی ذمہ داری لی جبکہ حضرت عباس رضی ﷲ نے حضرت جعفر رضی ﷲ کے کفالت کی۔ اسی وجہ سے حضرت علی کرم ﷲ وجہہ بچپن سے حضور پاک ﷺ زیر سایہ رہے اور تمام عمر رسول ﷲ ﷺ کی ہمرہی کی سعادت پائی۔ آپ کی تربیت رسول پاکﷺ نے فرمائی آپ کی شخصیت رسول کریم ﷺ کی سیرت کا عکس ثابت ہوئی۔ نبوت سے سرفرازی پر بچوں میں سب سے پہلے رسول ﷲ ﷺ پر ایمان لانے والے حضرت علی کرم ﷲ وجہہ ہیں آپ ﷺ بروز پیر نبوت سے سرفراز ہوئے اور منگل کے روز حضرت علی کرم ﷲ نے اسلام قبول کیا تین سال کی خفیہ تبلیغ کے بعد جب رسول ﷲ ﷺکو اعلانیہ دعوت اسلام کا حکم ہوا رسول ﷲﷺ نے قریش کو اسلام کی دعوت دی انہوں نے انکار کردیا تب آپ ﷺ نے حضرت علی سے مشورہ کیا اور خاندان عبدالمطلب کو ضیافت پر بلایا آپﷺ نے اپنے خاندان کو دعوتِ اسلام دی اور حمایت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو میرا ساتھ دے گا وہ میرا بھائی ہےآپﷺ کے خاندان نے منہ پھیر لیا حضرت علی نے کمسن ہونے کے باوجود بھرے مجمع میں آپ ﷺ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور فرمایا

“یارسول ﷲ ﷺ ابھی اگرچہ میں کم سن اور کمزور ہوں لیکن میں آپﷺکی مدد کروں گا جو آپﷺ سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا”۔

آپ کے جواب میں رسول ﷲ ﷺنے فرمایا” علی المرتضی تم میرے بھائی اور وارث ہو “۔ کفار مکہ کی بڑھتی ہوئی سازشوں اور ظلم وستم نے نو مسلموں کو اذیتیں دیں حضرت علی وجہہ الکریم ہر موقع پر آپ ﷺ کے شانہ بشانہ رہے۔ 11 نبوی میں حج کے موقع پر آئے قبائل کو دعوت اسلام دی مدینے کے بنی خزرج کے چند لوگوں نے اسلام قبول کیا اور واپس مدینہ جاکر اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ ادھر کفار مکہ کی شورشیں جاری تھیں مدینہ منورہ نو مسلموں کے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوسکتی تھی رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو ہجرت کا حکم دیا اور آخر میں آپ ﷺ نے حضرت علی وجہہ الکریم کو امانتیں دے کر اپنے بستر پر لیٹنے کا حکم دیا اور امانتیں لوٹا کر اگلے روز مکہ چھوڑنے کی تلقین کی اور آپﷺ نے اس رات حضرت ابو بکر رضی ﷲ کے ساتھ ہجرت فرمائی جب کفار مکہ آپﷺ کے گھر پر گھات لگائے بیٹھے تھے اس صورتحال میں حضرت علی نے شجاعت کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے آپﷺکے حکم کی تعمیل کی۔ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ نے امانتیں لوٹاکر ہجرتِ مدینہ کی اور کفار مکہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا۔ مخدومہ کائنات حضرت فاطمہ الزہرا سلام ﷲ علیہا آپ کے نکاح میں آئیں اور آپ کی عائلی زندگی کی شروعات ہوئی۔
رسولﷲﷺنے حضرت فاطمہ الزہرا سلام ﷲ علیہا سے فرمایا کہ” امت کے سب سے بہترین مرد کو آپ کے لیے چنا گیا ہےﷲ اور اس کا رسول ﷺحضرت علی سے راضی ہیں”۔

سیرت مبارکہ:

زہد و تقویٰ میں آپ اپنی مثال ہیں۔ فقر کے شہنشاہ ہیں۔ رزق حلال کے لیے محنت مزدوری پسند فرمائی۔ ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت کے کھیت میں پانی دینے کے عوض چند کھجوریں حاصل کیں۔ آپ کی خوراک سادہ تھی۔ خشک روٹی پانی میں بھگو کر یا نمک کے ساتھ تناول فرماتے۔ مہمان نوازی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے مہمانوں کی تواضع میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے۔ رمضان کے علاوہ کئی کئی دن روزے رکھتے۔ عبادت میں خشوع و خضوع کا یہ عالم تھا ایک مرتبہ ایک تیر جسم میں پیوست ہونے پر بحالتِ نماز نکلوایا کہ استغراق میں تیر نکلنے کی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ نماز کے وقت چہرہ مبارک زرد ہوجاتا دریافت کرنے پر فرماتے کہ” یہ امانت کا وقت ہے جس امانت کو اٹھانے کی پہاڑوں میں ہمت نہیں تھی۔ خوف رکھتا ہوں کہ اس امانت کو ادا کرسکوں”۔ آپ حافظِ قرآن’ فقہ کے ماہر تھے قرآن کے معانی و مطالب پر مکمل عبور حاصل تھا۔ حکمت و دانائی کے ساتھ فیصلے فرماتے ایک بار حضرت عمر فاروق رضیﷲ کسی پیچیدہ مسئلے پر مشورہ کیا آپ نے معاملہ سنا اور فیصلہ فرمایا
“حضرت عمر نے احسان مند ہوئے اور فرمایا آج علی نہ ہوتا توعمر ہلاک ہوجاتا”۔
آپ کرم ﷲ نے 586 احادیث مبارکہ روایت فرمائیں۔

ازواج و اولاد پاک:

حضرت فاطمہ زہرا سلام ﷲعلیہا سے نکاح ہوا آپ کی اولاد پاک میں حضرت امام حسن رضی ﷲ امام حسین رضی ﷲ حضرت محسن رضی ﷲ حضرت زینب سلام ﷲعلیہا اور ام کلثوم سلام ﷲ علیہا شامل ہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام ﷲ علیہا کے وصال کے بعد آپ نے جو نکاح کئے انکی تعداد روایات کے مطابق آٹھ اور کہیں پانچ بھی ملتی ہیں۔

1۔ ام البنین بنتِ حزام کلابیہ انکی اولاد میں چار صاحبزادے حضرت عباس حضرت جعفر حضرت عبدﷲ حضرت عثمان شامل ہیں جو کربلا میں شہید ہوئے۔
2-حضرت لیلیٰ بنتِ مسعود ان کی اولاد میں حضرت عبید ﷲ حضرت ابوبکر بھی کربلا میں شہید ہوئے۔
3-حضرت اسماء بنتِ عمیس کی اولاد میں حضرت محمد اصغر حضرت یحییٰ کربلا میں شہید ہوئے۔ 4-حضرت سیدہ امامہ آپ نواسیٔ رسول ﷲ ہیں آپ رسول ﷲ کی صاحبزادی حضرت زینب سلام ﷲ علیہا کی صاحبزادی ہیں آپ سے نکاح کی وصیت روایت کے مطابق حضرت فاطمہ الزہرا سلام ﷲ علیہا نے خود کی تھی آپ کی اولاد میں حضرت محمد اوسط ہیں۔
5-حضرت خولہ بنتِ جعفر انکی اولاد میں حضرت محمد اکبر جو محمد بن حنفیہ کے نام سے معروف ہیں۔
6-حضرت صہبا بنتِ ربیعہ تغلبیہ سے حضرت رقیہ تولد ہوئیں۔
7- حضرت ام سعید بنتِ عروہ بن مسعود ثقفی سے آپ کی اولاد حضرت ام الحسن اور حضرت رملہ کبری ہیں۔
8-حضرت محیاتہ بنت امراء القیس سے ایک صاحبزادی تولد ہوئیں جو بچپن میں انتقال فرماگئیں۔
حضرت علی کرم ﷲ وجہہ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن ‘حضرت امام حسین’ حضرت محمد بن حنفیہ’حضرت جعفر ‘حضرت عمر سے چلا۔

تبلیغ اسلام و غزوات میں شرکت:

غزوہ بدر و احد میں جواں مردی سے لڑے۔ غزوہ بنو نضیر و غزوہ بدر صغری میں اسلام کا عَلَم آپ کے سپرد تھا۔ غزوہ بنی مصطلق میں اپنی بہادری کے بے مثال جوہر دکھائے۔ غزوہ خندق میں خندق پار کرنے والے واحد شہسوار عمرو بن عبدو کا سر تن سے جدا کردیا جسکی طاقت کو سو مردوں کے برابر سمجھاجاتا تھا۔ غزوہ خندق کے فوراًبعد غزوہ بنو قریظہ میں بنو قریظہ کے قلعہ کے سامنے پرچم نصب کیا اور زبیر بن العوام کے ساتھ فیصلے کے مطابق منافقوں کی گردنیں اتاریں منافقوں کے سربراہ حی بن اخطب کو واصلِ جہنم کیا۔ بنو سعد کی سرکوبی کی۔ معاہدہ حدیبیہ تحریر کیا ہر طرح سے مہمّات میں پیش پیش رہے غزوہ خیبر میں آپ کی بے مثل جواں مردی رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔

جس روز رسولﷲﷺنے اعلان کیا کہ
” َعَلَم اس کو دیا جائے جس سے ﷲ اور اسکے رسولﷺمحبت کرتے ہیں اور وہ ﷲاور اس کےرسول ﷺسے محبت رکھتا ہے اور اس کے ہاتھ سے خیبر فتح ہوگا”

تمام صحابہ کرام مضطرب رہے اور ﷲکی رحمت سے آپ کو یہ فضیلت حاصل ہوئی اور خیبر فتح ہوا۔ غزوہ حنین میں آپ نے بہادری کی مثال قائم کی۔ طائف کی گھاٹیوں میں بنو ہوازن اور بنو ثقیف کے قافلوں کو زیر کیا اور ارد گرد کے علاقوں کو بتوں سے پاک کیا۔ قبیلہ طے کا بت خانہ جلایاحاتم طائی کا بیٹا عدی بن حاتم شام فرار ہوگیا جو بعد ازاں ایمان لایا جبکہ بیٹی جنگی قیدی بنی جسے بعدازاں رسول ﷲﷺنے اسکے قبیلےسمیت آزاد کردیا۔ غزوہ تبوک میں رسول ﷲﷺنے پہلی بار آپ کو اپنے ساتھ نہیں رکھا بلکہ مدینہ میں عورتوں اور بچوں کا محافظ بنا کر ٹھہرے رہنے کا حکم دیا اور فرمایا
” تمہارا میرا معاملہ ہارون اور موسیٰ جیسا ہے گو کہ وہ نبی تھے جبکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا”۔

شہادت:

نہروان میں خارجیوں کی شکستِ فاش کےبعدمصر کے رہنے والے ابنِ ملجم نے کوفہ آکر شکست خوردہ خارجیوں کو ساتھ ملایا اور سترہ رمضان المبارک بروز جمعہ بوقتِ نمازِ فجر مسجد میں چھپ گئے شبیب’ ابن ملجم اور واردان۔ شبیب نے پہلا وار کیا دوسرا وار ابن ملجم نے کیا شبیب اور واردان بھاگ نکلے ابن ملجم پکڑا گیا آپ کرم ﷲ نے حضرت امام حسن رضی ﷲ کو حکم دیا کیا کہ اگر میں جانبر نہ ہو سکوں تو اسی تلوار کے ایک وار سے اسے قصاص کے طور پر قتل کردینا۔ آپ دو روز بعد اکیس رمضان المبارک کو وصال فرماگئے حضرت امام حسن نےآپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی دارالامارت کوفہ میں تدفین ہوئی بعض روایات کے مطابق کوفہ سے سترہ کلو میٹر دور دفن کیا گیا۔

فضائل:

امام الا صفیاء’ مقتدائے اولیاء’ سابق الاولون حضرت علی کرم ﷲ اہل بیت’ اہل کساء اور عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں آپ کی شان کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے آپ کا ذکر پاک کم و بیش تین سو آیات میں ہے۔ لاتعداد احادیث مبارکہ میں آپ کی ذات مبارکہ کی شان بیان کی گئی امہات المومنین اور صحابہ کرام کے اقوال بھی آپ کی عظمت کے عکاس ہیں۔

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔

“ﷲسے محبت کرو کہ وہ تمہیں نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے اور مجھ سے محبت ﷲ کی خاطر کرو جبکہ میرے اہلِ بیت سے محبت میرے سبب کرو”۔

“کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کے دل میں علی کی محبت نہ ہو”۔

“جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اس نے ﷲسے محبت کی جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے ﷲسے دشمنی کی”۔

غدیر خم کے مقام پر آپﷺ نے تمام صحابہ کرام کو جمع کرکے فرمایا تمہارا ولی کون ہے ؟ صحابہ نے تین مرتبہ عرض کی ہمارے ولی’ ﷲ اور اس کے رسول ﷲﷺہیں۔ آپﷺنے فرمایا جس کا ولی ﷲ اور اس کا رسول ہیں علی بھی اس کا ولی ہے”۔

“علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں”۔

رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”۔

“جس کا میں مولا اس کا علی مولا”۔

حضرت ابو بکر نے فرمایا۔
رسول ﷲ ﷺکا ارشاد ہے “علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے”
اور “ابوالحسن کی فضیلت سب لوگوں سے زیادہ ہے انہوں نے نبی ﷺ کے زیرِ سایہ تربیت پائی خاتونِ جنت سلام ﷲ علیہا آپ کے نکاح میں آئیں حضرت علی اور رسول ﷲکے درمیان روابط معنوی نہ تھے”۔

حضرت عمر فاروق رضی ﷲ نے مشکل معاملے کے فیصلے حضرت علی کی مدد پر انکی علمی فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا”اگر آج علی نہ ہوتا عمر ہلاک ہوجاتا”۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ فرماتی ہیں کہ حضرت علی سے بڑھ کر علم کا جاننے والا کوئی نہیں کسی سائل نے آپ رضی ﷲ سے دریافت کیا کہ مسافر اور مقیم کو وضو کے بعد کتنے دن تک موزوں پر مسح کرنا جائز ہے آپرضی ﷲ نے فرمایا اس کا جواب علی کرم ﷲ وجہہ سے دریافت کرو آپ فقہی مسائل کو بہتر جاننے والے ہیں حضرت علی نے فرمایا مسافر کو تین دن جبکہ مقیم کو ایک دن سے زیادہ وضو کے بعد موزوں پر مسح جائز نہیں۔

ام المومنین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں
” منافق علی سے محبت نہیں رکھتا مومن علی سے بغض نہیں رکھتا”۔

حضرت ابنِ عباس فرمایا “حضرت علی کے علم وحکمت کا معترف ایک عالم ہے کیونکہ ﷲپاک نے انہیں علم کے دس حصوں میں سے نو عطا فرمائے تھے”۔

حضرت علی کرم ﷲ کا فرمان ہیں کہ “قرآن پاک کی کوئی آیت ایسی نہیں جس کے بارے میں مجھے معلوم نہ ہو کہ وہ کب اور کہاں نازل ہوئی اور اسکے معانی و مطالب کیا ہیں”۔

فرامینِ مبارکہ:

*دوستی اختیار کرو لیکن آبرو ہاتھ سے مت جانے دو۔

*دنیا ایک دن تمہارے حق میں ہوگی ایک دن خلاف جب حق میں ہوتو شکر کرنا جب خلاف ہو تو صبر کرلینا۔

*کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ۔

*اچھے لوگوں سے دوستی اختیار کر آدمی کا وزن ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اس کا دوست۔

*دنیا میں انسان کی مشکلات کی دو وجہ ہیں وقت سے پہلے مانگتا ہے اورنصیب سے زیادہ۔

*شکرِ نعمت حصولِ نعمت کا باعث ہے۔

*دل ایک دکان ہے زبان اس کا تالا زبان کھلنے پر معلوم ہوتا ہے دکان سونے کی ہے یا کوئلے کی۔

*ﷲعزو جل کی رضا ہے کہ بندہ اسکی تقدیر پر راضی ہو۔

*فضول امیدوں سے بچو یہ احمقوں کا سرمایہ ہیں۔

*بہترین کلام وہ ہے جو سننےوالے پر بوجھ اور ملال کا سبب نہ بنے۔

*جو خود کو محتاج بناتا ہے محتاج ہی رہتا ہے۔

(Visited 169 times, 3 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: