کتاب ’’اقبال اور شیکسپئیر‘‘ ایک تعارف ——– احسن رامے

0
  • 67
    Shares

’’اقبال اور شیکسپئیر‘‘ معروف اقبال شناس اعجازالحق اعجاز کی تازہ تصنیف ہے.  اس سے پہلے ان کی کتاب’’ اقبال اور سائنسی تصورات‘‘ شائع ہو چکی ہے۔ اقبال اور شیکسپئیر کے تقابلی موضوع پہ اس سے پہلے کوئی کام نظر نہیں آتا۔ کلیم الدین احمد نے ’’اقبال ایک مطالعہ‘‘ اور ڈاکٹر عبدالمغنی نے ’’اقبال اور عالمی ادب‘‘ میں اقبال اور شیکسپئیر کا موازنہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہ چند ایک سطروں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ خرم علی شفیق کا ایک کتابچہ جو انگریزی زبان میں ہے اسی موضوع پہ ہے مگر اس میں انھوں نے شیکسپئیر کے صرف ایک ڈرامے ’’دی ٹیمپسٹ‘‘ ہی کو موازنے کے لیے چنا ہے اور ان کے دیگر ڈراموں اور نظموں کو نظر انداز کر دیا ہے جب کہ اعجازالحق اعجاز کا یہ مقالہ اس کتابچے کے دو سال قبل ہی منظر عام پر آگیا تھا اور اس میں شیکسپئیر کے تمام ڈراموں اور نظموں کو تحقیقی مطالعے کے لیے چنا گیا ہے۔

اعجاز الحق اعجاز

زیر نظر تحقیقی مطالعے میں مصنف نے نہایت ژرف بینی سے ان شعرا کے فکر وفن کے متماثل اور متخالف پہلووں پہ روشنی ڈالی ہے اور اقبال پر شیکسپئیر کے اثرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اقبال جن مغربی شعرا سے متاثر تھے ان میں گوئٹے اور شیکسپئیر نمایاں ترین ہیں۔ اقبال نے ان شعرا کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے کسی اور مغربی شاعر کے حصے میں نہیں آیا۔ اقبال شیکسپئیر کا موازنہ گوئٹے سے کرتے ہوئے شیکسپئیر کو ’انفس‘ جب کہ گوئٹے کو ’آفاق‘ کا شاعر قرار دیتے ہیں۔ اپنی ایک نظم ’’ شیکسپئیر‘‘ میں اقبال نے شیکسپئیر کے حسن کلام کو دل ِ انساں کے لیے ایک آئینہ قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر اختر حسین جعفری نے اس کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ ’’خیالات اور حالات کے اختلاف کے باوجود ولیم شیکسپئیر اور علامہ اقبال کے مابین مشترک اقدار کا تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن اس دنیا میں علم کی شمع کے پروانوں کی کوئی کمی نہیں۔ میری نگاہ میں محمد اعجاز الحق علم کی شمع کے ایسے ہی پروانے ہیں۔ انھوں نے اس روشنی کی دوامیت کے لیے تحقیق کے تپتے ہوئے ریگستانوں میں ننگے پائوں سفر کیا ہے، بہت سے کتب خانوں کی خاک چھانی ہے، اصل ماخذات کے گہرے سمندروں میں غوطہ زن ہوئے ہیں اور پاتال سے گوہر آبدار تلاش کرکے لائے ہیںجن کی آب و تاب ہمیشہ قائم رہے گی۔ انھوں نے مذکورہ دونوں شعرا کی تصانیف کا ژرف بینی سے مطالعہ کیا ہے اور ان کے تصورات کا نہ صرف محاکمہ پیش کیا ہے بلکہ ان کے پس منظری محرکات کا بھی نہایت موزوں انداز میں تجزیہ پیش کیا ہے۔ میرے خیال میں اب تک اقبال کے حوالے سے جو تقابلی مقالہ جات لکھے گئے ہیں ان میں سے چند بہترین مقالہ جات میں سے ایک ہے۔‘‘

اس کتاب میں مصنف نے اقبال اور شیکسپئیر کے جن تصورات کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے ان میں حیات و مرگ، عشق و محبت، حسن و جمال، فطرت، وقت اور خیر و شر شامل ہیں۔ مصنف یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ اقبال اور شیکسپئیر دونوں کے فن کا مرکزو محور انسان ہے۔ شیکسپئیر کا دور انسان مرکز نظر آتا ہے چناں چہ وہ انسان کی آرزووں، امنگوں، اس کی نفسی کیفیات اور اس کی خامیوں اور خوبیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتاہے اور وہ یہ دکھانے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ کسی درپیش صورت حال میں انسان کس رویے کا مظاہرہ کرتا ہے اور اس رویے کے بدلنے کی کیا داخلی اور خارجی وجوہات ہیں۔ انسانی رویوں کے تنوع کو جس عمیق مشاہدے کے ساتھ شیکسپئیر نے پیش کیا ہے اس سے پہلے اس طرح کی مثال دنیائے ادب میں مشکل ہی سے ملتی ہے۔

وہ ایک عظیم آئینہ بردار ہے جو زندگی کی شاہراہ پر کھڑا ہے۔ وہ زندگی کو ویسا ہی پیش کرنا چاہتا ہے جیسا کہ وہ ہے جب کہ اقبال زندگی کو محض پیش ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی توجہ اس امر پر زیادہ مرکوز ہے کہ زندگی کو کیسا ہونا چاہیے۔ یعنی ان کے ہاں اصلاحی رنگ غالب ہے۔ شیکسپئیر کے ہاں اصلاحی رنگ واضح ہو کر تو سامنے نہیں آتا اور وہ زندگی کے بھیانک اور خوبصورت پہلووں کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے مگر اس کا طبعی جھکائو بہر حال خیر ہی طرف رہتا ہے اور وہ غیر محسوس طریقے سے خیر کی ترویج کرتا ہے۔ شیکسپئیر کے ہاں ایک طرح کی ارضیت در آتی ہے جب کہ اقبال ماورائیت کا رجحان رکھتے ہیں اور زندگی کو ایک بلند سطح سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے گوئٹے اور شیکسپئیر کا باہمی موازنہ کرتے ہوئے گوئٹے کی جس آفاقیت کا ذکر کیا تھا خود ان میں بھی اس آفاقیت کے بیش تر عناصر پائے جاتے ہیں۔ شیکسپئیر انسان کو دریافت ہی نہیں کرتا بلکہ اسے ایجاد کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اقبال بھی ایک نئے انسان اور نئے صبح و شام کی دریافت چاہتے ہیں۔ اقبال حقیقت کو ایک نامیاتی کل سمجھتے ہیں اور شیکسپئیر بھی مختلف رنگوں سے زندگی کا ایک بڑامیورل تیار کرتا ہے۔ اگر شیکسپئیر کے پاس انسانی فطرت کا گہرا مشاہدہ ہے تو اقبال کے ہاں فکری عمق اور علویت ہے۔ یہ کتاب یقینی طور پر اقبالیاتی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس طرح کے مطالعات مشرق و مغرب کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: