کامیابی کا مغالطہ: دھوکا دہی کی داستان —- نعیم الرحمٰن

0
  • 143
    Shares

ہمارے معاشرے میں لوگ ہرشعبے میں شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اور بے شمار موقع پرستوں کو ان کی اس تلاش سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ کامیابی کے متلاشی نوجوان ایسے لوگوں کا آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی کے تراجم سے لے کر بے شمار موٹیویشنل کتاب ہر سال بڑی تعداد میں شائع اور فروخت ہوتی ہیں۔ جن میں قارئین کو کامیابی کے نسخے بتائے جاتے ہیں۔ اور قاری یہ جانے بغیر اس کتاب کامصنف ان مشوروں پر کس حدتک عمل کرتاہے اوروہ اپنی کتاب کی فروخت کے علاوہ کتنا کامیاب ہے۔ یہ موٹیویشنل کتب خرید کر ان پرعمل کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اس دور میں جب اردو کی ادبی کتب تین سے پانچ سو تک شائع ہوتی ہیں۔ کامیابی کے حصول کی یہ نام نہاد کتابیں بڑی تعداد میں چھپتی ہیں۔ اس لیے ان کی قیمت بھی کم ہوتی ہے۔ ’’میٹھے بول میں جادو‘‘، ’’پریشان ہونا چھوڑیے‘‘، ’’جینا شروع کیجئے‘‘، ’’امتحان میں کامیابی کے کارگر طریقے‘‘، ’’کامیاب زندگی کے راز‘‘، ’’کامیابی کے دس زریں اصول‘‘، ’’گفتگو اور تقریر کافن‘‘، ’’کامیابی کیسے‘‘ اور ’’شاہراہ حیات پر کامیابی کاسفر‘‘ جیسی کتابیں ہزاروں کی تعداد میں شائع اور فروخت ہوتی ہیں۔ اور بے شمار افراد ان کے جھانسے میں آکر اپنا رہاسہا اعتماد بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ کامیابی دلانے کے دعویدار بہت سے ادارے بھی وجود میں آچکے ہیں۔ جو نوجوان کومختلف شعبوں میں کامیابی کے طریقے سکھاتے ہیں۔

ملک کے معروف پبلشر ایمل مطبوعات نے ’’کامیابی کا مغالعہ‘‘ ایک عمدہ کتاب شائع کی ہے۔ جس کاذیلی عنوان ’مبالغے اور دھوکے کی داستان‘ ہے۔ مصنف، لاہور میں مقیم عاطف حسین کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے۔ ان کی رسمی تعلیم کا میدان بزنس ایڈمنسٹریشن اور کوالٹی مینجمنٹ ہیں۔ تاہم وہ خود کو انہی شعبوں تک محدود نہیں رکھتے اور مختلف علوم کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔ سماجی دنیا کی پیچیدگی اور اس کے مطالعہ کے طریق ہائے کارمیں انہیں خاص دلچسپی ہے۔ اور اب پی ایچ ڈی کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

’کج فکری کی غذا‘ کے عنوان سے حرفِ ناشر میں پبلشر شاہد اعوان نے کیا خوب کتاب کا تعارف کروایا ہے۔

’کنفیوشش نے کہا تھا ’میں سب سے زیادہ نفرت ان چیزوں سے کرتاہوں جو غیرحقیقی ہیں مگر حقیقی ہونے کا دھوکا دیتی ہیں۔‘ زندگی کا سفر، اس کے مطالبات، زمانہ اور زمانہ سازی جتنے اہم موضوعات ہیں اتنے ہی مشکل اور پیچیدہ بھی۔ کامیابی کی تعریف اور اس کے حصول کی کوشش بھی کچھ ایساہی موضوع ہے۔ اِدھر کچھ سالوں سے پاکستانی عوام۔ حسب عادت بھیڑ چال کاشکار بنتے ہوئے، سرما کی بارش میں کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے موٹیویشنل اسپیکرز سے کامیابی کے گر سیکھنے کے درپے ہوچکے ہیں کہ ہرآنے والے اسپیکرکے حصے کے بے وقوفوں میں اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کامیابی کی تحریک فروخت کرنے والے ان خود ساختہ اسپیکرز نے جس طرح طلبا، نوواردانِ ملازمت، حتیٰ کہ جہاں دیدہ اور تجربہ کار پیشہ ور افراد کو اپنے چنگل میں جکڑ کے خود کو ناگزیر ثابت کر رکھا ہے وہ قابلِ رحم تو ہے، تشویشناک بھی ہے۔ اپنی آنکھوں میں کامیابی کے خواب سجائے یہ افراد جب ان اسپیکرز کی لچھے دارگفتگو کے زیرِ اثر خود کو چشمِ تصور میں دنیا پہ راج کرتا دیکھنے لگتے ہیں تو یہ نشہ کسی بھی نشہ سے زیادہ کیف آگیں ہوتا ہے۔ مگرآنے والے وقت میں جب یہ نشہ ٹوٹتا ہے اور زمینی حقائق سے آنکھیں چار ہوتی ہیں تو ان کی حالت بھی اس انسان کی سی ہوتی ہے جو نشہ نہ ملنے پر خود کو نوچ رہا ہوتا ہے۔
یہ بہت تلخ حقائق ہیں۔ جن کا ادراک کرنا ضروری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے کوئی تشویشناک مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ کامیابی، مثبت سوچ، اپنی قسمت خود بنائیے۔ جیسے جادوئی الفاظ کے کوئی معنی بھی ہیں؟ کیا میوٹیشنل ماہرین ان الفاظ کو اپنے معاوضے یا مالی فوائد کی بنیاد کے علاوہ بھی کسی طور دیکھتے ہیں؟ کیا ہماری زندگی کے ہر جذبے اور ہر انسانی آدرش کو مخاطب کرنے کے لیے بہروپیے اور شعبدہ باز ہی رہ گئے ہیں؟ ہم کب تک جدید مغربی فکر کی تلچھٹ کو امرت دھاراسمجھ کر پیتے رہیں گے؟ مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے، کاروباری اخلاقیات کے بھرپور مظاہرے کے ساتھ جب یہ نام نہاد اسپیکرزاپنے سامعین کو مخاطب کرکے باتوں کے طوطا مینا اڑانے لگتے ہیں۔ تو کیاان کی لفاظی سے وقتی تسلی اوراعتماد کے سوا کچھ حاصل ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ان میں سے کچھ حضرات نے اپنے کاروبار کے لیے مذہب کو آلہ کاربناتے ہوئے ہدایت ربانی کے الفاظ و آثارکو بھی اشتہاری جملوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ مذہب وہ مظلوم جنس ہے کہ استحصال کی ہرصورت کو جواز بخشنے کے لیے ظالم انسان کے ہاتھوں استعمال ہوجاتا ہے۔ یہ جس کی فلاح کے لیے آیا تھا اس نے خود اسے ہی فروخت کرنا شروع کردیا۔ ظالمو! خدا کی قسم تم ہم سے گنا معاوضہ لے لو مگر انسانی ذہن کی برتر صلاحیتوں اور ولولوں کو مستقبل کے کذب و دروغ کا موضوع نہ بناؤ، ہماری نسلوں کے مستقبل کواپنی چرب زبانی کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔ ‘‘

عاطف حسین کی کچھ قلم برداشتہ تحریریں فیس بک پر دیکھنے کے بعد شاہد اعوان نے ان سے رابطہ کیا۔ اور ان تحریروں کو ایک مستقل کتاب کی صورت دینے پر تیار کیا۔

پیش لفظ میں عاطف حسین کہتے ہیں کہ

’’اپنی افتاد طبع، تعلیم اورحالات کے باعث ایک عرصے سے مروجہ کامیابی کے لٹریچر کے متعلق مشکوک چلا آرہا ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کے متعلق میرے شکوک اور الجھنوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ انہی شکوک کے باعث میں نے پہلے پہل اس لٹریچر کے بارے میں نجی گفتگو میں سنجیدہ انداز میں استہزائیہ تبصرے کرنا شروع کیے، جن سے عموماً لوگ چڑ جاتے تھے۔ بعد کو میں نے سوشل میڈیا پربھی ایسے تبصرے شروع کردیے۔ تاہم ان تبصروں پر ہونے والے اعتراضات کے جواب میں جب مجھے کچھ نسبتاً سنجیدہ تبصرے بھی کرنے پڑے تواحساس ہوا کہ اس لٹریچر کے مختلف پہلووں پر سنجیدہ اور مربوط تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا فیس بک پر ایک پیچ بنا کر اکادکا تحریریں پوسٹ کرنی شروع کردیں جو اتفاق سے شاہد اعوان اور عامرہاشم خاکوانی صاحب جیسے سنجیدہ احباب کی نظر میں آئیں تو انہوں نے انہیں پسند کرتے ہوئے شیئر بھی کیا۔ شاہد صاحب نے جلد ہی ناشرانہ نظر سے ان تحریروں کو دیکھتے ہوئے ان میں ایک کتاب دریافت کرلی۔ مجھے ان کے تحکمانہ اصرار کے سامنے ہار ماننا پڑی اور یوں یہ کتاب وجود میں آئی۔‘‘

مصنف، شاعر اور دانشور احمدجاوید کا کہنا ہے کہ

’’سرمایہ داری نظام میں کامیابی اور ناکامی کے تصورات کو جس طرح انسان کے اخلاقی آدرشوں سے لاتعلق کردیا گیا ہے اس سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے دنیا کو اصطبل بنایا جارہا ہے جہاں گھوڑوں کو یہ باور کروا یاجائے گا کہ تم انسان کی ارتقا یافتہ شکل ہو۔ کامیابی کے گُر بتانے والے کرتب بازوں کی پوری کھیپ، انسانیت سے رضاکارانہ دستبرداری کو ایک مقدس مشن بنا کر ہمیں ریس کا گھوڑا بننے پرآمادہ کرنے نکلے ہیں۔‘‘

دانشور اور صحافی عاصم اللہ بخش نے لکھاہے کہ

’’اگر ریلٹی چیک کی بات کی جائے توحقیقی کامیابی انسان کے ظاہر و باطن دونوں کے حوالے سے ہی ہوسکتی ہے۔ ورنہ ’سیلف ایکچوالائزیشن‘ کا ہدف تشنہ تکمیل رہ جائے گا۔ کامیابی کی لگن اور اس کے حصول کے طریقے درحقیقت منزل تک رسائی کو یقینی نہیں بناتے البتہ جدوجہد کے پیرایہ کو یقینا سنوار دیتے ہیں۔‘‘

بلاشبہ یہ اردو زبان میں نام نہاد کامیابی کے لٹریچرپر پہلی مربوط اور باقاعدہ تنقید کی کتاب ہے۔ جس میں سیلف ہیلپ اور موٹیویشنل اسپیکرز کی دھوکہ بازی کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ جس کا اندازہ کتاب کے ابواب اور ذیلی عنوانات سے کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کے پہلا باب ’پس منظر‘ کے تین ذیلی عنوان ’سیلف ہیلپ بطور ایک صنعت‘، ’بزنس اسکول، کارپوریٹ دنیا اور الجھنیں‘ اور ’سکسیس لٹریچرسے بیزاری‘ ہیں۔ جس میں مصنف لکھتاہے کہ

’’گذشتہ دو عشروں کے دوران ہمارے ملک میں سیلف ہیلپ خصوصاً موٹیویشنل لٹریچر کو بہت عروج حاصل ہوا ہے۔ نہ صرف مغربی مصنفین کی کتابوں کے تراجم ہوئے بلکہ ہمارے اپنے ملک کے قلم کاروں نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ اب ایسے لوگوں کی ایک پوری کھیپ تیار ہوچکی ہے۔ جو انفرادی طور پر یا باقاعدہ اداروں کے پلیٹ فارمز سے اسپیکرز، ٹرینرز اور سی طرح کے دوسرے ناموں کے ساتھ اس لٹریچر کی اشاعت اور ترویج میں مصروف ہیں۔ کاروباری، فلاحی اورسرکاری ادارے کامیابی کے گُر سیکھنے، استعدادِ کار میں اضافے اور ملازمین کو موٹیویٹ کرنے کے لیے ان لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مضامین اخباروں اوررسالوں میں چھپتے ہیں اور ان کی تحریروں، اقوال اور لیکچرز انٹرنیٹ کے ذریعے بڑی تیزی سے شیئر ہوکر داد پاتے ہیں۔ کم ہی کوئی بک اسٹور یا لائبریری ایسی ہوگی جس میں آپ کو ان موضوعات پر متعدد کتابیں نہ ملیں۔ اب یہ ایک باقاعدہ صنعت ہے۔‘‘

کتاب کے مصنف عاطف حسین کا اس قسم کے ادب اور مبلغین سے واسطہ اسکول کے زمانے ہی سے پڑتا رہا۔ جب کامیابی کے گُر سیکھ کر بڑا آدمی بننے کی امنگیں اکثر جوان سینوں کی طرح ان کے دل میں بھی پل رہی تھیں۔ لیکن کالج کے دور میں جب یہ جوش کچھ ماند پڑا تو ایسے ادب کے بارے میں ان کے ذہن میں کچھ سوالوں نے جنم لینا شروع کیا۔ جو بعد ازاں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم کے دوران اس قسم کے لٹریچرکے خلاف شدید بیزاری میں بدل گئے۔ عاطف حسین لکھتے ہیں کہ

’’اول تو اس لٹریچر میں اس تصورکو بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ انسان اپنی قسمت کا خود مالک ہے اور اسکی کامیابی یا ناکامی، خوشی یا پریشانی کی ذمہ داری کلیتاً اسی پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن میرے اردگرد کئی افراد اور خود میری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس دعوے کو جھٹلاتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ دوم یہ کہ کامیابی کے جو نسخے ہمیں سکھائے جارہے تھے وہ ہر لحاظ سے میرے شخصی آدرشوں کے خلاف جاتے تھے۔ مثال کے طور پر ہمارے بزنس سکول میں اس بات پر بہت زور ہوتا تھا کہ طلبا کو ایگزیکٹو نظر آنا چاہیے جس سے مراد یہ ہوتی تھی کہ گھس گھس کر شیو کی جائے، ٹائیاں پہنی جائیں اور انگریزی بولی جائے۔ سارا زور اس طرح کے تصنع کے ذریعے ایک خاص طرح کا آدمی نظر آکر کامیاب ہونے پر ہوتا تھا۔ نہ کہ کسی قسم کا سنجیدہ اور حقیقی عملی مزاج پیدا کرنے پر۔ عملی زندی میں آنے کے بعدجب مختلف فورمز اور ٹریننگز میں شمولیت کا موقع ملا تو تصنع، مبالغے اور کھوکھلے پن کو اس سے بھی بدتر صورتوں میں دیکھا۔‘‘

عام طور پرلوگ اپنی صلاحیتوں، پسند ناپسند اور افتاد طبع پر بھروسہ کرنے کے بجائے محض غیر معمولی بننے کے لیے موٹیویشنل مصنفین اور اسپیکرز کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ سیلف ہیلپ کی کتب کے اسیر ہوجاتے ہیں۔ اور اپنی اہلیت کار میں بہتری کے بجائے بہتر نظر آنے کے فروعی چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ غیرمعمولی بننے میں ناکام ہوجائیں تو اپنی ہی نظروں سے گر کر رہی سہی خود اعتمادی بھی کھو کر ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کامیابی سکھانے کی کتب میں کامیابی حاصل کرنے کے گُر تو بتائے جاتے ہیں۔ لیکن کامیابی کی کوئی مخصوص تعریف پیش نہیں کی جاتی۔ ک

کامیابی کا مغالطہ کے مصنف نے بہت مختصر عنوانات کے ذریعے ان تمام امور پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔ اور اس دھوکے کا شکار ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسے کاسبق دیا ہے۔

کامیابی کے ادب کی بنیاداس تصور پر ہے کہ انسان اپنی کامیابی کا خود مالک ہے اور اپنی کامیابی یا ناکامی کا خود ذمہ دار ہے۔ اسی لیے اس ادب میں سیلف میڈ انسان کو آئیڈیل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس قسم کی کتب اورتقاریر میں ایسے لوگوں کی مثالیں دیکر یقین دلایا جاتاہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کرلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ بل گیٹس سے منسوب یہ فقرہ اکثر دوہرایا جاتا ہے کہ ’غریب پیدا ہونے میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن اگر آپ غریب ہی مرجاتے ہیں تو یہ سراسر آپ کا قصور ہے۔‘ فائز ایچ سیال اپنی مشہور کتاب ’شاہراہِ کامیابی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’کامیابی کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ کامیابی حاصل کرنا ایسا فن ہے جسے سیکھا جاسکتا ہے تو ہر کوئی کامیاب کیوں نہیں ہوجاتا۔ میں دوبارہ اپنی تحقیق کا حوالہ دوں گا۔ ستانوے فیصد لوگ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ کامیابی حاصل کرنا ان کے اپنے اختیارمیں ہے۔‘‘ فائز صاحب کایہ بھی کہنا ہے کہ ’’پانچ سو سے زائد ملکی اور غیرملکی کامیاب افراد کی زندگیوں کے بارے میں کیا گیا میرا مطالعہ بتاتاہے کہ ان میں سے نوے فیصد سے زائد افراد وہ تھے جو معاشرے کے پسماندہ طبقے میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور انہوں نے حقیقتاً اپنے پاس کچھ نہ ہوتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘

عاطف حسین کا کہناہے کہ قسمت کا مالک ہونے کا نظریہ فخش ہونے کی حدتک کسی بلندتر اجتماعی انسانی آئیڈیل سے خالی اور مذہبی تصورات و اخلاقی آئیڈیلز سے بھی براہِ راست متصادم ہے۔ یہ تصور کہ انسان اپنے مستقبل کا خود تعین کرسکتے ہیں اور اپنی زندگیاں بہتر بناسکتے ہیں متعدد پہلووں سے ایک جدید تصور ہے۔ یہ تو درست ہے کہ کسی شخص کو جوبی بھی کامیابی ملتی ہے وہ اس کی اپنی منصوبہ بندی، لیاقت اور محنت کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس میں قسمت یا حالات کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ بدحالی کے شکار افراد کی حوصلہ افزائی سے یہ تصور ان کو جدوجہد پر آمادہ کر سکتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گاکہ جو ناکامی بھی انسان کا اپنا قصور ہے۔ اگر کامیابی کا اکیلا ذمہ دارانسان خو د ہے تو پھر ناکامی بھی تو اس کی اپنی ہی کمی یا کوتاہی کا نتیجہ ہوگی۔ اس تصور کے عام ہونے پر ناکام فرد خود اپنی نظروں میں گرجائے گا۔ جس کے بہت مضر نتائج ہوں گے۔ کسی ناکام یا بدحال شخص سے ہمدردی کا بھی جواز باقی نہیں رہے گا۔ اس کے برعکس مذہبی تصور تو یہ ہے کہ خدا نے اپنی لامحدود حکمت کے تحت امتحان کی غرض سے کسی کو امیر اور کسی کو غریب بنایا ہے۔ نہ امیری میں اس کا کوئی کمال ہے۔ نہ غریبی میں اس کا کوئی قصور ہے۔ امیر پر غرور حرام اور شکر گزاری اور اللہ کی رضاکی خاطر غریب کی مدد کرنابھی فرض ہے۔

کتاب میں سابق امریکی صدرباراک اوباما کی ایک تقریر کے اقتباس پیش کیے ہیں۔ جس میں انہوں نے اپنی قسمت کے خود مالک ہونے کے نظریے کو سراسر غلط ثابت کیا ہے۔ اوباما کے مطابق

’’اگر آپ کامیاب ہوئے ہیں تویہ صرف آپ کا کمال نہیں تھا، آپ صرف اپنے بل بوتے پر یہاں نہیں پہنچے۔ میں ہمیشہ ان لوگوں پرشدیدحیران ہوتا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس وجہ سے کامیاب ہیں کہ وہ بہت ذہین ہیں، لیکن جناب ذہین تو اور بھی بہت ہیں۔ یا پھر انہوں نے محنت بھی بہت کی ہے لیکن محنت تو اور بھی بہت لوگ کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اگر آپ کامیاب ہیں تو دوسروں کی مدد سے۔ شاید کسی عظیم استاد کی وجہ سے، دوسروں کے تخلیق کیے ہوئے اس عظیم امریکی نظام کی وجہ سے جو آپ کو ترقی کے مواقع فراہم کرتاہے۔ اسی طرح سڑکوں اور پلوں پر دوسروں کا پیسہ لگا ہے۔ اگر آپ کا کوئی کاروبار ہے تو یاد رکھیے اسے آپ نے نہیں دوسروں نے آپ کے لیے تخلیق کیا ہے۔ انٹرنیٹ بھی ازخود تخلیق نہیں ہوا۔ اسے حکومت نے پیسے دے کر ریسرچ سے تخلیق کر وایا ہے۔ تا کہ سب کمپنیاں اس سے پیسہ کما سکیں۔‘‘

اس موضوع پرحرف ِ آخربل گیٹس کے والد کی گواہی ہے۔ جو کہتے ہیں کہ

’’بطور وکیل میں نے قریب پچاس سال کاروباری لوگوں کے ساتھ کام کیا اور بہت قریب سے دیکھاہے کہ کس طرح ان کے کاروبار کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں سے فائدہ پہنچتا ہے۔ میں اپنے بیٹے کے کاروبار کی تخلیق اورنمو میں بھی پیش پیش رہا ہوں اور یہاں بھی میں نے یہی دیکھا ہے کہ ہمارے ملک میں حکومتی خرچے پرتخلیق کیے گئے بنیادی ڈھانچے، ٹیکس قوانین، حکومتی مدد سے کی جانے والی ریسرچ، تعلیم، پیٹنٹ کے تحفظ اوراسی طرح کی کئی چیزوں نے اس کی کمپنی کوترقی کرنے میں بہت مدددی ہے۔ اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اس کمپنی کا امریکا کے زرخیزماحول میں شروع ہونا ہی اس کی کامیابی کی بہت بڑی وجہ ہے۔ بل گیٹس اگرکسی ترقی پذیرملک میں ہوتا تو باوجود اسکی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اورمحنت کے آج یہ کمپنی شاید کچھ بھی نہ ہوتی۔ ‘‘

تاجر، فلسفی اور ماہر شماریات نسیم طالیب نے اپنی کتاب ’دی بلیک سوان‘ میں بیانیے کا مغالطہ کی اصطلاح یہ دکھانے کے لیے وضع کی ہے کہ کیسے دنیاکے متعلق ہمارے تصور اور مستقبل کے متعلق ہماری توقعات کی تعمیر ماضی کے ناقص پتھروں سے ہوتی ہے۔ اس بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ ’’انسان اپنی قسمت کا مالک ہونے کا نظریہ بالکل مضحکہ خیز ہے جس کی کوئی علمی دلیل موجود نہیں ہے۔ جبکہ اس پریقین رکھنے کے اخلاقی اور سماجی نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ انسان کے اندر فطری طور پر کوشش کا داعیہ پایا جاتا ہے جو انسان کے لیے کافی ہے۔ اول تواسے لغو نظریات کے سہارے بڑھایا نہیں جاسکتا۔ لیکن اگر کچھ کیسز میں بڑھایا بھی جاسکتا ہو تو ان نظریات کے فوائد کے مقابلے میں نقصانات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا پرچار نہ کرنا ہی بہتر ہے۔

حاصل بحث کے عنوان سے آخری باب میں عاطف حسین نے لکھا ہے کہ

’’ وہ تصورِکامیابی جس کاپرچاربالعموم پیشہ ورمقررین و مصنفین بلواسطہ یا بلاواسطہ کرتے ہیں اس میں دولت وشہرت ہی کامیابی کے بنیادی پیمانے ہیں۔ یہ تصورِ کامیابی مجموعی مذہبی واخلاقی روایت اور فطرتِ انسانی کے تنوقع کی نفی پرقائم ہے۔ جس کے نتائج خطرناک ہیں۔ اوراس میں روحانیت شامل کی جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ نہایت بھونڈی اور ناقص ہیں۔ میں بالاصرار عرض کروں گا کہ میں کسی راہبانہ نظریے کا پرچارنہیں کررہاہے۔ میں خوشحالی کے حصول کی کوشش کو جائز سمجھتا ہوں تاہم اسے ہر کسی کے لیے لازمی قرار دینے پر تیار نہیں۔‘‘

مجموعی طور پر عاطف حسین کی کتاب ’’کامیابی کا مغالطہ‘‘ ایک ایسے موضوع پر بہت عمدہ اور بھرپور تحریر ہے۔ جس پر اردو میں بہت کم کام کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچنا چاہیے۔ شاہد اعوان صاحب بھی ایسے منفرد موضوع پرکتاب شائع کرنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: