اپنی تحریر خود لکھ لو —— سحرش عثمان

0
  • 203
    Shares

ہم سے کہا گیا عورت مارچ پر لکھا جائے کچھ ہم نے دل میں سوچا، کہہ دیا جائے ’اپنی تحریر خود لکھ لو‘۔
لیکن نہیں سوچا کیونکہ ہم دل میں سوچتے ہی نہیں، دماغ میں اور دماغ سے سوچتے ہیں۔

خیر عورت مارچ عورت مارچ کی ڈھنڈیا مچی ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ حق ہے دے دو۔ کوئی کہتا ہے ایسے ہی رفتہ رفتہ تبدیلی آئے گی۔ کوئی کہتا ہے یہ حقیقی مسائل نہیں ہیں کسی کا اعتراض ہے خواتین کو ایسے حق چاہیے ہی نہیں ہیں۔

ہم آجکل اس ذہنی کیفئیت سے گزر رہے ہیں جہاں بحث کی اتنی سی گنجائش بھی نہیں نکل رہی کہ اگر کوئی ہم سے کہہ دے آپ سحرش نہیں تو ہم کہہ دیں گے جی درست فرمایا۔ ہم ہم نہیں ہیں۔ یہ ہماری پیکنگ میں کوئی اور جلوہ افروز ہے۔ اور شائد ساتھ یہ بھی کہہ دیں نہ ہوتا یہ تو کیا ہوتا۔
لیکن دو تین اطراف سے ہمارا نام لے لے کر بلایا گیا کہ اے بنو دیکھو تو بڑی چیمپئن بنتی ہو اپنی صنف کے حقوق کی یہ حقوق چاہیے تم لوگوں کو؟
تو ہم نے فیصلہ کیا اپنی تحریر خود لکھنے کا اپنی بات خود کہنے کا اپنی رائے خود پہنچانے کا۔
ویسے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنا کسی بھی حالت پر لیکن__ ہمیں ہے حکم اذاں۔

تو پیاری فیمنسٹس آنٹیز اور ان کا ٹھٹہ اڑانے والے مولوی حضرات سب لائن میں لگ جائیں اس تحریر کے مخاطب اپ دونوں بھی ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ مجھ سمیت بہت سی خواتین کو کھانا گرم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں ہم ڈیفائنڈ جینڈر رولز پر بھی یقین نہیں رکھتے لیکن شوہر باپ بھائی سمیت کوئی شخص بھی باہر سے تھکا ہارا گھر آئے تو اسے چائے کھانے کا پوچھنے پانی پلانے میں کوئی ایگو ہرٹ نہیں ہوتی ہم جیسوں کی تو پلیز اس معاملے میں ہماری نمائندگی کے دعوے تو چھوڑ ہی دیں۔

دوسری بات عریاں تصاویر کی گئی جس کی گونج دور تک سنائی دی۔ تو پیاری خواتین عام زندگی یا سوشل میڈیا ہر جگہ اچھے برے لوگ موجود ہیں۔ آپ کی کیا حد ہے اگلے نے آپ کے ساتھ کس حد تک فری ہونا ہے اس کا دائرہ کیا ہے آپ کا آربٹ کیا ہے کونسی سرخ لکیر ہے جسے پار نہیں کرنا اگلوں نے یہ بہرحال آپ ہی کو طے کرنا۔

لٹھ لے کر پیچھے نہ پڑیں یہ بھی ضروری نہیں بول کر کہیں کسی کو۔ اپنے روئیے سے طرزعمل سے ڈیلنگ سے اگلے کو بتائیں کہ اس نے آپ کے ساتھ حد میں رہنا ہے اگر ایسا نہیں کرے گا تو بلاک اور تھپڑ کھائے گا۔ حقیقی مسائل بھی ہیں اس ضمن میں حقیقی لیچڑ اور چپکو بھی ہوتے ہیں ان کا حل بھی بلاک ہی ہے۔

پلے کارڈ سے نہیں سدھرنے کے۔ اور اپنے لیے سپیس آپ نے خودہی لینی ہے کوئی پلیٹ میں رکھ کے پیش نہیں کرے گا کہ لیجئے یہ اپکا آربٹ ہے اس میں کوئی نہیں آئے گا۔ خود میں گٹس پیدا کریں کسی کی جرات ہی کیسے ہو آپ کے ساتھ بلو دابیلٹ جانے کی؟
ہم پنجابی میں کہتے ہیں منہ نہیں چنڈیا جاندا اودا۔

ایک اعلان یہ فرمایا گیا کہ آپ کو ٹائر چینج کرنا آتا ہے لہذا برابری کے ساتھ چلیں۔
دیکھئیے صاف سیدھی بات ہے۔ مجھے ٹائر بدلنا آ بھی جائے تو کبھی نہ بدلوں میں صرف سو کالڈ برابری کے پیچھے اپنا فرنچ مینی کیور کیوں خراب کروں بھئی۔ اور اگر برابری ٹائر بدل کے ملنی ہے تو ہم ایسے ہی بھلے۔

باقی جو چیپ تصاویر تھیں ان پر بات کرنا انہیں اہمیت دینا بحیثیت خاتون میں اپنے وقار کے خلاف سمجھتی ہوں۔

جی تو مولوی حضرات مولوی سے یہاں مراد وہ سب لوگ ہیں جو اپنے اندر کی کجی چھپانے کے لیے غیر اہم چیزوں کو اچھالتے ہیں۔ جو ایک ہی سانس میں عورت کو اپنی انا کی قید میں رکھ کے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کہ مثال دیتے ہیں۔
جو قوام کا مطلب نعوذباللہ پالنے والا ہی سمجھ لیتے ہیں۔
جو نکاح نامے کو غلامی کا سرٹیفیکٹ سمجھ لیتے ہیں۔
جو اپنی مرضی و منشا کو رب کے احکامات بنا کر پیش کرتے ہیں۔
وہ سارے لوگ جو اپنی لغویات کو اقوال زریں بنا کر پیش کرتے ہیں۔
ان لوگوں سے پوچھنا چاہوں گی اگر یہ حقیقی مسائل کی بات نہیں ہورہی تو حقیقی مسائل کو کم کرنے میں کیا کانٹربیوشن ہے آپکا؟
اصل مسائل کی جڑ کسی نے کاٹنی ہے؟
ایسے ہی ایک دوسرے کو الزام دینے سے حل ہوجائیں گے مسائل؟
آپ سب جو حقیقی مسائل حقیقی مسائل کا رونا روتے نہیں تھک رہے آپ سب کا ہاتھ کس نے روکا ظلم کو روکنے سے؟
آپ میں سے کتنے ہیں جہنوں نے زندگی میں کبھی کسی پلیٹ فارم پر عورت کے حق کہ بات کی ہے؟
آپ لوگوں میں سے کتنے ہیں جنہوں نے گھر میں اپنی ماں بیوی بہن بیٹی بھتیجی بھابھی کے حق کی بات کی ہے؟
کتنوں نے اپنی ماں بھابھی بیوی کو روکا ہے کہ اگلے گھر کا ڈروا دے کر آپ کی بیٹیوں بہنوں بھتیجیوں پر ذہنی تشدد نہ کریں۔ انہیں کموڈٹی کی طرح ٹریٹ نہ کریں۔ انہیں اس لیے اچھا انسان بننے کی ترغیب نہ دیں کہ انہوں نے کسی اگلے گھر میں لوگون کو پلیز کرنا ہے۔
آپ میں سے کتنے ہیں جنہوں نے علیحدہ گھر کی بات لڑکی کی فرمائش نہیں سمجھی حق سمجھا ہے؟
کتنے ہیں آپ میں سے جو فیملی پلاننگ کو عورت کی چوائس یا حق سمجھتے ہیں اس کی عیاشی نہیں؟
آپ میں سے کتنے ہیں جو نکاح کے وقت بہن بیٹی سے پوچھتے ہیں کتنا حق مہر لکھوائیں؟
نکاح نامے کی کون کونسی شق رہنے دیں کونسی کٹوا دیں؟
کتنوں نے کبھی اپنے گھر کی خواتین کو یہ کانفیڈینس دیا ہے کہ وہ نکاح نامے کو پڑھ کے اس پر بات کرنے کے قابل ہوسکیں؟
آپ میں سے کتنے ہیں جنہوں نے بیٹیوں کے نیک نصیںوں کی دعائیں کرنے کے ساتھ مستقبل کے کسی اندیشے پر اس کی دوا بننے کی مورلی سپورٹ کرنے کہ ساتھ دینے کی بات کی ہے؟
آپ میں سے کتنے ہیں جو کالج سکول یونیورسٹی جاتی بیٹیوں بہنوں کو دیکھ کر یہ نہیں سوچتے اچھا ہے پڑھ لکھ جائیں کل کو اچھے رشتے مل جائیں گے؟
آپ میں سے کتنوں نے بیٹیوں اور بہنوں کو جہیز دیتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ کل کو وراثت ںھی دینی ہے۔
کتنوں نے حق مہر معاف نہیں کرایا؟

اگر آپ نے ان میں سے کبھی کچھ نہیں کیا تو مبارکباد قبول فرمائیے۔۔ ان پلے کارڈز کی نوبت آنے کے پیچھے آپ کی خاموش حمایت موجود ہے۔
حشر میں آپ کے بقول جب یہ پلے کارڈز نامہ سیاہ کے طور پر پیش ہوں گے تو آپ کی خاموشی چیخ چیخ کر مجرم کا پتا دے گی۔ اور ہمارا رب تو ایسا منصف ہے کہ کھجور کی گھٹلی کے برابر ناانصافی کا روادار نہیں۔ اسے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ اس کی مخلوق کے ساتھ بد نیت ہوا جائے۔ عمل تو خیر آخری درجہ ہوتا ہے اپ کے متشدد ہونے کا۔
تو اگر آپ متشدد نہیں اوپر موجود سب باتوں کا آغاز کریں خود سے کریں۔ یہ ایک لمبا اور مشکل سفر ہے جس کے آخر میں ٹھیک سے بیٹھ جانے کو فوٹو شاپ نہیں کرنا پڑے گا۔
جس کے آخر میں چولہے نہیں پھٹا کریں گے اور جس کا انجام بخیر ہوگا۔

آئیے تحریک چلائیں اور حکومت پر سٹیٹ پر پریشر بلڈ کریں کہ اس مسئلے کا حل نکالیں۔ ڈنڈے کے زور پر نافذ کریں اس قوم اور سماج پر اخلاقیات کیوں کہ یہ سماج ازخود اخلاقیات اور اخلاقی حدود سیکھنے اور نافذ کرنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہے۔

آئیں بات کریں عورت کے حق کی بات کریں اس کے مصائب پر بولیں ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کریں۔ برابری کی بات کریں۔
تعلیم
صحت
روزگار
عزت
تخفظ
آزادی کی
حق مہر
اور وراثت کی بات کریں۔
نکاح ناموں کو میریج سرٹیفیکٹس کورس کا حصہ بنانے کی بات کریں۔ نکاح خواں ریاست مقرر کرے نکاح نامے میں امینڈمنٹس کرنے والوں کا ہاتھ ریاست روکے اس کی بات کریں۔
ریپ وکٹمز کے ساتھ حکومت کھڑی نہ ہو تو حکومتوں کے سامنے آپ کھڑے ہونے کی بات کریں۔
پیدائش سے پہلے جنس بتانے والی ڈاکٹرز کے لائسنز کینسل کرنے کی بات کریں۔
بچیوں کو سکول نہ بھیجنے والوں کو ریاست تمیز سکھائے۔
وراثت کہ تقسیم یونین کونسل لیول پر نظام بنایا جائے۔
نادرا اور پاسپورٹ آفسز میں طلاق نامے ڈسکس کرنا چھوڑیں۔
طلاق ناموں میں الزام تراشی کرنے والوں سے حکومت عدالت ثبوت مانگے۔ نہیں تو ایسے الزام تراش کو کوڑے مارے جائیں۔
کردار جج کرنے والوں کا منہ نوچ لینے کا نظام بنانے کی بات کریں۔

آئیں بات کرتے ہیں زور آور کی تشریح مذہب نہیں نہ اس کی مرضی کانام حکم ربی ہے۔
آئیں تحریک چلائیں بیٹی کی پیدائش پر افسوس کرنے والے رو سیاہوں سے بیٹیاں پالنے کا اختیار چھین لے سٹیٹ۔
جن کی رو سیاہی ان کے دل کی کجی کا پتا دیتی ہے۔ ان کے دل کی بیماریوں کے علاج تک بیٹی سب کی بیٹی ہو۔
جہیز دینے دلانے پر پابندی کہ بات کریں۔
فیصلوں کی آزادی دیں۔
آئیں بت توڑنے کہ بات کریں۔۔ ولایت کا بت توڑیں۔
ریاست ہر منبر پر بیٹھے شخص کو پابند کرے وہ لوگوں کو بتائے دل کی مرضی کے بغیر کوئی رشتہ نہیں۔ وہ بتائے زبردستی ولایت کو ساقط کردیتی ہے۔

اگر یہ سب نہیں کرسکتے تو آئیں دعا کریں۔۔۔رب ہمارے دلوں کی کجی ختم کردے۔ اور برائی کے خلاف ہمیں آخری درجہ کا ایمان نصیب فرمائے۔

رہ گئی بات پوسٹرز کی عورت مارچ کی____ تو یوں ہے کہ جس کو موزہ نہ ملنے پر گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔
جو بیمار ماں باپ کو اس لئیے نہ ملنے جاسکتی ہو کہ کسی کو کھانا گرم نہیں ملتا۔
جس کو سانس لینے کے لیے روزن نہ ملتا ہو اس بنیاد پر کہ جو قوام کہے گا وہ حرف آخر ہوگا تو پھر ایسے پوسٹرز بھی آتے رہیں گے آپ کے چولہے بھی پھٹتے رہیں گے اور آپ کی نسلیں نفرت میں پروان بھی چڑھتی رہیں گی۔

یاد رکھیں جو بیٹی ماں کو گالی کھاتے دیکھتی ہے۔ اس کے لیے دنیا کے سارے مرد متشدد ہوتے ہیں۔
اور جو بیٹا ماں کو ذلیل ہوتا ہوا دیکھتا ہے اس کے لیے پھر کوئی شخص قابل احترام نہیں رہتا۔
ایسے ہی رہنا ہے بے ڈھنگے پن سے تو آپ سب کی مرضی ہم نے تو جی جلا کر سر راہ رکھ دیا۔
سحرش عثمان
کم ترہو نہ حاوی ہو
عورت کا حق مساوی ہو۔

(Visited 534 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: