علمی ادارے بوجھ نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اورنگزیب نیازی

0
  • 400
    Shares

انگریز نو آباد کار زبان کی طاقت سے آگاہ تھا۔ چناں چہ اس نے ہندوستان پر اپنے تسلط اور اقتدار کی طوالت کے لیے جس قدر کلامیے تشکیل دیے ان میں زبان سر فہرست رہی۔ اپنے طویل المدت ثقافتی منصوبے کی تکمیل کے لیے اس نے ہندوستان کی کلاسیکی اور ورنیکلر زبانوں پر خصوصی توجہ دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہندوستانی سماج کی حرکیات کو سمجھنے اور اس کی روح تک رسائی کا اصل راستہ یہاں کی زبانیں ہیں۔ ۱۸۰۰ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد نووارد انگریز افسران کو مشرقی علوم اور زبانوں سے روشناس کرانا تھا تا کہ وہ نو آبادیاتی منصوبے کی تکمیل کے اپنے فرائض بہ احسن سر انجام دے سکیں۔

فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی زبانوں کا الگ شعبہ قائم ہوا اور منشیوں کا تقرر کیا گیا جن کا کام کلاسیکی مشرقی علوم اور متون کو آسان اردو اور ہندی زبانوں میں منتقل کرنا تھا۔ مترجمین کے لیے یہ واضح ہدایت تھی کہ جن متون کا ترجمہ اردو میں کیا جائے ان میں سنسکرت کا کوئی لفظ شامل نہ ہو اور جن متون کو ہندی میں منتقل کیا جائے ان میں عربی و فارسی کے الفاظ نہ آئیں۔ اس تقسیم کا ایک ہی مقصد تھا یعنی Divide and Rule۔

 قومی اداروں کے خاتمے کی یہ تجویز ’’سادگی‘‘کے نام پر پیش کی گئی ہے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر بجٹ رکھنے والے اداروں کو تو ختم کیا جا رہا ہے اور  ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں یک مشت دو سو فی صد اضافے کا بل منظور کیا جا رہا ہے۔

زبانوں کی یہ تقسیم انگریزی تسلط کو قائم رکھنے میں کس حد تک معاون ہوئی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ زبان کی اس طاقت کا احساس مسلمان زعماء کو ہوا تو انھوں نے بھی قوم کی ترقی و اصلاح کے لیے اردو کا سہارا لیا۔ سر سید احمد خان نے ۱۸۶۴ء میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور اس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے لکھا:

’’اس زمانے میں میرے خیالات یہ تھے کہ ہندوستان میں علم کے پھیلانے اور ترقی دینے کے لیے ایک مجلس مقرر کرنی چاہیے۔ جو اپنے قدیم مضمون کی عمدہ کتابیں اور انگریزی کی مفید کتابیں ہیں، اردو میں ترجمہ کر کے چھاپے، بذریعہ ترجموں کے جو اردو زبان میں ہوں اپنی قوم کو اعلیٰ درجہ کے یورپین علوم و فنون سے بہرہ یاب کر سکتی ہوں۔‘‘

سر سید احمد خان کی سائنٹفک سوسائٹی کے علاوہ دار الترجمہ، جامعہ عثمانیہ کی خدمات بھی ایک الگ باب کی متقاضی ہیں۔

نو آباد کار نے ہماری مقامی شناخت کو مسخ کرنے کے لیے زبان کو بہ طور استعمال کیا چنان چہ ضروری تھا کہ مقامی اور قومی شناخت کو اُبھارنے کے لیے بھی زبان کا سہارا لیا جاتا۔ انگریزی استعمار سے آزادی کے بعد پاکستان میں الگ تہذیبی شناخت کا سوال اُٹھا جس کی گونج بڑی دیر تک اور دور تک سنائی دیتی رہی۔ دوسری طرف اردو زبان وادب کی تحقیق، ترویج، ترقی اور فروغ کے لیے کئی ادارے سرگرم ہوئے۔ بھلے وہ اپنی کوشش میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ قومی شناخت اور قومی وحدت کی علامت کے طور پر اگر اردو آج تک زندہ ہے تو یہ انھی اداروں کی کوشش کا ثمر ہے۔ فروغ اردو کے درجن بھر قومی اداروں میں سے دو متحرک اور فعال ترین ادارے اردو لغت بورڈ اور اردو سائنس بورڈ ہیں۔ ان دو اداروں کی فعالیت کا اندازہ ان کی گزشتہ دو سال کی کار کردگی سے لگایا جا سکتا ہے:

اردو لغت بورڈ:

  • بائیس ۲۲ جلدوں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی لغت کو ڈیجیٹلائز کیا گیا اور اسے آن لائن کر دیا گیا۔
  • اس ضخیم لغت کو درست تلفظ کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔
  • بائیس جلدوں کا خلاصہ دو جلدوں میں تیار کیا گیا۔
  • میڈیا ہائوسز کے لیے الفاظ کے درست املا اور تلفظ کا ایک مینوئل تیار کیا گیا۔
  • طلبا و طالبات کے لیے ایک درسی لغت تیار کی گئی ہے۔
  • کلاسیکی شاعروں کے کلام کی فرہنگیں تیار کی گئیں۔
  • لغت بورڈ کے رسالے ’اردو نامہ‘ کو دوبارہ سے جاری کیا گیا ہے۔

اردو سائنس بورڈ:

  • سائنسی موضوعات پر پچاس سے زائد کتابیں چھاپی گئیں اور کچھ کتابیں زیر اشاعت ہیں۔ (یہ کسی بھی سرکاری ادارے کی طرف سے شائع کردہ کتب کی سب سے زیادہ تعداد ہے)
  • علمی، فکری اور سائنسی موضوعات پر بیس سے زائد لیکچرز، مذاکروں اور سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔
  • طلبا اور عام لوگوں کے مطالعے کے لیے بورڈ کے مرکزی دفتر میں کتاب گھر قائم کیا گیا۔
  • کتب بینی کے فروغ کے لیے موبائل بک شاپ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
  • اردو سائنس میگزین کی مسلسل اشاعت کو یقینی بنایا گیا۔
  • اردو میں سائنسی کتب کی تصنیف و ترجمہ پر حوصلہ افزائی کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا۔
  • کتابوں کی فروخت میں اضافے سے بورڈ کی آمدن میں خاظر خواہ اضافہ ہوا۔

کل پرسوں سے یہ خبر گرم ہے کہ مذکورہ بالا دونوں اداروں کو ادارہ برائے فروغ قومی زبان (سابق مقتدرہ قومی زبان) میں ضم کیا جا رہا ہے۔ ضم کرنے کا مطلب محدود کرنا اور آخرکار ختم کرنا ہے کیونکہ ہماری تاریخ یہی بتاتی ہے۔ نشان خاطر رہے کہ یہ ادارے پبلشنگ ہائوسز نہیں ہیں کہ جن کا کام محض کتابیں چھاپنا ہے اور ایک ادارے میں ضم کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ ان اداروں کا دائرہء کار اور مینڈیٹ ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ ادارہ فروغ قومی زبان کا مینڈیٹ سرکاری سطح پر قومی زبان کے نفاذ کے لیے مواد تیار کرنا ہے۔ اردو لغت بورڈ کا کام قومی زبان کی مستند لغات تیار کرنا اور درست تلفظ اور درست املا کے ذریعے قومی زبان کا تحفظ ہے جبکہ اردو سائنس بورڈ کا کام سائنسی علوم کو اردو میں منتقل کرنا ہے۔ مقام افسوس تو یہ ہے کہ قومی اداروں کے خاتمے کی یہ تجویز ’’سادگی‘‘کے نام پر پیش کی گئی ہے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر بجٹ رکھنے والے اداروں کو تو ختم کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں یک مشت دو سو فی صد اضافے کا بل منظور کیا جا رہا ہے۔ ان اداروں کو جو سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے وہ کسی ایک وزیر مشیر کی تنخواہ اور مراعات سے کہیں کم ہوتا ہے۔

کسی بھی غریب ملک کے لیے سادگی بہت اچھی ہے۔ لیکن آپ نے سادگی اختیار کرنی ہے اور اخراجات میں کمی لانی ہے تو پارلیمنٹ کے اخراجات کم کریں، وزیروں مشیروں اور افسر شاہی کے شاہانہ اخراجات کم کریں۔ میگا کرپشن کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی کریں اور ان قوانین پرعمل درآمد کو یقینی بنائیں نہ کہ قومی اداروں کو بند کریں، یوں تو لاہور میں ایک بڑی یونیورسٹی کام کر رہی ہے، اس کے پاس زمین بھی بہت ہے۔ کل کو آپکے معاشی مشیر کہیں گے کہ اس زمین پر چند نئے بلاک تعمیر کر کے لاہور کی باقی تمام یونیورسٹیز کو بند کر دیا جائے اور ان کی عمارتیں ملک ریاض کو بیچ دی جائیں اس طرح حکومت کو کافی آمدن ہو سکتی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم جب اپوزیشن میں تھے تو اپنے ہر جلسے میں قوم کو یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ قومیں سڑکوں اور پلوں سے نہیں علم سے ترقی کرتی ہیں۔ ابھی چند روز پہلے وہ بلاول زرداری کی انگریزی تقریر پر طنز کر رہے تھے۔ ایوان اقتدار میں بیٹھنے کے بعد ایسا کیا ہو گیا ہے کہ وہ قومی زبان کے اداروں کے در پے ہو گئے۔ اگر ان کے علم میں یہ صورت حال نہیں ہے اور ان کے مشیر انھیں غلط مشورے دے رہے ہیں تو وہ اپنے انتخاب پر نظر ثانی کریں۔

گزشتہ دنوں پاک بھارت ممکنہ جنگ کے تناظر میں میرے ایک شاگرد نے مجھ سے یہ سوال کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت ایک ساتھ آزاد ہوئے، دونوں کے معاشی حالات بھی لگ بھگ ایک جیسے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ وہاں تو اروندھتی رائے اور گائتری سپائی وک جیسے دانشور پیدا ہوئے جبکہ ہمارے ہاں بیت اللہ محسود، خادم رضوی اور وغیرہ، وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ۔ تب میرے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا لیکن اب میں اپنے طالب علموں کو بتا سکتا ہوں کہ جس معاشرے میں علم اور فکر کی راہیں مسدود کر دی جائیں وہاں سوچنے والے دماغ نہیں ’’دولے شاہ‘‘ کے چوہے پیدا ہوتے ہیں۔

یہ بھی دیکھئے: آخری ای میل ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف کے قلم سے عمر میمن مرحوم کا تذکرہ (۱)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: