ساجد صاحب اور مَیں ——– رشید بٹ

0
  • 119
    Shares

(تخاطب کا یہ عنوان مَیں نے پطرس بخاری کے مضمون ’’میبل اور مَیں‘‘ سے سرقہ کیا ہے)

زندگی کا ایک بڑا حصہ اخبار نویسی اور قلم مزدوری کرنے کے بعد اب یہ حال ہوچکا ہے کہ اخبار کی سرخیاں دیکھ کر طبیعت اُوبنے لگتی ہے۔ لہٰذا کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس راہ سے ہو کر ہی نہ گزراجائے۔ لیکن کیا کہا جائے اِس کیفیت کو جواب فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ چند روز بیتے، تو صیف احمد خاں نے بتایا کہ ذکریا ساجد صاحب کو حکومتِ وقت نے تمغۂ امتیاز کا اعزاز بخشا ہے۔ مَیں نے پوچھا کب ؟ تو کہنے لگا، 14اگست کو اعلان ہوا تھا۔ مَیں نے اخبار کھنگالے تو بات ٹھیک نکلی۔ اب اپنے آپ پہ غصہ آنے لگا۔ یہ ساجد صاحب کو کیا ہوا؟ ہم سے پوچھا تک نہیں۔ مشورہ تک نہ لیا اور بالاہی بالا تمغۂ امتیاز لے بیٹھے! انہیں بھلا اس کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟ اس تمغۂ امتیاز یا ستارۂ امتیاز کے بغیر بھی اُن کا علمی قد اتنا بڑا ہے کہ خود تمغۂ امتیاز یا ستارۂ امتیاز کو شرماجانا چاہئے تھا! ساجد صاحب کے تو اپنے علمی امتیاز کے نہ جانے کتنے ستارے دنیا کے گوشے گوشے میں اُن کی اُسی علمی جوت کو جگارہے ہیں۔ کچھ اُن گوشوں میں جاکے، برسوں وہاں رہ کے، لوٹ کے آچکے ہیں اور بہت سے اُدھر ہی رچ بس گئے ہیں۔ وقتاً فوقتاً شب تاب کی مانند روشنی بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کی ایک شاگرد طاہرہ، جو یونیورسٹی کے زمانے میں طاہرہ جلیل اور شادی کے بعد طاہرہ حسین ہوگئیں۔ برسوں سے نیویارک میں جابسی ہیں۔ انہوں نے بی اے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ سر سیّد کا جادو، جانے کیسے اور کیوںکر سر چڑھ کر بولا کہ ایک بار جو علیگ ہوگیا، وہ مرتے دم تک علیگ ہی رہتا ہے۔ طاہرہ وہاں سترہ برس سے علی گڑھ کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔ فنافی الانجمن سابق طلبائے علی گڑھ ہیں۔ ہر سال دھوم دھڑّکے سے سر سیّد ڈے مناتی بلکہ منواتی ہیں۔ عالمی مشاعرہ بپا کرتی ہیں۔ ایک خاصا وزنی بلکہ پنج سیری جریدہ چھاپتی ہیں۔ مارا ماری اور ایڈیٹنگ کا کام ہر سال یہاں میرے سر تھوپ دیتی ہیں اور چھاپتی وہاں ہیں۔ اس بار 20ستمبر کو وہاں سر سیّد ڈے منایا جارہا ہے۔ پاکستان سے بھی شعبۂ صحافت، جامعۂ کراچی کے ایک بہت ہی سابق طالب علم نصیر ترابی، بطور شاعر اس تقریب میں شرکت کے لیے شاید روانہ ہوچکے ہیں اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے نصیر ترابی بھی ساجد صاحب کی شاگردی میں رہ چکے ہیں۔ کل طاہرہ سے بات ہورہی تھی۔ مَیں نے بتایا کہ ساجد صاحب کو تمغۂ امتیاز ملا ہے تو کہنے لگی۔ مجھے ان کا فون نمبر دو۔ مَیں انہیں فون کرکے مبارک باد دوں گی۔ ویسے تم انہیں میری طرف سے بہت بہت مبارک دے دینا۔ ساجد صاحب آپ نے اپنے چاہنے والے کہاں کہاں بٹھا رکھے ہیں؟ آپ کے اصل تمغے اور ستارے تو یہ لوگ ہیں! اس پہ یاد آیا کہ کراچی میں بھی جامعۂ کراچی کے سابق طلبا کی ایک تنظیم ہے۔ لیکن وہ جانے کہاں سورہی ہے؟

معذرت چاہتا ہوں، مَیں شاید سٹھیا گیا ہوں، بلکہ سٹھیائے ہوئے بھی دس برس بیت چکے ہیں۔ یہ مَیں ہوں یا مشتاق احمد یوسفی صاحب کے سیف الملوک خان کہ آتے ہی، دوست کا حال احوال پوچھنے یا مسئلہ جاننے کے بجائے چڑھائی کردی۔ مَیں یہاں آتے ہوئے سو چ رہا تھا کہ ذکر یا ساجد صاحب سے تحصیلِ علم اور پھر دوستی کے رشتے کب وجود میں آئے؟ ماہ و سال شماری کرتے کرتے 1966ء تک جا پہنچا، جب میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی۔ یہ انچاس برس بنتے ہیں۔ سوچ کا دھارا اور آگے بڑھا تو خیال آیا کہ ذکریا ساجد صاحب اوّل تو کسی تمغے یا ستارے کے محتاج نہ تھے۔ ملک بھر میں اور جیسے کہ مَیں پہلے کہہ چکا ہوں بیرونِ ملک بھی وہ اَن گنت تمغے یا ستارے بکھر ے پڑے ہیں جو وہ اپنے علم و دانش کی چاشنی دے کر، جھولیاں بھر بھر کے اُچھالتے رہے اور اچھال کر رہے ہیں۔ پھر بھی اگر یہ تمغہ یا ستارہ انہیں اگلے برس ملتا تو ہماری محبتوں کی نصف صدی پوری ہوجاتی۔ مجھے ذکریا ساجد صاحب کی زنبیلِ علم سے باضابطہ اور باقاعدہ خوشہ چینی کی سعادت کم ہی حاصل ہوئی۔ وجہ کچھ یہ کہ 1966ء میں جب کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں داخلہ لیا تو مَیں ایک طرف تو روزنامہ جنگ کے سٹی پیج کا انچارج تھا، دوسری جانب، کراچی میں چینی قونصلیٹ کے توسط سے حکومتِ چین کے لیے اردو ترجمے کا کام کررہا تھا۔ چین میں ثقافتی انقلاب شدت پکڑ رہا تھا اور مجھے یہاں چیئر مین مائوزے تونگ کی تحریروں کا اردو ترجمہ کرنے کو کہا گیا تھا۔ چینی قونصلیٹ، پاکستان میں حکومتی سطح پر ’’دوست‘‘ ہونے کے باوجود، ایک کمیونسٹ ملک کا قونصلیٹ تھا۔ کاشف سینٹر کے پیچھے آباد چینی قونصلیٹ کے گیٹ پر تنے خیمے میں بیٹھے ’’لوگ‘‘ میری آرجار پر پہلے کچھ مشکوک ہوئے اور پھر اپنے ’’کام‘‘ میں مگن ہوگئے۔ چینی قونصلیٹ سے صدر، ریگل چوک میں اس وقت کے اسٹینڈرڈ بک اسٹال تک ایک سایہ میرا ’’ہم سایہ‘‘ ہوگیا۔ یہ بک اسٹال اس زمانے میں چینی، روسی اور پاکستانی ترقی پسند لٹریچر بیچنے میں خاصا ’’بدنام‘‘ تھا۔ حبیب جالبؔ کی کتاب ’’سرِ مقتل‘‘ پر حکومت نے ان ہی دنوں پابندی لگائی تھی اور وہ کتاب بھورے کاغذ کے لفافوں میں، گلاب جامنوں کی طرح، خفیہ طور پر دھڑا دھڑ بک رہی تھی۔ مَیں نے بھی وہیں سے خریدی تھی۔ مَیں اکثر اس اسٹال پر ٹھیکی لیتا، پھر 8-A کی بس میں سوار ہو کر اپنے گھر پی آئی بی کالونی چلا جاتا اور میرا ’’ہم سایہ‘‘ اپنی راہ لیتا۔ مَیں نے اس ہمسائیگی کو کچھ سنجیدگی سے نہ لیا، تاآنکہ مجھے پریویس کے امتحان ہی سے اٹھا نہ دیا گیا اور پھر دو سال کے لیے یونیورسٹی بدر نہ کردیا گیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ چینیوں کے لیے اردو ترجمہ کرکے مَیں ایک بڑے ’’جُرم‘‘ کا مرتکب ہورہا تھا!

یہاں مجھے اپنے وہ اساتذہ بھی یاد آرہے ہیں جو ذکریا ساجد صاحب کے ساتھی تھے اور شاگردوں پر اپنا علم لٹارہے تھے۔ محترم شریف المجاہد صاحب، مولانا سیّد حسن ریاض صاحب، انعام الرحمن صاحب، سعید احمد صاحب، حسِین احمد صاحب۔ کیا کیا نام گنوائوں؟ تحریکِ پاکستان، مولانا حسن ریاض صاحب کا خاص موضوع تھا۔ انہوں نے مجھے اسی موضوع پر تحقیقی مضمون لکھنے کو کہا۔ مَیں نے ایک طویل مضمون لکھ مارا۔ اب اسے اردو میں ٹائپ کرنے کے لیے اردو ٹائپ رائٹر کی ضرورت تھی۔ 1966ء کا زمانہ، اِسی پریس کلب میں ہمیں بڑے بڑے نامی گرامی صحافیوں کی جو تیاں سیدھی کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوتی تھی۔ انوّبھائی کی مخصوص میز پر دُّبِ اکبر کے ستارے اکٹھے ہوتے تھے۔ اُن میں جگت چچا عباسی بھی ہوتے۔ مَیں نے ان کے ہفت روزہ انگریزی اخبار The Commentمیں کام بھی کیا۔ انہیں پتا چلا تو کہنے لگے، پریشان کیوں ہوتے ہو۔ میرے پاس اردو ٹائپ رائٹر رکھا ہے۔ لے جائو۔ مَیں لے آیا۔ کام پورا ہوگیا لیکن اپنے ازلی اور ابدی تساہل کے سبب واپس نہ پہنچاپایا۔ آج سوچتا ہوں کہ ہمارے وہ بزرگ بھی کتنے رکھ رکھائو والے اور سراپا تہذیب تھے کہ ایک دوبار ٹائپ رائٹر کی واپسی کا پوچھا۔ مَیں نے مصروفیت کی جھکائی دے دی۔ ایک بار رات گئے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ چچا عباسی رکشا لے کر آئے تھے۔ بس ٹائپ رائٹر اٹھایا، رکشا میں رکھا اور چلتے چلتے کہہ گئے کہ رشید بٹ آئے تو اسے بتادیں کہ مَیں ٹائپ رائٹر لے گیا ہوں۔ یہ وہی چچا عباسی تھے جن کی بیٹی میجر عباسی شہید سے بیاہی گئیں، میجر عباسی پاکستان کی آبرو پر قربان ہوگئے اور چچا عباسی بیٹی کی بیوگی کا بھاری بوجھ سہا رگئے۔ آج 49 برس بیتنے کے بعد بھی تحریکِ پاکستان کے بارے میں سیّد حسن ریاض کی زیر نگرانی لکھی ہوئی اس رپورٹ کی نقل میرے پاس محفوظ ہے۔ پاکستان بھر میں پھندنے والی ترکی ٹوپی پہننے والے جو آخری دوچار بزرگ رہ گئے تھے، چچا عباسی اُن میں سے ایک تھے۔ اب تو یہ ٹوپی شاید عجائب گھر میں بھی نہ ملے گی۔

ہاں ایک بات اور بتاتا چلوں۔ ہمارے زمانے میں شعبۂ صحافت میں بیشتر لڑکیاں لڑکے وہ ہوتے تھے جو کسی نہ کسی اخبار، نیوز ایجنسی یا ریڈیو میں باقاعدہ ملازمت کرتے تھے۔ عملی صحافت سیکھتے تھے۔ یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں انہیں تھیوری پڑھائی جاتی تھی۔ یوں بیک وقت تھیوری اور عملی صحافت ان کے علم کو دوآتشہ بنادیتی تھی۔ ان میں نجم الحسن رضوی جیسے صحافی اور معروف افسانہ نگار ہوئے۔ نو شابہ صدیقی نے صحافت سے منہ موڑ کر تدریس کو اپنا یا تو علامہ اقبال کالج کی پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔مَیں نے ثقافتی انقلاب جیسے آڑے وقت اور دور میں چینیوں کے ساتھ کام کیا تو لگ بھگ 16برس تک ان ہی کا ہورہا۔ چیئر مین مائوزے تونگ کی منتخب تحریروں کے ترجمے سمیت چینی ادب اور بچوں کے لیے کہانیوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ 1978ء میں جب ثقافتی انقلاب کے شکنجے ڈھیلے پڑنے شروع ہوئے تو حکومتِ چین نے مجھے چین میں اپنے طویل قیام کے تجربات قلمبند کرنے کو کہا۔ مَیں نے جواب دیا۔ مَیں نہیں لکھوں گا اس لیے کہ آپ لوگ سنسر کردیں گے۔ جواب آیا کہ نہیں کریں گے۔ جو جی میں آئے لکھو۔ مَیں نے ایک طویل رپورتاژ لکھ دیا جس میں یہ تذکرہ بھی تھا کہ ثقافتی انقلاب کے زمانے میں غیر ملکی ہونے کے باوجود مَیں بھی ایک مخصوص گروپ کے ہاتھوں معتوب رہا۔ حکومتِ چین نے یہ طویل تحریر کتابی صورت میں سرکاری طور پر شائع کی جو بعد ازاں چین کے ثقافتی انقلاب کے بارے میں فرسٹ ہینڈ انفارمیشن رپورٹ ثابت ہوئی۔ اور گزشتہ لگ بھگ 35برس سے یورپ اور امریکا میں چین پر شائع ہونے والی تحقیقی کتابوں، جریدوں، مذاکروں میں حوالہ جاتی مواد کے طور پر استعمال کی جارہی ہے۔ تازہ ترین کتاب سڈنی یونیورسٹی کی پروفیسر بونی میکڈو گل نے لکھی اور کیمبر یا پریس، نیویارک نے 2011ء میں شائع کی۔ بریل یونیورسٹی، ہالینڈ نے ایک تحقیقی کتاب شائع کی جس میں 1840ء سے2000ء تک کے 160برس کے عرصے میں چین آنے اور وہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ اور اس کتاب میں لگ بھگ پورے جنوبی ایشیا سے صرف میرا تذکرہ کیا گیا ہے۔ 2005ء میں کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی نے چین کے بارے میں ایک بین الاقوامی سمپوزیم کا اہتمام کیا، اس میں بھی میری تحریر کی گونج سنائی دیتی رہی۔ مجھے یہ احساس ہے کہ اپنے وطن میں مجھے کوئی نہیں جانتا، مَیں گوشہ نشین ہوں لیکن بیرونی دنیا میں میرا نام ہے۔ میرے یہ اعزازات ساجد صاحب کی شاگردی کی نذر ہیںکہ یہ اُن ہی کی روشنی ٔ طبع تھی جو مجھ پر بلا ہوئی۔

ہاں، ایک بات اور۔ چین کی صدیوں پر پھیلی تہذیب اور ثقافت میں بڑی گہرائی اور گیرائی پائی جاتی ہے۔ کوئی ثقافتی تقریب ہو، خوشی کا تہوار ہو۔ گائوں، دیہات کا میلہ ہو، خوشی صرف خوشی نہیں ہوتی۔ دوہری خوشی ہوتی ہے۔ چینی زبان میں ایک لفظ ہے ’’سوانگ شی‘‘۔ چینی قندیلیں بھی اس لفظ کے بغیر نامکمل ہوتی ہیں۔ ساجد صاحب کی شاگردی کے حوالے سے میں بھی ’’سوانگ شی‘‘ یا دوہری خوشی کا اظہار کرسکتا ہوں۔ میں ساجد صاحب کا شاگرد رہا اور اس کے چند برس بعد میری بیوی حمیرا اطہر جو شاید مجھ سے زیادہ معروف صحافی ہے، ساجد صاحب کی ہی شاگردی میں آئی۔ یوں صرف ہمارے کنبے ہی میں ان کے دو شاگرد ہیں۔

ساجد صاحب کے بارے میں بسا اوقات یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ اُن کے گرد ایک مخصوص سوچ کے افراد کا گھیرا ہے اور خود ان کا رجحان بھی اسی سوچ کی جانب ہے۔ لیکن مَیں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ساجدصاحب بحیثیت استاد، ان ساری باتوں سے ماوراء ہیں۔ وہ بادل کا ایسا مہر بداماں ٹکڑا ہیں جو یہ دیکھے بغیر برستا ہے کہ نیچے کیسی زمین ہے؟ باغ ہیں یا بیابان! کشادہ دلی اور کشادہ ذہنی کی چلتی پھرتی مثال ہیں۔ سنگلاخ چٹانیں ہوں یا ہری بھری شاداب وادیاں، ان کی چھائوں سب پر ایک سی پڑتی ہے۔ ساجد صاحب کا دل بھی کیا ہے۔ پنجابی میں کہا جائے تو ان پہ یہ بات صادق آتی ہے کہ ’’دل دریا سمندروں ڈونگے، تے کون دلاں دیاں جانے۔‘‘ غالباً 1974ء کا زمانہ تھا۔ بھرپور سردی۔ مَیں پاکستان آیا ہوا تھا۔ پریس کلب سے نکلتے نکلتے نوائے وقت میں سرور کو فون کردیا کہ مَیں گھر جاتے ہوئے کچھ دیر تمہارے پاس رکوں گا۔ سرور اب برسوں سے لندن میں آباد ہے۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ مَیں نوائے وقت کے نیوز روم میں اس کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک صاحب کنٹوپ پہنے اندر داخل ہوئے۔ ہم سمجھ گئے کہ ساجد صاحب آئے ہیں۔ احتراماً اٹھ کھڑے ہوئے۔ سرور کو اور کچھ نہ سوجھا تو انہیں بتانے لگا، سر یہ رشید بٹ ہیں۔ ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ ساجد صاحب پھٹ پڑے، ’’اب تم مجھ سے رشید بٹ کا تعارف کرائو گے؟ یہ تو میرا تم سے بھی پرانا شاگرد ہے۔‘‘ پھر پلٹ کے کہنے لگے۔ تب تو تمہیں نکال دیا گیا تھا۔ اب داخلہ کیوں نہیں لے لیتے؟ مَیں نے جواب دیا۔ ’’سر، وقت بیت گیا۔ اب ’’واں کے نکالے ہوئے‘‘ میں زیادہ لطف ملتا ہے۔

ساجد صاحب کا ایک تکیۂ کلام بھی ہے جو اکثر ان کے بعض شاگردوں پر گراں گزرتا ہے۔ شاگرد بھی وہ جو نئے نئے ان کی شاگردی میں آتے ہیں اور ان کے دل میں موجزن محبتوں کے سو توںکی راہ سے ہو کر نہیں گزرے ہوتے۔ اور پھر جب وہ اُن راہوں سے آشنا ہوتے ہیں تو ساجد صاحب کا تکیۂ کلام، تکیۂ کلام نہیں رہتا۔ اپنائیت کا اظہار بن جاتا ہے۔ اُن کا تکیۂ کلام ہے_حرام خور!

توصیف احمد خاں نے سا جد صاحب کے اعزاز میں یہ تقریب سجا کر بہت سے دل جیت لیے ہیں۔ ساجد صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے شاگردوں پر اپنا علم مسلط نہیں کیا بلکہ اس کی سرایت دھیرے دھیرے یوں ہوتی ہے کہ وہ علم شاگرد کے جسم و جاں کا جزو بن جاتا ہے۔ ان کی مرنجا مرنج طبیعت اور اندازِ تدریس آج بھی ویسے ہی جوان ہے جیسے انچاس برس پہلے تھی۔ وہ عمر کے اس حصے میں بھی ذہنی طور پر، مزاج کے اعتبار سے جوان بلکہ جواں سال ہیں۔ اللہ انہیں اسی طرح جوان رکھے۔ ان کی فکر جوان رہے۔ وہ اپنے علم کے دیئے سے نئے نئے دیئے روشن کرتے رہیں۔پھر بھی چلتے چلتے یہ کہوں گا کہ یونیورسٹی سے دوسال کے لیے نکالا گیا تھا، انچاس برس بیت گئے، وہ دو سال پورے نہیں ہوئے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: