آٹو میشن ایج کی دستک اور تھری ڈی پرنٹر —— ہمایوں مجاہد تارڑ

0
  • 141
    Shares

ایک وقت تھا جب ایک چھوٹی سی ٹیلی فون کال کرنے کو بھی ہمیں آدھ گھنٹہ پیدل چل کر نزدیکی پبلک کال آفس تک جانا پڑتا۔ وہاں اپنی اپنی باری کا انتظار کیا کرتے، تب کال کرتے۔ گھر میں ٹیلی فون کی سہولت گویا ایک سٹیٹس سِمبل تھا۔ آج اپنے بچوں کو یہ بات بتائیں تو وہ ہنس پڑتے ہیں۔ ہر گھر میں تین چار موبائل فونز اور tabs ورکنگ کنڈیشن میں اِدھر اُدھر بکھرے پڑے ہیں۔ دو چار فون ذرا خراب حالت میں پڑے بھی مل جائیں گے جنہیں ٹُھڈّے پڑ رہے ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح، نئی تبدیلی کی ایک عظیم لہر کسی مون سون آب و ہوا کی مانند بس دو چار برسوں میں ہی پوری دنیا میں پھیل جانے کو ہے۔ عنقریب ہم لوگ دو روز میں ختم ہو جانے والی فون بیٹری والی بات پر کھکھلا کر ہنس دیا کریں گے کہ نینو ٹیکنالوجی والی بیٹری سالہا سال چلا کرے گی۔ بھرپور امکان ہے کہ سمندروں کا پانی میٹھا ہو جائے گا، آلودگی کا قلع قمع کر دیا جائے گا، زلزلے میں تباہ شدہ مکانات منٹوں میں اٹھ کھڑے ہوں گے، اور کینسر ایسا موذی مرض یہ ٹیکنالوجی حیاتِ انسانی سے اٹھا کر یوں باہر پھینک دے گی گویا کبھی اس کا وجود تک نہ تھا۔ آپ کے کپڑے اور حتٰی کہ جوتے انسانی آواز ریکارڈ کرنے اور اس کی فلم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ گویا رسالتمآبؐ کے وہ الفاظ اب حقیقت کا روپ دھار لینے کو ہیں کہ گھر میں رکھی استعمال کی بالکل عام سی اشیا آپ کو بتا دیا کریں گی کہ آپ کی غیر موجودگی میں یہاں کیا باتیں ہوئیں، کیا کام ہوئے۔

لمحہِ موجود میں ہمارے لئے اِس بات کا تصوّر ذرا محال ہے کہ حیاتِ انسانی کے شب و روز عنقریب آٹومیشن ایج سے انقلاب آشنا ہونے کو ہیں۔ روبوٹِکس، اینی میشن، تھری ڈی پرنٹر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لدی پھدی آٹو میشن ایج کی ہوائیں بھی ہمارے ہاں کسی اُجلی صبح اِسی طوفانی رفتار سے چلنے لگ پڑیں گی جیسے سَن 2000 سے ذرا آگے یہاں موبائل فون کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔ رابطوں کی دنیا کو facilitate کرنے کی” گلی سڑی” سروس پر مامور مغرور تاجروں کے لگے لگائے سیٹ اَپ ویران ہونے لگے۔ اوپر سے انٹرنیٹ کا بم پھٹا تو ای میل سروس اور چیٹ میسنجرز نے تباہی مچا دی۔ رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ پی سی اوز، فون بوتھ نیٹ ورک، خط و کتابت کے ذرائع، ٹیپ ریکارڈرز، ویڈیو پلیئرز، پریس اور اخبارات کے اجزائے ترکیبی سے بنی زندگی کا ٹائی ٹینک جہاز نئی ٹیکنالوجی کے آئس بَرگ سے ٹکرا گیا تھا، اوربہ سُرعت غرق ہونے لگا۔ اب ایک بار پھرہم ٹیکنالوجی کے اگلے مرحلے میں قدم رکھنے کو ہیں۔ بہت سی ایسی اشیا کی ہوا اکھڑنے کو ہے جنہیں for granted لے لیا گیا تھا۔

 

یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک نوجوان تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے اپنے مَن پسند ڈیزائن پر مبنی، خوب زرق برق، ایک عدد پیئر آف جاگنگ شُوز نکال کر پہنتا ہے، اور پھر چھلانگیں لگاتا پھرتا ہے۔ آج چند سطریں تھری ڈی پرنٹر کے موضوع پر۔
یہ بھی ایک پرنٹر ہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایک عام پرنٹر کی طرح یہ کاغذ پر پرنٹ نہیں کرتا۔ کمپیوٹر سکرین پر آپ جو کچھ ڈیزائن کریں گے اُسے تھری ڈی ماڈل بنانا کہا جائے گا۔ بس کوئی بھی شے آپ ڈیزائن کریں، یا کسی ویب سائٹ پر سے بنے بنائے ڈیزائن ڈاون لوڈ کر لیں، پرنٹر کیساتھ مطلوبہ میٹیریل جوڑیں، اور پھر وہ پورا ماڈل پوری جسامت یا وجود کیساتھ باہر لے آئیں۔ نہ کہ محض اس کی تصویر۔ اب اِس پرنٹر سے بندوق یعنی gun تک پرنٹ کر لی گئی ہے جو بالکل ٹھیک کام کرتی ہے۔ مزید، عمارت بنانے کا سامان، ہتھیار، زیور اور برتن تیار کیے جاچکے ہیں۔ میڈیکل فیلڈ میں اوزار بنانے، حتی کہ مصنوعی اعضا کی تیاری کا کام بھی شروع ہو چکا ہے

سنا ہے دبئی میں الیکٹرونکس کی نمائش کے دوران بھی تھری ڈی پرنٹر عام لوگوں کے لئے رکھے گئے تھے۔ قیمت ابھی زیادہ ہے، اس لئے کم کم ہی خریدا گیا۔ تاہم، اِس کی ہوا اب چلنے کو ہے۔ تا حال یہ پرنٹر اڑھائی لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کا ہے۔ مستقبل قریب میں اس کی قیمت کم ہو جائے گی۔ جب ہر کوئی با آسانی خرید سکے گا تو لوگ کوئی چیز خریدنے مارکیٹ جانے کی بجائے گھر پر ہی بنا لیا کریں گے۔ جیسے کچن اور واش روم کا سامان۔ سٹیشنری، بیگز، جوتے، ڈرائنگ روم کا سامان وغیرہ۔ البتہ ایسی ویب سائٹس اور کمپنیز اب خاصی تعداد میں موجود ہیں جو آپ کی مطلوبہ شے آپ کے من پسند ڈیزائن پر تیار کر کے دے رہی ہیں۔ اگر آپ گوگل کریں تو پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ سہولت بہ آسانی دستیاب ہے۔

تِھنک، ڈیزائن، اینڈ پرِنٹ کے سلوگن کیساتھ یہ مشین اب معجزے دکھا رہی ہے۔ انٹر نیٹ سے تھری ڈی ماڈل ڈاؤن لوڈ کر کے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے پرنٹ نکال لینا کچھ عرصہ میں ‘معجزہ’ نہیں رہے گی بلکہ ایک عام سی بات یعنی روٹین بن جائے گی۔ پرنٹر کیساتھ آپ نے پلاسٹک اور ایلومینم ایسے میٹیریئل سے بنی تاروں والی چرخیاں اٹیچ کرنا ہوں گی۔ یہ تاریں پرنٹر اپنی جانب کھینچ کھینچ ٹائپ رائٹر ایسی ٹک ٹک آواز کیساتھ کام کرنا شروع کر دیتا ہے، اور پھر مطلوبہ ماڈل رفتہ رفتہ باہر نکال دیتا ہے۔ حتٰی کہ وہ ماڈل مکمل ہو کر آپ کے ہاتھ آجاتا ہے ــــ جیسے: ایک پرس، ہاتھ میں پہننے والے کڑے، عینک، چائے والی ٹرے، کپ، گلاس، برتنوں والا سٹینڈ، بچوں کے کھلونے، گٹار وغیرہ۔

پچھلے برس ایک چونکا دینے والی خبر نظر سے گذری تھی۔ نیچے کاپی پیسٹ کر رہا ہوں۔
“واشنگٹن کے شہر سیاٹل کی مقامی عدالت نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے آتشیں اسلحہ ڈاؤن لوڈ کرنے والے سافٹ ویئر کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم واشنگٹن ڈی سی سمیت 8 بڑی ریاستوں کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سنایا گیا۔ امریکی عدالت نے سافٹ ویئر پر عارضی پابندی عائد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس طریقے سے اسلحے تک شرپسند افراد کی رسائی آسان ہوجائے گی اور آتشیں اسلحہ کے بلیو پرنٹ غلط ہاتھوں میں جانے کا احتمال بھی رہے گا۔ یعنی کوئی بھی تھری ڈی پرنٹر سے اسلحہ بنانے کا طریقہ با آسانی ڈاؤن لوڈ کرکے اس سے آتشیں ہتھیار بناسکتا ہے۔ “

(Visited 205 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: