دانش سے مکالمہ ——– نعیم الرحمٰن

0
  • 5
    Shares

سجاول خان رانجھا سینئر صحافی اور سفرنامہ نگار ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اور برلن کی فرائی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے ِلنڈ یونیورسٹی سویڈن، کولمبیا یونیورسٹی نیویارک اور مس سسپی یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی۔ وہ کئی اخبارات اور میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ درجن بھر کے قریب کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ لیکن انہیں اصل شہرت منفرد سفرناموں ’’گہر کی تلاش‘‘، ’’کرب کی راہ گزر‘‘ اور ’’اگر صبح طلوع ہوئی‘‘ سے حاصل ہوئی۔ ان منفرد سفرناموں میں سجاول خان رانجھا نے جن ممالک کا سفر کیا۔ اس کے عام آدمی کی زندگی کو قریب سے پیش کیا۔ تحریر میں موجود شگفتگی نے بھی قاری کی دلچسپی کو قائم رکھا۔ تین دلچسپ اور منفرد سفرنامے لکھنے کے بعد انہوں نے سفر کرنے ترک کر دیے یا سفرنامے لکھنا، یہ علم نہیں ہو سکا۔ تا ہم ذہنی، فکری اور نفسیاتی پیچیدگیوں کے حل کے لیے سجاول خان نے ’’اپنے آپ کی تلاش‘‘ اور ’’ہمت نہ ہاریے‘‘ جیسی موٹیویشنل کتب لکھیں۔ جن میں لفاظی سے کام لینے اور قاری کو کامیابی کے نسخے بانٹے کے بجائے ایسے واقعات پیش کیے۔ جس سے ہر پڑھنے والے کوخوب سے خوب تر کی تحریک ہو۔

ایک طویل مدت بعد سجاول خان رانجھا ایک منفرد کتاب ’’دانش سے مکالمہ‘‘ کے ساتھ آئے ہیں۔ جس میں مختلف شعبوں کے ممتاز اہل علم و فکر سے گفتگو کی گئی ہے۔ جس کے بارے میں نجیبہ عارف کا کہنا ہے کہ

’’ان مکالمات میں معاصر عہد کی ایسی شخصیات سے گفتگو کی گئی ہے۔ جن کی دلچسپیاں متنوع اور وابستگی مختلف شعبہ ہائے حیات سے ہے۔ جو اپنے اپنے شعبے میں اختصاص رکھتے ہیں اور اس بارے میں غور و فکر کے عادی ہیں۔‘‘

کتاب کے ناشر شاہد اعوان کا کہنا ہے کہ

’’دانش سے مکالمہ‘‘ کرنے کا حوصلہ اور صلاحیت بذاتِ خود دانش مندی کی متقاضی ہے۔ اچھا سوال آدھا جواب تو ہوتا ہی ہے، اچھے جواب کے امکان میں اضافے کا سبب بھی۔ اس کتاب میں پیش کئے جانے والے مصاحبوں میں سوالات کا معیار ہی جواباً آنے والی دانش کا محرک رہا ہے۔ زمین و آسمان سے لے کر سیاسی، ادبی و الٰہیاتی موضوعات تک اور سائنس و ٹیکنالوجی سے روحانیات و تصوف تک ہر عنوان سے اس کتاب میں موجود اہل علم کے افکار قاری کے ذہن کی زرخیزی میں اضافہ کا سبب بنتے نظر آتے ہیں۔ سجاول صاحب نے دانش کی ہیر کی تلاش میں رانجھا کی طرح ہی آبلہ پائی کی ہے۔‘‘

معروف ادیبہ اور دانشور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ’دانش سے مکالمہ‘ کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ

’’ہر زندگی، خواہ وہ فرد کی ہو یا قوم کی، وقت کے ایک خاص دورانیے کے بعد ایک خاص ڈھرے پر چلنے کی عادی ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ یہی اندازِ زیست اس کے لیے تقدس حاصل کر لیتا ہے۔ اس تقدس کی چھان پھٹک ضروری ہوتی ہے تا کہ اصل کو فرع سے، اہم کو غیر اہم سے اور اصول کو فضول سے دور رکھا جا سکے۔ سجاول خان رانجھا نے ان مکالمات میں یہی فریضہ سر انجام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے معاصر عہد کی ایسی شخصیات کو منتخب کیا ہے جن کی دلچسپیاں متنوع اور وابستگی مختلف شعبہ ہائے حیات سے ہے اور جو اپنے اپنے شعبے میں اختصاص رکھتے ہیں اور اس بارے میں غور و فکر کے عادی ہیں۔ اس نیرنگی نے کتاب کے مندرجات کو ہر قسم کا ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے دلچسپی کا سامان بنا دیا ہے۔‘‘

تین سو چھتیس صفحات پر مبنی کتاب کی چھ سو روپے قیمت بھی بہت مناسب ہے، جو ایمل پبلیکیشنز کی عمدہ پرنٹنگ سے مزین معیار طباعت بہت اعلیٰ ہے۔ کتاب کے چار ابواب ہیں۔ پہلے باب میں روحانی شخصیت پروفیسر احمد رفیق اختر، تصوف سے متعلق شمس الدین عظیمی اور انسانیت سے محبت کے علمبردار عبدالستار ایدھی سے انٹرویوز ہیں۔ باب دوئم میں علم، شعور، دانش سے متعلق ڈاکٹر ممتاز احمد، طارق جان، بیرسٹر ظفر اللہ خان، ڈاکٹر اعتزاز احمد، ڈاکٹرا نور نسیم اور ڈاکٹر انیلہ کمال سے گفتگو کی گئی ہے۔ باب سوئم میں مذہب اور صحافت سے تعلق رکھنے والے سید منور حسن، ڈاکٹر خالد مسعود، ڈاکٹر سہیل حسن، خورشید احمد ندیم اور سلطان بشیر محمود سے مصاحبے کیے گئے ہیں۔ چوتھے اور آخری باب میں معروف شاعر اور دانشور افتخار عارف، علم و ادب سے وابستہ ڈاکٹر انوار احمد، سماجی کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری، پروفیسر عبد الجبار شاکر اور عبد الصمد کے ساتھ سجاول خان رانجھا نے مکالمات کئے ہیں۔

دیباچہ میں سجاول خان رانجھا نے لکھا ہے کہ

’’انٹرویوز خالصتاً اسبابِ زوالِ امت سے متعلق نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی حرکیات اور جمود سے وابستہ ایشوز ہیں۔ جن میں انٹرویو دینے والے کی ذات اور خیالات دونوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے، ان کے مطالعہ سے قارئین کو مذہب و سیاست اور سائنس اور نفسیات کے جدید پیرامیٹرز میں مغرب کی پیش رفت اور مسلم اذہان بالخصوص اہل ِ پاکستان کے ذہنی و فکری جمود کی وجوہات کو جاننے اور سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘‘

پروفیسر رفیق اختر نے سجاول خان رانجھا کے خواتین سے امتیازی سلوک اور مرد کے غلبے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ

’’انسانی زندگی کے آغاز پر پہلا سبق عورت اور مرد کے حقوق و فرائض کے تعین کا طے ہوا۔ چونکہ انسان کا بچہ جانور کے بچے کی طرح پیدائش کے بعد فوراً چل نہیں سکتا، تو اس بچے کی حفاظت اور نگرانی کے لیے عورت کو گھر اور مرد کو شکار کی ذمہ داری دی گئی۔ جب فیصلہ ہوا کہ مرد کمائے گا، تو عورت ایک انڈر ہینڈ پوزیشن میں آگئی اور اس نے اسے قبول بھی کر لیا۔ فیملی لائف میں ہمیشہ یہی چوائس چلے گی۔ اگر ماں باپ ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے تو مغربی معاشرے کی مانند تیس سے چالیس فیصد بچے بغیر باپ کے نشان کے ہوں گے۔ جب کسی معاشرے کو بقائے نسل، بقائے حیات اور بقائے اصول درکار ہو گا تو مرد اور عورت کی ذمہ داریاں ریفائن اور ڈیفائن ہوں گی۔‘‘

بہت عمدگی سے پروفیسر صاحب نے مرد اور عورت کے درمیان کار فرما اصول کی وضاحت کی ہے۔ یہ پروفیسر رفیق اختر کی طویل انٹرویو کا محض ایک مختصر حصہ ہے۔

شمس الدین عظیمی صاحب نے اپنے مراقبے کی تحریک کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ

’’حضورﷺ جو غارِحرا میں عبادت فرماتے تھے، تو اس وقت تو نماز کی شکل تھی نہیں، جو آج ہے۔ نماز معراج میں فرض ہوئی تھی۔ حضورﷺ غارِ حرا میں نفل نہیں پڑھتے تھے۔ تفکر کرتے تھے۔ غور و فکر کرتے تھے، اللہ کی نشانیوں پر۔ مراقبے کا مطلب ہے غور و فکر کرنا۔ کسی چیز کے لیے یکسوئی حاصل کرنا۔ ہم نے مراقبہ کا طریقہ کار دو جگہ سے لیا ہے۔ ایک قرآن پاک جس میں جگہ جگہ تفکر کرنے کو کہا گیا ہے۔ دوسرے حضورﷺ پاک کا غارِ حرا میں تفکر کرنا۔‘‘

شمس الدین عظیمی نے اپنی تحریک کا نقطہ نظر بیان کر دیا ہے۔ پہلے باب کا تیسرا انٹرویو عبد الستار ایدھی کا ہے۔ جس میں ایدھی صاحب کا کہنا ہے کہ

’’اللہ کو مجھ سے کام لینا تھا۔ اللہ نیت پر نظر رکھتا ہے۔ میری سوچ بچپن سے ہی یہ تھی۔ میں کبھی بھی مذہبی لیڈروں کے ساتھ متفق نہیں ہوا۔ سماجی کام میں میں کسی کے ساتھ نہیں رہا۔ اکیلا ہی سب چلاتا ہوں۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے، یہ اندر گھستے ہیں۔ تو سخت نقصان پہنچائیں گے۔ پاکستان بنا اور قائد اعظم نے اعلان کیا کہ اس تاریخ کو پاکستان بن رہا ہے۔ تو جتنے زمیندار، جاگیردار اور سرمایہ دار تھے سب اس میں گھس گئے۔ چار صوبے اور بنگلہ دیش کا صوبہ، یہ سردار، زمیندار، مشائخ اور پیروں کے قبضے میں چلے گئے۔ بھارت میں جاگیرداری فوراً ختم کر دی گئی۔ یہاں لیاقت علی خان نے آواز اٹھائی، تو انہیں گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد سے انہیں کا قبضہ چل رہا ہے۔ یہ اپنے علاقے کا بھی بھلا نہیں کرتے۔ ماما، بیٹا، بیٹی، بھانجا اسمبلی کے اندر نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ سب کو پریشان کرتے ہیں۔ سازشیں کر کے لوگوں کا حق مارنا ان کا کام ہے۔‘‘

کس سادگی اور سچائی سے ایدھی صاحب نے پاکستان کے مسائل اور اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی ہے۔

دانشور ڈاکٹر ممتاز احمد نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ

’’آزادی فکر، آزادی رائے اور نئی سوچ کے لیے ایک خاص قسم کے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ماحول جس میں نئی چیزیں سوچنے پر پابندی نہ ہو۔ جس میں آدمی نئے سوالات اٹھا سکے اور جس میں گھڑے گھڑائے سوالات سے آگے کی سوچ سکے۔ علم خواہ مغرب میں پیدا ہو رہا ہو، جاپان میں ہو، افریقہ میں یا مسلمان ملکوں میں ہو، وہ عالم انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔ علم کسی ایک تہذیب یا کسی ایک قوم یا کسی ایک کلچر کی ملکیت نہیں ہے۔ کوئی علم یا کوئی آئیڈیا یا نئی فکر جب سامنے آتی ہے، تو اسے کسی ایک شخص نے دریافت نہیں کیا ہوتا۔ وہ فکر ایک روایت کے اندر سے نکلتی ہے۔ نئی فکر کے لیے کئی لوگوں نے چھوٹی چھوٹی اینٹیں رکھ کر جو بنیاد رکھی تھی، اسی بنیاد پر نئی فکر جنم لیتی ہے۔‘‘

علم کے فروغ اور سب کے لیے اس کی یکساں اہمیت کی کیا خوب وضاحت کی ہے اور مصاحبہ لینے والے سجاول خان رانجھا نے کس خوبی سے ان افراد کے جوابات کو مرتب کیا ہے۔ جس کی داد بار بار دینی پڑتی ہے۔

اسلامی اسکالر طارق جان کہتے ہیں کہ

’’انسان ِ کامل کی تلاش بذات ِ خود ایک اچھی فکر ہے۔ انسانِ کامل ہونا چاہئے، لیکن انسانِ کامل کون ہے، کون نہیں، اس کافیصلہ تاریخ میں جا کر ہوتا ہے۔ اگر معاشرے انسانِ کامل کی تلاش میں لگ جائیں، جو بذاتِ خود ایک مشکل کام ہے، تو بالآخر وہ انسانی قیادت سے ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ جو شخص بھی آگے آئے گا وہ ان مثالی پیمانوں پر پورا نہیں اتر پائے گا، جو انسانِ کامل کے لیے ضروری ہیں۔ پہلے زمانے میں بھی مخالف قوتیں اچھے انسانوں کو متنازعہ بنا دیتی تھیں، جیسے کہ پیغمبروں کو بھی متنازعہ بنایا گیا۔ اس دور میں منظم ذرائع ابلاغ نہیں تھے۔ جو عوامی رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ آج کل کے زمانے میں کوئی بڑا انسان آ بھی جائے، تو اگر میڈیا پر حاوی لوگ اسے اپنے نظریات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ تو اسے متنازعہ بنا کر پیش کر دیں گے۔‘‘

معروف قانون دان، اسکالر اور متعدد کتابوں کے مصنف بیرسٹر ظفر اللہ کی مسلمانوں کی فکرکے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی کہ وہ دوسری اقوام کی طرح اس شعور میں کیوں نہیں ڈھل رہے، جس کا نتیجہ کامیابی، ترقی، تخلیق اور غلبے کی صورت میں برآمد ہو سکے۔ بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا ہے کہ

’’محلے میں یتیم ہیں، اس کے خاندان میں بیوہ موجود ہے۔ یہ غیر مذہبی شعور ہے کہ اس معاشرے میں جو آدمی زیادہ نیک ہے، وہ حج زیادہ کرتا ہے۔ بار بار عمرے ادا کرتا ہے۔ مذہب آپ کواللہ کے سامنے سر جھکانے کے ساتھ ساتھ اللہ کی مخلوق سے محبت کرنا بھی سکھاتا ہے۔آپ کا شعور یہ نہیں بتارہا کہ وہی لاکھ روپیہ جوآپ ایک حج پر لگا رہے ہیں۔ایک حج توآپ پرفرض ہے،وہ آپ نے کرلیا۔ اگلاحج تو فرض نہیں ہے نا، اب وہ آپ کسی یتیم بچے پرلگا دیں، اس کو ڈاکٹر انجیئر بنا دیں۔ یہ ایک صحیح شعور ہے۔ اگر ہم اپنی وقتی سرگرمیوں سے توجہ ہٹا کر پوری صلاحیتیں نئے اسلامی پیراڈائمز کے متعارف کرانے میں لگا دیں، تو بطور ریفارمر ملک و قوم کی لازوال خدمت انجام دے سکتے ہیں۔‘‘

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ ء نفسیات کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹرانیلہ کمال سے انٹرویو کے بارے میں مصنف نے تعارف میں لکھاکہ ’’مزید نفسیات کیا چیز ہے اوراس طرح کے سوالات ہم نے ڈاکٹرانیلہ کمال سے کیے۔ کچھ سوال رہ بھی گئے۔جیسے کہ یہ کسی دورمیں ترکی کو یورپ کا مردِ بیمار کہا جاتا تھا، کیا پاکستان کو اب اس درجہء منزلت پر فائز سمجھنا چاہئے؟ ڈاکٹر صاحبہ سے ہمارے سوالات و جوابات ملاحظہ ہوں اور بتائیے کہ ان کی روشنی میں آپ خود کو ذہنی لحاظ سے کس حدتک صحتمند یا بیمار سمجھ پائے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر انیلہ کمال کا کہنا ہے کہ

’’نفسیات کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہ کسی بھی انسان کے رویے کا مطالعہ کرتی ہے کہ کوئی کس طرح بولتاہے۔ اٹھتا بیٹھتا ہے، بات چیت کرتاہے۔ اس کے جو جذبات یا اقدامات ہیں، ان سب چیزوں کے مطالعہ کا نام نفسیات ہے۔جس آپ سائنٹفک اسٹڈی کرتے ہیں، تو اس میں ایک ہوتا ہے، کیس ٹو کیس اسٹڈی۔ آپ کا فوکس ایک انسان ہوتاہے۔ اس انسان کے، جیسے آپ نے کہا، احساسات ہیں۔ وہ کیا سوچتا ہے۔ زندگی اور اس کے اقدامات پراس کی سوچ کا کیا اثر پڑتا ہے یا اس کے اردگرد کا ماحول پر کیا اثر ہو رہاہے۔ یہ گہرائی میں آپ تحقیق کرسکتے ہیں۔ لیکن جب آپ نے انسانی نفسیات کو سمجھنا ہے، تو پھر آپ ایک فرد کی بات نہیں کرتے، گروپ کی بات کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے اور کتنے لوگ ہیں۔ ان کا اوسط کیا ہے۔ اگریہ بات اس میں ہے تو باقیوں میں کتنی ہوسکتی ہے۔ سو فیصد یقین کے ساتھ کسی بھی انسان کے بارے میں آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ طبیعیات یا ریاضی میں دو اور دو چار ہوتا ہے۔ نفسیات میں نہیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ

’’خود آگاہی قرآن میں بھی ہے کہ کائنات کو سمجھو اور کائنات کا حصہ ہم خود بھی ہیں۔ علم حاصل کرو اور آپ جتنا علم حاصل کرو گے، آپ کے سامنے پردے کھلتے جائیں گے۔جتنے پردے کھلتے جائیں گے، اتنی ہی آپ کی زندگی آسان ہوتی جائے گی۔ آپ سامنے والے بندے کو تبدیل نہ کریں۔ آپ کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ اس کی ایک اپنی حیثیت، اپنی ایک فطرت ہے۔ آپ کا زیادہ کنٹرول آپ کے اپنے اوپر ہے۔آپ اگرخود کو تبدیل کریں گے، تو سامنے والے فرد کے ساتھ آپ کے تعلقات یا جو بھی مسئلہ ہے وہ ٹھیک ہوسکتا ہے۔‘‘

جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق امیر منورحسن نے مطالعہ کی عادت کے بارے میں کہاکہ

’’وہ بائی روڈ بہت سفر کرتے ہیں اور سفر میں کچھ نہ کچھ پڑھنے کا موقع مل جاتاہے۔ اپنے ذوق کے مطابق کتابیں پڑھتا ہوں۔ اس سے ہٹ کرچیزیں نہیں پڑھ پاتا۔ معاشروں کی بقا نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم سے ہے۔ پھر میڈیا ہے۔ چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، معاشروں کی نمو، ترقی اور بقا ان چیزوں پر ہے۔ جس معاشرے کے اندر نظام تعلیم بھی غلام بنانے والاہو۔ نصابِ تعلیم بھی ذہنوں پر پردے ڈالنے والا اورسوچ و فکر کی لہروں کو روکنے والا ہو اور جس معاشرے کے اندر مادہ پرستی کے طوفان کو کچھ قدرتی اور کچھ مصنوعی طور پر اٹھانے کی کوششیں ہو رہی ہوں اور لوگوں کے پیشِ نظر مادی ترقی اور کرپشن ہی نشانِ منزل قرار پائی ہو، اس معاشرے کو یوں تو دوش نہیں دیا جا سکتا کہ اس کی فکر میں کجی پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ چاروں طرف سے ہماری نسلوں کو غلام رکھنے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نو آبادیاتی نظام ختم ہونے کے باوجود نئی صورت میں اپنی جگہ آگیا۔‘‘

اس فکر انگیز انٹرویو میں سجاول خان رانجھا نے منورحسن صاحب سے بہت معلومات افزا سوال کئے۔جن کے بہترین جوابات دیئے گئے۔ مشہور شاعر اور دانشور افتخار عارف نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ

’’ہر انسان کے دل میں لہو کی ایک بوند ہوتی ہے، جو اس سے مطالبہ کرتی رہتی ہے کہ بھائی سچ بول دے۔ یہی ہے تعلیم ساری کی ساری۔ نظام ِعدل کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ وہ سب تعلیمات تھیں، جو کہیں نہ کہیں اندر سے آتی ہے۔ بنیادی مسئلہ ہے جبر و اختیار کا، وہ میں ایک مسلمان اور ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے جو گہنگار ہونے کے باوجود قرآن اور حدیث پر پورا یقین رکھتاہے اور جن موضوعات پران کے فیصلے آچکے ہیں، ان کے بارے میں اپنے سخن کو بالا نہیں سمجھتا۔‘‘

ڈاکٹرخالد مسعود خان اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ ان چند اسکالرزمیں سے ہیں، جنہیں اسلامی علوم کے ساتھ جدید علوم پربھی عبورحاصل ہے۔ وہ اجتہادی جذبے سے سرشار اور قرآن وسنت کی روشنی میں جدید مسائل کا حل تجویزکرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود کہتے ہیں کہ

’’مغربی معاشرے ایک خاص فریم ورک کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اگرہم ان سے صحیح سطح پرانٹریکشن کریں، تو بہتر افہام و تفہیم ہمارے اور مغربی ممالک کے درمیان ممکن ہوسکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہ تبدیلی نہیں آئی ،جومیرے خیال میں دنیاکی دوسری قوموں میں آئی ہے۔جدید دور خود ایک تبدیلی کا دور ہے۔ آپ چاہیں یانہ چاہیں، تبدیلیاں آرہی ہیں اور آپ کو انہیں قبول کرنا ہوگا۔ اخلاقی زوال بدقسمتی سے ہمارے پڑھے لکھے اورمعاشی طور پرخوشحال طبقے میں زیادہ ہے۔ عوام میں کم ہے۔اس کی غالباً بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون، اخلاق اور فقہ پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام دینِ فطرت ہے تو اس کامطلب ہے کہ کامن سنس کامذہب ہے ۔خدااوراس کے رسولﷺ پرایمان اور ارکانِ اسلام پر کم و بیش سب کا اتفاق ہے۔ باقی ہر چیز اوپن چھوڑدی گئی ہے۔ہمیں غلط اور صحیح اور نیکی اوربدی کاتصورنہ بھی سکھایایا پڑھایاجاتا، تو ہمارے اندربلٹ اِن اصلاح کی صلاحیت ہمیں زندگی میں حضرت آدمؑ کی طرح کسی بھی غلطی کے بعد رجوع پرآمادہ کرتی ہے۔اسی کا نام اجتہاد ہے۔ یعنی کسی بھی مسئلے کا حل ۔ہم روزمرہ کے معمولات میں قدم قدم پرفیصلے کرتے ہیں۔ کسی کی انگلی پکڑ کرنہیں چلتے ۔یہی اسپرٹ اسلام کے حوالے سے ہونی چاہیے ۔ ہر ایک قرآن اور سنت سے خود رہنمائی حاصل کرے اور کسی کی عقیدت اور کسی مخصوص عقیدے کے سحر میں مبتلا ہوئے بغیر زندگی گزارے، تو یہ زندگی ٹھیک اللہ کی منشا اور اسلام کی روح کے مطابق ہوگی۔‘‘

کیاسیدھا سادھا اورعام فہم مفہوم اجتہاد اور زندگی گزارنے کے طریقہ کار کا پیش کیاہے۔ سبحان اللہ، اگر یہ طرزِفکر ہر شخص اپنالے تو بہت سی تلخیاں اوراختلافات خود بخود دور ہوجائیں گے۔ ایسے روشن فکر دانشوروں کانقطہ نظرعام کرنا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹرخالدمسعود کا کہنا ہے کہ

’’ہمارے جتنے بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں، وہ اسلام کے مطابق ہیں۔ انہیں اگر ہم صحیح طریقے سے نافذ کریں تو بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔اسلامی نظریاتی کونسل نے سب قوانین کا جائزہ لیاہے۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ قرآن وسنت کے خلاف قوانین کی نشاندہی کرے۔ وہ نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹیں موجود ہیں۔اس میں میرے اندازے کے مطابق پانچ فیصد قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ کچھ ایسے ہیں، جن کو منسوخ کرنے اور کچھ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ اگر پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل کی ان سفارشات کا جائزہ لیتی۔ جو سفارشات درست ہیں، ان کو منظور کر لیتی، تو یہ عمل اب تک مکمل ہوچکا ہوتا۔ اگر ملکی قوانین میں صرف پانچ فیصد تبدیلی کی ضرورت ہے تواس کا مطلب ہے، ہمارے قوانین زیادہ تر اسلامی ہیں۔ اگر پارلیمنٹ ان پرنظرثانی کرتی توبہت سے مسائل اب تک ختم ہوچکے ہوتے۔‘‘

کیا کبھی اسمبلی، ممبر سیاستدان یا میڈیا میں اس پر محاکمہ کیاہے۔ خالد مسعود جیسے دانشور کو کبھی کسی ٹی وی چینل نے اس موضوع پر گفتگو کے لیے بلایا ہے۔ سجاول خان رانجھا کے ان انٹرویوز نے اس بہت بڑی کمی کو پورا کیا ہے۔ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

خورشیداحمدندیم ٹی وی چینل نے جانے پہچانے میزبان،معروف کالم نگار اورکئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ عمر اور علم میں شاید بہت سے بزرگوں سے کم ہوں ،تاہم اللہ نے انہیں فہم ِدین اور مومنانہ بصیرت سے بھرپور طور پر نوازا ہے۔اقبال نے بجا طور دعا کی تھی ’جوانوں کو پیروں کا استادکر۔ ان کے خیالات حیران کن سچائی سے مملو ہیں۔ جنہیں فروغ دیا جانا چاہیے۔ خورشید ندیم کہتے ہیں کہ

’’مذہبی طبقے نے عوام کو ایک نوسٹیلجک تصور دیا ہے انہیں خلافتِ راشدہ کے سحرمیں مبتلا کیا۔ لیکن کبھی یہ نہیں بتایا کہ خلافتِ راشدہ قصہء پارینہ ہے۔ ماضی کی بات ہے۔اسی طرح جب کوئی دینی جماعت بنائی جاتی ہے تو کچھ عرصہ بعد اس جماعت کو وہ عصبیت حاصل ہوجاتی ہے، جو اصل میں دین کو ہونی چاہیے۔ اگر مذہب وہی ہے، جواہل ِ مذہب پیش کرتے ہیں، تو اس سے نجات کے علاوہ ترقی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ نہ روحانی ترقی کی کوئی صورت ہے نہ مادی ترقی کی کوئی صورت ہے۔ اللہ سے بھی آپ ملناچاہتے ہیں، تو اس تصورِ دین سے آپ کی نجات ضروری ہے۔ جو مذہب کی نمائندہ قوتیں ہیں، انہوں نے یہ بات کب کہی ہے کہ مذہب اصل میں اخلاقی وجود کی تعمیرکے لیے آیاہے؟ یہاں اسلام کی خوش قسمتی ہے، جو یورپ کو میسر نہیں تھی۔ جب ہم یورپی پس منظرمیں مذہب کی بات کرتے ہیں، تو عیسائیت کی بات ہوتی ہے۔ عیسائیت کا کوئی دینی ورژن موجود نہیں تھا۔ عیسائیت تمام کی تمام پاپائیت کی تعبیر پر منحصر ہے۔‘‘

غرض پوری کتاب شاندار اور فکر انگیز مصاحبوں سے بھری ہوئی ہے اور ہر صاحب علم کیلئے اس کا مطالعہ اس کے علم میں اضافے کا باعث بنے گا۔ سجاول خان رانجھا کو بے مثال انٹرویوز اور ناشر کو اس عمدہ کتاب کی اشاعت پرمبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: