مڈل کلاس اور اخلاقیات کا زعم —– فرحان کامرانی

1
  • 139
    Shares

پیسہ ہونا اور پیسہ نہ ہونا دونوں ہی بڑے عجیب تجربات ہوتے ہیں۔ آپ کی جیب میں اربوں روپے پڑے ہیں تو جیب بھاری ہو جائے گی اور اس کے وزن سے غالباً آپ بھی۔ مگر جیب بالکل خالی ہو تو بھی زندگی بڑی بھاری ہو جاتی ہے۔ مگر ایک بات اہم ہے وہ یہ کہ جن کی جیب نوٹوں سے بھاری ہے اور جن کی زندگی جیب کے خالی ہونے سے بھاری ہے ان دونوں ہی طبقات کے پاس زندگی کے بڑے واضح اور مضبوط تجربات ہوتے ہیں۔ یہ دونوں ہی طبقات یعنی امیر اور غریب، اخلاقیات کے امتحان سے ہر لمحہ ہر پل گزرتے ہیں۔ دولت بھی اخلاقیات کا امتحان ہوتی ہے اور غربت و افلاس بھی۔

مگر ایک طبقہ ان دو طبقات کے درمیان بھی ہے۔ وہی طبقہ جسے مڈل کلاس کہا جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے غریب غرباء کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ امیر ہے اور امراء کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ غریب ہے۔ بالاصل یہ طبقہ نہ تو غریب ہے نہ امیر، بلکہ اپنی نہاد میں ذہنی مریض ہے۔ مگر ہمارے اس دعوے کی دلیل ہے کیا؟

ذرا غور تو کیجئے کہ امیر کے مسائل کیا ہیں؟ امیر کے مسائل کا تعلق یا تو لالچ سے ہوتا ہے یا رشتوں کی بے ثباتی سے۔ ہر صورت میں دولت اپنی اوقات دکھا دیتی ہے اور انسان کو بتا دیتی ہے کہ دولت اور طاقت ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ دولت کیا کیا کر سکتی ہے، کیا کیا خرید سکتی ہے، یہ دولت والوں کے تجربے میں ہوتا ہے۔

پھر غریب کا تجربہ بھی خالص ہوتا ہے۔ وہ رشتوں کی اہمیت کو جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس دولت تو نہیں مگر رشتے ہیں۔ وہ رشتوں کی قدر کرتا ہے اور اگر ضروری ہو تو اپنی جان اور اخلاقیات سب کچھ رشتوں پر قربان کر دیتا ہے۔ امیر اور غریب دونوں ہی کی اخلاقیات اصلی ہوتی ہے، یا تو ان میں اخلاقیات ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ امیر اور غریب دونوں کو ہی اخلاقیات کا ڈھونگ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ برنارڈ شا کے کردار مسٹر ڈولٹل نے بڑے مزے سے کہا تھا کہ وہ اخلاقیات کو afford نہیں کر سکتا۔ مگر تیسرا طبقہ یعنی مڈل کلاس؟

مڈل کلاس کے لئے اخلاقی امتحانات، دوراہے، آزمائشیں کم ہی آتی ہیں۔ مڈل کلاسیے کی زندگی عموماً واقعات سے خالی ہوتی ہے۔ بس پیدا ہوئے، پڑھائی کی، نوکری کی، شادی کی، بچے پیدا کئے، ان کی شادیاں کیں، پھر شوگر، دل کی بیماری، ہیپاٹائٹس وغیرہ وغیرہ میں مر گئے۔ پنشن ملی تو کھالی، خود نہ کھا سکے تو بیوی بچوں کے کام آ گئی۔ سب سے بڑے گناہ، گندی فلمیں دیکھنا، بجلی چوری، امتحان میں نقل وغیرہ۔ سب سے بڑی نیکیاں، رمضان میں روزے رکھنا اور رمضان میں نماز کی پابندی وغیرہ وغیرہ۔ غریب آدمی کی حیات میں بھی خواہشات موجود ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ نہ اس کی زندگی میں اس طرح کا توازن ہوتا ہے جو مڈکل کلاسیے کو میسر ہوتا ہے نہ ہی اس کی حیات میں اس کا آدھا بھی تحفظ ہوتا ہے، اسی لئے غریب آدمی کبھی بھی پٹری پر چلنے والی ریل گاڑی نہیں بنتا جب کہ مڈکل کلاسیہ ہوتا ہی ریل گاڑی ہے کہ جس کی پٹڑی بڑی طے شدہ ہوتی ہے۔ مگر مڈل کلاسیے کو سب سے بڑا زعم تو اپنی اخلاقیات پر ہی ہے۔ وہ خود کو اکثراخلاقیات کا توپ خانہ سمجھتا ہے اور ہر وقت اپنے ہاتھ میں ایک ترازو اٹھا کر بڑے بڑے اخلاقی محاکمے جاری کرتا رہتا ہے۔

مڈل کلاسیے بڑے غرور سے یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سب سے اعلیٰ اخلاقیات تو بس مڈل کلاس کے ہی پاس ہوتی ہے، یہ بات جتنی عام ہے اور جس شدت سے اس کی گردان کی جاتی ہے، یہ اتنی ہی غلط ہے۔ اخلاقیات کا حقیقی امتحان تو طاقت دے کر لیا جاتا ہے یا غربت دے کر۔ ورنہ گھر بیٹھ کر بڑے بڑے مفروضوں پر مبنی باتیں کرنا تو بہت آسان کام ہے، اس موضوع پر ندا فاضلی نے کیا خوب کہا ہے کہ

میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے
وقت بدلا تو تیرے رائے بدل جائے گی

مگر 99 فیصد مڈل کلاسیوں کا وقت کبھی بدلتا نہیں۔ اسی لئے ان کی اخلاقیات کا کبھی صحیح امتحان ہو ہی نہیں پاتا۔ وہ اس لئے کم گناہ کر پاتے ہیں کیوں کہ قدرت ان کے ہاتھ باندھ کر رکھتی ہے اور وہ ہاتھ بندھے بندھے ہی پنشنر ہو کر مر جاتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ مڈل کلاسیوں کی اخلاقیات ان کی 55، 60 سال کی زندگی (اوسط) کے دورانیے میں بس ان کے منہ سے نکلی ہوئی بڑی بڑی باتوں کی صورت میں ہی ظاہر ہو پاتی ہے۔

ویسے تو قدرت کبھی اپنے اصول بدلتی نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر کبھی قسمت کی چرخی پلٹا کھا جائے اور کوئی مڈل کلاسیا اچانک امیر یا اچانک غریب ہو جائیں تو عام طور سے اُس کی اخلاقیات کی قلعی اسی وقت کھل جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اُس نے بعض انسانوں کو مڈل کلاسیہ بنا کر اُن کی عزت رکھ لی۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اخلاقی طور پر سب سے کمزور ہیں۔ دباؤ میں فوراً ٹوٹنے والے، لالچ پر فوراً لپکنے والے ہیں۔ اللہ نے انہیں مڈل کلاسیہ بنایا تا کہ یہ کوئی گناہ کر ہی نہ سکیں، بس اٹکے رہیں، نو من تیل اور لکڑی کے چکر میں چلتے رہیں۔ اللہ کسی نفس پر اس کی ہمت سے بڑا بوجھ نہیں ڈالتا۔ مڈل کلاسیہ وہ ہے جو نہ غربت کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت رکھتاہے نہ امارت کا بوجھ اٹھانے کی۔ اس کے لئے تو اخلاقیات بھی محض ایک مجبوری اور منہ چلانے، اخلاقی جگالی کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور کچھ نہیں۔ یہ ہے وہ طبقہ جو اپنے زعم کے باوصف ایک طرفہ تماشا ہے، ایک اضحوکہ، ایک مذاق۔ مگر اس کا شعور بھی مڈل کلاسیوں کو ہے؟

یہ بھی دیکھئے: من کہ مسمی مطالعہ پاکستان —— ملک آفتاب اعوان

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ارشد محمود on

    سخت متشدد اور اینٹی مڈل کلاس مضمون ہے. جیسے سب اپر یا لوئر کلاس والے بے راہ رو یا مکمل پارسا نہیں ہوتے اسی طرح مڈل کلاس میں بھی نیک بد پائے جاتے ہیں. بلکہ مڈل کلاس نسبتأ متوازن لوگوں پر مشتمل کلاس ہوتی ہے جو کسی بھی معاشی اور معاشرتی سسٹم کو سہارا دیئے ہوئے ہوتی ہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: