”…. از خدا گیرد طریق“ : اسلام میں رحمت اور انسانی ہمدردی کے تصور پر کچھ خیالات —- سہیل عمر

0
  • 33
    Shares

حرفِ بد را برلب آوردن خطاست کافر و مومن ہمہ خلقِ خداست!
(بری بات زبان پر لانا گناہ ہے، کافر ہو یا مومن سب خدا کی مخلوق ہے)

آدمیت احترامِ آدمی باخبر شو از مقامِ آدمی!
(آدمیت احترامِ آدمی ہے، آدمی کا مقام پہچان)

…………………………..

بندۂ عشق از خدا گیرد طریق می شود بر کافر و مومن شفیق!
(بندۂ عشق اپنی راہ خدا سے پاتا ہے اور کافر و مومن سب پر شفیق ہوتاہے)

شاعرِ مشرق، مردِ دانا، علامہ محمد اقبال نے اپنے شعر و حکمت کے شاہکار جاوید نامہ میں یہ ارشاد فرمایا تھا۔ اسلام میں رحمت و مہربانی، اخوت اور ہمدردی کا جو اصول کار فرما ہے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علامہ اپنے مخاطبین کے سامنے کوئی انوکھی بات نہیں پیش کر رہے تھے۔ یہ اصول تو ہر الہامی دین کی طرح اسلام کی نہادو بنیاد میں شامل ہے۔ اسے پیرایۂ شعر میں بیان کرنے سے علامہ کی غرض یہ تھی کے شعر کے دلنشیں وسیلے سے اسلامی تہذیب کے اس اساسی عنصر کی اہمیت از سر نو اجاگر کی جا سکے اور یوں مسلمانوں کو بالخصوص اور انسانوں کو بالعموم یہ بھولتا ہوا پیغام پھر یاد دلایا جائے تاکہ ان میں احساسِ زیاں بیدار ہو سکے۔ اس اصول کو فراموش کرنے، حق سے منہ موڑنے، مذہب سے روگردانی کے نتیجے میں انسانی معاشرے کو، مسلمانوں کو جو نقصان پہنچ رہا تھا وہ ہر سوچنے والے ذمہ دار انسان کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ ایک مرتبہ حق سے روگردانی کا رویہ غالب آ جائے تو پھر صرف دنیا پر نظر کرنے کا اسلوب ہی نہیں بدلتا، فقط فکری تناظر ہی متغیر نہیں ہوتا بلکہ باقی سب چیزیں بھی اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہیں کیونکہ زندگی کے سارے شعبے—سیاست، معیارِ زیست، بودوباش، ماحول، انسانی تعلقات، باہمی روابط، علوم و فنون — سبھی آخر الامر، اس اندازِ نظر پر، اس روزنِ دید پر اپنا دارومدار رکھتے ہیں۔ رحمت اور مہربانی، اخوت اور ہمدردی کے اصول کا ایک تقاضا مذہبی رواداری بھی ہے اور عہد ِجدید میں داخل ہو کر زوال کا شکار ہونے سے پہلے تک تاریخی طور پر یہ رویّہ اسلامی تہذیب کا خاصہ اور طرّۂ امتیاز رہا ہے۔ جدید روشن فکری کے جدِّ امجد جان لاک نے اپنی ذہن ساز اور رہنما کتاب A Letter Concerning Toleration میں ایک جگہ بڑے تاسّف سے اس قبیح صورتِ حال پر تبصرہ کیا ہے جس کا مغرب میں آرمینی اور کالوِنسٹ عیسائیوں کو سامنا کرنا پڑا تھاکہ اگر وہ سلطنتِ عثمانیہ میں زیست کرتے تو انہیں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کی پوری آزادی میسّر ہوتی تھی لیکن یورپ میں ان کی جان ضیق میں رہتی تھی۔ وہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ ”بھلا تُرک (یعنی مسلمان) ایک خندۂ استہزا کے ساتھ ہمارا تماشا کیوں نہ دیکھیں جب ہم عیسائی ایک غیرانسانی سفّاکی کے ساتھ دوسرے عیسائیوں کے درپے رہتے ہیں۔“  لیکن آج کی اسلامی دنیا مسلم تہذیب کے اس خاصے سے محروم ہو چلی ہے۔ مغربی استعماریت، اندھا دھند نقالی پر مبنی صنعت کاری اور صارفیت کی پیدا کردہ ذ ہنی شکست و ریخت نے زوال و انحراف کے اس تیز رو سفر کی رفتار اور بھی بڑھا دی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی روایت کا روحانی ”قوام“ درست نہیں رہا، اس کے عناصر ترکیبی میں ایک خلل آ چلا ہے، اس کی روحانی جہت میں ایک ضعف واقع ہو رہا ہے اور اسی نسبت سے رحمت، مہربانی اور روا داری کے اخلاقی اصولوں کی پاسداری میں بھی کمزوری اور غفلت غالب آتی جا رہی ہے۔

خدا بیزار اور خدا گریز جدیدیت کے آخری دور میں جب اقبال اپنے عہد کے اساسی مسائل پر غور کر رہے تھے اوراسے ”عصرِ ما وارفتۂ آب و گل است“ (ہمارا زمانہ تو مٹی پانی پر مرمٹا ہے) قرار دے رہے تھے توان کے زمانے کا اجتماعی ذہنی رویہّ، اس کا موڈ، مزاج، یا سیت اور بیزاری سے عبارت تھا۔ دنیائے جدید کو اس کے فکری تناظر، اس کے افتادِ ذ ہنی کے لحاظ سے جانچا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا اس عہد میں جی رہی ہے جو ہر اعتبار سے ”دورِ اضطراب“ ہے۔ زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، اس کی نبض شناسی ضروری تھی اور اقبال علاماتِ مرض سے آگے بڑھ کر اسبابِ مرض کی تشخیص کے لیے کوشاں تھے، اپنے عہد پر چھائے ہوئے فکری ادبار کی علت جاننا اور بیان کرنا چاہتے تھے۔ عہدِ جدید اور اس کے فکری بحران کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ کرتے ہوئے علامہ اس بات کا ادراک کر چکے تھے کہ یہ بحران سطحی عوامل سے پیدا نہیں ہوا، اس کی تَہ میں حقیقت کو دیکھنے کے بنیادی زاویۂ نظر اور فکری تناظر کی ایک کجی کار فرما ہے۔ جدید انسان نے اپنا فکری تناظر قائم کرنے میں ایک بڑی غلطی کر دی ہے اور ایک ایسے زاویۂ نگاہ کا اسیر ہو گیا ہے جس نے حقیقت پر نگاہ کرنے کے پورے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

من از ہلال و چلیپا دگر نیندیشم کہ فتنۂ دگری در ضمیر ِایام است“
(میں ہلال اور صلیب کے جھگڑے پر مزید نہیں سوچتا کیونکہ ایک اور بڑا فتنہ زمانے کے باطن میں پروان چڑھ رہا ہے۔)

مسلمان کے قلب و نگاہ، دل و دماغ دو تصورات سے ہدایت پاتے ہیں۔ مسلم ذہن پر توحید کا تصور حاکم ہے اور رحمت کا اصول قلبِ مسلم کو روشن اور زندہ رکھتا ہے۔ وحدت اور رحمت میں وہی تعلق ہے جو آفتاب اور نورِ آفتاب میں ہے۔ منبعِ نور اور شعاعِ نور کی باہمی نسبت وحدتِ خداوندی، رحمتِ ایزدی ہی کے وسیلے سے اس کائنات میں اپنے پورے کمال کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور اپنی فطرتِ اساسی کا اظہار کرتی ہے۔ رحمت کا مبداء وحدت ہے، اسی سبب رحمتِ خداوندی کاملہ اور شاملہ ہی نہیں ہوتی، صرف ہر شے کا احاطہ ہی نہیں کرتی بلکہ اسی کے وسیلے کائنات کی ہر شے دوبارہ اپنی اصل سے جڑجاتی ہے۔ کثرتِ ظاہری اسی کی کشش سے اپنی وحدتِ اصلی کی جانب لوٹ جاتی ہے، ”وَ رَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیئٍ“ (اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے)۔

انگریزی، لاطینی کا لفظ COMPASSION دو اجزاءسے مرکب ہے؛ COM، بمعنی ساتھ، شریک اور PASSIO بمعنی در دو غم، مصائب۔ اردو میں ہمدردی عین اسی مفہوم سے عبارت ہے یعنی وہ جو آپ کے دکھ سکھ میں شریک ہو، آپ کا درد محسوس کرے، مصیبت کا احساس کرے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو انسانی سطح پر ہمدردی صرف ایک جذباتی بات، ایک انسانی داعیہ نہیں ہے بلکہ ایک روحانی محرکِ فکر و عمل اور روحانی داعیہ ہے۔ شفقت و رحمت اور مہربانی اور ہمدردی کا محرکِ اوّل وہ خِلقی احساسِ اشتراک ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ”بنی آدم اعضائے یک دیگر اند“ (آدم کی اولاد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں) کیوں کہ یہ اپنی تخلیق و آفرینش میں ”یک جوہر“ ہیں، ایک ہی جوہر سے خلق ہوئے ہیں۔ ”کافر و مومن ہمہ خلقِ خداست“، ساری نوعِ انسانی کا خالق ایک ہے۔ مجھ میں اور دوسرے انسانوں میں فرق و امتیاز کی دیواراس وقت منہدم ہو جاتی ہے جب نوعِ انسانی کی خلقی وحدت کا احساس بیدار ہو جائے اور نوعِ انسانی کی یہ وحدت خود وحدتِ خداوندی کا عکس ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے اور عہد جدید کی سنگین غلطی کی جڑ یہ ہے کہ تاریخ میں اس عہد سے پہلے کوئی معاشرہ، کوئی تہذیبی منطقہ، اس اصولِ وحدت سے ایسے اجتماعی اعراض و اغماض، ایسی گہری اور ہمہ گیر روگردانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ توحید اور اصولِ وحدت (TRANSCENDENCE) کے خلاف جیسی باضابطہ اور منظم بغاوت جدیدیت کے فکری تناظر میں ابھری، اس کی کوئی مثال تاریخِ فکرِ انسانی میں نظر نہیں آتی۔ عہدِ جاہلیت کے عرب معاشرے میں بہت سی خامیاں تھیں مگر ان کے ہاں اصول باقی تھا گو اس سے غفلت عام ہو چکی تھی۔ ان میں کئی اخلاقی محاسن اور فضائل پائے جاتے تھے مگر خوابیدہ اور بالقوة حالت میں۔ اس معاشرے کی نظر اس اصول کی عمودی جہت سے ہٹ کر صرف افقی رخ تک محدود ہو گئی تھی۔ ان کے حیطۂ فکر سے یہ شعور مفقود ہو گیا تھا کہ انسانی خوبیوں، محاسنِ اخلاق اور صفاتِ خداوندی میں ایک خلقی ربط پایا جاتا ہے۔ انسانی خوبیاں اور اوصاف، صفاتِ الٰہیہ کا عکس ہیں جنھیں غفلت و نسیان نے دھندلا دیا ہے۔ بایں ہمہ کائنات کا ہر وصف، انسان کی ہر استعداد، خوبی اور صفت اپنے موجود ہونے کے لیے اپنی الوہی اور علوی اصل و اساس کی مرہونِ منت ہے۔ یہ سب اوصاف و صفات اصل میں صفاتِ خداوندی کے آثار و افعال سے عبارت ہیں۔ بہ الفاظ ِدگر جاہلی عرب معاشرے کے افراد میں صفاتِ خداوندی اور انسانی اوصافِ حمیدہ کا باہمی ربط و تعلق بظاہر مفقود تو تھا مگر یہ اصل میں معدوم نہیں ہوا تھا، صرف دب گیا تھا، خوابِ غفلت کا شکار تھا اور یہ غفلت بھی سب افراد میں یکساں نہیں تھی، درجاتِ غفلت متفاوت تھے۔ کچھ لوگوں کے قلب سخت ہو چکے تھے جبکہ بہت سے نفوسِ انسانیہ کے انگارۂ قلب پر جمی ہوئی خاکستر کو صاف کرنے کے لیے پیغامِ خداوندی کی بادِ جان فزا کا جھونکا کافی تھا۔ رسولِ خدا کی زبان سے پیغامِ ہدایت سن کر اور آپ کی مجسم ہدایت شخصیت کے روبرو ہوتے ہی ان کے اعماقِ جان میں جاگزیں یہ شعور بیدار ہو جایا کرتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات اپنی نشانیوں اور آیات کے مجموعے کے طور پر تخلیق فرمائی ہے۔ یہ آیات و آثار اللہ تعالیٰ کی صفات اور فطرتِ خداوندی کی جانب اشارہ کرتے ہیں، انھی سے حقیقت خداوندی ظاہر ہوتی ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی آگہی عطا کرتا ہے۔ یہ آیات اور نشانیاں اللہ کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟ یہ کہ ذات خداوندی الحی، العلیم، القدیر، المتکلم، اور فعال لما یرید ہے، یعنی صفاتِ علم و حیات و قدرت و ارادہ و کلام سے موصوف ہے، بہ الفاظِ دگر صاحبِ شعور، ذی حیات، صاحبِ ارادہ و قدرت ہستی ہے۔ ان صفاتِ خداوندی کے مشترکہ آثارِ فعلی کے نتیجے میں لا محدود تنوع کا حامل عالَمِ کثرت اور طرح طرح کی مخلوقات وجود میں آتی ہیں اور یوں سارا عالمِ مخلوقات انھی صفاتِ خداوندی کی علامتیں اور نشانیاں ہیں۔ خود یہ صفات ذاتِ حق سے نسبت رکھتی ہیں، اس میں قائم ہیں، عالمِ خلق سے اس کے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔ کائنات کی جملہ زمانی اور مکانی پہنائی اور وسعت، ماسوی اللہ کا سارا عالَم، صفاتِ خداوندی کا ظہور ہے۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمِ خارجی، یہ ساری کائنات عکسِ خداوندی ہے، فطرتِ الٰہیہ کا مظہر ہے۔ انسان کو بھی صورتِ الٰہیہ پر خلق کیا گیا اور وہ سب صفاتِ خداوندی کے پرتو اپنے اندر رکھتا ہے۔ باقی مخلوقات اور کائنات کے دیگر مظاہر اور انسان میں فرق یہ ہے کہ کائنات میں تو آیاتِ خداوندی ہر سو بکھری ہوئی ہیں جبکہ انسان میں یہ نشانیاں ایک جامعیت کے ساتھ یکجا ہو گئی ہیں۔ انسان کے سوا اور ہر مخلوق اللہ کی ایک ایسی نشانی ہے جس میں صفاتِ خداوندی میں سے کچھ صفات ایک معین، محدود اور مخصوص صورت میں منعکس ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس انسان خدا کا پورا مظہر ہے۔ دوسری مخلوقات میں چند صفاتِ خداوندی مستقلاً ظاہر ہیں اور دوسری صفات مستقلاًمخفی اور غائب ہیں۔ انسانوں میں سبھی صفاتِ خداوندی موجود ہیں اور بشرطِ سازگاری اپنا ظہور کر سکتی ہیں۔

انجیل کی معروف آیت کی ہم معنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نوعِ انسانی کی اسی امتیازی خصوصیت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ انجیل کی اس آیت نے عیسائیت اور یہودیت کے تصورِ انسان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں، ”خلق اللّٰہ الآدم علی صورتہ (اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر خلق فرمایا)۔ بہت سے علماء اور مفسرین کی نظر میں ”وَ عَلَّمَ الاَسماءکُلَّھَا“ (اور سکھائے آدم کو نام سارے) کی آیت کا مفہوم بھی یہی ہے۔ اگر انسانوں میں سبھی صفاتِ خداوندی بالقوة موجود ہوتی ہیں تو پھر ان کا ظہور، ان کا بالفعل اظہار کیسے ہوتا ہے یا اقبال کے الفاظ میں ”بندۂ عشق“ کیونکر” از خدا گیرد طریق“؟

انسانیت زوال سے دو چار ہے اور جیسے جیسے حقیقتِ انسانی سے دوری بڑھتی جار ہی ہے دنیا ہماری گرفت سے پھسلتی جا رہی ہے۔ شیخ عیسی نور الدین کا قول ہے کہ:

The world is miserable because men live beneath themselves: the error of modern man is that he wants to reform the world without having either the will or the power to reform man, and this flagrant contradiction, this attempt to make a better world on the basis of a worsened humanity, can only end in the very abolition of what is human, and consequently in the abolition of happiness too. Reforming man means binding him again to Heaven, re-establishing the broken link; it means tearing him away from the reign of the passions, from the cult of matter, quantity and cunning, and reintegrating him into the world of the spirit and serenity.

ہمارے زمانے میں چند لوگ بے راہ ہوئے اور ہدایتِ خداوندی کے اس اصول سے روگردانی کرکے ایسے رویے اپنائے، ایسی حرکتوں کا ارتکاب کیا جس نے اسلام کی نہاد میں موجود اصولِ رحمت و اخوت کو غبار آلودہ کر دیا۔ بایں ہمہ اس امر سے کوئی مفر نہیں کہ رحمت کو غضب پر سبقت حاصل ہے اور یہ اصول فطرتِ خداوندی کے لیے بھی درست ہے اور اقلیمِ انسانی پر بھی پوری طرح وارد ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ رحمتِ خداوندی غضب ِ ایزدی پر غالب ہے تو پھر نفسِ انسانی اس اصول سے کیونکر باہر ہو سکتا ہے! اس کے اوصاف و اخلاق اور احوال و کیفیات کی سطح پر بھی یہی اصولی ترجیح قائم کرنا لازم ہوگا۔ نفسِ انسانی کے مطلوبہ کمال اور مکارمِ اخلاق کے آدرشی درجے میں بھی وہی انسان بہتر اور فائق شمار ہوگا جس کا غضب اور غصہ اس کے جذبۂ رحمت و موَدّت سے مغلوب ہو، اس کے تحت حرکت میں آئے۔ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت و رأفت کو اپنے اندر زندہ و بیدار رکھنا، اسے منعکس کرنا قرآن مجید میں پوری صراحت سے بیان ہوا ہے۔ جہاں جہاں بھی ذاتِ خداوندی کو رؤ ف و رحیم، خیر و سلام، رحمن و ودود کے طور پر بیان کیا گیا ہے وہاں ہم سے یہ تقاضا بالکل واضح ہے کہ انسان کو بھی اپنے اندر یہ اوصاف راسخ کرنا درکار ہے، خود کو رنگِ خداوندی میں رنگنا چاہیے، اخلاقِ الٰہی کا اپنے اندر تخلّق کرنا چاہیے، ان کا عکس بننا چاہیے۔ جو اسماءو صفات اللہ تعالیٰ سے نسبت رکھتے ہیں وہی نفسِ انسانی کی امتیازی خصوصیات اور اوصاف کا معیار فراہم کریں گے، جو وہاں سو یہاں۔ جو بات اللہ کے لیے ایک مطلق معنی میں ثابت ہے وہی انسان کے لیے اضافی طور پر درست ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو صفاتِ خداوندی ہی انسان کے اخلاقِ پسندیدہ یا اوصافِ حمیدہ کی اصل اس کی انسانی خوبیوں کا منبع، اساس اور مایۂ وجود قرار پاتی ہیں۔ لا الہ الااللہ کا اقتضا یہ ٹھہرتا ہے کہ محاسن و فضائل میں سے کوئی چیز ایسی نہیں، انسانی خوبیوں کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو کسی نہ کسی صفتِ خداوندی کا عکس نہ ہو، اس کے نورِ صفات سے مستنیر نہ ہو۔

ہماری گفتگو کا تناظر اللہ تعالیٰ کی صفات جلالیہ کے انکار کو لازم نہیں کرتا بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کے گناہ اور بدعملی کا حتمی نتیجہ غضبِ خداوندی کو دعوت دیتا ہے۔ لیکن چونکہ معصیتِ انسانی از روئے تعریف ایک امر ِاضافی ہے، ایک محدود چیز ہے اس لیے وہ صفاتِ خداوندی جو ایک امرِ اضافی کی نسبت سے اپنے آثار کو ظاہر کریں انھیں اُن صفاتِ اصلیہ اور اسمائے ذاتیہ کی سطح پر نہیں رکھا جا سکتا جو حقیقتِ الٰہیہ اور ذاتِ مطلق کی فطرتِ اساسی سے متعلق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کے فرمان ”وَ رَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیئٍ“ (اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے) کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ”رَحمَتِی سَبَقَت غَضَبی“ (میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے)۔ اضافی اور مقید وجود رکھنے والی ہستیوں کی عصیان کاری سے جو اعتدال اور توازن زائل ہوتا ہے اسے بحال کرنے کے لیے ایک سختی اور سزا درکار ہوتی ہے جس کا تعلق غضبِ خداوندی اور صفاتِ جلالیہ سے ہے۔ دوسری طرف ان پاک باطن نفوسِ انسانیہ کو المطلق کی رحمانی فطرت کی آغوشِ رحمتِ میں سمیٹ لیا جاتا ہے جو تزکیہ یافتہ ہوں۔ وہ اسمائے خداوندی جن کا تعلق جمال و رحمتِ خداوندی سے ہے وہ بسملہ کے جملے میں سب سے زیادہ وضاحت سے مذکور ہوئے ہیں جو اسلام میں ہر اہم کام سے پہلے ادا کیا جاتا ہے اور جس سے قرآن مجید کی ہر سورت کا آغاز ہوتا ہے: بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ دونوں اسماء الرحمن اور الرحیم کا مادہ ایک ہی ہے: ر۔ ح۔ م اور دونوں رحمت کو ظاہر کرتے ہیں اور رحمت کے معانی میں مہربانی، عنایت، شفقت، درگذر اور پیار محبت سبھی شامل ہیں۔ ”قُلِ ادعُوا اللّٰہَ اَوِ ادعُوا الرَّحمٰنَ“ (اے نبی! ان سے کہو اللہ کَہ کر پکارو یا رحمان کَہ کر) قرآن کا ارشاد ہے۔ یہاں یہ دیکھیے کہ ”الرحمن“ اور ذاتِ الٰہی کو ایک برابر کہا جا رہا ہے اور اشارہ یہ ہے کہ وہ ورائے ظہور ذاتِ احدیت عین رحمت ہے۔ حقیقتِ الٰہیہ رحمت سے عبارت ہے، سو ”اَیًّا مَّا تَدعُوا فَلَہُ الاَسمَآء الحُسنٰی“ (جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں)۔

رحمتِ خداوندی میں انسانی شرکت، نفسِ انسانی میں اس کے تخلّق کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کا تعلق سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ رسالت سے ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو بار بار، رحمن و کریم، رؤ ف و ودود، عفو و غفار کہا جا رہا ہے تو یہی صفات رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی بدرجۂ اتم موجود ہیں کہ وہ ساری انسانیت کے لیے نمونۂ کمال اور چراغِ ہدایت ہیں۔ ”وَ مَآ اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَةً لِّلعٰلَمِینَ“ (اے نبی ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے)۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجسم رحمت تھے، اپنی ہستی اور اپنے طرزِ عمل ہر دو میں تمام مخلوقات کے لیے سراسر ”رحمت“ تھے تو پھر یہ امر ہر اس مسلمان پر بھی صادق آئے گا جو قرآنی ہدایت کی مخلصانہ پیروی کرتے ہوئے اپنے سیرت و کردار کو پوری طرح آپ کے اسوئہ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتا ہے، ”لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسوَة حَسَنَة لِّمَن کَانَ یَرجُوا اللّٰہَ وَ الیَومَ الاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیرًا“ (در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے)۔ رسولِ خدا کی سنت پر عمل کرنا ہو، آپ کے اسوۂ حسنہ کا اتباع مطلوب ہو تو انسان کو اور ہر شے سے پہلے اپنی بساط کے مطابق اور اپنے دائرہ عمل میں دنیا کے لیے ”رحمت“ کا نمونہ بننا چاہیے۔ اسوۂ رسول کی پیروی کی دیگر تمام جہات کی قدر و قیمت اس اساسی بلکہ کونیاتی منصب کی روشنی میں متعین ہوتی ہے اور یہ بنیادی منصب، یہ بابرکت کام کیا ہے؟ اس رحمت کو عام کرنا، اس رحمت کا مظہر بننا جو عین فطرتِ الٰہیہ ہے۔

مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین امن و آشتی اسلام کا مطمح نظر رہا ہے۔ تاریخ اس کی وافر شہادت دیتی ہے۔ ان کے باہمی تعلقات پر اسی اصولِ رحمت کا اطلاق ہوتا ہے جو ذاتِ الٰہیہ کی خیرہ کن اور کائنات گیر تجلیاتِ ظہور میں خلقی طور پر موجود ہے۔ اسلام نے اپنی تاریخ میں مذہبی رواداری اور اختلافِ نظر برداشت کرنے کی جو بے نظیر مثالیں قائم کی ہیں اس غیر معمولی کارنامے کی قدر و قیمت کا ابتدائی جائزہ بھی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا، جب تک کہ رحمتِ خداوندی کے اس اصول کے نو بہ نو صورتوں میں ظہور کو سمجھا نہیں جائے گا۔ یہ کوئی جذباتی نعرے بازی نہیں ہے، اسلام میں رواداری کا منبع ایک اصول ہے اور اسی اصول کی بنیاد پر اسلام دوسرے مذاہب، اپنے سے غیر افراد کے عقاید کے بارے میں اس مبنی بر رحمت رویے کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ دوسرے مذہب کا منبع و مأ خذ بھی وہی ذاتِ الٰہیہ اور اس کا پیغام وحی ہے جو اسلام کی تہ میں کار فرما ہے۔

یہاں یہ اعتراض وارد کیا جا سکتا ہے کہ ہم قرآنی پیغام کا صرف ایک پہلو سامنے لا رہے ہیں اور اس کی جلال و غضب کی جہت سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ اس طرح جو مجموعی تصویر ابھرتی ہے وہ گمراہ کن ہے۔ یہ اعتراض کسی حد تک درست کہا جا سکتا ہے۔ قرآن کو اس کی کلیت میں بیان کرنا چاہیے اور یہ اَمر پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ خود قرآن مجید میں وعد اور وعید، امید و بیم، جلال و جمال دونوں پہلوؤں کے درمیان ہمیشہ ایک توازن موجود ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک پہلو کو دبا کر، ایک عنصر کو ترجیحاً معرضِ بیان میں لایا جائے، اسلامی تعلیمات کے سخت اور جلالی حصے کو یک طرفہ طورپر پیش کیا جائے تو اس سے پیغام اسلام کی جامعیت اور ہمہ گیری پر حرف آتا ہے اور نفسِ انسانی پر اس صحیفۂ خداوندی کا جو مجموعی نفسیاتی اثر ہونا چاہیے اس میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ایسی ہر پیش کش، ہر ادھورے بیان کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ”می شود برکا فرو مومن شفیق“ بننے کی راہ مسدود ہو جائے گی، رسول خدا کے اسوۂ حسنہ کی بامعنی طور پر پیروی کرنے میں روک آجائے گی اور آخر الامر آنحضرت کے مکارمِ اخلاق کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک جہت کے آثار کا زندہ اور مجسم نمونہ بننے کی سعادت سے محرومی اٹھانا پڑے گی۔ یاد رکھیے کہ ”لَآ اِکرَاہَ فِی الدِّینِ“ (دین کے معاملے میں زور زبردستی نہیں ہے) کا لازمی تقاضا ہے کہ اختلاف رائے کو دبایا اور مٹایا نہ جائے، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہ نکتہ رحمتِ خداوندی سے غیر متعلق نہیں ہے۔ جس طرح رحمتِ خداوندی کو ”وَسِعَت کُلَّ شَئٍ“ (ہر چیز کو عام ہے) فرمایا گیا ہے اسی طرح وحی کے وسیلے سے ہدایتِ ربانی بھی تمام انسانی معاشروں کے لیے عام ہے۔ رسولِ خدا کو ”رحمة للعالمین“ کہا گیا ہے اور قرآن مجید آپ کو رؤ ف و رحیم اور صاحبِ خُلقِ عظیم قرار دیتا ہے۔ روایتی تاریخی مآخذ میں آپ کی شخصیت کا جو سب سے نمایاں وصفِ اساسی بیان کیا گیا ہے وہ ہے ”حلم“ یعنی ایسا تحمل اور برداشت جو دانائی اور نرم مزاجی سے مرکب ہو۔ رسولِ خدا کی ذات میں ہمیں غیر مذہب والوں کے لیے جو تحمل اور رواداری نظر آتی ہے وہ صرف اس امر کا اظہار نہیں ہے کہ آپ وحیِ خداوندی کے کائناتی اور عالم گیر ہونے کا علم رکھتے تھے۔ بلاشبہ یہ بات تو ہے ہی لیکن اس سے سوا ایسے رویے کی بنا ان اوصافِ رحمت، رأفت، محبت اور خیر خواہی پر ہے جو آپ کی ذات میں مجسم ہو گئے تھے اور جو مشیتِ خداوندی کے اس پہلو کا ظہور ہے جو سارے انسانوں کی ہدایت اور ان کے لیے وسیلۂ نجات فراہم کرنے سے متعلق ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اسلام میں مذہبی رواداری کی روح میں ایک زیادہ گہری بات پوشیدہ ہے۔ یہ صرف غیر مذہب والے کے لیے ظاہری برداشت کا معاملہ نہیں ہے۔ ظاہر میں جو شے رواداری اور برداشت کے اخلاقی رویے میں ڈھل کر سامنے آتی ہے وہ اصل میں انسان کے باطن میں اخلاق الٰہی کے تخلّق، فطرتِ خداوندی کے عکس و آثار کو اپنے اندر راسخ کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے، وہ فطرتِ الٰہیہ جس نے اپنی ”رحمت اور علم“ سے ہر شے کو گھیر رکھا ہے۔ ”رَبَّنَا وَسِعتَ کُلَّ شَیئٍ رَّحمَةًوَّعِلمًا“ (اے ہمارے ربّ، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے)۔ اسی طرح یہ رویہ رسول خدا کے اسوئہ حسنہ، آپ کے سیرت و اخلاق کے اتباع سے بھی عبارت ہے، ”قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُونِی یُحبِبکُمُ اللّٰہُ وَ یَغفِرلَکُم ذُنُوبَکُم وَ اللّٰہُ غَفُوررَّحِیم“ (اے نبی! لوگوں سے کَہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے)۔ رسول خدا کا اتباع کرنے میں یہ چیز شامل ہے کہ دیگر امور میں آپ کی پیروی کرنے کے علاوہ مسلمان ہر کس و ناکس کے لیے شفیق اور مہربان ہو، ”می شود برکافر و مومن شفیق“۔ آنحضرت کی ذات جس ”حلم“ کا کامل نمونہ تھی یہ رویہ اس کے عین مطابق ہے، ”فَبِمَا رَحمَةٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنتَ لَھُم وَ لَو کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ القَلبِ لَانفَضُّوا مِن حَولِکَ“ ([اے پیغمبر]یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گردوپیش سے چھٹ جاتے)۔ سو غیر مذہب کے پیروکاروں سے برتاؤ کے لیے مسلمان کو ہدایت یہ ہے کہ ان کو ضرر نہ پہنچائے، انھیں ان کی راہ پر چھوڑ دے، ان کو اپنے ”دین“ کو ماننے دے: ”قُل ٰٓیاََیُّہَا الکٰفِرُونَ۔ لَآ اَعبُدُ مَا تَعبُدُونَ وَلَآ اَنتُم عٰبِدُونَ مَآ اَعبُدُوَلَآ اَنَا عَابِد مَّا عَبَدتُّم وَلَآ اَنتُم عٰبِدُونَ مَآ اَعبُدُ۔ لَکُم دِینُکُم وَلِیَ دِین“ (اے نبی! کَہ دو کہ اے کافرو میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو، نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، اور نہ میں اُن کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے، اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین)۔

دوسری جانب دعوت دین کے پہلو سے نظر کیجیے تو مسلمان کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق پیغامِ حق پہنچا دے اور بس۔ اس ضمن میں متعدد آیات قرآنی واضح ہدایات دیتی ہیں، مثلاً ”فَاِن اَسلَمُوا فَقَدِ اھتَدَوا وَ اِن تَوَلَّوا فَاِنَّمَا عَلَیکَ البَلٰغُ“ (اگر اُنھوں نے اللہ کی بندگی قبول کرلی تو وہ راہِ راست پا گئے اور اگر اُس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی) اور ”فَاِِن اَعرَضُوا فَمَآ اَرسَلنٰکَ عَلَیہِم حَفِیظًا اِِن عَلَیکَ اِِلَّا البَلٰغُ“ (اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبی، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بناکر تو نہیں بھیجا ہے، تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے)۔

ان سب باتوں کے پیش ِنظر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گرد و پیش سے ہمارا احاطہ کرتے ہوئے، رواداری اور ہمدردی سے محروم ایک کرخت ماحول کو دیکھتے ہوئے ہمارے زمانے کو ضرورت ہے کہ اسلام کا امن و آشتی، محبت، رحمت اور ہمدردی کا پہلو اجاگر کیا جائے جو قرآن مجید کے اساسی اور ہر اعتبار سے مرکزی پیغامِ رحمت اور امن، محبت، بھائی چارے اور خیر خواہی کے اصولوں کی جانب تو جہ دلائے اور یادآوری کرتا رہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب سے بڑھی ہو ئی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ ”وَ رَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیئٍ“ (اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے) اور ”کَتَبَ رَبُّکُم عَلٰی نَفسِہِ الرَّحمَةَ“ (تمھارے ربّ نے اپنے اُوپر رحمت کو واجب کرلیا ہے)۔ اور جب سب کچھ سمٹ کر مٹ جائے گا تو رحمت کا سایہ ہی آخری پناہ ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: