حقوق نسواں کی آڑ میں تخریب کاریاں —– ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 81
    Shares

مجھے تاریخ سے گہری دلچسپی ہے کیونکہ ماضی کی راکھ میں دبی چنگاریاں ہی آنے والے کل کے لیے سبق بنتی ہیں۔ تاریخ کا ایک موضوع مسلمانوں کے شخصی قانون یعنی پرسنل لا پر مشتمل ہے۔ جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس کی وجہ اس موضوع سے ناواقفیت ہے۔ حکومت ہند، ہندوستان کے پرسنل لا میں ترمیم و مداخلت کرنا چاہتی تھی جس کی واحد وجہ دین اسلام سے دشمنی ہے۔ یہ نظریہ جبریت کی انتہا تھا جو یہ باور کرواتا رہا کہ مسلمان عورت نادار اور مظلوم ہے اسی لیے ہندوستانی سرکار اس جبریت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اب ذرا ایک نظر ماضی کی عورت پر ڈال لی جائے جسے پڑھ کر شاید ساری بحث کا مدعا سمجھ آ جائے۔

ماضی کی عورت ایک بے جان چیز تھی جس کی عصمت دری مرد کی نفسانی خواہشات کا ذریعہ بنی رہی۔ اسی لیے تب شادی کا کوئی تصور نہیں تھا اور نا ہی کسی مرد کے ساتھ کر دینے میں اس کی رضا اور رائے کو اہمیت حاصل تھی۔ مثلاً، یونانیوں کے ہاں عورت جانور کا روپ دھار چکی تھی جسے استعمال میں لانے کے لیے چابک گھمانا پڑتا ہے۔ اسپارٹا میں لاولد عورتیں محض اس لیے قتل ہو جاتی تھیں کہ وہ یونانی سپاہیوں کی جنسی خواہشات کو پورا نہیں کرسکتیں۔ روم میں شوہر کو اپنی بیوی کی اس کی کسی بھی غلطی پر جان سے ماردینے کا حق تھا۔ یہودیوں کی تحریف کردہ توریت میں عورت کو موت سے زیادہ تلخ قرار دیا گیا تھا۔ جہاں شوہر کے مرجانے پر اس کے بھائی سے زبردستی تعلقات قائم کرنے کی ہدایت دیتا تھا۔ مسیحی خود ساختہ قانون میں بھی یہ کہہ کر عورت کی تذلیل کی گئی کہ وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے۔ عورت کو طوفان، موت، جہنم، زہر، زہریلے سانپ سے زیادہ خراب، مرد کو غارت کرنے والی، قانون توڑنے والی اور بدتر چیز قرار دیا جاتا تھا۔ سرزمین ِ ہندوستان تو شوہر کے ساتھ آگ میں ستی ہو جانے والی آماجگاہ تھا اسی لیے ہندو قانون میں طلاق کا تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ یونانیوں، مصریوں اور ہندوؤں کے ہاں عورت دیوی تو بنی لیکن محض مرد کا دل پرچانے کے لیے۔

عربوں کا حال بھی کم و بیش ایسا ہی رہا جہاں عورت جانوروں کی طرح ہی خریدی اور بیچی جاتی تھی۔ بیٹیاں زندہ دفن ہو جاتیں اور شادی بیاہ کے ناشائستہ طریقے رائج تھے۔ قبل اسلام ایک عرب پندرہ تا بیس بیویوں کا بیک وقت خاوند ہوتا تھا۔ اسلام نے چار بیویوں کی حدلگا کر یہ شرط عائد کر دی کہ شوہر کسی ایک کو معلق نہ چھوڑے۔ جس معاشرے میں بیوہ سے شادی کرنا عیب تھا وہاں سرور کائنات حضرت محمد ﷺ نے بجز حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  کے تمام بیواؤں اور مطلقہ عورتوں سے نکاح کیا۔ اسی طرح ایک عورت کے متعدد شوہر ہوا کرتے تھے، اس رسم کو بھی ممنوع قرار دیا۔ شادی کے لیے عورت کی مرضی اور مہر تجویز کر کے اس کی شان اور عزت بڑھائی۔ عورت کے نان نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہرا کر اسے گھر کی ملکہ بنا دیا۔ اسلام سے قبل مرد کو ہی طلاق کا حق حاصل تھا لیکن اسلام نے عورت کو موزوں حالات میں خلع کا اختیار دیا۔ یعنی عورت خلع کا مطالبہ اس وقت کر سکتی ہے جب شوہر نامرد ہو (تاہم اس کے علاج معالجے کی مدت ایک سال دی جاسکتی ہے) دوسری شرط یہ کہ شوہر اس کو چھوڑ دے اور نفقہ نہ دے، اس کو لباس سے محروم رکھے، اس سے بھیک منگوائے، اس پر فاقہ کشی ہونے دے، اپنے گھر سے چلا جائے اور زوجہ کی بسر اوقات کا کوئی بندوبست نہ کرے۔ عورت کے پاس نہ جائے، اس سے ایسی مزدوری کروائے جو اس کی کسر شان اور آبروریزی کا باعث ہو۔ اس کے لیے کوئی مکان مہیا نہ کرے۔ متعدد ازدواج رکھے تو سب سے برابری کا سلوک روا نہ رکھ سکے۔ زوجہ پر ظلم و ستم کی انتہا کر دے۔ یعنی اسے جسمانی ایذا پہنچاتا ہو تو ایسی تمام صورتوں میں اسلام عورت کو مرد سے علیحدگی کا حق دیتا ہے۔

اسلام نے عورت کو حق جائداد دیا اور آزادانہ کاروبار کرنے کی اجازت بھی دی۔ یہ دین اسلام ہی ہے جس میں شوہر اپنی بیوی کے روپے پیسے کو زبردستی استعمال نہیں کر سکتا۔ عورت کا متروکہ جائداد میں حصہ بھی دین فطرت کی ہی دین ہے۔ عورت کی عصمت کی پاسداری محمدﷺ کی سنت میں موجود ہے جس کی ایک ادنیٰ مثال شریف عورت پر جھوٹا الزام لگانے (قذق) کی سزا اسّی کوڑے مقرر ہے۔ کہاں ہے حقوق نسواں کے علم بردار، اگر ان میں غیرت و حمیت ہے تو ان اسّی کوڑوں کے مقابلے میں کسی بھی مذہب سے کوئی مثال اٹھا لائیں۔ پردے کا نفاذ ٹوپی والا برقعہ نہیں جس کا مذاق اڑانا بھی ہمارا قومی شعار ہے۔ اللہ کا دین عورت کو پردے میں رہ کر بھی سارے جائز کاروبار کرنے کے اختیارات دیتا ہے۔ حضرت خدیجہ الکبریؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت فاطمہؓ کی پاک صاف زندگیاں آج کی عورت کے لیے مشعل نو ہیں۔ بعد کے ادوار میں بھی بے شمار مسلم خواتین نے زندگی کے ہر میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔

آخر مسئلہ کیا ہے؟
اب یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے ایسی کیا چیز ہے جو عورت کو مظلوم بنا رہی ہے۔ یعنی ایک صحت مند انسان کو ہسپتال کے بستر پر لٹانے کی کوشش کی جارہی جس کی کسی گاڑی سے ٹکرہی نہیں ہوئی۔ ترمیم و تبدیلی کے خواہش مند حضرات تعدد ِ ازدواج پر پابندی عائد کرنے کے خواہاں ہیں۔ آزاد خیالوں کے لیے عرض ہے کہ اسلام میں مرد کے لیے مخصوص حالات میں ہی چار شادیوں کی اجازت ہے حکم نہیں دیا۔ یعنی ایک بیوی کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کتنے مرد چار شادیاں کرتے ہیں، کیا ان کی شرح پچاس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے؟ عورت کو مقام دلانا ہے تو ذرا ان عصمت فروشی کے اڈوں میں جا کر نعرے لگائے جائیں جہاں حقیقت میں حوا کی بیٹی پامال ہوتی ہے۔ جہاں ایک نسل اپنے باپ کے نام کو ترس ترس کر مر جاتی ہے کیونکہ ہمارے ملک کا قانون زنا کو جرم ہی نہیں سمجھتا۔

حالیہ آٹھ مارچ کے دن یوم خواتین کے سلسلے میں نکلنے والی چند مرد مار عورتوں کی ریلیاں اور ان میں پیش کیے جانے والے ذومعنی اور فحش جملے کسی بھی شریف عورت کا سر شرم سے جھکانے کے لیے کافی ہیں۔ ہمارا مقدمہ لڑنے والے یہ اناڑی وکیل کیا جانیں کہ عورتوں کے حقوق کیا ہیں۔ قبیلوں کے اندھے قوانین کی نذر ہونے والی عورتوں کی کسمپرسی پر تو کسی نے نعرہ نہیں لگایا۔ قرآن مجید سے شادی کروائے جانے پر بھی شور نہیں مچا، ونی اور کاری ہونے والی عورتیں بھی توجہ کی طالب ہی رہیں۔ گالی گلوچ میں پروان چڑھنے والی عورتیں بھی انگشت بدنداں ہیں۔ چند بدقماش عورتوں نے عزت دار عورتوں کی چادر اس زور سے سر سے کھینچی کہ بال بال الگ ہو گیا اور تار تار الگ۔ ’’اپنا کھانا خود گرم کرو‘‘ کی توجیح یہ پیش کی گئی کہ ایک عورت صرف اس لیے قتل ہوئی کہ اس نے کھانا وقت پر گرم کیوں نہ کیا۔ نعرے لگانے والیاں اس زیرو زیرو سیون عورت کو بھول گئیں جس نے اپنے شوہر کی بوٹی بوٹی کر کے سالن بنا کر محلے بھر میں تقسیم کیا تھا۔ آخر عورت کی کس بات پر لڑائی ہے؟؟؟ ’’اپنا بستر خود گرم کرو‘‘ لا حول ولاقوۃ، یعنی بیڈ روم سے باہر کھلنے والی کھڑکیاں بیچ چوراہے پر کھول دی گئیں۔ جتنا نظر آتا ہے سب دیکھ لو کہ اس کا نام آزادی رائے ہے، حقوق نسواں ہے۔

میں خود سے شرمندہ ہوں کہ میری ہی صنف نے میری ہی عصمت دری کر دی اور میں بدلے میں کوئی بینر لے کر سر بازار نہ نکل سکی۔ نام نہاد این جی اوز کی جانب سے پھینکے جانے والا پیسہ رنگ لے آیا، ملک کے کونے کونے میں تشہیر ہو گئی، ہر زہریلی زبان یک زبان ہو کر بولی کہ ’’ٹائر میں لگا لوں گی‘‘ تو پھر جنازے بھی خود ہی پڑھا لو، بچے بھی ڈاؤن لوڈ کر لو، ڈر کیسا۔

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: