کریم بائیک سروس اور شادی ——– علی عبد اللہ

0
  • 34
    Shares

کریم بائیک سروس کا تازہ اشتہار جو اب حکومت نے نوٹس لے کر ہٹوا دیا ہے اور کمپنی کے CEO کو بھی بلوا بھیجا ہے۔ لیکن ایک سوال کا جواب ابھی باقی ہے کہ آخر اس اشتہار کا مقصد کیا تھا؟ لڑکیوں کو شادیوں سے بھاگنے کی ترغیب دینا یا انہیں شادی ہی نہ کرنے کی تلقین کرنا یا پھر کریم کی ان موٹر سائیکلوں کی تشہیر کرنا، جن پر بھاگنے والیاں باآسانی براجمان ہو سکتی ہیں؟ ٹوئٹر پر اس اشتہار کی حوصلہ شکنی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ قوم نظریاتی و معاشی طور پر جتنی بھی کمزور ہے، مگر اپنی ثقافت، مذہب اور معاشرتی روایات پر کسی قسم کا داغ برداشت کرنا پسند نہیں کرتی۔ کیا گھروں سے بھاگنا باعث عزت ہے اور یہی واحد حل ہے جو خواتین کو ان کے حقوق فراہم کر سکتا ہے؟ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون، آئین پاکستان کی کوئی ایسی شق یا معاشرے کی ایسی کوئی روایت باقی نہیں رہی جو عورتوں کو ان کے حقوق کے لیے انہیں باہر نکلنے، بیہودہ نعرے لکھنے اور گھروں سے بھاگنے پر مجبور نہ کرے؟ خاص طور پر شادی سے بھاگنے کے لیے اور وہ بھی کریم بائیک سروس کے ساتھ۔

یاد رہے کہ ڈونگا گلی کی سترہ سالہ عنبرین ہو یا دیول کی ماریہ بی بی، سرگودھا کی بس ہوسٹس مہوش ہو یا لکی مروت کی سولہ سالہ شیریں، ایوب میڈیکل کالج کی اسما رانی ہو یا پھر فیصل آباد کی سعدیہ یا پھر لاہور کی اکیس سالہ زہرہ، یہ وہ تمام لڑکیاں تھیں جو گھروں سے نہیں بھاگی، نہ ہی کسی کریم سروس نے انہیں بھاگنے میں مدد کی اور نہ ہی ان لڑکیوں پر بد کرداری کا الزام تھا لیکن یہ سب مردانہ عزت اور جاہلیت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ کسی کو جلا دیا گیا کوئی گولیوں کی بھینٹ چڑھی اور کسی کو زبردستی بیس سال بڑی عمر کے افراد سے بیاہ دیا گیا اور ہاں ان لڑکیوں کی بات پھر کبھی سہی، جو شادی کی تقریب میں لڑکوں کے رقص پر تالیاں بجانے کی پاداش میں غیرت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ یہ سب وہ لڑکیاں تھیں جو باعزت طریقے سے گھر والوں کو اپنی خواہش اور پسند بتا دینے پر ظلم کا شکار ہوئیں۔ اگر یہ بھاگ جاتیں تو بھی شاید ان کا یہی انجام ہوتا کیونکہ غیرت بہر حال مردوں میں ہی پائی جاتی ہے عورت کا غیرت سے بھلا کیا تعلق؟ عورت مارچ کرنے والوں نے ان قتل کی گئی خواتین پر کبھی بڑھ چڑھ کر نہیں بولا، کوئی مارچ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے لیے سائن بورڈز اٹھانے کی زحمت کی، بلکہ یہ ایک ہلکی سی میاؤں کر کے کسی دوسرے کے پیالے میں منہ ڈال کر ان کے لیے دم ہلانے لگے۔

ہمارے مردوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ پورے سیکولر ہیں نہ ہی مذہبی، نہ پورے مشرقی ہیں اور نہ ہی پورے مغربی۔ ہم ادھر ادھر سے ڈر اور کنجوسی کے ساتھ تھوڑی تھوڑی عادتیں اور نظریات اٹھا کر معاشرے اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس زندگی گزارنے کا پورا لائحہ عمل موجود ہے مگر اس سے نظر چرا کر ظاہری چکا چوند سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ خواتین کے معاملے میں برصغیرخاص طور پر مردانہ برتری کا حامل ہے۔ مردانہ برتری کوئی بری چیز نہیں لیکن مسئلہ تب ہوتا ہے جب خواتین کو بے جا اور غیر مساوی حقوق کی بنا پر کمتر اور حقیر بنا دیا جاتا ہے۔ ان کی پسند اور ناپسند کو خاک میں ملا کر زبردستی کی جاتی ہے اور فیصلہ تسلیم نہ کرنے پر موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔

شرعاً اور قانوناً عورت کو شادی کا فیصلہ کرنے کا پورا حق ہے لیکن نکاح کے لیے ولی کی شرط بھی موجود ہے۔ خطبہ حجۃالوداع میں آپ صل اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے بارے خاص تلقین کی اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا کہا ایک اور موقعہ پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو آبگینوں سے تشبیہ دی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو خود شادی کا پیغام بھجوایا اسی طرح اور بھی کئی واقعات ہیں جس میں خواتین نے اپنی پسند یا نا پسند کے بارے میں بتایا۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی، اسلامی اصولوں سے دوری اور قانون کی کمزوری، خواتین کو بیچاری بنائے ہوئے ہیں۔ اوپر سے بیرونی عناصر اس کا فائدہ اٹھا کر عورت کو نت نئے انداز سے حقوق نسواں کے نام پر مارکیٹ میں پیش کر دیتے ہیں اور عورت مردانہ جاہلیت سے گھبرائی ہوئی، کچھ سمجھ ہی نہیں پاتی اور نام نہاد عورت مارچ کا حصہ بن کر اپنے اصل حقوق کو بھول بیٹھتی ہے۔ اسی لیے کبھی میرا جسم میری مرضی، شادی سے بھاگنا ہو تو کریم بائیک سروس وغیرہ جیسے کھوکھلے نعرے لگتے ہیں جو عورت کو اس کے اصل حقوق تو نہیں دے پائیں گے مگر لازماً اسے خاندانی نظام سے دور کر کے حوس زدہ گدھوں کا شکار ضرور بنا دیں گے۔

اب ضرورت مردوں کو قانونی اور شرعی بنیادوں پر جاہلانہ رسومات اور نظریات سے نکالنے کی ہے۔ ان میں برداشت کا مادہ پیدا کرنا اور خواتین کی پسند یا نا پسند کو مدنظر رکھنا اور ان کو مکمل حقوق فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دیسی و بدیسی لبرلز کو دعوت دینے کی بجائے قومی سطح پر معتبر علماء، اساتذہ اور قانونی ماہرین کو دعوت دینی ہو گی۔ سکول اور کالجز کی سطح پر یہ شعور اجاگر کرنا ہو گا اور دیہی و شہری علاقوں میں مردوں اور عورتوں کی اصل ذمہ داریوں اور حقوق و فرائض کے بارے میں مختلف سیمینار اور پروگرام ترتیب دینا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانوں کا صحیح اور مؤثر انداز میں قابل عمل ہونا بھی لازم ہے۔ وگرنہ جس طرح عورت کو گمراہ کیا جا رہا ہے کچھ گمان نہیں کل کو کوئی بھی بیرونی امداد پر پلنے والی این جی او خواتین کو مکمل مادر پدر آزادی کے نعرے لگوا کر گھروں سے مکمل باہر نکال لائے۔

(Visited 166 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: