ماحولیاتی بحران: ایک نشست —– قمر عباس علوی

0
  • 145
    Shares

ماحولیاتی بحران کرہء ارض کو درپیش اہم ترین مسئلہ ہے اگر اس کا بروقت سد باب نہ کیا گیا اور اس کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو شاید ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ تیسیری دنیا کے ارباب بست و کشاد اس بحران کی ہولناکیوں سے آگاہ تو ہیں مگر دانستہ چشم پوشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ اہل فکر اگر اپنے حصے کی شمع جلا رہے ہیں تو ان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ گزشتہ دنوں جب پوری قوم جنگ اور جنگ کے تصور سے پیدا ہونے والی بے چینی اور ہراس میں مبتلا تھی، پڑھنے لکھنے والے افراد کی ایک مختصر سی جماعت لاہور کے ایک گوشے میں ماحول کے ساتھ انسان کے برتاؤ، اس سے پیدا ہونے والے مسائل ، ان مسائل کے حل اور زمین پر زندگی کی بقا کے حوالے سے محو ِ فکر تھی۔ اردو میں سائنسی علوم کے فروغ کے لیے سرگرم ادارے اردو سائنس بورڈ نے ۲۷فروری کو ماحولیاتی بحران کے حوالے سے ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ جس میں مہمان مقرر، نوجوان نقاد ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی (استاد شعبہ اردو، گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور) اورپروفیسر ڈاکٹر عبد القادر (کالج آف ارتھ اینڈ انوائر نمنٹل سائنسز، پنجاب یونی ورسٹی) تھے۔

اردو سائنس بورڈ کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے اپنے تمہیدی کلمات میں ماحول اور انسان کے ما بین تعلق پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحول کے ساتھ ہمارا رشتہ دوستانہ اور ہم دردانہ ہونے کے بہ جائے غالب اور مغلوب کا ہے۔ انسان نے ہمیشہ فطرت کو مسخر کرنے اور اپنا تابع بنانے کی کوشش کی ہے، جب کہ ضرورت اس کی تفہیم اور بقا کی ہے: غور کریں تو یہ وہی رویہ ہے جو نوآباد زدہ کے ذیل میں نو آباد کا ر کا خاصا رہا ہے۔ جس کے پسِ پشت کہیں زیریں سطح ہی پر سہی یہ خیال ضرور موجود ہے کہ انسان ’اشرف المخلوقات‘ ہے اور باقی مخلوقات اس کی وجہ سے تخلیق کی گئی ہیں، لہٰذا وہ کائنات کی تسخیر اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہوئے کرتا ہے، یا کم از کم اس کے لیے کوشش کرتا ہے۔ ’اشرف المخلوقیت‘ کا یہی احساس اسے فطرت کے ساتھ کھل کھیلنے کا حوصلہ دیتا ہے، اور وہ اپنے جیسے انسانوں اور دیگر مخلوقات کو اپنا تابع بنا کرر رکھنے کی لامتناہی خواہش کا اسیرہو جاتا ہے، گویا کہ اس کائنات میں جینے کا حق محض انسان کو حاصل ہے۔ فی زمانہ ہمیں انسان اور فطرت کے مروجہ تعلق کو بہ اندازِ دگر د دیکھنے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، تاکہ اس سیارے کی تسخیر کا خیال چھوڑ کر اسے رہنے کے قابل بنایا جاسکے۔

ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی نے اس موضوع پر مفصل اور مربوط گفتگو کی جسے اجمالی طور پر تین نکات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: یعنی، (۱)پاکستان کاایکو سسٹم کیا ہے اورہمارے ایکو سسٹم کو ا س وقت کن مسائل کا سامنا ہے؟، ( ۲)ماحول کی تباہی کے خلاف انسان نے کوئی مزاحمت کی ہے، نیز اس کی نوعیت اور اثرات کیا ہیں؟، (۳) موجودہ عہد میں ماحول کی بقا کے لیے ہمارا لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے؟۔ اس گفتگو کے بنیادی نکات کی تفصیل یہ ہے: ایکو سسٹم کیا ہے؟، نیز پاکستان میں ایک ہی ایکو سسٹم ہے یا ایک سے زیادہ ایکو سسٹم ہیں؟ ڈاکٹر نیازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کاکوئی ایکو سسٹم اس وقت مکمل نہیں، بہ حیثیت مجموعی بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں، بڑھتی ہوئی آبادی کی شرح، ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال اور سرمایے کی ہوس ہے: اس بحرانی کیفیت نے خاص کر گذشتہ صدی میں شدت پکڑی ہے، اور وسط صدی تک پورے کرۂ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔

نیازی صاحب نے اس بحرانی کیفیت کو سراسر انسانی تشکیل قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتِ حال فطری نہیں انسان کی خود اپنے آپ پر مسلط کردہ ہے۔ فطرت کا تشکیل دیا ہوانظامِ حیات اپنی جگہ مکمل اور متوازن ہے جس میں انسان ہی نہیںلاکھوں ، کروڑوں مخلوقات، موجودات اور مظاہر وجود رکھتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی اپنی جداگانہ اقلیم ہونے کے باوجود اپنی بقا اور ارتقاء کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ مسٔلہ تب پیدا ہوا جب ایک مخلوق نے اپنی حدود سے نکل کر دوسرے کی اقلیم میں مداخلت شروع کی اور توازن بگڑنا شروع ہوا، یہی عدم توازن ماحولیاتی بحران کہلاتا ہے۔ یہ تسلیم کیے بنا کوئی چارہ نہیں کہ مداخلت کرنے والی یہ مخلوق حضرتِ انسان کے علاوہ کوئی اور نہیں ، جس نے ’اشرف المخلوقات‘ کے زعم میں دنیا کو موجودہ صورت عطا کی ہے۔ ان کی گفتگو کے دوسرے نکتے کا علاقہ اس امر سے ہے کہ آیا اس صورتِ حال سے انسان کس حد تک مطمٔن ہے، مطمٔن ہے بھی یاا سے رائیگانی کے احساس کا سامنا ہے؟ نیز اس رائیگانی کے خلاف اس کے ہاں کسی قسم کی مزاحمت کا اظہار بھی ہے؟ ڈاکٹر نیازی صاحب نے متعدد مثالوں سے اس پہلو کی وضاحت کی کہ مختلف اوقات میں کئی طبقات سے فطرت کے ساتھ اس قاتلانہ رویے کے خلاف مزاحمت سامنے آئی ہے، جس کا آغاز امریکہ ایسے ترقی یافتہ ملک سے اس وقت ہوا جب 1962 میں رچل کیرسن کی کتاب Silent Spring شائع ہوئی جس میں انھوں نے کیڑے مار ادویات کے ماحول پر اثرات کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ ایک معرکہ خیز کتاب ثابت ہوئی کیوں کہ اس سے نہ صرف ماحول کے تحفظ کی بحث کا آغاز ہوا بلکہ یہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام پر کاری ضرب بھی ثابت ہوئی: آخر کار امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 1963 کے ایک ایکٹ کے ذریعے DDT کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔ یہ ماحولیاتی آگاہی اوراس کے تحفظ کی طرف پہلا قدم تھا، اسی طرح نارویجین فلسفی آرن نائٹس نے جارج سپنسر کے ساتھ مل کرفلسفۂ ماحولیات کے خدوخال وضع کیے۔ رفتہ رفتہ ماحولیات کے تحفظ کی تحریکیں امریکہ اور یورپ سے نکل کر دوسرے براعظموں اور ممالک میں پھیلنا شروع ہو گئیں۔ دنیا کی دیگر زبانوں کے ادیبوںکی طرح اردو زبان کے ادباء میں بھی ماحول کے ساتھ اس ناروا برتاؤ کے خلاف مزاحمت کی مثالیں موجود ہیں جن میں مجیدامجدؔ اور انتظار حسین (مور نامہ:مشمولہ: شہر زاد کے نام2002:) سامنے کی مثالیں ہیں، مجید امجدؔ کی نظم ’’توسیعِ شہر‘ (سالِ اشاعت:1960): قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم، اسی شعور کا اعلامیہ ہے۔

گفتگو کے تیسرے اور نتیجہ خیز نقطے کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ کیا پاکستان میں ماحول کی بقا کے لیے کوئی حکمتِ عملی موجود ہے؟ نیز موجودہ عہد کی ہول ناک صورتِ حال سے نکلنے کے لیے کیا لائحۂ عمل اختیار کرنا ہو گا؟۔ اس ذیل میں ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کی گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ یقیناپاکستان میں ماحول کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں اور وزارتِ ماحولیات بھی ہے لیکن ان قوانین پر عمل درآمدی کی صورت دیگر شعبہ جات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ تاہم اس امر کی وضاحت از حد ضروری ہو گی کہ ترقی یافتہ ممالک میں ماحول کی نوعیت ہماری نسبت یک سر مختلف ہو گی تاہم ہمارے اور ان کے ہاںا یک بنیادی فرق موجود ہے کہ ترقی یافتہ اقوام اپنا بہت سارا بوجھ اپنی مدد آپ کے تحت اٹھاتی ہیں، جب کہ ہمارے ایسے تیسری دنیا کے باسی اپنی کوتاہیوں اور کم زوریوں کا الزام حکامِ بالا اور ریاستی اداروں کے کھاتے میں ڈال دینے میںیک گونہ طمانیت محسوس کرتے ہیں، جب کہ ضرورت انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطحوںپرسعی اور تعاون کی ہے۔ موجودہ بحرانی کیفیت سے صرف اس صورت میں نمٹا جا سکتا ہے کہ ماحول کو آلودہ کرنے میں ممکنہ حد تک احتیاط کی جائے: ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال اور ماحول دشمن شاہانہ طرزِ زیست کے بہ جائے سادگی اور ماحول دوستی کوشعار بنایا جائے۔ تاہم اس سے بھی کہیں زیادہ اہم یہ بات ہو گی کہ ہمیں اپنے ذہن سے’اشرف المخلوقیت‘ کے خیال کو رخصت کرتے ہوئے اس کائنات میں اپنی اصلیت کو پہچاننا ہو گا، اور طوعاً و کراہاً اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ کائنات صرف و محض انسان کے لیے نہیں بنائی گئی ، دیگر مخلوقات کو بھی جینے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ ابنِ آدم کو۔

ڈاکٹر عبدالقادر نے اپنی گفتگو میں اس خیال کا اظہار کیا کہ انسانی آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور انسان کی خود غرضی حیاتیاتی نظام کی تباہی اور خود انسانی بقا کے لیے خطرے کا باعث بن رہا ہے، جانوروں، پرندوں اور پودوں کی کئی اقسام ناپید ہو رہی ہیں۔ انسانی آبادی میں مسلسل تیز تر اضافے سے حیاتیاتی نظام کو ہونے والے نقصان سے بچانے کے لیے کی جانے والی کوششیں عموماً آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔ حیاتیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں قومی جانور مثلاً مارخور، ریچھ، برفانی چیتے، نابینا ڈولفن، گدھ، مارکوپولو بھیڑ اور سائبیرین کرین سمیت متعدد انواع ناپید ہونے کے قریب ہیں۔ مزید یہ کہ حیاتیاتی خطوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے کچھ جانوروں کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے، آب پاشی کے نظام میں تبدیلی ، فصلوں پر کیڑے مار سپرے اور کھاد کے بے دریغ استعمال، کاشت کاری اور رہائشی مقاصد کے لیے جنگلات کے کٹاؤ سے پاکستان کے حیاتیاتی خطوں میں پانی کی قلت، خشک سالی ، گلیشیرز کے تیزی سے پگھلاؤ، حشرات کی 40% تک کمی، بارشوں کے نظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سمیت دیگر شدید خطرات لاحق ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: