خاکسار — سیدہ صبیح گل

0

"تم کون ہو؟” یہ سنتے ہی میرا چہرہ غصے سے  تمتمانے لگا مگر میں خاموش رہا اور کاسے میں روپے ڈال کر منہ پھیر لیا۔

"مگر تم ہو کون؟”  بھکاری نے روپوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال دہرایا۔ اس سے پہلے کہ میری برداشت کا پیمانہ لبریز ہوتا ، اشارہ کھلا اور ڈرائیور نے گاڑی آگے کی جانب بڑھالی۔  میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو  روپوں سے بھرا کاسہ وہیں پڑا تھا مگر بھکاری کہیں غائب ہو گیا تھا ۔  اتفاقا آج اشارہ بند تھا  اور میری نظر  اُس بھکاری پر ٹھہر گئی جو اپنی ہی  سر مستی میں جھوم رہا تھا۔اُس کا منہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا اور سامنے ایک خالی کاسہ پڑا تھا۔  میرے غور سے دیکھنے پر وہ عالم ِسرمستی سے باہر آگیا  اور اُس کا جھومتا ہوا سر رُک گیا۔  کہ نہ جانے لوگ کیا سوچ  رہے ہونگے، اتنا بڑا اور رئیس آدمی بھکاری کو خالی ہاتھ چھوڑے جا رہا ہے۔ اس خیال سے بریف کیس سے نیلے نوٹوں کی دو گڈیاں نکالیں اور اُس کی طرف بڑھا  دیں۔ اچانک اردگرد کے لوگوں کی حیران اور حسرت بھری نگاہوں  کا مرکز ،وہ بھکاری بن گیا۔

"تم کون ہو؟”  یہ وہ سوال تھا جس نے میرے اندر نخوت بھری  آواز  کو جنم دیا کہ مجھے بھلا کون نہیں جانتا؟ میں اس شہر کا نامور تاجر، رئیس  اور کامیاب ترین انسان ہوں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں میرے نام سے ادارے چل رہے ہیں ، بڑے بڑے سیاست دان اور آفسر میرے پیچھے دم ہلاتے پھرتے ہیں اور یہ ایک معمولی بھکاری  جسے کوئی گھاس تک نہیں ڈالتا ، جس کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ جسے میں نے آج اتنا روپیہ دے دیا ہے کہ اُس کی نسل میں کبھی کسی نے اتنا روپیہ ایک ساتھ نہیں دیکھا ہوگا، مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ تم کون ہو؟

”  میں نے ڈرائیور کو گھر کی طرف چلنے کا حکم دیا۔

گھر میں ہمیشہ کی طرح سکون اور خاموشی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا، عام طور پر اِس وقت میں آفس میں مصروف ہوتا ہوں مگر آج اُس بھکاری نے میرا بلڈ پریشر ہائی کر دیا تھا۔ چند چھوٹے اور معمولی لوگوں کے سامنے اس طرح  کا سوال ۔۔۔ کیا سوچ رہے ہوں گے یہ سب لوگ۔۔؟

انہی سوچوں میں گم سگار سلگاتے ہوئے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ  دروازے پر دستک ہوئی اور  ان سوچوں کا سلسلہ  ٹوٹا۔ خادم کو اندر آنے کی اجازت دی تو  اُس نے بتایا کہ طفیل صاحب ملنے کے ارادے سے آئے ہیں اور انہیں بیٹھک میں بٹھانے کی اجازت طلب کی.

کچھ دیر بعد بیٹھک میں قہقہے گونجنے لگے  اور میری طبعیت  کافی بہتر ہوگئی۔ طفیل صاحب کے جانے کے بعد خادم آیا اور کمرے. کی ترتیب درست کر کے  ٹھیک چلا گیا۔ میری نظر کچھ دیر تک پردے پر ٹکی رہی   ۔۔۔ میں پردے کو ٹھیک کرنے کی غرض سے اُٹھا تو اچانک میری نظر اُسی بھکاری پر پڑی ۔ وہ عین میرے بنگلے کے سامنے ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ میں نے اُسی خادم کو بلوایا اور حساب کر کے چلتا کر دیا کہ نہ وہ لاپرواہی برتتا اور نہ ہی مجھے دوبارہ اس بھکاری کی صورت دیکھنی پڑتی۔ ایک عجیب احساس مجھے اپنے گھیرے میں کے چکا تھا کہ

یہ آخر یہاں کیا کر رہا ہے؟ آج سے پہلے تو اسے کبھی یہاں نہیں دیکھا۔۔۔ اس کو میرے گھر کا پتہ کیسے ملا؟ کہیں یہ میرا تعاقب تو نہیں کر رہا ۔۔۔ کیا یہ دشمن کا کوئی مہرہ ہے، جو مجھے قتل کرنے کی غرض سے یہاں تک پہنچ گیا ہے۔ آخر اس نے اپنا منہ کیوں چھپایا ہوا ہے؟ ایسے سینکڑوں سوال میرے ذہن میں کلبلانے لگے۔

میرے قدم تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھے۔کمرے میں پہنچتے ہی سگار سلگایا اور کرسی پر بیٹھ کر تیز تیز جھولنے لگا۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ خوف کی ایک لہر میرے رگ و پے  میں دوڑ گئی..چند لمحوں بعد پھر سے دستک ہوئی ۔۔۔ میرے اندر سے کسی نے چِلا کر پوچھا ۔۔۔

"یہ کون ہے؟ یہ کون ہے آخر؟”  بدن پر خوف، پسینے کی طرح رینگ رہا تھا لیکن   کیسا خوف؟ یہ میں نہیں جانتاتھا۔ شاید دروازے پر وہ بھکاری تھا۔ مگر اتنے محافظوں کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ میرے کمرے تک پہنچ جائے۔ تو. پھرکس چیز کا خوف ہے؟ میں نے حوصلہ بحال کرتے ہوئے اجازت دی۔خادم دروازہ دھکیلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا ، اس کے ہاتھ میں ایک طشتری تھی جسے سُرخ کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نے قدرے حیرت سے پوچھا۔

"کیا ہے یہ۔۔؟”
"معلوم نہیں صاحب، ایک آدمی آیا تھا۔ اس نے ملازم کو یہ طشتری تھما دی اور کہا کہ یہ سیٹھ صاحب کے لیے خصوصی پیغام ہے  اور صرف انہی کو پیش کیا جائے”

"یہ خیر کا پیغام ہے اور خوف سے آزادی کا نسخہ ” خادم طشتری  رکھ کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔

"ٹھیک ہے اب تم جاؤ اور میں کچھ دیر آرام کروں گا ۔ کتنا ہی اہم کام کیوں نہ ہو ، مجھے تنگ مت کرنا۔ ” میں نے خادم کو ہدایت دی اور وہ سرہلاتا ہواکمرے سے باہر چلا گیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی میری نظر طشتری  پر پڑی ۔ میں نے اپنا ہاتھ  بڑھایا کہ  طشتری  سے کپڑا ہٹا سکوں  مگر ایک تیز ہوا کے جھونکے نے یہ کام مجھ سے پہلے کر دیا۔  طشتری پر  وہی نوٹوں کی گڈیاں موجود تھیں، جو میں نے اُس بھکاری کو دی تھیں۔ مگر کیا یہ روپے وہ خود واپس کر کے گیا ہے؟ خادم تو کہہ رہا تھا کہ کوئی آدمی آیا تھا ۔ تو پھر یہ کون دے کر گیا ہے؟

کمرے میں کھڑکیاں بند ہوتے ہوئے بھی  اچانک ایک پراسرار تیز ہوا کاجھونکا محسوس ہوا۔   کیا میرے علاوہ بھی کوئی یہاں موجود ہے؟ میرے ذہن میں ایک سوال کود پڑا۔ تمام سوچوں کو ایک طرف جھٹک کر میں نے نوٹوں کی گڈیاں اُٹھا لیں۔ وہاں روپوں کے علاوہ ایک تہہ کیا ہوا کاغذ بھی موجود تھاجس کے سرورق پر "پیغام” لکھا تھا۔ میرے ذہن میں خادم کے الفاظ در آئے ۔۔ میں نے کاغذ کھولا تو نہایت نفیس خوشخط اشعاردرج تھے.

برگِ سبزاَ ست تحفئہ درویش

اے بندے تجھے مبارک تیرا یہ غرور، تیرا یہ خمار، جس کا انجام صرف خاک
میری نسل نے روندھے ہیں کئی لاکھ بے شمار ، جس کی حقیقت صرف خاک

بھکاری نہیں ، میں منگتا نہیں غلام نہیں انسان کا

میں مانگتا  ا س ذات سے ، مشکور ہوں اسکے احسان کا

جو قدر ہے ہر قلب پہ، مالک ہے سب جان کا

میری اوقات صرف خاک، حصول کیا جھوٹی آن کا

میں درویش،  میں فقیر،  میں غلام اُس  نور  کا!

میری حقیقت صرف خاک میں، خاکسار میں خاکسار!

پہچان  اپنی خاک کو،  راہی ہے تو  بھی اُس گو ر کا

جسکی حقیقت صرف خاک، میں بھی خاکسار تو بھی خاکسار!

یہ کیا بکواس ہے ؟ آخر اسکا مطلب کیا ہے؟ میں نے کاغذ کو آگے پیچھے دیکھا مگر مزید کچھ نہ ملا ۔ کاغذ کو طشتری   پر پھینکتے ہوئے میں واپس کرسی پر  آکر بیٹھ گیا۔ شام ڈھل چکی تھی اور  رات دبے پاؤں خاموشی  کا لبادہ اوڑھے کمرے میں آچکی تھی۔ میرے سامنے وہ طشتری اور خط پڑا تھا ۔ آج کا دن میری زندگی سب سے  عجیب  دن ثابت ہوا تھا۔   میں نے آنکھیں موندھ لی اور نہ جانے کیا کیا سوچتا رہا۔

جب میری آنکھ کھلی تو فجر کی اذان ہو رہی تھی۔  میں اٹھاتو جیسے  میرے قدم مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر کی جانب لے گئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میراوجود کسی طلسمی طاقت کے زیرِ اثر آگیا ہو۔ پہلے خوابگاہ اور پھر بنگلے  کو پار کرتا ہوا بس چلتا رہا۔میرے بس میں نہیں تھا کہ میں کسی مقام پر خود کو روک سکوں۔

"یہ میں کہاں جا رہا ہوں؟” میں نے سوال کیا اور  خود کو روکنے کی کوشش کی مگر میرے قدموں نے اپنی رفتار بڑھالی۔میں نے اپنے وجود سے مزاحمت کی کوشش کی مگر ایک زور دار جھٹکا لگا اور  زمین پر گر پڑا۔ میرا ماتھا کسی پتھر سے ٹکرایا اور خون بہنے لگا۔ درد کی شدت سے  کراہتے ہوئے  میں دوبارہ کھڑا ہو گیا۔ میرے قدم  پھر میرے وجود  کا بوجھ اُٹھاتے ہوئے چلنے لگے۔

میں۔۔۔ جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا تھا ، جس نے مہنگی گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں سفر کیا تھا۔ آج اپنے قدموں پر چل رہا تھا۔  میں ۔۔۔جس نے ہمیشہ مہنگے اور قیمتی جوتے پہنے،  آج  اسی خاک پر ننگے پاؤں دوڑ رہا تھا۔

میرا چہرہ خون سے لہولہان اور پاؤں زخمی ہو چکے تھے۔ درد کی شدت سے آنکھیں  سسک رہی تھیں۔ میں نے اپنے ہی وجود سےشکست کھائی تھی۔۔ بہت بُری شکست۔۔۔ میں اپنے اندر گڑگڑانے لگا اور زار وقطار روتے ہوئے خود سے معافی مانگ رہا تھا۔  میرے ماتھے سے خون بہے جارہا تھا ،میں نے  ایک ہاتھ  ماتھے کی طرف بڑھایا۔ ہاتھ بڑھاتے ہی میرا وجود مجھ پہ غرّایا اور میں ایک بار پھر نیچے گر گیا ۔ اِس با ر کچھ تیز اور نوکیلی چیزیں میرے چہرے کو زخمی کرگئیں، میں تڑپ کر رہ گیا۔     ناقابلِ برداشت درد کی لہریں جسم میں سرایت جا رہی تھی اور مجھے کچھ خبر تک نہ  تھی کہ کہاں جا رہا ہوں۔ آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، زبان خاموش تھی مگر اندر ایک ہی کلمہ جاری  تھا۔”میرے اللہ!!  میری مدد کر۔ مجھے بخش دے، میں تیرا گناہ گار ، سیاہ کار۔۔۔ میری مدد کر”

اس کلمے کا ورد کرتے ہی میرے اندر کا سکوت ٹوٹنے لگا اور  میری خاک کلام کرنے لگی۔۔ وہ خاک جسے برسوں سے میں نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔اور وہ ذات سُن رہی تھی جو آسمان سے زمین تک، ہمارے اندر سے باہر تک ،ہماری جیت سے ہار تک، جھوٹ سے سچائی تک، آگ سے خاک تک، ہر چیز پر قادر ہے، وہ سُن رہی تھی۔۔ قدموں کو سکون حاصل ہوا،  نہ جانے کس مقام پرمیں گر پڑا۔ میرے خیال میں بس ایک ہی چیز تھی ‘میں ہوں خاکسار’ ۔۔’میری حقیقت صرف خاک’!

جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنے بستر پر تھا۔ وجود تھکن سے چور ، چہرے اور پاؤں  سفید پٹیاں بندھی تھیں۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔اگلی بار ہوش آیا تو سامنے ایک کرسی پر خادم بیٹھا تھا۔  میں نے دھیرے سے اُٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔

"صاحب صاحب ! کیا کر رہے ہیں ،آپ کے پاؤں  زخمی ہیں۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی افاقہ نہیں ہوا ہے آپ کو آرام کی بہت ضرورت ہے !” خادم مجھے دیکھتے ہی دوڑا آیا۔ مگر  میں نے اسکی ایک نہ سنی  اور پٹیاں کھولنے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ ان زخموں کا علاج کیا ہے۔ میں نے ہمت کر کے فرش پر پاؤں رکھے اور چلنے کی کوشش کی۔ زخمی پاؤں لیے میں اُسی میز کی طرف آیا جہاں ابھی تک وہ طشتری پڑی تھی۔ میں نے وہ کپڑا اپنے چہرے پر ڈالا اور زخمی پاؤں لیے خوابگاہ اور پھر بنگلے سے باہر نکل آیا۔ ملازم اور خادم میرے پیچھے بھاگتے رہے مگر وہ ہار گئے ۔ گھائل  جسم اور مجروح پاؤں لئے میں چلتا رہا ۔ اس بار درد چہرے پر نقاہت اور تکلیف کی بجائے مسکان بکھیر رہا تھا۔  میں دھیرے دھیرے قدم بڑھاتارہا، کبھی کہیں کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتا اور سستا لیتا۔ پھر اٹھ جاتا اور چلنے لگ جاتا۔میں خود کو پہچان چکا تھا ۔۔۔ اب جہاں قدم رُک جاتے وہاں بیٹھ جاتا اور عالم سرمستی میں گم ہو جاتا۔ میری بھوک ختم ہو چکی تھی ، پیاس مٹ چکی تھی۔ ہر لمحہ ایک ہی ورد جاری   رہتا۔۔۔ "میں ہوں خاکسار، میں خاکسار” 

ایک دن  میں کسی سڑک کے کنارے  سرمستی و سرشاری کی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا کہ ایک بڑی سیاہ گاڑی میرے قریب آکر رُکی۔ دھیرے سے اُس  گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا اور ایک آدمی کی نظر مجھ پر ٹھہر گئی۔ میں حالت جذب سے باہر آیا اور پوچھا۔۔۔  "تم کون ہو؟” تو وہ غریب اپنے اندر کی بھڑکتی آگ میں سے  دو چدنگاریاں میرے قریب پھینکتا ہوا چلا گیا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: