آئن سٹائن، خُدا اور وحدت الوجود: دلچسپ مُماثلات‎ —– گُل ساج

0
  • 29
    Shares

عظیم سائنسدان اور عبقری
“آئن سٹائن” جس نے اپنی ذہانت و فطانت سے ایک عالم کو متاثر کیا.
کہا جاتا ہے کہ آئن سٹائن جیسا عالی دماغ آجتک پیدا نہیں ہوا.
آئن سٹائن کے بارے میں عموماََ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ خدا پہ یقین نہیں رکھتے تھا یعنی دہریہ تھا مگر یہ تاثر درست نہیں۔

انسان کی شخصیت و نفسیات بُوالعجب ہے، تغیر پذیر و مُتبدل ہے زندگی بھرخیالات و افکار میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے.

“ثبات فقط تغیر کو ہے زمانے میں”

اسی طرح آئن سٹائن بھی زندگی کے مختلف مراحل میں سوچ و نظریات میں تبدیلی کا شکار ضرور ہوا ہوگا۔
عمر کے کسی حصے میں ممکن ہے آئن سٹائن بھی خُدا کے وجود کا قائل ہو گیا ہو۔
آئن سٹائن کے مختلف اقوال سے انکا خدا پہ ایمان رکھنے کا اشارہ ملتا ہے

“ہم نے تلخ تجربات کے بعد یہ سیکھا ہے کہ معاشرتی زندگی کی گتھیاں تنہا عقل کی رو سے نہیں سلجھ سکتیں۔ ۔ ۔ ۔ اس لیے ہمیں تنہا عقل کو اپنا خدا نہیں بنا لینا چاہیے”

“میرا اس پر کامل یقین ہے کہ خدا کائنات کا نظام چلانے کے لیے پانسہ نہیں پھینکتا”

“صرف دو چیزیں ایسی ہیں جن کی وسعت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، ان میں سے پہلی چیز کائنات ہے اور دوسری انسان کی حماقت ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ میں کائنات کے لامحدود ہونے کا دعویٰ یقین کے ساتھ نہیں کرسکتا”
” حقیقت محض ایک سراب ہے۔

آئن سٹائن کا ایک خط جو جرمن فلسفی ایرٹ گِٹ کائنڈ کے نام لکھا تھا منظرِ عام پر آیا
اس خط میں آئن سٹائن خدا کے وجود کا اقرار ان الفاظ میں کرتا ہے

“میں دہریہ نہیں ہوں”
“ہمیں جس مسئلے کا سامناہے وہ ہمارے محدود اذہان، مُقید فِکر کے مقابل انتہائی وسیع و عظیم ہے، ہماری مثال اس کم عمر بچے کی سی ہے جو مختلف زبانوں کی کتابوں سے بھری ہوئی وسیع و عریض لائبریری میں داخل ہوتا ہے، اسے اتنا شعور تو ہے کہ کسی نے ضرور یہ کتابیں لکھی ہوں گی لیکن اسکا ذہن اس گتھی میں الجھ جاتا ہے کہ یہ کیسے لکھی گئی ہونگی۔
وہ تحیر خیز بچہ ان زُبانوں سے ان تحریروں سے نابلد ہے جن میں یہ کتابیں لکھی گئی ہیں وہ ان کتابوں میں ایک پُراسرار ترتیب دیکھتا ہے لیکن اسے پتہ نہیں وہ ترتیب کیسے ظُہور پذیر ہوئی”

پس کائنات کی مثال ایسے ہی ہے جو انہونی ناسمجھ میں آنے والے طریقے سے ترتیب دی گئی ہے یہ ترتین و تشکیل بعض قوانین کے تابع ہے، لیکن وہ بچہ ان قوانین کو نہایت غیر محسوس اور معمولی انداز میں سمجھتا ہے”

ساتھ ساتھ آئن سٹائن کا یہ بھی کہنا تھا کہ

“میں جبریت کا قائل ہوں، میں انسان کی خودمختاری پر یقین نہیں رکھتا یہودیوں کے عقائد کے مطابق انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے، میں اس نظریے کو مُسترد کرتا ہوں میں اس لحاظ سے یہودی نہیں ہوں”

آئن سٹائن کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ

“میں سپینوزا کے خدا پر یقین رکھتا ہوں جو اپنے آپ کو تمام اشیا میں ظاہر کرتا ہے جو وجود رکھتی ہیں، لیکن اس خدا پر یقین نہیں رکھتا جو انسان کی تقدیر اور اعمال کے بارے میں فکرمند رہتا ہے”

(سپینوزا مشہور ولندیزی فلسفی تھا، جو خدا کے شخصی ومادی وجود پہ یقین نہیں رکھتا تھا مگر خدا کا قائل تھا)
یعنی آئن سٹائن خدا کے وجود کا یکسر منکر نہیں تھا وہ خدا کو مختلف تناظر میں کچھ شرائط کے ساتھ مانتا تھا۔
آئن سٹائن کے اس قول سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس خدا کاقائل تھا جسکا تصور اسلامی صوفیاء نے نظریہ وحدت الوجود یا “ہمہ اوست” کے ذریعے پیش کیا۔
اس نظرئیے کے سرخیل مشہور صوفی محی الدین ابن عربی ہیں۔
جنہیں تصوف کا امام اور “شیخ الاکبر کا، نام دیاگیا۔

“وہی شعلۂ سرِ طور ہے، وہی برقِ حسنِ نگار ہے
وہی ایک جلوۂ یار ہے، وہی نور ہے وہی نار ہے
وہی جلوہ ریز حرم میں ہے، وہی نور بیت الصنم میں ہے
وہی تم میں ہے، وہی ہم میں ہے، وہی سب کا دار و مدار ہے
وہی رندِ جام بدست ہے، وہی مستِ روزِ الست ہے
وہی کیفِ بادۂ ہست ہے، وہی اس نشے کا خمار ہے
وہی ضو فروزِ حیات ہے، وہی عکس ریزِ صفات ہے
وہی نورِ جلوۂ ذات ہے، وہی ایک بر سرِ کار ہے
وہی جلوہ ہے، وہی جلوہ گر، وہی خود نما، وہی خود نِگر
وہی حسنِ ناز فروش ہے، وہی رخ پر اپنے نثار ہے
وہی حسن ہے، وہی عشق ہے، وہی ہے صفا، وہی صدق ہے
وہی تاب بخشِ جمالِ گل، وہی روحِ صورتِ ہزار ہے
وہی ہے فنا، وہی ہے بقا، وہی ابتدا، وہی انتہا
وہی جزو میں ہے، وہی کل میں ہے، وہی اصل و آخرِ کار ہے
وہی مہر ہے، وہی ماہ ہے، وہی برقِ چشمِ سیاہ ہے
وہی تابِ شعلہ، آہ ہے، وہی حسنِ روئے شرار ہے”

ایسا نہیں کہ نظریہ وحدت الوجود مطلق شیخ ابنِ عربی کی تخلیق و دریافت ہے اس سے پہلے کئی فلاسفہ مختلف انداز میں یہ نظریہ پیش کر چکے تھے ہاں ابنِ عربی نے اس نظرئیے کو ایک عقیدے میں بدل دیا۔
پہلے پہل وحدت الوجود سے مُماثل خیال یونانی مفکر افلاطون نے پیش کیا۔
افلاطون “دنیا کو حقیقت نہیں سمجھتا بلکہ حقیقت کا عکس تصور کرتا ہے”

افلاطون کے خیال میں

“حقیقت فقط افکار و خیالات کا نام ہے اسکا کوئی مادی وجود میسر نہیں مگر یہی افکار تمام مادی اظہار و مشاہدات کی تخلیق کا موجب ہیں یعنی کوئی بھی مادی شے کسی غیر مادی شے کے بغیر صورت گر نہیں ہوسکتی پہلے خیال جنم لیتا ہے پھر اس خیال سے کوئی مادی شے وجود پذیر ہوتی ہے”

افلاطون کی نظر میں

“مادہ افکار و خیال کی تخلیق ہے اسلئیے مادے کا محدود عارضی اور عبوری ہے جبکہ افکار و خیالات دائمی اور مستقل یہ غیر فانی ہیں، یہ زمان و مکان سے ماورا ہیں جبکہ یہ دنیا عارضی ہے جو زمان و مکان کی محتاج ہے”

اسی نظریہ افلاطون سے نو افلاطونی فلسفے نے جنم لیا۔
نو افلاطونی نظرئیے کے مطابق ہستی جب وجود میں آئی تو “اِکائی” تھی اس ایک سے دوسری کئی ہستیوں نے جنم لیا۔

تمام دنیا اسی اِکائی سے وجود میں آئی اور اسی اِکائی کی طرف پلٹ جائے گی یعنی یہ اکائی مستقل دائمی غیر فانی ہے باقی سب کچھ فنا ہونے والا اور اس اکائی کا عکس ہے اور یہ اکائی خدا ہے جو باقی ہے قائم ہے دائم ہے جسے زوال نہیں جسے فنا نہیں جسے موت نہیں اس کائنات میں خدا کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ خدا کا عکس ہے خدا کا مظہرہے۔ اس عقیدے اس فلسفے یا اس نظرئیے کو “وحدت الوجود” یا “ہمہ اوست” کہا جاتا ہے۔

چونکہ خدا نے کسی شے سے جنم نہیں لیا بلکہ سب اشیاء خدا کی ذات سے پیدا ہوئیں یعنی “ہمہ از اوست” ہیں۔ ۔
مطلب یہ کہ خدا “ہمہ اوست” (سب کچھ وہی ہے) اور “ہمہ از اوست” (سبھی کچھ اسی سے ہے) خدا اور کائنات دونوں ایک ہیں لازم و ملزوم ہیں۔

خدا کی تشریح و وضاحت ناممکن ہے زندگی روح وحدت موجودات تشنہ تشریحات ہیں خدا ان تمام اوصاف سے ماورا احاطہ خیال سے باہر ہے”

اسی نو افلاطونی نظریات سے شیخ محی الدین عربی اور انکے پیشرووں نے “وحدت الوجود ” کا، فلسفہ اخذ کیا۔

آئن سٹائن کے اقوال اور ایرٹ گِٹ کائنڈ کے نام لکھے خط کے مندرجات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی درجے میں خدا کے وجود کے قائل تھا اور اسکا نظریہ خدا صوفیاء کے نظریہ وحدت الوجود سے مشابہ ہے۔

(Visited 166 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: