آخری ای میل ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف کے قلم سے عمر میمن مرحوم کا تذکرہ (۲)

0
  • 4
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ دیکھئے۔


میڈیسن میں میرے قیام کے انھی دنوں ایک روز آپ نے خدا جانے کس خیال کے تحت کہا تھا۔
’’اگر آپ ذرا پہلےملی ہوتیں تو میں آپ کو اپنی بیٹی بنا لیتا۔ کم از کم یہ اطمینان تو ہوتا کہ میرے بعد میری کتابیں اور مسودے ضائع نہیں جائیں گے‘‘۔

میں نے دل میں سوچا تھا، اب کیا ہے؟ لیکن کچھ کہا نہیں۔ میرے لیے ہر انسانی تعلق کو کوئی واضح سماجی عنوان دینا ضروری نہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ کو قریبی رشتوں سے محرومی کا شدید احساس ہے۔ اس خیال کو بعد میں اور بھی تقویت ملی، جب آپ نے یہ بتایا کہ ہندوستان اور پاکستان گئے آپ کو کتنے برس بیت چکے ہیں اور آپ کا کتنا جی چاہتا ہے کہ وہاں جا کر پرانے دوستوں سے ملیں لیکن ہندوستان کا ویزا نہیں ملتا اور پاکستان میں کوئی ایسا قریبی عزیز باقی نہیں، جس کے پاس قیام کیا جا سکے۔ تب میں نے بہ اصرار آپ کو اپنے ہاں قیام کرنے کی دعوت دی تھی۔ آپ نے دعوت قبول کرنے سے پہلے مجھ سے ہمارے گھر کی تفصیل، کمروں اور مکینوں کی تعداد کے بارے میں پوری پوچھ گچھ کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ضروریات اور عادات کا نقشہ کھینچ کر مجھے خبردار کیا تھا کہ آپ کی میزبانی میں مجھے کیا کیا خدشات و خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جب میں نے آپ کو اطمینان دلا دیا تو پھر آپ نے پاکستان آنے میں دو ماہ بھی نہیں لگائے تھے۔ اکتوبر ۲۰۱۰ میں میں میڈیسن گئی تھی اور دسمبر ۲۰۱۰ میں آپ اسلام آباد آ گئے۔

اسلام آباد میں آپ کا قیام کتنا خوشگوار رہا تھا۔ یہاں کے سبھی اہم ادیبوں اور شاعروں سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ کچھ ہمارے ہاں تشریف لائے، کچھ نے آپ کو اپنے ہاں دعوت دی۔ منشا یاد، افتخار عارف، مسعود مفتی، حمید شاہد، محمد علی فرشی، جلیل عالی، عالمگیر ہاشمی، حارث خلیق، قاسم یعقوب، صفدر رشید، صلاح الدین درویش، نیلوفر اقبال، سبھی سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ ہماری یونی ورسٹی سے ظفر اسحاق انصاری صاحب، فتح محمد ملک صاحب اور ڈاکٹر انوار صدیقی صاحب بطور خاص آپ سے ملنے آئے۔ اوپن یونی ورسٹی سے ڈاکٹر شاہد اقبال کامران نہ صرف ملنے آئے بلکہ اپنی یونی ورسٹی کے سٹوڈیو میں آپ کا انٹرویو بھی ریکارڈ کیا۔ حلقۂ ارباب ذوق میں ایک شام آپ کے ساتھ منائی گئی۔ منصور عاقل صاحب نے آپ کو اپنے ہاں بلایا اور اپنے حلقے کے لوگوں سے ملاقات کروائی۔ آپ اپنے زمانۂ طالب علمی کے دوست ایس۔ ایم۔ زمان صاحب سے ملے اور دیر تک نوجوانی کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ پھر ہم لاہور گئے۔ آپ کے ایک پرانے ہم جماعت سے، جو صاحب فراش تھے، ملنے پہنچے۔ آپ سلیم الرحمان صاحب کے بہت معتقد تھے۔ ان سے ریڈنگز میں ملے۔ ان کے ساتھ شاہد حمید، ذوالفقارت ابش اور محمود الحسن بھی تھے۔ انتظار حسین صاحب کے گھر گئے اور پھر ان کے ہمراہ اکرام اللہ، مسعود اشعر، صدیقہ بیگم ،زاہد ڈار اور ڈاکٹر ضیا الحسن سے نیرنگ گیلری میں ملے۔ محمود الحسن نے اپنے اخبار کے لیے آپ کا انٹرویو لیا۔ اورئینٹل کالج میں آپ کے ساتھ ایک نشست ہوئی۔ تحسین فراقی صاحب اور دیگر اساتذہ نے بہت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ فراقی صاحب سے تو آپ کی دوستی اور تعلق خاطر آخر تک قائم رہا تھا۔

یہ سب باتیں اور ملاقاتیں آپ کی روح کو شاداب کر رہی تھیں۔ آپ کس قدر خوش اور پر جوش تھے۔ فکشن پر، ترجمے پر، ادب کی ادبیت پر، اس کی سماجی جہت پر، پھر تصوف پر، اردو زبان کی اہمیت اور اس کے بدلتے ہوئےتقاضوں پر، رسم الخط پر، قواعد کی باریکیوں پر کتنی لمبی لمبی بحثیں ہوتی رہی تھیں۔ آپ ہر ایک سے خوب خوب اختلاف کرتے اور دوسروں کو لاجواب کر کے مزا لیتے۔ بعض اوقات دوسرے آپ کے مہمان ہونے کا لحاظ بھی رکھ لیتے تھے۔ مگر مجال ہے جو کبھی آپ نے اپنے مہمان یا کسی اور کے میزبان ہونے کا لحاظ رکھا ہو۔ اپنی رائے کا بلا کم و کاست اظہار کرتے اور اکثر و بیشتر نہایت طنزیہ اور دل شکن لہجہ اختیار کر لیتے۔ بعض اوقات تو نوبت بدمزگی تک جا پہنچتی مگر آپ اس سے بھی لطف اٹھاتے۔ آپ کو اسی بات کی خوشی تھی کہ آپ کے ارددگرد اتنے لوگ ہیں جن سے آپ بات کر سکتے ہیں، سن سکتے ہیں اور اختلاف رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔

یہاں سے آپ کچھ دن کے لیے کراچی چلے گئے تھے۔ وہاں عالمی اردو کانفرنس ہو رہی تھی، اس میں شریک ہو گئے۔ آصف فرخی، اجمل کمال، زینت حسام، کشور آپا، انور سین رائے اور عذرا عباس سے ملاقاتیں ہوئیں جن کا احوال اپنے مخصوص شگفتہ مگر قدرے طنزیہ اسلوب میں آپ نے ای میل میں لکھا تھا۔

پاکستان کا یہ دورہ آپ کے لیے اتنا خوش گوار رہا تھا کہ ایک سال بعد جنوری ۲۰۱۲ میں آپ نے دوبارہ پاکستان آنے کا پروگرام بنا لیا۔ اس سفر کے دوران ہمیں آپ سے بات چیت کا زیادہ موقع ملا تھا؛ کیوں کہ ہماری شناسائی کی مدت بڑھ چکی تھی اور اب ہم آپ سے زیادہ بے تکلفی سے بات چیت کر سکتے تھے اس لیے ہمیں زیادہ لطف آیا اور آپ بھی خوش رہے۔ اس دوران پھر ہم لاہور گئے اور آپ کے احباب سے ملے۔ پھرآپ کراچی سے ہوتے ہوئے واپس چلے گئے۔ ۲۰۱۴ میں لاہور یونی ورسٹی اوف مینجمنٹ سائنسز نے آپ کو دو تین ہفتے کے لیے لاہور بلا بھیجا۔ اس بار بھی آپ سیدھے اسلام آباد آئے۔ آتے ہی سامان سے اپنی اور اپنی بیگم کی فریم شدہ تصویر نکالی اور اپنے کمرے میں سجا دی۔ پھر امی سے رات کو پہننے کے لیے فلالین کی ٹوپی سینے کی فرمائش کی جو امی نے ایک دن میں پوری کر دی۔ عارف کو دال کے سوپ اور تلے ہوئے جھینگوں کی ڈش یاد دلائی اور مجھے منع کیا کہ اس بار کوئی دعوت رکھنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس دورے میں کم از کم اسلام آباد میں آپ اتنے خوش نہیں ہوئے تھے۔ منشا یاد صاحب رخصت ہو چکے تھے، ان کی کمی محسوس کرتے رہے۔ کچھ لوگوں سے ملے لیکن سوائے ایس ایم زمان صاحب کے، کسی اور سے پہلے جیسی گرمجوشی نہ دکھائی۔ دوسری طرف بھی شاید وہ بات نہ تھی۔ حلقے میں گئے تو سہی لیکن سلمان رشدی کے ذکر پر کچھ لوگ بھڑک گئے اور محفل کا رنگ نہ جم سکا۔ پچھلی بار کے تجربوں کی وجہ سے زیادہ لوگ ملنے بھی نہ آئے۔ عام طور پر لوگ اس شخص سے ملنے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں، جس سے ملنے میں کوئی فوری فائدہ یا کم از کم تسکین میسر آ سکے۔ مثلاً شاید کچھ لوگوں کو امید رہی ہو کہ آپ ان کی تحریر کا ترجمہ کریں گے، یا اس کا ذکر ہی اپنی کسی تحریر میں کریں گے یا کم از کم چند تعریفی کلمات ہی عنایت کریں گے۔ آپ ان میں سے کسی توقع پر پورا اترنے والے نہ تھے اس لیے آپ سے ملنے کا اشتیاق رکھنے والوں میں بھی خاطر خواہ کمی آ گئی تھی۔ لیکن سارا قصور دوسروں ہی کا نہیں۔ خود آپ کے مزاج کا رنگ بھی ایسا تھا کہ اس سے گہری آشنائی کے بغیر آپ کی رفاقت کا لطف نہیں اٹھایا جا سکتا۔ بعض اوقات آپ کی گفتگو دوسروں کواپنی توہین اور عزت نفس کے مجروح ہونے کا تاثر دیتی تھی یا پھر یوں کہہ لیں کہ آپ کے سامنے دوسروں کے علمی پول اور فکری جھول کھل کھل جاتے تھے اور ان کی خود اعتمادی لڑکھڑانے لگتی تھی۔ پھر کون خوشی خوشی یہ خطرہ مول لیتا۔ میں بھی ان دنوں یونی ورسٹی کی مصروفیات کے باعث آپ کے حسب منشا زیادہ وقت آپ کے ساتھ نہ گزار پائی، سو مجھ سے بھی آپ کو گلے رہے۔ اکثر مجھے چڑانے کے انداز میں کہتے تھے، ’’بھئی، آپ کے تو خوب مزے ہیں، میری وجہ سے آپ کی کتنی دعوتیں ہو رہی ہیں!‘‘ اور میں سچ مچ چڑ جاتی تھی اس لیے کہ میں ہی تو آپ کی ڈرائیور تھی؛ میں نہ ہوتی تو کون آپ کو یوں لے لے کے گھومتا۔ بس ایک عارف تھے، جن سے آپ بہت خوش تھے اور طرح طرح کی فرمائشیں کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ ہفتے، دس دن بعد ہی میں اور عارف آپ کے پروگرام کے مطابق آپ کو لاہور چھوڑ آئے اور وہاں لمز میں کچھ دن گزارنے کے بعد آپ وہیں سے کراچی چلے گئے تھے۔

یہ آپ سے آخری ملاقات تھی۔ اس ملاقات کے دوران میں نے کئی بار، خاص طور پر لاہور جاتے ہوئے سفر کے دوران، آپ سے ہونے والی گفتگو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تھی۔ کبھی یہ کوشش کامیاب ہوئی، کبھی ناکام رہی؛ کیوں کہ آپ کی آواز بیچ بیچ میں بہت آہستہ ہو جاتی تھی۔ پھر میں گاڑی کی اگلی نشست پر تھی اور آپ پچھلی نشست پر۔ ریکارڈنگ کا اہتمام دیکھ کر آپ چڑ جاتے تھے اس لیے فون آپ کے سامنے بھی نہیں رکھ سکتی تھی۔ میرے سوالوں سے بھی آپ زچ ہوتے تھے اور بار بار مجھے ڈانٹتے تھے۔ لیکن آپ کی زندگی کے بہت سے واقعات، بالخصوص آپ کے والد، نامور اور بے بدل عالم عبد العزیز میمن کی ابتدائی زندگی کی جدوجہد کا احوال کسی حد تک محفوظ ہو گیا ہے۔ شاید یہ باتیں اور کہیں محفوظ نہیں ہیں۔

اس گفتگو میں ایک تنک مزاج ادیب اور مترجم ہی نہیں، ایک عظیم دانش ور اور فلسفی بھی نظر آتا ہے۔ یہ آپ کی شخصیت کی وہ جہت ہے جسے آپ نے اپنے ترجموں کی آڑ میں چھپا رکھا تھا۔ میں نے کئی بار آپ سے کہا تھا کہ آپ ترجمے کے بجائے خود اپنے مضامین کیوں نہیں لکھتے؟ ۲۰۱۳ میں جب لمز کے اردو جرنل بنیاد کی ادارت کے فرائض میرے سپرد ہوئے تو میں ہر شمارے کے لیے آپ سے مضمون کا تقاضا کرتی تھی۔ آپ ہمیشہ تراجم بھیج دیا کرتے۔ صرف ایک مرتبہ آپ نے اس درخواست کو شرف قبولیت بخشا تھا اور اپنا ایک مضمون ’’مصری کی ڈلی یا سفید چینی: ترجمہ نگاری اور اس کے آزار‘‘ کے عنوان سے عنایت کیا تھا۔ عنوان کی طرح مضمون کا اسلوب بھی تیکھا اور تند تھا۔ آپ نے نہ صرف ترجمے کے کئی دہائیوں پر محیط تجربے کے حاصلات کے طور پر اس فن کی باریکیوں اور اس کے تقاضوں کو نہایت گہرائی اور گیرائی سے بیان کیا تھا بلکہ فکشن کے فن، اس کی ضروریات اور نزاکتوں کا بھی کما حقہ احاطہ کر لیا تھا۔ بین السطور کہیں کہیں اس الزام کا جواب دینے کی بھی کوشش کی تھی جو آپ کے تراجم پر کئی حلقوں کی طرف سے لگایا جاتا ہے کہ آپ ترجمہ کرتے ہوئے literal یا accurate ہونے کے چکر میں نامانوس اور مشکل الفاظ و اصطلاحات استعمال کر تے ہیں۔ آپ نے الفاظ کے معانی اور ان کے مترادفات، ان کےثقافتی سیاق و سباق اور ان کے اشتقاقات و مصادر، طویل جملوں کے ترجمے کی تکنیک اور زبان کی صرفی و نحوی ساخت کے مسائل پر سیر حاصل بحث کی تھی اور ترجمے کے بارے میں اپنے نظریات وضاحت اور تفصیل سے بیان کیے تھے۔ اردو مترجمین کے لیے اس مضمون میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے کیوں کہ یہ کسی نصابی کتاب کا حصہ نہیں، ایک ایسے مترجم کے زندگی بھر کے تجربے کا حاصل ہے جس نے ترجمے کی لذت پر افسانہ نگاری، تحقیق و تنقید اور دیگر تمام ادبی مشاغل قربان کر دیے تھے۔

دوسری بات جو آپ کی شخصیت کے بارے میں میں نے شدت سے محسوس کی تھی، وہ زمانے کی ناقدری کا احساس تھا۔ اگرچہ آپ نے کبھی اس بات کا اعتراف یا اظہار نہیں کیا تھا۔ شعوری طور پر آپ ہمیشہ یہی کہا اور سمجھا کرتے تھے کہ اس سیال اور ناپائدار زندگی میں زمانے کی قدر شناسی کی اہمیت ہی کیا ہے۔ جب کوئی آپ سے اس بارے میں کچھ کہتا تو آپ باقاعدہ ناراض ہو جاتے تھے اور غصے سے کہتے کہ میں جو کچھ کرتا ہوں، اپنی ذات کی تسکین، تکمیل اور توسیع کے لیے کرتا ہوں۔ مجھے کسی زید بکر عمر کی تعریف و ستائش کی ضرورت ہے نہ خواہش۔ نہ ایسی کسی تعریف سے میری اہمیت و وقعت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ بالکل سچ تھا۔ آپ مجھے بھی ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ نتائج اور اثرات کی پروا کیے بغیر وہ کام کرتی رہوں جو میرے بطون ذات کا اصل تقاضا ہے اور کسی فیشن یا بھیڑ چال سے ہرگز مرعوب نہ ہوں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کو کہیں دل کی گہرائی میں اس بات کا شدید احساس تھا کہ کسی قابلِ ذکر ادیب یا نقاد نے آپ کے غیر معمولی کام کی ویسی پذیرائی نہ کی تھی جیسی عموماً بہت کمتر درجے کے کاموں کو بھی عام حاصل ہوجایا کرتی ہے۔ ایک مرتبہ حکومت پاکستان نے غالباً افتخار عارف صاحب کی تجویز پر آپ کو قومی اعزاز دینے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ میں آپ کو حکومت کی طرف سے ایک فون بھی موصول ہوا لیکن آپ کو اپنے خرچ پر ایوارڈ لینے کے لیے چند ہفتوں کے اندر اندر پاکستان حاضر ہونے کا حکم بالکل پسند نہیں آیا اور آپ نے اس سفر سے معذرت کر لی۔ نتیجہ یہ کہ حکومت نے بھی آپ کو ایوارڈ دینے کا ارادہ واپس لے لیا۔ انھوں نے سوچا ہو گا کہ لوگ یہاں ایوارڈ لینے کے لیے دیوانے ہو رہےہیں، یہ کیسے دیوانے ہیں کہ نخرے دکھا رہے ہیں۔ یہ بات تو ان کے خیال میں بھی نہیں آئی ہوگی کہ کچھ ایوارڈ شخصیتوں کی عزت بڑھاتے ہیں اور کچھ شخصیتیں ان ایوارڈز کو معتبر بناتی ہیں۔

حکومت ہی کیا، علمی و ادبی حلقوں کی بے نیازی کا بھی یہی عالم رہا۔ کسی یونی ورسٹی میں آج تک آپ کی کسی ایک جہت پر کسی بھی سطح کا مقالہ تک نہیں لکھا گیا۔ خود میں نے اپنی یونی ورسٹی میں ہر سال پی ایچ ڈی اور ایم فل کےطالب علموں کے سامنے یہ تجویز رکھی لیکن کسی نے یہ بھاری پتھر اٹھانے کی ہامی نہ بھری۔ اردو والوں کو تو چلو یہ کہہ کر معاف کیا جاسکتا ہے کہ تراجم کا تجزیہ کرنے کےلیے انگریزی زبان کی مطلوبہ قابلیت سے محروم ہوتے ہیں لیکن اور کسی نے بھی اس طرف توجہ نہ دی۔ اینوئل اوف اردو سٹڈیز میں شائع ہونا کسی کے لیے بھی معیار کی ضمانت اور اعزاز کی بات تھی ۔ آپ اکثر بتایا کرتے تھے کہ اس مجلے میں شائع ہونے والے بیشتر مقالات کی زبان و بیان اور حوالہ جات کی تصدیق و تصحیح پر آپ کو کتنی محنت کرنا پڑتی ہے لیکن جب مقالہ شائع ہوجاتا تھا تو کوئی بھی آپ کی اس محنت کا اعتراف و اظہار نہیں کرتا تھا۔ تحقیقی مجلے کی ادارت کیا ہوتی ہے اور اس کے لیے کیسے خونِ جگر صرف کرنا پڑتا ہے، اس کی روشن ترین مثال مجھے آپ کی ذات میں نظر آئی تھی۔ آپ بیسیوں بار مقالہ تصحیح و ترمیم کے لیے مقالہ نگار کو واپس بھیجا کرتے تھے۔ لہٰذا جن کا مقالہ نہیں چھپتا تھا وہ تو شاکی ہوتے ہی تھے،جن کے مقالے چھپ جاتے تھےوہ بھی اس پر خفا رہتے تھے کہ انھیں بہت ستایا گیا ہے۔ مگر آپ نے کبھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔

یہی بات آپ کو اپنے پبلشرز سے شاکی رکھتی تھی۔ مجھے اس بات پر بہت دکھ ہوتا تھا کہ آپ نے کئی ناولوں کے تراجم کر رکھے تھے، کئی مضامین، انٹرویو اردو میں ترجمہ کیے رکھے تھے مگر انھیں چھاپنے کے لیے کوئی پبلشر نہیں ملتا تھا اور اگر کوئی چھاپنے پر راضی ہو جاتا تھا تو آپ کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتا تھا اور ایک آدھ کتاب کے بعد ہی توبہ کر لیتا تھا۔ پاکستان میں ہم آپ کے ساتھ کئی پبلشرز سے ملے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے پبلشرز کا رویہ آپ کے دل و دماغ کو کچو کے لگاتا تھا۔ مجھے یاد ہے ۲۰۱۴ میں جب ہم سنگ میل گئے تو افضال احمد نے آپ سے ایک ترجمہ شدہ ناول چھاپنے کا وعدہ کیا۔ آپ نے اسی وقت پروف خوانی کے بعد تصحیح شدہ مسودہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ افضال صاحب نے دراز کی میز سے پچیس ہزار روپے نکالے اور آپ کے حوالے کیے۔ اس کے بعد اس ناول کا پتا چلا نہ مسودے کا۔ آپ کی جھلاہٹ بالکل قابل فہم تھی۔ آپ کو یہ سوچ سوچ کر غصہ آتا رہتا کہ کیا میں اپنا مسودہ فروخت کرنے گیا تھا؟

جب کوئی مسودہ اشاعت کا ہفت خواں طے کر لیتا تھا تو آپ کو اس کی ترسیل کی فکر ہوتی تھی۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ آپ چاہتے تھے کہ کتاب چھپ کر کسی گودام میں نہ پڑی رہے، عام لوگوں تک پہنچے اور آپ کو اس کے بارے میں لوگوں کی رائے معلوم ہو۔ یہ خواہش کوئی نئی یا انوکھی نہ تھی۔ ہر لکھنے والا اسی مقصد سے لکھتا ہے کہ اس کا لکھا ہوا لفظ کوئی پڑھے۔ لکھنا دراصل کلام کرنے کے مترادف ہے اور کلام جب تک مکالمے میں نہ بدلے، اپنا مقصد پورا نہیں کرتا۔ مگر آپ کی یہ خواہش شاذ ہی پوری ہوتی تھی۔ اپنی کئی کتابوں کے مسودے آپ نے مجھے چھپنے سے پہلے پڑھنے کو بھیج دیے تھے۔ جب میں پڑھ کر اپنی رائے دیتی تھی تو آپ کتنے خوش ہوتے تھے۔ بیپسی سدھوا کے ناول کا ترجمہ ’’جنگل والا صاحب‘‘ جب میں نے پڑھا تو آپ کو لکھا تھا کہ ترجمہ اصل سے زیادہ دلچسپ اور جاندار ہے۔ آپ نے یہ جملہ بیپسی سدھوا کو بھی لکھ بھیجا۔ بیپسی بھی بہت خوش ہوئیں۔ لیکن پھر جب اس کتاب کی اشاعت کی خوشی منانے کا وقت آیا تو آپ کو محسوس ہوا کہ آپ کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ آپ کو بہت رنج ہوا۔

ہائے وہ آپ کا رنج تنہائی، وہ آپ کی مردم گزیدگی، وہ زبان کا زنگ اتارنے کے بہانے تلاش کرنا۔ فون کرنے کے لیے آپ بڑے اہتمام سے وقت طے کر تے مگر یہ وقت صرف کال شروع ہونے کا ہوتا۔ ختم ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ یہ مخاطب کے صبر حوصلے اورحالات پر منحصر تھا۔

میں بھی مان لوں تو ہرج ہی کیا ہے کہ دوسروں کی طرح کبھی کبھی میں بھی اپنی رائے کے اظہار میں ڈنڈی مار جاتی تھی۔ نظر انداز کر دیتی تھی یا اپنی روزمرہ کی معمولی مصروفیات میں کھو جاتی تھی اور آپ کے حسب توقع کوئی ٹھوس رائے نہ دے سکتی تھی۔ تب آپ کی مایوسی دیدنی ہوتی تھی۔ ادھر ادھر کے بہانے ڈھونڈ کر آپ اپنی مجھ سے اپنی ناخوشی کا اظہار کیا کرتے تھے۔

ہائے وہ آپ کا رنج تنہائی، وہ آپ کی مردم گزیدگی، وہ زبان کا زنگ اتارنے کے بہانے تلاش کرنا۔ فون کرنے کے لیے آپ بڑے اہتمام سے وقت طے کر تے مگر یہ وقت صرف کال شروع ہونے کا ہوتا۔ ختم ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ یہ مخاطب کے صبر حوصلے اورحالات پر منحصر تھا۔ اس دوران آپ دنیا بھر کے موضوعات پر بات کرتے تھے۔ گوسپ اور سکینڈل سے لے کر مابعد الطبیعیات تک، ہر موضوع پر آپ بےتکان بولتے چلے جاتے۔ زیادہ تر یہ گفتگو یک طرفہ ہوتی تھی۔ آپ دوسرے کوبولنے کا موقع ہی کب دیتے تھے۔ میں بھی سمجھ گئی تھی کہ اکثر آپ مجھ سے نہیں، خود سے مخاطب ہوا کرتے تھے۔ اس اطمینان کے ساتھ کہ کوئی دوسرا آپ کو سن اور سمجھ رہا ہے۔ مجھے بھی اس یک طرفہ کلام کا لطف آتا تھا کیوں کہ آپ کی ایک نشست کی بات چیت سیکڑوں کتابوں کے عطر سے مہکتی تھی۔
کیا کیا یاد کروں اور کیا کیا دہراؤں۔

ابھی میں آپ کی ویب سائٹ دیکھ رہی تھی کہ آپ کی کچھ تصانیف کا تذکرہ کر دوں مگر اتنی لمبی فہرست نظر آئی کہ ارادہ بدل دیا۔ یہ تو ایک خط ہے۔ کوئی مضمون نہیں کہ اس میں آپ کے سبھی کارناموں کا ذکر ضروری ہو۔ سبھی کارنامے ایک مضمون میں سما بھی نہیں سکتے اس لیے ان کا ذکر چھوڑ رہی ہوں۔ بس آپ کو یاد کرنا چاہتی ہوں تو آپ کا ذکر کیے جاتی ہوں۔

آپ نے میرے نام اپنے آخری برقی خط میں ایک افغان گلوکارہ سیما خانم کے ایک نغمے کا ویڈیو لنک بھیجا تھا۔ میں اس خط کا تفصیلی جواب نہ دے پائی تھی۔ پھر آپ نے عارف کو ای میل بھیجنی شروع کر دی تھی۔ رخصت ہونے سے ایک ہفتہ قبل آپ نے عارف کے نام آخری ای میل لکھی تھی جس میں ان سے فرمائش کی تھی کہ وہ مکالمہ میں چھپنے والے اپنے پہلے سفرنامے کی پی ڈی ایف فائل بنا کر آپ کو بھیجیں۔ ان ساری ای میلز میں آپ نے پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا، حالانکہ آپ اکثر اپنی بیماری اور تکلیف کا حال لکھا کرتے تھے۔ میں اس سارے معاملے کو دور سے دیکھتی رہی تھی۔ وجہ کچھ خاص نہیں تھی، بس یوں ہی بے دلی سی تھی۔ خود سے، اردگرد سے، دنیا بھر سے، آپ سمیت سب سے۔ آپ تو اس کیفیت کو خوب سمجھتے تھے۔ تو بس اب جانے دیں۔ اب جب کہ طے ہے کہ آپ کی کوئی ای میل کبھی نہیں آئے گی، نہ فون یا سکائپ پر آپ کی کال موصول ہو گی تو ہمارا آخری سلام قبول کیجیے اور دیکھیے کہ آپ کے جاتے ہی آپ کے بارے میں کس قدر کالم لکھے جا رہے ہیں۔ آپ کے احباب ایک دوسرے کو فون کر کر کے تعزیت کر رہے ہیں اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے بہت جلد آپ پر کئی مقالات لکھے جائیں گے، کتابیں چھپیں گی اور لوگ آپ کو بھلا نہ سکنے پر مجبور رہیں گے۔

آپ یہ دیکھ دیکھ کر مسکراتے رہیے اوراپنی نئی زندگی کا لطف اٹھائیے۔ امید ہے خدا آپ پر مہربان ہو گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجیے: دین اور موجودہ سوشل سائنسز ——– احمد جاوید

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: