تمیز دار بہو کی بدتمیزی —— فتح محمد ملک

0

اگر آپ کو اُردو قصہ گوئی سے برائے نام دلچسپی ہے تو بھی آپ نے اُردو ادب کے بہی خواہوں سے یہ ضرور سُن رکھا ہوگا کہ ہماری نثر کی جھولی اچھے ناولوں سے خالی ہے۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران ہمارے ہاں جب کبھی بھی اور جہاں کہیں بھی ناول پر بات چلی تان یہیں آ ٹوٹی کہ اُردو ناول کا مستقبل تاریک ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے اپنے پاس تو سرے سے ناول کی کوئی روایت تھی ہی نہیں۔ بے چارے مولوی نذیر احمد نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر قصہ گوئی کی مغربی روایت شروع کی جسے کامیابی سے برتنے والا کوئی مائی کا لال پیدا نہ ہُوا۔ میری سنیے تو یہ اُردو ناول کا ماضی و حال تاریک ہے اس کی ذمہ داری بڑی حد تک خود مولوی نذیر احمد پر ہے۔ ہندوستان میں مکہ معظمہ کی عملداری شروع ہونے کے فوراً بعد ناول کی مغربی روایت کا شروع ہو جانا اگر اس قدر ضروری ہو گیا تھا تو یہ تو ہر گز ضروری نہ تھا کہ روایت کی داغ بیل ڈپٹی مولوی نذیر احمد ڈالتے۔ نہ بھلا ہو سرولیم میور اور مسٹر ایم کیپسن کا جنھوں نے نذیر احمد کے اصلاحی قصوں کو مقبول بنا کر ہماری قصہ گوئی کی روایت کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اگر نذیر احمد اُردو کے پہلے ناول نگار نہ ہوتے تو آج ہمارے معاشرے اور ہمارے ناول کی حالت اس قدر زبوں نہ ہوتی۔ اس سلسلہ میں دو باتوں پر از سرِنو غور کرنا ضروری ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مولوی نذیر احمد کا نقطۂ نطر اس قدر محدود ہے کہ اُسے ادبی نقطۂ نظر کہے بغیرچارہ ہی نہیں۔ وہ سعدیؒ کی گلستان تک کو فحاشی کا نمونہ قرار دے کر ثوابِ دارین حاصل کرتے ہیں جہاں مشرق کے اس عظیم مصلح سے ان کا سلوک اس نوعیت کا ہے وہاں اگر ہم ادب و شعر کے بارے میں ان سے کسی فنی نقطۂ نظر کی توقع رکھیں تو یہ اپنے آپ سے زیادتی ہو نہ ہو خود مولوی نذیر احمد کے ساتھ زیادتی ضرور ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی قدرتی کمزوری ہے۔ ہندوستانی میں جاگیرداری نظام کے قائم ہونے سے برسوں پہلے بھی یہاں کی طبقاتی فضا میں علم و فن کے اجارہ دار فقط چند برہمن ہی تھے۔ مغل آئے تو بھی فنونِ لطیفہ سے شغف محض جاگیرداروں اور نوابوں کا مشعلہ ٹھہرا۔ صرف وہی لوگ ادب سے لطف اندوز ہو سکتے تھے جن کے والدین گھر پر اتالیق رکھنے کی استطاعت رکھتے تھے۔ عام آدمی کی ذہنی تربیت مذہبی اور اخلاقی پند و نصائح سے ہوتی تھی۔ مولوی نذیر احمد کٹھ ملائوں کے طبقے سے ترقی کر کے آئے تھے اور اپنے ساتھ ادب وفن کے وہی معیار لائے جن کی رُو سے فنونِ لطیفہ کو مخرب الاخلاق قرار دینا ملائیت کی بقا کے لیے ضروری تھا۔

دوسری اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں جس چیز کو مغربی روایت کہا جاتا ہے وہ دراصل ناول کی سرکاری روایت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوچ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوتی کہ جس وقت ایمیلی برونٹی ’’وورنگ ہائٹس‘‘ لکھ رہی تھیں۔ عین اس وقت مولوی نذیر احمد ڈینیل ڈیفو کے ناکام ناولوں کے کامیابی چربے اتارنے میں مصروف تھے۔ جن انگریز افسروں کو مولوی نذیر احمد مسلمانوں کے ہارون الرشید اور منصور اور ہندوئوں کے بکرماجیت اور بھوج کہتے ذرا نہ شرمائے اور جن کی قدردانی ان کی ناول نگاری کا باعث ہے۔ ان کا ادبی ذوق محل نظر ہے یا تو وہ خودناول نگاری کی مغربی روایت سے ناآشنا ہیں اور یا پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق تجاہل عارفانہ سے کام لیتے نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے ان انگریز افسروں نے اپنے زمانۂ طالب علمی میں چند نصابی کتابوں میں مغربی ناول کے جو اولین نقوش دیکھے انہی کو ناول سمجھ بیٹھے۔ اس میں سرکاری نقطۂ نظر کو آمیز کر کے ایک نسخۂ کیمیا بنایا اور پھر اس پر انعام کے لالچ اور ترقی کی ہوس کا طلسم پھونک کر اسے اردو ناول کے جد امجد کو پیش کر دیا۔ چنانچہ بائیبل کی زبان میں ڈپٹی ندیر احمد نے جو کچے انگور کھائے تھے ان سے میرے آپ کے دانت کھّٹے ہو گئے۔ اس ساری کتھا کا انتہائی دردناک پہلو یہ ہے کہ ہم آج تک نذیر احمد کو ’’ایک منفرد مبلغ اور بعض جمہوری معاشرتی مشکلات و مسائل کا اچھا ترجمان اور نباض‘‘ یعنی مصلح قوم سمجھتے ہیں اور ان کے اصلاحی مقصد کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے ایک سخت گیر نقاد کی رائے یہ ہے:

’’ان قصوں کو سامنے رکھ کر مولانا نے لڑکیوں کے لیے نہایت اعلیٰ درس بہم پہنچایا ہے اور جب تک گھریلو زندگی قائم ہے اس درس کی اہمیت باقی رہے گی اور اکبریج اصغری کا قصہ مقبول رہے گا۔ یوں تو اس کتاب کا سبق ہندوستان کے مسلمانوں ہی کے لیے مخصوص معلوم ہوتا ہے مگر گہری نظر ڈالنے والوں کو یہاں مزاجداری اور تمیزداری کی دائمی اخلاقی قدریں ملتی ہیں اور ان پر دنیا کے گوشے گوشے میں کامیاب زندگی کا دارومدار ہے۔‘‘

یہ ان ڈاکٹر احسن فاروقی صاحب کی رائے ہے جو نذیر احمد کو سرے سے ناول نگار ہی نہیں مانگتے۔ میرا خیال یہ ہے کہ جب تک ہمارے نقّاد اصغری کے کردار کو حسن و خوبی کا مثالی نمونہ قرار دے کر اس میں دائمی اخلاقی اقدار ڈھونڈتے رہیں گے اور نذیر احمد کی مقصدیت کو گھریلو زندگی کے قیام و بقا کا ضامن بتاتے رہیں گے۔ ہمارے معاشرہ میں گھریلو انتشار روز بروز بڑھتا جائے گا اور ہماری زندگی کو رشوت ستانی سے لے کر سمگلنگ تک اور ریاکاری و منافقت سے لے کر غداری تک ہر طرح کی بدعنوانیوں کے گھن کھاتے چلے جائیں گے۔ بات یہ ہے کہ نذیر احمد اپنے اصلاحی قصوں میں جس مثالی معاشرہ کا خواب دیکھتے نظر آتے ہیں اس کی اساس مہر و محبت کی بجائے خود غرضی اور نفرت پر ہے۔ ان کے ہاں گھریلو زندگی کی کامیابی کا راز اور انسانی رشتوں کی ساری معنویت چند مصلحتوں میں پوشیدہ ہے۔ اس سلسلے میں ان کے صرف ایک مثبت کردار کے چند منفی پہلو دیکھیے۔

مولوی نذیر احمد کا سب سے پہلا اصلاحی قصہ مراۃ العروس ہے جو انھوں نے اولاً اپنی پیاری بچی کی تربیت کی خاطر لکھا اور ثانیاً سرکاری قدردانی کے باعث پوری قوم کو سونپ دیا(۱)۔ یہ قصہ کاہے کو ہے اچھا خاصا وعظ ہے جس میں لڑکیوں کو ہنرمندی اور سلیقہ شعاری کا درس دیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں ایک بے ہنر اور بے سلیقہ لڑکی کی حالتِ زار کا نقشہ کھینچ کر بیبیوں کو عبرت دلائی گئی ہے۔ دوسرے حصہ میں مولانا نے اپنے پسندیدہ کردار اصغری کا مثالی نمونہ پیش کر کے نئی عورت کو اس کی تقلید کی تلقین فرمائی ہے۔

اصغری کی شادی ہونے والی ہے۔ اس کا باپ دور اندیش خاں اسے پند و نصائح پرمشتمل ایک خط لکھتا ہے جسے مشعلِ راہ بنا کر اصغری سسرال میں آتے ہی تمیزدار بہو کاخطاب حاصل کرتی ہے۔ کیوں نہ ہو باپ کے گھر میں:

’’یہ لڑکی ایسی تھی جیسے باغ میں گلاب کا پھول یا آدمی کے جسم میں آنکھ۔ ہر ایک طرح کا ہنر، ہر ایک طرح کا سلیقہ اس کو حاصل تھا۔ عقل، ہنر، لحاظ سب صفتیں خدا نے اصغری کو عنایت کی تھیں۔ لڑکپن سے اس کو کھیل کود ہنسی اورچھیڑے سے نفرت تھی۔ پڑھنا یا گھر کا کام کرنا۔ کبھی اس کو کسی نے واہیات بکتے یا کسی سے لڑتے نہیں دیکھا۔ محلے کی جتنی عورتیں تھیں سب اس کو بیٹیوں کی طرح جانتی تھیں‘‘

الغرض ننھی اصغری نہ صرف اکبری کے برعکس بہو بیٹیوں کا طور رکھتی تھی یعنی چھوٹی قوم والوں سے بالکل نہ ملتی تھی بلکہ گرگ باراں دیدہ قسم کی کٹینوں سے بھی زیادہ عقلمند تھی۔ خیرصاحب! یہ تو ہُوا اس کا بچپن، سسرال میں آتے ہی مردانہ (بلکہ مولویانہ) صفات کی یہ عورت نہ صرف اپنے خاوند کی راہنما بن جاتی ہے۔ بلکہ سارے خاندان کی بگڑی ہوئی مالی حالت کو سدھار لیتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پہلے تو وہ نوکرانی سے جاسوسی کا کام لیتی ہے اور پھر اپنی اس تمنّا کو پورا ہوتے دیکھتی ہے۔

’’انشاء اللہ تجھ کو وہاں ماروں کہ پانی نہ ملے اور ایسا اجاڑوں کہ اس محلے میں آنا نصیب نہ ہو۔‘‘

ماما عظمت سے نبٹنے کے بعد خاوند کی بے روزگاری کا مرحلہ درپیش ہے چنانچہ:

’’اصغری نے کہا۔ ’’انگریزی نوکری تلاش کرو‘‘…… اصغری نے کہا۔ ’’جو لوگ نوکری پیشہ ہیں ان سے ملاقات پیدا کرو۔ ان سے محبت بڑھائو۔ ان کے ذریعہ تم کو نوکری کی خبر لگتی رہے گی اور انھیں کے ذریعہ تم کسی حاکم تک پہنچ جائو گے۔‘‘

مختصر یہ کہ اصغری اپنے خاوند کو ترقی کے ایسے ایسے گُر بتاتی ہے کہ وہ نہایت قلیل عرصہ میں نہایت اونچا عہدہ حاصل کر لیتا ہے۔ خود اصغری نہ صرف ذاتی زندگی کو مادی خوشحالیوں سے سرسبز و شاداب بنا لیتی ہے بلکہ مسجد بنا کر اور فارغ وقت میں محلہ کی لڑکیوں کو تعلیم دے کر نام بھی پیدا کر لیتی ہے۔ نتیجۃً سسرال کا ہر فرد اس کی خوش سیرتی کا گرویدہ بن جاتا ہے۔ مولوی نذیر احمد اکبری اوراصغری کے کردار کا موازنہ کرتے ہوئے اصغری خانم کی اس نیکی پر فریفتہ ہیں:

’’اکبری کا نام بھی کوئی نہیں جانتا اور خانم کے بازار میں تمیزدار بہو کا وہ عالی شان محل کھڑا ہے کہ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اصغری خانم کے نام سے وہ محلہ، خانم کا بازار مشہور ہوا۔‘‘

اور یوں مولانا نذیر احمد اپنے اصلاحی قصوں میں حسن و خیر کے ان معیاروں کو خیرباد کہہ دیتے ہیں جو ہماری داستانوں میں امیر حمزہ، حاتم طائی اور حسن و خوبی اور خیروبرکت کے ایسے ہی سینکڑوں دیومالائی قسم کے پیکروں کی روح و رواں ہیں اور ان کی جگہ اپنی پست نوعیت کی افادہ پرستی برائے نام اخلاق کا رنگ چڑھا کر نہ صرف اپنی اولاد کو عنایت فرماتے ہیں پوری قوم کے رگ و ریشے میں یہ زہر سرایت بھی کر جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اصلاحی جوش و خروش کی داد بھی وصول فرماتے ہیں۔

معاشرے اور ناول کی ترقی کے لیے نذیر احمد کے ان پسندیدہ کرداروں کا ازسرِنو جائزہ لینا از بس ضروری ہے۔ جب تک یہ نہ ہوگا ہوتا یہ رہے گا کہ قراۃ العین حیدر کی ہیروئن کسی بہت بڑے فوجی افسر کی راہ دیکھتے دیکھتے بڑھاپے کی دہلیز پر جا کھڑی ہوگی اور اس مقام پر پہنچنے کے بعد موصوفہ فوجی افسر کے بجائے اس نیم وحشی پٹھان کے اچانک آدھمکنے کے جاگتے خواب دیکھنے لگے گی جو اُسے زبردستی بھگالے جائے، وغیرہ وغیرہ۔

ایک اصغری خانم پر کیا موقوف ان کے ہر پسندیدہ اور مثبت کردار کی نیکی پسندی اور عظمت اس کی کامیابی سے عبارت ہے۔ کامیابی کا مفہوم سرکاری عہدہ یا مال و دولت سے متعین ہوتا ہے اور اس نیکی کے حصول کی خاطر مصلحت پسندی چاپلوسی اور رشوت ستانی سے لے کرسرکار پرستی تک ہر حربہ صریحاً اسلامی ہے۔ ایک اصغری ہی کو دیکھئے جس میں وہ اپنی چہیتی بچی کا مستقبل دیکھ رہے تھے اس بے چاری پر تو گویا عقلیت پسندی اور دنیاداری کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے۔ اس کے دل میں مامتا کا جدبہ بیدار نہیں ہوتا۔ باپ اور شوہر تک کے ساتھ اس کے تعلقات انسانی محبت کی بجائے مصلحت اور سراسر مادی مصلحت پر مبنی ہیں:

’’لیکن ابّا جان کے آنے سے پہلے گھر میں موجود رہنا مصلحت معلوم ہوتا ہے۔‘‘

اور……

’’اصغری نے دل میں سوچا کہ محمد کامل کو اکیلا چھوڑنا مصلحت نہیں‘‘

یہ اصغری ہے جو شوہر کو سرکار دوستی اور انگریز پرستی کی برکات سے آگاہ کرتی ہے۔ اُسے خوشامد اور رشوت ستانی کے نت نئے ڈھنگ سمجھاتی ہے۔ یوں دیکھنے کو تو وہ محلے کی لڑکیوں کو مفت تعلیم دے کر سماجی خدمات انجام دے رہی ہے مگر ساری کی ساری سماجی خدمت اوراصلاحی جوش و خروش محض رؤسا کے ساتھ سماجی تعلقات قائم کرنے کا پردہ ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی نند محمودہ کو ایک ایسے شخص کے بیٹے سے بیاہنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جس کی سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ بہت بڑا رئیس ہے۔ اصغری کی ساری کی ساری نیکیاں سماجی وقار حاصل کرنے کی خواہش سے پیدا ہوتی ہیں اور سماجی وقار بھی شادی کی طرح محض مالدار بننے اور اپنے نام رئوسائے شہر کی فہرست میں دیکھنے کی ہوس کی تسکین کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔

میں یہ تو سمجھ سکتا ہوں کہ سرولیم میور اور ایم کیپسن نے مولوی نذیر احمد کے اصلاحی قصوں کی وسیع اشاعت و مقبولیت کے لیے راہیں کیوں ہموار کی تھیں مگر یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان قصوں میں حسن و خوبی کے جو پیکر پیش کیے گئے ہیں اُن میں آج کے نقّاد تمیزداری کی بجائے بدتمیزی کی دائمی اقدار کا سراغ کیوں نہیں لگاتے جبکہ خود سیّد احمد (بریلوی نہیں تہذیب الاخلاق والے سرسیّد) ان قصوں کو مسلمانوں کی معاشرت پر اتہام قرار دے چکے ہیں مگر ڈاکٹر سیّد عبداللہ ہیں کہ آج بھی کہے جا رہے ہیں:

’’ہماری سوسائٹی کو آج بھی اصغری کی ضرورت ہے۔‘‘

معاشرے اور ناول کی ترقی کے لیے نذیر احمد کے ان پسندیدہ کرداروں کا ازسرِنو جائزہ لینا از بس ضروری ہے۔ جب تک یہ نہ ہوگا ہوتا یہ رہے گا کہ قراۃ العین حیدر کی ہیروئن کسی بہت بڑے فوجی افسر کی راہ دیکھتے دیکھتے بڑھاپے کی دہلیز پر جا کھڑی ہوگی اور اس مقام پر پہنچنے کے بعد موصوفہ فوجی افسر کے بجائے اس نیم وحشی پٹھان کے اچانک آدھمکنے کے جاگتے خواب دیکھنے لگے گی جو اُسے زبردستی بھگالے جائے، وغیرہ وغیرہ۔ (دسمبر۱۹۶۲ء)


حواشی
(۱) صاحب نے وہ کتاب گورنمنٹ کو پیش کر دی۔ وہاں سے انعام ملا۔ یہاں شیر کے منہ کو خون لگ گیا۔ اوپر تلے کئی کتابیں گھسیٹ ڈالیں۔ جو کتاب لکھی اس پر انعام ملا۔ جو لکھا پسند کیا گیا۔ غرض مصنف بھی بن گئے اور ساتھ ہی ڈپٹی کلکٹر بھی۔ ‘‘ (نذیر احمد کی کہانی۔ از فرحت اللہ بیگ)

(Visited 634 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: