تعلیمی اداروں میں منشیات کا خوفناک رجحان ——— معافیہ شیخ

0
  • 141
    Shares

منشیات کا استعمال انسان کو ہوش و خرد سے بیگانہ کر کے معاشرے کا ایک بےکار فرد بنا دیتا ہے جس کے ہونے یا نہ ہونے سے معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ایسا فرد نہ خود کے لئے فائدہ مند رہتا ہے اور نہ ہی اوروں کے لئے، اور جب معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد اس نشے کی لت میں پڑ جائے تو مستقبل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے۔

معافیہ شیخ

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان باعث تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں، جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد 24 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ منشیات کی دستیابی مختلف شہروں میں تو عام ہے ہی لیکن وفاقی دارلحکومت اور اس کے تعلیمی اداروں میں اس کا ملنا بلکل بھی مشکل نہیں۔ تعلیمی اداروں میں استعمال ہونے والی منشیات میں چرس، بھنگ، ہیروئین، کرسٹل، افیون، شراب، کوکین، آئس، کپی، گردہ وغیرہ اور مختلف طرز کے انجیکشن شامل ہیں۔

اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ایم ایس سی کی طالبہ نسرین کے مطابق تعلیمی اداروں میں زیادہ تر لڑکیاں نشے کے لئے آئس کا استعمال کرتی ہیں کیوں کہ لڑکیوں میں مشہور ہے کہ آئس کے استعمال سے نیند نہیں آتی، یاداشت بڑھتی ہے اور موٹاپے سے بھی نجات بھی ملتی ہے۔ نسرین کے مطابق آئس ایک مہنگا نشہ ضرور ہے لیکن جن کو اس کی لت پڑ جائے اور پیسوں کی کمی ہو ان کو اس کے حصول میں سہولت دی جاتی ہے۔ ایم بی اے کے طالبہ نزہت چوھدری نے بتایا کہ آئس ہر قسم کی بدبو سے پاک ہوتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات آسانی سے اسے کسی بھی عوامی مرکز، گھر، کالج یا یونی ورسٹی میں استعمال کرلیتے ہیں۔

پاکستان میں فعال ایک بین الاقوامی ادارے کے سروے کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت باقاعدہ ایک صنعت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں تقریباً دو سو ارب روپے کی منشیات سکول، کالجوں، یونی ورسٹيوں میں فروخت ہوتی ہیں جب کہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ اٹھایا جانا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات اتنی آسانی سے پہنچ اور فروخت کیسے ہو جاتی ہے۔ ایک یونیورسٹی طالب علم کا کہنا ہے کہ نشے کی لت یوں پڑی کہ یونی ورسٹی میں دوستوں کےساتھ مل کر چرس پینی شروع کی، قرض زیادہ چڑھا تو سپلائی بند کر دی۔ میرے لئے نشہ چھوڑنا مشکل تھا، اس لیے اس کی ہر بات ماننے کی حامی بھر لی نشہ سپلائی کرنے والے نے دس کلو چرس میری ٹانگوں کے ساتھ باندھ کر دوسرے شہر پہنچانے کے لیے کہا یعنی نشے کے بدلے نشہ سپلائی کروایا گیا۔ جیسا کہ تعلیمی اداروں میں اکثر طلبہ و طالبات سے کروایا جاتا ہے لیکن میری بدقسمی تھی کہ راستے میں ہی میرا ایکسیڈنٹ پولیس کی کار کے ساتھ ہو گیا اور ایک تھیلی میری ٹانگوں سے اتر کر گر گئی۔ پولیس مجھے گرفتار کر کے لے گئی۔ ضمانت پر رہا تو ہوگیا، مگر نشہ سپلائی کرنے والوں کے چنگل سے رہائی اب مشکل تھی۔ میں نشہ چھوڑ چکا تھا، کچھ عرصہ گزرا کہ سپلائی کرنے والوں نے میری گاڑی میں 5 لاکھ کا مال رکھ کر میرے ہی گھر میں چھاپہ پڑوا دیا۔ اس کے بعد مجھے تین ہفتے جیل میں رکھا گیا، 10 لاکھ پولیس کو دے کر مجھے رہائی ملی۔

نشے کی عادی رہ چکی ایک اور طالبہ کا کہنا ہے کہ مجھے نشے کی عادت یونی ورسٹی کے ہاسٹل سے پڑی۔ 8 سال میں نے دن میں ہیروئن اور رات میں مارفین کا استعمال کیا۔ اس سے پہلے یونی ورسٹی میں آسانی سے حاصل ہو جانے والی سگریٹ کا استعمال کیا۔ طالبہ کا کہنا تھا کہ یونی ورسٹی ہاسٹل میں منشیات کی فراہمی چوکیدار، صفائی کرنے والا طبقہ جو بیشتر مسیحی برادری سے تعلق رکھتا ہے، آسانی سے مہیا کرا دیتے ہیں۔ یونی ورسٹی کے باہر موجود ڈھابہ، ٹیکسی سٹینڈ پر موجود چند افراد، انتظامیہ، طالبات کے ذریعے نشہ آور اشیا با آسانی ہر جگہ مل جاتی ہیں۔

طالبہ نور کا کہنا تھاکہ منشیات کی عادت ہو جانے کے بعد اس کے لیے یہ نشہ چھوڑنا اس قدر مشکل ہوگیا تھا کہ اس نے اپنا آپ بھی فروخت کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ کئی طالبات کو نشے کا عادی اس لیے بنایا جاتا ہے تا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کا عمل آسان ہو سکے۔ نور کا کہنا ہے کہ میں منشیات کا استعمال اب چھوڑ چکی ہوں لیکن ماضی میں جو کیا یا جو ہوا وہ خوفناک ہے۔

سیینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے والی ایک این جی او کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ سُلطان نے ستمبر2017 میں انکشاف کیا تھا کہ 18 ماہ کے سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کے بچے بالعموم اور نجی تعلیمی اداروں کے بچے بالخصوص کسی نا کسی صورت میں منشیات کے عادی ہیں اور اگر بات کی جائے شرح کی تو یہ شرح 43 سے 53 فیصد ہے۔ جس کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اینٹی نارکوٹکس شعبے میں کام کرنے والی معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر صغریٰ شاہ نے بتایا کہ پاکستان میں نشے کی لت پڑنا بہت ہی آسان ہے کیوں کہ یہاں چرس سمیت منشیات آسانی سے مل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسباب و عوامل سے کہیں زیادہ منشیات کی بہ آسانی فراہمی میں ادارے کی انتظامیہ اور پولیس بھی منشیات فروش گروہ کے سہولت کار ہوتے ہیں۔

انسداد منشیات محکمے کے سربراہ عبدالحق جونیجا سے جب اس معاملے میں بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تشویش ہے کہ نوجوان نسل خود کو منشیات کے ذریعے تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کی غیرقانونی خریدوفروخت کو ختم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ عبد الحق جونیجا سے جب پوچھا گیا کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں تو انہوں نے مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ منشیات کے استعمال میں ماحول اور نفسیاتی عوامل دونوں کارفرما ہوتے ہیں۔ گھریلو مسائل، ازدواجی مسائل، پڑھائی کا بوجھ، کم اعتمادی، ذہنی دباو، جینیٹکلی منشیات کا استعمال، اپنے فیصلوں پر عدم اعتماد، لوگوں کا خوف، ڈپریشن جیسے عناصر ایک فرد کو منشیات کے استعمال کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر صغریٰ نےکہا کہ ’ہم منشیات کے عادی افراد کا علاج کرتے رہیں اور دوسری طرف وہ آسانی سے دستیاب بھی ہو تو یہ ایک دائرے کا سفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی جڑیں دور تک پھیل چکی ہیں۔ یہ ایک آپریشن سے ٹھیک ہونے والی نہیں، اس کے لئے ترجیحات متعین کر کے وہاں سے شروع کیا جائے جہاں سے علاج زیادہ آسان ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے پاک صاف کیا جائے۔ سماج کو منشیات سے پاک صاف کرنے کی کوشش میں تعلیمی اداروں سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

یہ بھی دیکھئےـ کہیں دیر ہوگئی تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فارینہ الماس
(Visited 338 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: