کیا ہمیں جدید ہتھیار بنانا چاہیے؟ ملک گوہر اقبال

0
  • 13
    Shares

“ہم پشاور سے جہلم تک باپیادہ سفر کرتے ہوئے پہنچے اور راستے میں کچھ کام بھی کرتے تھے یعنی باغیوں سے اسلحہ چھیننا اور ان کو پھانسیوں پر لٹکانا۔ یہ جاننے کے بعد کہ اس قسم کی موت کی وہ کوئی خاص پرواہ نہیں کرتے تو ان میں سے چار آدمیوں کو فوجی عدالت کے حکم سے توپوں سے باندھ کر اڑا دیا گیا۔ یہ طریقہ اگر چہ نہایت دل خراش تھا لیکن صرف اسی سزا کا ان لوگوں پر اثر ہوا اور ہماری ہیبت ان کے دلوں پر بیٹھ گئی۔ ایک دن بڑے دھماکے کی آواز سے ہم چونک گئے جس کے ساتھ ایک وحشت ناک چیخ بھی سنائی دی۔ دریافت کرنے پر ہمیں ایک آفیسر نے بتایا کہ یہ نہایت ہی کرب انگیز نظارہ تھا یعنی ایک توپ میں اتفاق سے بارود زیادہ بھرا ہوا تھا جس کے چلائے جانے سے بدقسمت ملزم کا گوشت ریزہ ریزہ ہو کر فضاء میں اڑا اور تماشائیوں پر خون کے چھینٹے اور گوشت کے ٹکڑے گرے اور اس کا سر ایک راہ چلتے شخص پر اس زور سے گرا کہ اس کو بھی چوٹ آگئی۔” عزیزانِ من! انگریز مصنف مسٹر ایڈورڈ ٹامسن نے اپنی کتاب ‘دی آور سائڈ آف دی مڈل’ میں انقلاب 1857ء کے یہ درد ناک حالات اور انگریزوں کی درندگی کے سارے واقعات بیان کیے ہیں۔ یہ تو اس کتاب کی ایک چھوٹی عبارت تھی جو لارڈ رابرٹس نے اپنی ماں کو ایک چھٹی میں لکھی تھی۔ آپ کبھی یہ کتاب نکال کر پڑھنے کی زحمت کیجیے تو آپ جان لیں گے کہ تہذیب و اخلاق کے ان دعویداروں نے اس حق بجانب بغاوت کا کیا علاج کیا؟ مذہبی جنونیت کی اصلاح کے لیے ان دانشمندوں کا طرزِ عمل خود کیسا رہا جو یورپ سے خدمتِ خلق کے لیے سات سمندر پار کر کے ہندوستان آئے تھے۔ یعنی صرف کارتوسوں کے انکار پر جو انسانیت سوز سزائیں دی گئی تھیں اور جس بربریت اور درندگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اس کی مثال تاریخ کے اوراق میں نہیں ملتی۔ لارڈ رابرٹس کے نزدیک اس قسم کی درندگی کا مقصد یہ تھا کہ “ان بدمعاش مسلمانوں کو بتادیا جائے کہ خدا کے حکم سے صرف انگریز ہی ہندوستان پر حکومت کریں گے۔”

وہ مسلمان جو بحیثیت فاتح قوم ہندوستان میں داخل ہوئے تھے، ہزار سال تک ہندوستان کے تخت کے تاجدار بنے رہے وہ مسلمان اتنے مغلوب کیسے ہوئے؟ ایک بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود انگریزوں سے شکست کیسے کھا گئے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے تلواریں اور نیزے تو بہت بنائے لیکن جدید ہتھیار بنانے سے غافل رہے اور توپ سازی اور بارودی ہتھیار بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ حلانکہ جدید ہتھیار بنانا ایک دینی حکم بھی ہے اور ہمارے اسلاف نے بھی وقت کی جنگیں جدید ہتھیاروں کے ساتھ لڑی ہیں۔ آج دنیا بارود بنانے کا سہرا چین کے سر باندھتی ہے کہ چینیوں نے سب سے پہلے بارود بنائی۔ اگرچہ یہ بات درست ہو یا نہ ہو لیکن یہ درست ہے کہ انگریزوں سے بہت پہلے 692 عیسوی میں حجاج بن یوسف کے دور میں مسلمانوں نے توپ اور بارود کا استعمال کیا تھا۔ اسی بارودی ہتھیار کی مدد سے عثمانی ترکوں نے بازنطینی عیسائی سلطنت کا خاتمہ کیا اور سلطان محمد نے 1453 عیسوی میں یورپ میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ جب 73 سال بعد 1526 عیسوی میں ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تب پہلی بار بارودی ہتھیار توپ کا استعمال کیا۔

بابر کے فتح کے بعد ہی ہندوستان کے اس سنہری دور کا آغاز ہوا، جس کو مغلوں کے عظیم مغل اورنگزیب عالمگیر نے آخری حدوں تک پہنچایا جس میں کابل اور قندھار بھی ہندوستان میں شامل رہے۔ یہی وہ دور تھا جس میں دنیا ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہتی تھی۔ دراصل یہ ہندوستان کی دولت اور خوشحالی ہی تھی جس کے لیے یورپی قومیں شکاریوں کی طرح روندتی ہوئی آئی تھیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد اور مغلوں کے سرخیل ظہیر الدین بابر کے جانشین توپ سازی کو مزید فروغ دیتے اور ساتھ ہی دوسرے بارودی ہتھیاروں کے موجد بنتے لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا اور یورپ کی دوسری اقوام نے اس جانب توجہ دی تب رائفل، مشین گن، دستی بم اور چھوٹی توپیں وغیرہ وجود میں آگیے۔ جب انگریز 1601ء میں پہلی بار برصغیر کی جنوبی بندرگاہوں پر اترے تو وہ اپنے ساتھ بندوق، رائفل اور بھاپ سے چلنے والے سمندری جہازوں کا بیڑا بھی ساتھ لیکر آئے۔ لیکن پھر بھی اس حقیقت پر کسی مغل بادشاہ نے غور و فکر نہ کیا جس کا نتیجہ کیا ہوا یہ آپ 1707ء میں عالمگیر کے وفات کے بعد 1857ء کے انقلاب آزادی تک کے حالات میں پڑھ سکتے ہیں۔

سویڈش کے تحقیقاتی ادارے سپری نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عالمی سطح پر اسلحے کے خرید وفروخت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو ممالک انسانی ترقی کے لحاظ سے 30ویں نمبر سے پیچھے ہیں وہ سب سے زیادہ ہتھیار خرید رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب جو انسانی ترقی کے لحاظ سے 39ویں نمبر پر ہے وہ اسلحہ خریدنے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یو اے ای انسانی ترقی کے لحاظ سے 34ویں نمبر پر ہے اور اسلحہ خریدنے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ تحقیق کے لحاظ سے ہمارا دوست ملک چین انسانی ترقی کے لحاظ سے 86ویں نمبر پر ہے جبکہ اسلحہ خریدنے میں 5ویں نمبر پر ہے اور پاکستان انسانی ترقی کے لحاظ سے 150 جبکہ اسلحہ خریدنے میں 9ویں نمبر پر ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو ممالک اسلحہ فروخت کرتے ہیں وہ دوسروں کے بہ نسبت زیادہ خوشحال اور انسانی ترقی کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہیں۔ اسلحہ فروخت کرنے میں امریکہ، روس، فرانس، جرمنی اور چائنہ بالترتیب سرفہرست ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ ممالک اپنی بجٹ کا زیادہ فیصد اسلحے کے خرید و فروخت پر خرچ کرتے ہیں۔ آج دنیا بھر کے دانشوروں کی طرح ہمارے دانشور بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلحہ خریدنے اور بنانے پر اتنی رقم خرچ کرنے کے بجائے یہ رقم معیشت کو مضبوط کرنے، غربت کو ختم کرنے اور صحت و تعلیم وغیرہ پر خرچ کیوں نہیں کرتے؟ میری ان بھائیوں سے گزارش ہے کہ کیا جدید ہتھیار خریدنا اور بنانا چھوڑ کر آپ دوبارہ ہندوستان کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت انسانی ترقی کے لحاظ سے 130 جبکہ اسلحہ خریدنے میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔ کیا آپ بھارت کے توپوں سے ہمارے سینے چھلنی کرنا چاہتے ہیں؟ یہ تو خالص اللہ تعالیٰ کے احسان سے، افواجِ پاکستان کی محنت اور ذوالفقار علی بھٹو کے جذبے کی بدولت ممکن ہوا اور ہم ایٹمی قوت بن گئے کہ “ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔”

آج ساری دنیا پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی معترف ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام دنیا کا سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا پروگرام ہے جو جلد ہی پاکستان کو دنیا کا تیسری بڑی ایٹمی طاقت بنا دیگا۔ یہاں تک کہ پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی میں امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آج پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے مسلم دشمن طاقتوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بحیثیت مجموعی جدید ہتھیار بنانے اور ایٹمی پروگرام کو بڑھانے پر متفق رہیں کیوں کہ اسی میں ہماری بقا ہے اور یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔ اور میرے وہ بھائی جو ہتھیار بنانے کے بجائے معیشت کی بات کرتے ہیں انہیں یہ جاننا چاہیے کہ ہمارے نبی صلعم نے بھوک کی شدت سے پیٹ پر دو پتھر باندھے تھے لیکن تلواریں 9 رکھی تھیں۔ ہمارے نبی صلعم نے کرتا ایک، کمبل ایک، عمامہ ایک، یمنی جامہ ایک اور رومال ایک رکھا لیکن ان کے سامان میں ذرہیں سات تھیں۔ محمد رسول اللّٰہ کے پاس وضو کے لیے برتن ایک، شیشے کا پیالہ ایک، اور پیتل کا بڑا کونڈا ایک تھا لیکن ڈھال 2، نیزے 5، ترکش 2 اور کمان 6 کی تعداد میں تھے۔ اور جنگ پر جانے کے لیے سواریوں میں 2 گدھے، 4 خچر،اور 9 گھوڑے پال رکھے تھے۔

سیرت پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ثابت ہے کہ جنگ کے امکانی خدشے کی بنا پر اپنے لیے سامان حرب جمع اور تیار رکھنا چاہیے۔ مقابل کے ارادوں سے نمٹنے کی صلاحیت ہو تو ہی آپ بہتر حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ کمزوری یا عدم صلاحیت محض دشمنوں کو حاوی ہونے کا ہی موقع دیتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: