قوم اور امت

0
ہمارے ہاں قومیت اور امت کی بحث نئی بات نہیں ہے جہاں کچھ فلاسفر و مفکرین قومیت کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں وہیں امت کے نظریہ کو قومیت کے سامنے متبادل کے طور پر کھڑا کیا جاتا ہے. امت کے ساتھ لگاوٹ رکھنے والے مذہب کو بھرپور طریقے سے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے اور عام افراد کی مذہب کے ساتھ جذباتی لگاوٹ کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اور قومیت کے حق میں بات کرنے والے لوگوں کی قومیت ہمیت کو اکسانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں. 
امت اور قومیت ہے کیا اور کیا یہ ایک دوسرے کے متصادم ہیں؟ آج ہم اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے. 
 
امت؛ 
ایسے نظریات اور تصورات جن کا تعلق مذہب سے ہو ان پر اکثر اوقات متفقہ رائے کا قائم ہو جانا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور یہ نعمت ہم مسلمانوں سے ہمیشہ ناراض ہے نظر آتی ہے. امت کے سوال پر بھی ہمیں ایسے ہی حالات سے واسطہ ہے کہ امت کی کوئی جامع تعریف یا متفقہ تعریف کی تشنگی باقی رکھتے ہوئے ہی آگے بڑھیں گے 
 
ہر انسان کا کسی خطے اور معاشرے میں رہتے ہوئے کوئی نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور اسلام میں خاص طور پر مسلم امہ جیسے نظریہ پر بھر پور زور دیا جاتا ہے دوسرے مذاہب میں تصور تو شاید ہو لیکن کبھی اس قدر ابھارا نہیں گیا. جب امت مسلمہ سے متعلق معاملات پر بات ہوتی ہے تو چاہے عربی ہو یا عجمی، بلا رنگ و نسل، لسانیت و علاقائیت ساری دنیا کے مسلمان امتِ محمدی ص میں شمار کئے جاتے ہیں.
 امت کے متعلق اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ ” ہر زمانے کے لئے ایک کتاب ہوتی ہے (٣٨.١٣)، اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہوتا ہے (٤٧.١٠)،اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا (١٦.٣٦)، اسی طرح اے محمد ہم نے تجھے اس امت میں جس سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو(١٣.٣٠).
(اے محمدﷺ) ھم نے تجھے تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ھے (١٠٧.٢١)  ھم نے تم سے پہلے (بہت سے) رسول بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ھیں اور کچھ ایسے ھیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔  (٧٨٠٤٠) کوئی امت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ھے نہ پیچھے رہ سکتی ھے (٢٣.٤٣). 
محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ھیں بلکہ الله کے رسول اور نبیوں )کے سلسلے( کو ختم کردینے والے ھیں (٣٣.٤٠) اور ھم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے نبی بھیجے تھے۔ (٤٣.٦) اور اسی طرح ھم نے تجھے امتِ معتدل بنایا ھے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ (٢.١٤٣)۔
ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے.(٢.١٤٤).
 
امت کے بارے میں تصور میرا خیال ہے بہت واضح ہوچکا ہے، امت تو تعلق خالصتاً ایک ایسے نظریہ پر ہے جو بھلائی کا درس دینے والے، نیک اعمال کرنے والے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے والے ہیں لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں مسلم ہی نیکی کی دعوت دینے والے ہیں؟ اس کا جواب ہے کہ ایسا بالکل نہیں مسلم امہ کی منفرد پہچان ان کا ایک مرکز ہے جس کو اوپر آیات میں ذکر ہے اور بھلائی کے وہ معیار ہیں جو عالم انسانیت کے لئے یکساں ہیں ایسا نہیں کہ ان کی نیکی کا درس مخصوص مفادات کے حصول کیلئے لئے ہے. 
تو ثابت ہوا کہ امت کا نظریہ مقصد حیات پر مبنی ہے نہ کہ مخصوص پہچان پر. امت کے اندر مختلف پہچان کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور اپنی یہ پہچان برقرار رکھتے ہیں. 
اب کچھ بات کرتے ہیں قومیت پر. 
 
قوم یا قومیت؛ 
 
قومیت کے اس وقت دنیا میں دو بڑے نظریات رائج ہیں.  مغربی ممالک کا قومیت کا نظریہ اور مشرقی قومیت کا نظریہ. 
جدید مغربی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معانی ہیں. ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی نظر میں قومیت کا نظریہ ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے جس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور بلا وجہ تنازعات کی بنیاد پیدا ہوتی ہے نتیجہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آتا ہے. اس کے پس منظر میں وہ ترکوں اور عربوں کی اور جرمنوں اور برطانوی مخالفتوں کی مثال دیتے ہیں. اقبال قوم کے لئے ملت کے مترادف الفاظ استعمال کرتے ہیں جو کہ مذہب  کی بنیاد پر باہمی اخوت پر قائم کیا گیا نظریہ ہے. ڈاکٹر اقبال رحمۃ اللہ کے ملت کے بارے میں نظریہ اگر ان کا مسلمان ہونے کے ناطے مسلمانوں کے لئے پر خلوص خواب کہہ لیا جائے تو نے جا نہ ہوگا. 
 
قوم کے بارے میں زمینی حقائق اور مشاہدات کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں. جیسا کہ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتا ہے لیکن دھرتی اور زبان کا چونکہ کوئی مذہب نہیں ہوتا اس لئے عربی زبان مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی ہے اس لئے جب قوم کی بات کی جائے گی تو اس میں صرف مسلمان ہی نہیں،  عیسائی اور یہودی بھی شامل ہونگے. 
پاکستان کے خطہ ارض کی بات کریں تو پاکستانی مسلمان اسلام سے متعلق ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا حصہ ہیں لیکن زبان، زمین، ثقافت اور سماجی اقدار کے لحاظ سے پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی، سرائیکی اور کشمیری قومیت ہیں. 
خطہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑا فریب قیام پاکستان یا علاقائی خود مختاری کے تحریک کے دوران سے لے کر اب تک جو کیا گیا ہے وہ ہے تاریخی لحاظ سے قومی شناخت کو مسخ کرنا یہ کھیل امت کی آڑ میں مذہبی جذبات کو استعمال کرکے نصابی تعلیم کے ذریعے کھیلا گیا ہے ایک غیر محسوس طریقے سے سے ہندوستانی مسلمانوں کی ہندوستانی قومی شناخت کے اور عرب قومیت کو امت کے رنگ میں پیش کرکے ذہنوں پر مسلط کیا گیا ہے. اسی غیر قومی نظریہ سے دو قومی نظریہ اخذ کرتے ہوئے ایک ایک طبقے کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا گیا جو آج ہمارے اوپر مسلط ہے اور مسلسل قومی شناخت کے لئے بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے. 
ایک ہی زمین، زبان، تہذیب، ثقافت اور تاریخی پس منظر کے باعث مسلمان سندھیوں کے علاوہ ہندو سندھی بھی، سندھی قوم کا حصہ ہیں. مسلم پنجابیوں کے علاوہ سکھ پنجابی و ہندو پنجابی اور عیسائی پنجابی بھی پنجابی قوم کا حصہ ہیں. 
 
قوم دنیا کی ایک ٹھوس حقیقت ہے جس سے انکار کسی صورت ممکن نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی و مذہبی نظریہ کی بنیاد پر قومی شناخت کو ختم کیا جا سکتا ہے نہ ہی بدلا جا سکتا ہے. 
قومی شناخت اور حقیقت کی گواہی اللہ تعالٰی کے ارشادات سے ملتی ہے. 
 
لوگو؛ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، اور اللہ کے نزدیک تم میں سے عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے (١٣.٤٩)
 
اللہ تعالٰی کے ارشاد میں قومیت کی اہمیت واضح کردی گئی ہے لیکن قومیت کو وجہ برتری یا کمتری بنانے سے ممانعت کی گئی ہے. 
 
پاکستان کے قیام کی بنیاد سے لے کر اب تک پنجابی، سندھی، پٹھان اور بلوچ قوموں کے تہذیبی اقدار کو نظر انداز کرکے مذہب کی بنیاد پر قومیت کا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش بری طرح سے ناکام ثابت ہو چکی ہے علاقائی قومی حقیقتوں کو پس پشت ڈال کر وطنیت کا پرچار کیا گیا ہے، امت کو قومیت کا رنگ دے کر تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے، علاقائی زبانوں کے اوپر ایک ایسی زبان کو فوقیت دی گئی ہے جو گنگا جمنا کی ثقافت ہے اس گنگا جمنا کی ثقافت سے مزاحمت کی پاداش میں بنگالی زبان و ثقافت کی ایک بڑی قومیت، وطنیت کے نظریہ سے الگ ہوچکی ہے. اسی طرح باقی قومیتوں کے نمائندگان بھی عدم اعتماد و شناخت کی بقا کی لڑائی لڑنے پر مجبور ہیں. 
اس کا واحد حل یہ ہے کہ ملکی سطح پر علاقائی زبانوں، تہذیبوں اور سماجی اقدار کا احترام کرتے ہوئے انہیں ان کا جائز مقام دیا جائے تعلیم نصاب، دفتری امور میں انگریزی کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کو شامل کیا جائے. اردو قومی رابطہ کی زبان رکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اردو کا علاقائی زبانوں پر مسلط کرنا کسی طور پر جائز نہیں. 
 
امت میں شامل ہونا انسان کا اختیاری اور شعوری عمل ہے لیکن قومیت کا وجود ایسی ٹھوس اور پیدائشی حقیقت ہے جس اندر انسان آنکھ کھولتا ہے. اس تصور کو سمجھنے کے لئے خاندان کی مثال لیتے جیسے ایک باپ کی اولاد اپنی مرضی سے اپنے لئے الگ گھر، محلہ یا شہر میں سکونت اختیار کرکے وہاں کے رسم و رواج اور قوانین سے استفادہ کر سکتے ہیں لیکن اپنا خاندانی نام والد اور آجاؤ اجداد کو تبدیل کرنا ان کے بس میں نہیں ہے. 
 
امت اور قومیت دو الگ الگ حقیقتیں ہیں اس لئے دونوں کی اہمیت اور مقام کو اپنی اصل کے ساتھ تسلیم کیا جائے قومی شناخت کا احترام ہی ہمیں امت کی اکائی میں پرو سکتا ہے.  صدیوں پرانی تاریخ کی حامل قومیت کو نظر انداز کرکے یا امت کے تصور سے متصادم لا کر امت کا پرچار محبتوں کو نہیں بلکہ نفرتوں کو بڑھائے گا. لمحہ فکریہ. 
  

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: