فہمیدہ ریاض کی وارداتِ عشق و جنوں —– فتح محمد ملک

0
  • 87
    Shares

فہمیدہ ریاض مظلومیٔ نسواں کی نہیں مظلومیٔ انسان کی نوحہ گر ہیں۔ عصرِ حاضر میں انسان کے مادی رنج و محن کے ساتھ ساتھ انسان کاروحانی افلاس اُن کے فکر و فن کا جلی عنوان ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ ایک سفاک حقیقت ہے کہ جاگیردارانہ اخلاقیات نے خلقِ خدا سے انسانی مقام و منصب و عز و شرف چھین رکھا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اُفتادگانِ خاک ڈھور ڈنگر کی سی زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہیں۔ یہاں مجھے مسعود کھدر پوش کا وہ اختلافی نوٹ یاد آ رہا ہے جو اُنھوں نے ہاری کمیٹی کی رپورٹ پر لکھا تھا۔ اس نوٹ کا پہلا فقرہ یہ تھا: A Harry is a domesticated animal فہمیدہ ریاض اسی معاشرے میں پیدا ہوئیں، پلی پڑھیں اور اسی گرد و پیش میں انھوں نے سہانے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اُن کا پہلا مجموعۂ کلام ’’پتھر کی زبان‘‘ اسی خواب اور شکستِ خواب کی دنیا ہے۔ اس میں مثنوی کی طرز کی ایک نظم میں محبت میں ناکامی کا سانحہ جلوہ گر ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں:

’’کارگاہِ ہستی میں کسی حساس ذی رُوح پر وہ مقام نہیں آیا ہوگا جب اس نے خود کو مقتل کے دروازے پر نہ پایا ہو۔ جب اُسے اپنے وجود کی قیمت نقدِ جاں سے نہ چکانی پڑی ہو لیکن جب جان سے گزرنا ہی ٹھہرا تو سر جُھکا کر کیوں جائیں۔ کیوں نہ اس مقتل کو رزم گاہ بنا دیں۔ آخری سانس تک جنگ کریں۔ سو مَیں نے بھی اپنی گردن جھکی ہوئی نہیں پائی۔ میری نظمیں جو آپ کے سامنے ہیں ایک رجز ہیں جنھیں بلند آواز سے پڑھتی ہوئی میں اپنے مقتل سے گزری۔ اس لحاظ سے ’’بدن دریدہ‘‘ ایک رزمیہ ہے۔‘‘

یہ رزمیہ فہمیدہ ریاض کے آخری مجموعۂ کلام ’’تم کبیر…‘‘ تک مختلف اور متنوع انداز میں پھیلتا چلا آیا ہے۔ اُن کی زندگی میں نسائی ادب کا بہت چرچا رہا ہے۔ فاطمہ حسن نے اپنی کتاب ’’فیمنزم اور ہم‘‘ میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ:

’نسائی ادب کے حوالے سے فہمیدہ ریاض کی شاعری ایک نئے طرزِ احساس کی جانب سفر کرتی نظر آتی ہے جس میں عورت کے اپنے وجود کا بھرپور احساس نمایاں ہے۔ فہمیدہ کی عورت دوسروں کے وجود کا سایہ نہیں بلکہ مکمل شخصیت کے طور پر اُبھرتی ہے۔ اُنھوں نے روایتی رویوں سے کنارہ کشی کی اور ایک نئی فضا میں سانس لینے کی کوشش کی…. نظم ’’اقلیما‘‘ میں ایسی سوچ کا اظہار بڑی شدت سے کیا گیا ہے۔ ’’مقابلۂ حسن‘‘ فہمیدہ کی ایسی نظم ہے جس پر کافی لے دے مچی مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ نظم ایک ایسے رویے کی طرف بھرپور احتجاج ہے جو صدیوں سے عام رہا ہے۔ عورت کا جسم ادیب، شاعر، مصور، مجسمہ ساز سب کا موضوع رہا ہے۔ جب کہ ذہن اگر موضوع بن تو مزاح کے ساتھ۔ اس طرح عورت صرف تفریح اور تزئین آرائش کی شے بن کر رہ گئی ہے۔ ‘‘۱

بجا اور درست۔ ہماری شاعری میں عورت فقد تن ہے منگ نہیں اُس کا تذکرہ جسم و جسمانیت سے آگے بڑھ کر دل و دماغ سے اکتسابِ نور فہمیدہ ریاض کے فکر و احساس کی نمایاں پہچان ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو وہ ہمیں روحانی تجسس سے شعری پیکر تراشنے میں جذب نظر آ تی ہیں۔ خالدہ حسین نے کیا خوب لکھا ہے کہ:

’’فہمیدہ ریاض وہ پہلی شاعرہ ہے جس نے عورت کا آرکی ٹائیپل تشخص اُجاگر کیا۔ وہ عورت کے منصب اور مسائل کو جسمانی اور روحانی سرشاری کے ساتھ منسلک دیکھتی ہیں۔ زندگی کے تسلسل کے لیے انسانی مادہ کا کردار صرف جبلتی نہیں بلکہ ایک ماورائی جہت بھی رکھتا ہے جس میں جنس کے تمام تعلقات کو ایک مابعدالطبیعیاتی جبلت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ ۲

اپنے اسی مضمون کے آخری پیراگراف میں خالدہ حسین اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہیں :

’’ذاتی طور پر مجھے سب سے زیادہ خوشی اُس کے مابعدالطبیعیاتی منطقے میں داخل ہونے کی ہے۔ فرید الدین عطار کی سات سو برس قدیم فارسی کلاسِک’’ منطق الطیر‘‘پر مبنی ایک خوبصورت تمثیلی کہانی ’’قافلے پرندوں کے‘‘ لکھنا روحانی واردات سے گزرے بغیر ممکن نہیں۔ پھر رومی کی غزلیات کی سرمستی اور روحانی کیفیت کو اردو کا پیرایہ دینا خود اس سرخوشی میں گلے گلے ڈوبنے کا اشاریہ ہے۔ ‘‘۳

خالدہ حسین کے اس استدلال سے مجھے اتفاق ہے مگر میں اپنے قارئین سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ فہمیدہ ریاض کی زندگی افروز شاعری میں تصوف کا مسلک زندگی گریز نہیں، زندگی افروز ہے۔ وہ گریز کی نہیں ستیز کی شاعرہ ہیں۔ اپنے مجموعۂ کلام ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے؟‘‘میں فہمیدہ نے ضیاء دورِ آمریت کے خلاف بغاوت اور احتجاج کی شاعری کی جو مثال پیش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کتاب کے پہلے باب میں وہ اپنے احساس کو یوں زبان دیتی ہیں:

’’مَیں چلی جا رہی ہوں
ارادوں کو دانتوں میں پیستی
سمیٹتی اپنے منتشر ہوتے وجود کو
جو بار بار بل کھا کر
میری پیشانی کی گرہ بن گیا ہے
مَیں مُنھ اندھیرے نکلی تھی
اور اب
دن ڈھلنے کو آیا
دیکھو…..میں نے کہیں تھم کر سانس بھی
نہیں لی ہے
مَیں بیٹھی ہوں سمجھوتوں کے سائبانوں میں
پَیر لڑکھڑاتے ہیں، ٹھوکر لگتی ہے
تو مَیں اپنا عہد دوہراتی ہُوں…..
بارُود کا گیت لکھنے کا عہد
لیکن…..
میرے دوست
مَیں تھک بھی جاتی ہوں!‘‘

پانچ طویل ابواب اور ایک ’’آخری گیت‘‘ پر مشتمل یہ کتاب ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں فہمیدہ ریاض کے وطن اور اُس کے باشندوں پربے تحاشہ ڈھائے گئے اَن گنت مظالم کی شعری دستاویز ہے۔ ہمارے ہاں اس جرأت و اعتماد کے ساتھ کسی اور شخص نے باغیانہ شاعری نہیں کی۔ بغاوت کا یہ حوصلہ اُس روحانی احساس کا کرشمہ ہے جو فہمیدہ ریاض کی کلیات میں زندگی کی تاریکیوں میں نُور کی کرنیں بن کر یہاں وہاں چمک اُٹھتا ہے۔ یہاں مجھے اُن کی نظم ’’تلاوت‘‘ یاد آرہی ہے:

جاں کے کھلے زخم
خوں کی مہک آئی
اس کلبۂ تاریک میں دَر آیا اُجالا
اِک ماند اُجالا
بے نُور اُجالا
دیوار پہ پھر سے وہی صُورت آئی
لے جاؤ کہیں دُور
لے جاؤ یہ بے نور یہ بے آب اُجالا
لے جاؤ یہ ابہام
رہنے دو مرے کلبۂ احزاں میں سیاہی
روشن تھا صحیفہ
روشن تھا ہر اِک ورق
ہر لفظ کی قندیل
آنکھوں سے اُبلے ہوئے اشکوں نے بجھائی

اُن کے آخری مجموعۂ کلام ’’تم کبیر…..‘‘ میں حضرت زینب ؓکی یاد میں ایک چھوڑ دو نظمیں شامل ہیں۔ اپنی نظم ’’حضرت زینبؓ کا خطبہ شام کے دربار میں‘‘ یوں ختم ہوتا ہے:

سامنے ٹکڑے ہوئے تھے جن کے سب پیاروں کے تن
چھوڑ کر آئیں تھیں جو میدان میں لاشیں بے کفن
بے پنہ صدموں کی شدت پر سفر وہ پُرمحن
اس قدر مظلومیت پر ایسا خطبہ پُرجلال
مل نہیں سکتی ہمیں تاریخ میں ایسی مثال
پیش کرتی ہے انھیں انسانیت زرّیں خراج
عالمِ نسواں کے سر پر آپ نے رکھا ہے تاج

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری دور میں جس وحشت و بربریت کے ساتھ ۲۳مارچ ۷۳ء کے جلسۂ عام پر چار گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی اُس کی مذمت میں فہمیدہ ریاض نے اپنی نظم میں جس جرأتِ رندانہ کے ساتھ عوامی انقلاب کی دعوت دی وہ اُس دور کی شاعری میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ اسی طرح ضیاء آمریت کے دوران خدا کے نام پرجس آمریت کا رقص جاری رہا اُس کی عکاسی اور اُس کے خلاف احتجاج نظم ’’خبرنامہ‘‘ میں عکس ریزہے۔ پایانِ عمر اپنے جواں مرد بیٹے کی یادمیں طویل نظم ’’تم کبیر…‘‘ سے میں نے یہ تاثر لیا ہے کہ یہ سانحۂ عظیم اُن کے لیے ایک جاں لیوا صدمہ ثابت ہوا۔مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد وہ اس حیاتِ مستعارسے آگے، بہت آگے ایک نئی دُنیا کی جانب اپنے پرِپرواز کھولنے کی تیاری میں مصروف ہو گئی تھیں۔ اپنے نواسے سلیمان کے نام دو نظمیں گویا اسی سلسلۂ خیال کے تسلسل میں کہی گئی ہیں۔آج جب واقعتا وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں تو مجھے بے ساختہ خالدہ حسین کا کہنا یاد آتا ہے:

’’فہمیدہ ریاض ایک نظریاتی اور جدید شاعرہ ہے جس میں ایک انقلابی روح کروٹ لے رہی ہے۔ وہ استحصال سے پاک ایک جمہوری، فلاحی معاشرہ قائم کرنے کے لیے میدانِ عمل میں اترنے کی بھی قائل ہے۔ اس لیے اس کے نزدیک تخلیقی فن میں اس کا اظہار پانا ایک فطری عمل بلکہ فن کا فریضہ ہے۔ اس کی شاعری کا رنگ انقلابی ہے مگر وہ نعرہ باز ہر گز نہیں۔ اس کی تحریر میں جمالیات کا ایک پورا نظام ہے اور الفاظ میں حسیت کی شدت ہے۔‘‘۴

آج سے چودہ پندرہ برس پیشتر خالدہ حسین نے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ انکشاف کیا تھا کہ فہمیدہ ریاض کی شاعری مابعدالطبیعیاتی منطقے میں داخل ہونے کو ہے۔یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔ فہمیدہ ریاض کو سِگمنڈ فرائیڈ اور کارل مارکس کے مادی ہمہ اُوست سے جلال الدین رُومی کے روحانی جہانِ حکمت و دانش تک اپنے ارتقائی سفر کے دوران خوف و دہشت کے ایک دشوار گزار منطقے سے گزرنا پڑا۔ اس منطقے کے احوال و مقامات کی نشاندہی کی خاطر ہمیں ایک مرتبہ پھر اُن کے مجموعۂ کلام ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے؟‘‘ کی جانب اپنی توجہ مبذول کرنا ہوگی۔ اس طویل نظم میں ضیاء الحق کے دورِ آمریت کی معاشرتی، تہذیبی اور سیاسی زندگی کے بھیانک مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ خود فہمیدہ اس نظم کو’’ بارُود کا گیت‘‘ قرار دیتی ہیں۔ اُس زمانے میں ’’سرکاری مخبروں‘‘ کی گرم بازاری نے اربابِ فکر و نظر کو جن اعصاب شکن نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا تھا،اُس کا ایک عکس ذیل کے چند مصرعوں میں جھلک رہا ہے:

’’صرف ایک اچانک آہٹ!
اور دماغ سائرن کی چیخ بن گیا
پولیس!
اور…..
اس کے بعد …….
دروازے پر ہر دستک
سیڑھیوں پر ہر قدم کی چاپ
گلی میں ہر آہٹ
درد سے دھڑکتے سر میں ایک ہی خیال لاتی ہے
پولیس۔۔ پولیس۔۔ پولیس!
اسے پیرونایا کہتے ہیں
……اور دروازے پر
وہم، حقیقت کی منحوس وردی پہنے پھر کھڑا ہے
چھوڑیئے ڈاکٹر صاحب
گولیاں بھلا کیا کر سکتی ہیں!‘‘

اس صورتِ حال کو وہ اس طویل نظم کے’’چادر اور چاردیواری‘‘، ’’خانہ تلاشی‘‘، ’’سٹی کورٹ میں‘‘ اور ’’خفیہ ملاقاتیں‘‘ کے سے ابواب میں حقیقت کا لباس پہناتی ہیں اور کتاب کے ’’ آخری گیت‘‘ میں یاس و حر ماں سے اوپر اُٹھ کر اہلِ وطن کے دل میں اُمید کی شمع فروزاں کر دیتی ہیں۔ اب وہ خوف اور دہشت کی چادر کو دُور پھینک کر سیاسی بیداری اور عوامی جدوجہد کی داعی بن جاتی ہیں:

’’جاگو اے فرزندانِ وطن
ویرانۂ وجود میں وہ اذان دینے کے لیے
کہ سہمی زمین آخری بار تھرتھراکر شق ہو جائے
اور جرأت کا چشمہ پُھوٹ نکلے
لاریب! نہیں کوئی طاقت ماسوا اللہ کے
اور وہ تمھاری رگِ گلو سے نزدیک تر ہے
پھر خوف کیسا؟

…….آزادی، انصاف، مساوات
یہ لفظوں کے خالی گملے
تم ہی تو اپنے بیلچوں سے ان میں مٹی بھروگے
دانائی کی نرم بھر بھری مِٹی ڈال کر
مگر
اِبلیسیت کو کُھل کھیلنے کی چُھوٹ نہ ہوگی
ہم اسے مُلک بدر کرنے والے ہیں‘‘

فہمیدہ ریاض مُلائیت اور برہمنیت، ہر دو مسالک کو انسان دشمنی پر مبنی قرار دیتی ہیں۔ ’’چادر اور چاردیواری‘‘ اور ’’نیا بھارت‘‘ اس غیرانسانی طرزِ فکر و احساس کی نفی میں لکھی گئی خوب صورت نظمیں ہیں۔ کتاب کے آخری باب میں وہ ظلم و استبداد کی اس طویل رات کے اختتام اور ایک نئی سحرکے طلوع کی بشارت دیتی ہیں:

’’جاگو اے فرزندانِ وطن
ویرانۂ وجود میں وہ اذان دینے کے لیے
کہ سہمی زمین آخری بار تھرتھرا کر شق ہو جائے
اور جرأت کا چشمہ پُھوٹ نکلے
لاریب! نہیں کوئی طاقت ماسوا اللہ کے
اور وہ تمھاری رگِ گلو سے نزدیک تر ہے
پھر خوف کیسا؟‘‘

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ وہ اپنے فرزندانِ وطن کواللہ کے نام پرماسوا اللّٰہ کے فرعونی نظام کے خلاف نبردآزما ہوجانے کی دعوت دیتی ہیں۔ برصغیر میں مذہب کی سراسر غلط اور گمراہ کن تعبیر اُنھیں بالآخر مولانا جلال الدین رومی کی بارگاہ میں لے آتی ہے۔ رومی اور اقبال کی مانند وہ ہمیشہ وصل سے زیادہ فراق کے روحانی فیضان کی ثناخواں رہی ہیں:

’’مَیں کہ بنتِ ہجر ہوں
مجھ میں ایسی آگ ہے
مَیں کہ میرے واسطے
وصل بھی فراق ہے‘‘

خالقِ کائنات اب فہمیدہ کے لیے ورا ء الورا نہیں، حاضر و موجود ہے۔ نتیجہ یہ کہ روحانی تڑپ اُن کی مادی زندگی کاجلی عنوان ہو کر رہ گئی ہے:

میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں
اے ظاہر و موجود، مرا جسم دُعا ہے

اب وہ ایک ایسی صداقت شعار انسان ہیں جو مادی زندگی کے رس رنگ میں کھو کر بھی روحانی بالیدگی کی متلاشی نظر آتی ہیں۔ اُن کے مجموعۂ کلام ’’بدن دریدہ‘‘ میں’’ سورۂ یاسین‘‘ اور ’’اے والیٔ رب کون و مکاں‘‘ کی سی نظمیں اسی روحانی تلاش و تجسس کی شاہدِ عادل ہیں۔ اپنے مجموعۂ کلام ’’دھوپ‘‘ میں شامل نظموں کے تعارف ’’آمنے سامنے‘‘ میں لکھتی ہیں:

’’دیکھنے میں ’دھوپ‘ کی نظموں کے کئی رُخ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان متعدد پہلوؤں کی وحدانیت کو صحیح معنوں میں محسوس کیا جا سکے۔ ادب میں داخلی اور خارجی موضوعات کی حد بندیوں کا رُجحان عام ہے۔ لیکن کیا اندرون ذات خود خارج کا ڈھالا ہوا پیکر نہیں؟۔‘‘۵

کائنات کے باطنی حیرت کدہ کی جانب یہی سفر اُنھیں مولانا رومی کے ’’دیوانِ شمس تبریذی‘‘ کی منتخب غزلیات کے منظوم تراجم پر مشتمل کتاب ’’یہ خانۂ آب و گِل‘‘کی جانب لے آتا ہے۔ کتاب کے اختتامی نثر پارے میں فہمیدہ ہمیں بتاتی ہیں کہ:

’’شاعری کا، خصوصاً غزل کا منظوم ترجمہ میرے نزدیک ایک انہونی سی بات تھی۔ تو پھر یہ کیا ہوا؟ دیوان شمس تبریز میں نے صرف چند نوٹس لینے کے لیے کھولا تھا۔ چند اشعار کا نثری ترجمہ کرنا بھی مقصود تھا۔ کسی غزل کا منظوم ترجمہ کرنے کا تو میرا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اور یہ نہایت حیران کن وقوعہ ظہور پذیر ہوا کہ جیسے کسی نے مجھے آ لیا۔ بے شک ؎ ’ہر بیشہ گماں مبرکہ خالیست‘۔ اس جنگل میں کوئی تھا، کوئی زندہ شخص جو عالم بے خودی میں رقص کر رہا تھا۔ کبھی ایک رقصِ طرب میں محو اور کبھی آنسوؤں کی بوچھاڑ میں ڈوبا ہوا۔۔۔گاہے کھلکھلاتا، گاہے پُرسکون اور کبھی فکر میں غرق! اور ہر صورت میں تمام حیاتی توانائیوں کے ساتھ زندہ! یہ سلسلہ ان موسیقی سے لبریز غزلوں کو بے اختیار گنگنانے سے آغاز ہوا جس کے ساتھ یہ از خود اردو میں منقلب ہونے لگیں۔‘‘۵

میں یہاں فہمیدہ کے اس روحانی تجربے کی صداقت کے ثبوت میں فقط دو چار اشعار پیش کرتا ہوں:

بنے ہیں کفر و ایماں آج، جب کہ عشق ازل سے ہے
کریں جب عشق کافر، تم انھیں کفار مت سمجھو

یہ خانۂ آب و گِل تم بن ہے کھنڈر جیسا
یا اس میں در آ اے جاں یا میں اسے ڈھاتا ہوں

نے ہاتھ میں اب سنگ ہے، نے اب کسی سے جنگ ہے
نے میں کسی سے تنگ ہوں، میں خوش ہوں، جیسے گلستاں!

مجھے یوںمحسوس ہوتا ہے جیسے فہمیدہ ریاض کے لیے اپنے جواں سال بیٹے کبیرکی اچانک موت کا سانحہ بھی مولانا رومیؒ سے شمس تبریزیؒ کی اچانک دائمی جدائی کے مماثل ہو۔ وہ اپنی طویل نظم ’’تم کبیر۔۔۔‘‘ میں کائنات کے خالقِ اکبر کو مخاطب کرتے وقت اپنی مسلمان شناخت پر اصرار کرتی ہیں۔ انسانی ارتقاء کے طویل اور پیچ در پیچ سفرکے دوران انسان اپنے اور اپنی کائنات کے خالقِ اکبر کوجن مختلف اور متنوع ناموں سے یاد کرتا آیا ہے اُن کے ذکر کے بعد وہ اپنی مسلمان شناخت کے ساتھ اپنے اللہ کے حضور دست بہ دُعا ہیں:

’’مہرباں ہو مہرباں
اے کہ تُو ہے میرے تخیل کی سکت
جس سے تُو پیدا ہوا
اے میرے دل میں ارادے کی نمود
اے مِرے گم گشتہ راز
نام ہیںتیرے ہزار
اے میرے حصے کے نام
اے مِرے اللہ مجھ پر رحم کر!

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کبَیر اُن سے زندہ رہنے کی تمنا چھین کر اپنے ساتھ لے گیا ہو۔ اُن کا آخری مجموعۂ کلام ’’موسموں کے دائرے میں‘ ‘نظم ’’امی‘‘ سے شروع ہوتا ہے جس کے آخری دو بند درج ذیل ہیں:

اندھا ہے جننے کا رشتہ
جس پہ نچھاور ہے بینائی
میں نے کتابوں میں تو نہ پائی
تھی تِرے لمس میں جو دانائی

اب میں ایک گزرتا لمحہ
اَور تمھاری بڑھتی آؤں
حرف یہیں سب رہ جائیں گے
جب میں تِرے پہلو میں سماؤں

بالآخر فہمیدہ ریاض کی درج بالا تمنا بر آئی اور یوں وہ اپنی امی کے پہلو میں جا سمائیں مگر ہمارے ادب میں وہ ایک گزرتا لمحہ ہر گز نہیں۔ اُن کا نام اور مقام اُس وقت تک زندہ و تابندہ رہے گا جب تک ہمارا ادب باقی ہے۔ اللہ بس باقی ہوس!


حواشی

۱۔ فیمنزم اور ہم، ادارت، فاطمہ حسن،کراچی، ۲۰۰۵ء، صفحات ۹۲-۹۳۔
۲۔ ایضاً، صفحہ ۱۸۵۔
۳۔ ایضاً، صفحہ۱۹۴۔
۴۔ تم کبیر….، فہمیدہ ریاض، پسِ سرورق۔
۵۔ میں مٹی کی مورت ہوں، فہمیدہ ریاض، سنگِ میل، لاہور، ۱۹۸۸ء، صفحہ ۲۱۸۔
۶۔ یہ خانۂ آب و گِل،انتخاب دیوان شمس تبریزی، ترجمہ: فہمیدہ ریاض، شہرزاد، کراچی، ۲۰۰۶ء، صفحہ۱۹۷۔

(Visited 243 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: