نرسری اور کنڈرگارٹن اسکول: تعلیم یا ظلم

0

جنوری کی سرد صبح تھی، تیز چلتی ہوا گویا کہ ہڈیوں میں گودا جما رہی تھی اور سانس نکالتے ہوئے منہ سے بھاپ خارج ہو رہی تھی، میں تیزتیز قدم اٹھاتا جلد از جلد اپنے آفس پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر گلی میں موجود ا ایک اسکول کے صدر دروازےکے سامنے کھڑے چند معصوم پھولوں پر پڑی جو کہ اسکول بیگ تھامے اپنے ننھے منے وجود سے اس کو متوازن رکھنے کے لیے کبھی دائیں کبھی بائیں ہورہے تھے، (شاید اسکول انتطامیہ کو معلوم ہی نہیں کہ دنیا میں بچوں کے اسکول بیگ کے وزن کا بھی ایک معیار ہے)یہ دیکھ کر میں حقیقی معنوں میں سُن ہوکر رہ گیا کہ یا الاہی یہ کیا ماجرا ہے ؟ ان معصوم بچوں کو اس عمر میں اپنی ماں کی آغوش سے کس چیز نے دور کیا ہے؟ ان کے ماں باپ نے کیا سوچ کہ اپنے جگر گوشوں کو گھر کے بجائے معاشرے کے حوالے کیا ہے؟ اگر غور کیا جائے یا پھر ایک ماں یا باپ بن کر اس سوال کا جواب سوچا جائے تو یہی جواب آئے گا، کہ اچھی تعلیم اور بہتر تربیت ہی اس مشق کا ماحصل، محور اور مطمع نظر ہے، لیکن کب سے یہ ذمہ داری والدین اور گھر والوں سے منتقل ہوکر معاشرے اور باہر والوں (اسکولز، اساتذہ) کی ہوئی ہے اس پر بھی غور ہونا چاہئے۔
یورپ میں تیز رفتار ترقی اور بھاگتی زندگی میں جب ماں کے پاس بچے کے لیےوقت نہیں رہا تو ایسے اسکولز کا رواج اور چلن عام ہوا جس میں بچے کی بہتر تربیت اور روزمره کے امور سکھانے کے لیے انتظام ہوتا۔اور جب وہ سفر کرتے ہم تک پہنچے تو ان اسکولز کی ہیئت ترکیبی ہی تبدیل ہوگئی، اب بچہ کی پڑھائی دو ڈھائی سال میں ہی شروع ہوجاتی ہے، ایک معصوم سا بچہ جسے سب سے زیادہ گھر کے ماحول اور ماں سے سیکھنے کی طلب ہوتی ہے اور کھانے پینے اور جوتا پہننے اتارنے سلیقہ صفائی سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ نت نئے پبلشرز کی کلرفل کتابوں کی بھول بھلیوں میں اپنا بچپنا ڈھونڈتا رہتا ہے، روزانہ کی بنیادپر ملنے والا ہوم ورک اس کے لیے ایک سزا بن جاتا ہے، ہر مضمون کے لیے ایک رنگین کتاب یا ورک بک اس کے لیئے بڑا آدمی بننے کی پہلی سیڑھی قرار پاتی ہے اور اس سیڑھی پر چڑھتے وہ روزگرتا ہے،پِٹتا ہے، چوٹ کھاتا ہے اور زخمی ذہن و وجود کے ساتھ اگلے دن پھر وہ اس سیڑھی پر آجاتا ہے۔ ٹریننگ کے بغیرمعلم اور معلمات کا پروجیکٹ بنتا ہے اور اسکول انتظامیہ کی نظر میں ایک پیسہ لانے والے شکار کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے۔ اور بدقسمتی سےاگر کوئی بچہ کسی سٹریس زدہ مس کے ہتھے چڑھ گیا تو عمر بھر نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے، پڑھائی اور اسکول کے نام سے ہی گھبراتا ہے یا پھر کلاس میں خالی نظروں سے بیٹھا کسی انجان نقطے کو گھورتا رہتا ہے۔
جاپان جیسے ملک میں بھی تین سال کی عمر کے بعد ہی کنڈرگارٹن (کے جی) میں داخل کروایا جاتا ہے۔ اور اس عمر میں وہاں باقاعدہ تعلیم نہیں ہوتی جیسے ہمارے ہاں کے اسکولز کا چلن ہے،کھیل کود کے ساتھ بچوں کو نظم و ضبط (ڈسپلن) اور بنیادی آداب سکھائے جاتے ہیں۔جاپان کوئی مذہبی ملک نہیں اس لئے کسی بھی مذہب کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا جاتا، لیکن بنیادی اخلاقیات جو ہر مذہب میں شامل ہیں وہ سکھائی جاتی ہیں۔ پھر ہر کنڈرگارٹن اور ہر اسکول میں بچوں کی گنجائش کے لحاظ سے کھیل کا میدان ہوتا ہے، جس میں کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے سے جسمانی ورزش بھی ہوتی ہے۔
اسکولنگ اور ہوم اسکولنگ ایک وسیع عنوان ہے جس پر بحث خود یورپی ممالک میں بھی ہو رہی ہے، اور وہ ایک بار پھر اپنے بچے کی ذمہ داری لینے کا سوچ رہے ہیں، ایک جائزے کے مطابق اس وقت امریکا میں 25 لاکھ، کینیڈا میں 60 ہزار،برطانیہ میں ایک لاکھ بچے ہوم اسکولنگ کر رہےہیں،پہلے ہمارے ہاں خاندان کے ایک ساتھ رہنے کا رواج تھا، اس لئے اسکول کے بغیر بھی ماں باپ کی اچھی باتیں دہرانے والے رشتہ دار بہت تھے، لیکن اب الگ گھرانوں کا رواج ہےتو اس لیے شہروں میں بچوں کی تربیت کے لیے کے جی اسکولزکی اہمیت ہے، لیکن ان کا کوئی معیارتو ہونا چاہئے، کھمبیوں کی طرح اگنے والے اسکولز بچوں کی معصومیت اور ان کے بچپنے کو چھین رہے ہیں۔ جو کہ ان بچوں پر ظلم ہے،ہم مغرب کی تقلید میں وہ کچھ کر رہے ہیں جس سے وہ خود واپسی کا سفر شروع کر چکے ہیں،
ترقی یافتہ ممالک میں پانچ یا چھ سال سے پہلے پڑھائی شروع نہیں کی جاتی، صرف اپنے کام، سلیقہ صفائی اور نظم و ضبط سکھایا جاتا ہے جس سے ہماری پوری نسل مرتے دم تک نابلد رہتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: