اردوادب کی شان ’لوح‘ ——– نعیم الرحمٰن

0
  • 92
    Shares

ممتاز احمد شیخ کے منفرد، بے مثال اور ضخیم ادبی جریدے ’لوح‘ کا تازہ شمارہ پوری آن بان کے ساتھ منصہ شہود پر آگیا۔ اور آتے ہی چھا گیا۔ لوح کو بلاشبہ اردوادب کی شان قرار دیاجاسکتاہے۔ اردوکے معروف شاعر اور مزاح نگار ابن انشاء نے کہا تھا کہ نقوش کو بطور آلہ ضرب استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے عام شمارے خاص مواقع پر ہی شائع ہوتے ہیں۔ نقوشِ ثانی’ لوح‘ کا بھی ہرشمارہ خاص شمارہ اوربے حد ضخیم ہوتا ہے۔ آنکھ کے آپریشن کے باوجود ممتازشیخ نے جون تا دسمبر دو ہزار اٹھارہ کا لوح بروقت شائع کردیا۔ عمدہ سفید کاغذ اور بڑے سائز کے چھ سو اٹھہتر صفحات کا جریدہ ترتیب دینا کسی عام انسان کے بس کی بات تو نہیں لگتی۔ پھر اس ضخیم پرچے کا ہدیہ صرف آٹھ سو روپے بھی ناقابلِ یقین ساہے۔

’خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہئے‘ کے زیرعنوان اداریہ میں ممتازشیخ میں بالکل بجا لکھا ہے کہ ’’کراچی سے اردو ادب کے نامور فرزند اور جید عالم عالم جو میرے مہربان بھی ہیں اور روزِ اول سے وہ لوح پر نظرِ عنایت رکھے ہوئے ہیں فرمانے لگے کہ لوح میں اشتہارات کا یکسر نظرنہ آنا خطرے کی علامت ہے کہ اشتہارات توکسی بھی رسالے کے خون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسا ضخیم اور ہر لحاظ سے معیاری رسالہ جیب میں دھیلا پائی بھی نہیں چھوڑے گا۔ اندرون اور بیرون ملک سے کئی عظیم المرتبت حضرات ایسی ہی نوازشات کرتے رہتے ہیں کہ مجھے اپنی کوتاہ قامتی کا سامنا کرنے میں دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد اپنی یالوح کی تعریف اور مدح سرائی مقصود نہیں مگر یہ عرض کرنا ضرور مطلوب ہے کہ ایسے الفاظ اورخوش کن لمحات جہاں ایک عجب ذہنی آسودگی و تلذذ عطا کرتے ہیں وہاں قوتِ کار بڑھانے میں ممد و معاون بھی ٹھہرتے ہیں۔‘‘

اگر ایساشاندار جریدہ صرف حوصلہ افزائی کے ہی طفیل شائع کیا جاسکتا ہے تو اردو کے ادیب، شاعر و دانشورانِ کرام اور قارئین کو بھی ہرگز بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ جہاں تک کسی پرچے کی بقا کے لیے اشتہارات کا تعلق ہے۔ تو اس کا ثبوت تو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا حالیہ بحران ہے۔ جہاں سرکاری اشتہارات کی بندش یاکمی کے بہانے بے شمار صحافی بے روزگار کردیے گئے یا ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی گئی۔ لوح کا بغیر اشتہارات کے شائع ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔

اداریے میں ہی لوح کے عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے ممتازشیخ لکھتے ہیں کہ ’’لوح علم وادب سے محبت رکھنے والے ہرشخص کے لیے دستِ تعاون وا رکھنے کی کوشش اورتگ ودو میں سرگرداں ہے۔ کتاب کی اہمیت مسلم مگررسالے پوری ادبی دنیا کا پرتو ہوتے ہیں۔ لوح کا امتیازی اختصاص یہ ہے کہ اس میں بلاتفریق وتقریط ہرمکتب فکرکی نمائندگی اور ترجمانی موجود ہے۔ کوشش یہ کی جارہی ہے کہ لوح میں شائع ہونے والا ہر لفظ سندکی حیثیت اختیارکرسکے اور لوح میں تجزیاتی اورتحقیقی مضامین، افسانوں اوردیگراصناف کووہ مقام حاصل ہوسکے جوتاحد وسعت اردوادب کی نمائندہ تخلیقات کہلائی جاسکیں۔ دنیائے اردو کے ممتاز اسکالرزکے تحقیقی مضامین کو لوح کے لیے بطورِخاص شامل کرنا اس امرکی غماز ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے اصحاب کے لیے کچھ ارزانی اورسہولت مہیاکرنے کی سعی کی جارہی ہے۔ اس شمارے میں ہندوستان اور دیگر ممالک سے نامور محققین نے لوح کے لیے اپنی نمائندہ تحریریں بھجوائی ہیں۔ اور آئندہ شماروں میں کوشش کی جائے گی کہ انگریزی ادب کے نامورشاہ سواروں کی نثر اورشاعری پر مضمون اور تراجم پیش کیے جاسکیں۔ لوح کالوح سے تقابل ایک آزار ہے جوجی جلانے لگتاہے ہردفعہ لوح کوپہلے سے اچھا لانے کا آزار مگر پھر شوق اور آزار مدمقابل آن ٹھہرتے ہیں۔ ہردفعہ کچھ جداگانہ کرنے کا عمل گویا آگ کے دریا سے نکلنا ہے۔‘‘

ممتازشیخ کے یہ عزائم لوح کے ہرصفحہ سے عیاں ہیں۔ اور باربار قاری کے دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ یااللہ لوح کی حفاظت فرما۔ اس بے مثال پرچے کو ’سب رنگ‘ اور ممتاز شیخ کو ’شکیل عادل زادہ‘ بننے سے محفوظ رکھ۔ یہ بے مثال جریدہ تا دیراپنی تابانی سے اردوادب کے گلشن کو فروزاں رکھے۔

لوح کاآغاز’شامِ شہرہول میں شمعیں جلادیتاہے تُو‘ کے عنوان سے سلیم کوثر، خالداقبال یاسر، نیلم احمدبشیراورشاہدہ حسن کے حمدیہ کلام سے ہوا ہے۔ سلیم کوثر ان دنوں بیمارہیں۔ ان کے لیے دعائے صحت کے ساتھ ان کے چند دل میں اترنے والے حمدیہ اشعار پیش ہیں۔

خیال بندو ںکا حق تعالیٰ کو کس قدر ہے
وہ ا ن کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ترہے
ازل سے سینے میں رکھ دیا ہے بناکے اس نے
دھڑک رہا ہے جودل یہ در اصل اس کاگھرہے
ہماری سوچوں پہ اورخیالوں پہ حکمران وہ
ہمارے ظاہرسے اورباطن سے باخبر ہے

’کرم اے شہہ عرب وعجم ‘ کاعنوان نعتِ رسول مقبول کودیاگیاہے۔ احسان اکبر کا قصیدہ سلام بررسول انامﷺ کا ہرلفظ دل میں اترجاتاہے۔ سلیم کوثر، جان کاشمیری، سید انورجاویدہاشمی اور بی بی امینہ خان کانعتیہ کلام بھی اس حصے کی زینت ہے۔

ممتازشیخ نے سہ ماہی لوح اپنی مادرِ علمی گورنمنٹ کالج لاہورکی یادوں کوتازہ رکھنے کے لیے جاری کیاہے۔ اس کے سرورق پر’اولڈ راویئنز کی جانب سے اسیرانِ علم وادب کے لیے توشہ خاص تحریر ہوتاہے۔ ہرپرچہ کاپہلا مضمون اسی درسگاہ سے متعلق ہوتاہے۔ اس بارے میں مدیر کا کہنا ہے کہ جس طرح گورنمنٹ کالج لاہورکی تہذیب سے لاتعداد نسلیں جڑی ہوئی ہیں آخر لوح بھی تواسی درسگاہ کی کوکھ سے جنم لینے والے فرزانے کاہی خواب تھا جو حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ ’محبت جو امر ہوگئی‘ کے نام سے اس باراس عظیم درسگاہ کے روشن ترین چراغ پطرس بخاری کامضمون ’ کتب اور عالمی ثقافت‘ جسے محترم ڈاکٹر مرزاحامدبیگ کے شکریہ کے ساتھ شائع کیاگیاہے۔ جودلدادگان ادب کے لیے توشہ خاص کی حیثیت رکھتاہے۔

رفتگانِ ادب کے ذکرِ خیرکو’تکریم ِ رفتگاں اُجالتی ہے کوچہ وقریہ‘ کانام دیاگیاہے۔ جس میں معروف افسانہ نگار رشیدامجد نے ’آہ، نجم الحسن رضوی‘ میں افسانہ وناول نگار، کالم نگارکوخراج ِ تحسین پیش کیاہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’نجم الحسن رضوی صاحبِ مطالعہ شخص تھے اور اردوکے علاوہ غیر ملکی زبانوں کے ادب پربھی ان کی نگاہ تھی۔ وسیع مطالعے، زیرک مشاہدے اور فنی دسترس نے ان کی تحریروں میں ہمہ جہتی پیداکی۔ لکھنے کے حوالے سے ان کی تحریروں میں روایت اور جدت کا امتزاج نظرآتاہے۔ وہ نئی لسانی تشکیلات اورعلامتی اندازِ فکرسے پوری طرح آشنا تھے لیکن انہوں نے درمیانی راہ اختیارکی، یوں ان کی تحریریں دونوں مکاتیب ہائے فکرمیں توجہ سے پڑھی جاتی تھیں۔ مزاجاً بھی وہ متعدل تھے۔‘‘

ڈاکٹر اخترشمار نے معروف شاعر اطہرناسک کاب ھرپور خاکہ ’کسے دا یارنہ وچھڑے ‘ کے نام سے تحریرکیا ہے۔ جس میں اطہر ناسک کی کینسرکے موذی مرض میں مبتلاہونے اور دنیا چھوڑ جانے کا ذکر قاری کو اداس کردیتا ہے۔ بے مثال شاعرہ اور منفرد افسانہ و ناول نگار فہمیدہ ریاض کی یادیں صدف مرزا نے ’پس ِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا‘ کے نام سے تازہ کی ہیں۔ اپنے دور کے منفرد شاعرہ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

دورِ حاضر کے سب سے بڑے، منفرد اورصاحب ِ طرزافسانہ وگیت نگاراسدمحمدخان کاگوشہ بھی اس شمارے کااہم حصہ ہے۔ جس میں اسد محمد خان کے افسانے اور گیت کے بعد ادبی رسالے مکالمہ کے مدیر، شاعر و افسانہ نگارمبین مرزا نے طویل سوانحی مضمون کوان کے کام کے حوالے سے ’نئی زمین نئے آسماں تراشتا ہوں‘ کاعنوان دیاہے۔ جس میں اسد محمدخان کے فن اوراسلوب کا بہت عمدہ جائزہ پیش کیاہے۔ یہ اس گوشے کاسب سے عمدہ مضمون ہے۔ ڈاکٹرعبدالرحمٰن فیصل نے ’حقیقت کے لسانی تصور کا بیانیہ‘ اسد محمدخان کے افسانوں کی روشنی میں تحریر کیاہے۔ ڈاکٹر صفیہ سلطان کا مضمون ’اسد محمد خان بحیثیت افسانہ نگار‘ بھی بہت عمدہ ہے۔ تیس صفحات سے زیادہ کے اس گوشے کے ذریعے اسد محمدخان کے فکروفن کا خوبصورتی سے جائزہ لیاگیا ہے۔

لوح کا افسانوی حصہ کم وبیش ایک سو چالیس صفحات پرمحیط ہے۔ جسے اکیس نئے پرانے افسانہ نگاروں کی تحریروں سے مزین کیاگیاہے۔ اس بارہرحصے کواس شعبے کے نامور فرد کی تصویرسے مزین کیا گیاہے۔ افسانوں کے آغاز پر نامور افسانہ نگار اشفاق احمد کی تصویر ہے۔ پاک، بھارت کے سینئرافسانہ نگاروں رشیدامجد، سمیع آہوجا، محمدحمید شاہد، عبد الصمد مشرف عالم ذوقی، محمدحامدسراج، خالدفتح محمد، نیلم احمد بشیر اور شموئل احمدکے دوش بدوش رابعہ الرباء، شہناز شورو، شکیل احمدخان، سیمیں کرن، حمیرہ اشفاق ورمنزہ احتشام گوندل کی تخلیقات نے بھی خوب رنگ جمایا ہے۔ مختصرتبصرے میں ہرافسانے کاتجزیہ کرناتو ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان میں سے چندذہن میں گھرکرلیتے ہیں۔ رشید امجد نے حسب ِ روایت مختصر لیکن پر اثر افسانہ ’کہانی اور شہر‘ لکھا ہے۔ جس میں کس خوبی سے ہرعہدکی کہانی بیان کردی ہے۔

’کہانی کے ایک کردارنے بغاوت کردی تھی۔ لیکن کہانی کارنے زیادہ توجہ نہ دی کہ یہ کوئی بڑا کردارنہیں تھا۔ کہانی کارنے سوچا’اس بغاوت کاکہانی پرکوئی خاص اثرنہیں پڑے گا‘ پھریہ کہ ابھی اس کے پاس وقت تھاکہ سمجھابجھاکردھونس دھمکی سے یاترغیب لالچ سے وہ کردارکو بغاوت سے روک سکتاتھا۔ لیکن جب کردار، جوبظاہرچھوٹاکردارتھا، ٹس سے مس نہ ہواتوکہانی کارسوچ میں پڑگیاکہ اگراسے کہانی سے نکال دیاجائے توکہانی پرکیااثرپڑے گا۔ اس کے ذہن میں کہانی کاجوخاکہ تھااس نے ازسرنوجائزہ لیااوربظاہرچھوٹے کردارکونکال کردورایک ویران جگہ پھینک دیا۔ اس کاخیال تھاکہ پہلے تودوسرے کرداروں کواس کاعلم ہی نہیں ہوگا۔ اگرایسا ہوابھی تووہ معاملے کوسنبھال لے گا۔‘‘

پھر کہانی کااختتام کچھ یوں ہے کہ’’کہانی کے بظاہرچھوٹے کردارباغی ہورہے ہیں۔ شہرکے بظاہرچھوٹے لوگ اپنے حقوق کی بات کررہے ہیں۔ کہانی کارسوچنے سے عاری ہے۔ امیرِ شہراپنی حاکمیت کے نشے میں سرشار۔ ۔ کہانی بھی ختم۔ ۔ شہربھی ختم۔ ‘‘
کیاخوب بیانیہ ہے۔ کچھ نہ کہہ کربھی افسانہ نگار نے بہت کچھ بیان کردیا۔

اے خیام کا’سسٹم‘ انورزاہدی کا’پرتوشام‘، محمدحمید شاہد کا’جنگ میں محبت تصویرنہیں بنتی‘ محمدحامد سراج کا’ حیات دکھ ہے، ممات دکھ ہے‘
خالد فتح محمد کا’ روپ اوربہروپ‘، نیلم احمدبشیرکا’گہراسمندر‘ زین سالک کا’اوساموکاالٹاپانسا‘، سیمیں کرن کا’میزپہ دھرے تین فیصلے‘، اورمنزہ احتشام گوندل کا’خواب گزیدہ‘ اس شمارے کے بہترین افسانے ہیں۔ دیگرافسانے بھی موضوع اوربرتاؤ کے اعتبارسے اچھے افسانوں میں شامل ہیں اورمدیرکے حسنِ انتخاب کی پہچان بنتے ہیں۔

اسی صفحات کے حصہ نظم میں بیالیس شعراء کی ایک سوگیارہ نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ اس حصے کون م راشد کی تصویرسے مزین کیاگیاہے۔ احسان اکبرکی مختصربحر میں طویل نظم دل پرخاص اثرکرتی ہے۔ اس کاایک حصہ دیکھیں۔

جبروقدرکاکاتب/حرف سخت لکھتاہے/تاج شوکت وپرویز/جس قلم سے لکھتاہے/دوسرے ہی پل اس سے/میرابخت لکھتاہے/بخت سخت لکھتاہے/بخت سخت کے باوصف /تعزیت کے لمحوں میں/رونہیں سکاہوں میں/بے دلی کے داغوں کو/دھوں نہیں سکاہوں میں/دردمند ہوتا توچپکے چپکے کیوں روتا۔ ۔ ۔ شہریارسوتاہے/باپ کتناناداں ہے/سونے والے بچے کو/دیکھ دیکھ روتاہے

معروف شاعر، ڈرامہ، کالم اورسفرنامہ نگارامجداسلام امجد نے ’نئے برس کا پہلاسورج‘ کیاخوبصورت نظم لکھی ہے۔ ایک ایک مصرعہ دل میں اترجاتاہے۔ نظم کے عمدہ شاعرعلی محمدفرشی ’سمبل‘ کے نام سے لوح کے شہرراولپنڈی سے کیااچھا ادبی رسالہ شائع کرتے تھے۔ کاش انہیں بھی کوئی جہلم بک کارنرمل جائے توسمبل کابھی احیا ہوسکے۔ علی محمدفرشی کی چھ نظمیں اس حصے میں شامل ہیں۔ ان کی ایک خوبصورت مختصر نظم
’’اجرک/اک پھلواری/زخموں کی پھلکاری/جیسے ماں کی بکل/دردچھپائے رکھے/جیسے باپ کاسایہ/لوکے جھولے جھولتا/جیسے سندھ سہا گئی /جیسے تھرمیں جل تھل/بیت ہوں شاہ لطیف کے/دل کوکردیں گھائل/اجرک مومل رانوکی/جیسے مریم پاک/میں بھنوربھنبورکی/شہبازکے پاؤں کی پائل/میں سسٹری کا آنسو/میں سوہنی کی چھل/نیاکھیتے کھیتے/عمریں بیت گئیں/نظرنہ آئے ساحل‘‘

حصہ مضامین کو’لگارہاہوں مضامین نوکے انبار‘ کاعنوان دیاگیاہے۔ دوسوپچیاسی صفحات کے اس بھرپورحصے کے آغاز پرڈاکٹروزیرآغاکی تصویر دی گئی ہے۔ اس حصے میں مختلف علمی اورادبی موضوعات پراکیس وقیع مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ جن سے قارئین کی علمی معلومات میں اضافہ ہوتاہے۔ اس حصہ کے اہم ناموں میں بھارت کے مشہورادیب، شاعر، دانشور اورمدیر شمس الرحمٰن فاروقی، پاکستان کے بزرگ دانشور فتح محمدملک، ڈاکٹرمعین الدین عقیل، ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹررؤف پاریکھ، ڈاکٹرعقیق اللہ، ڈاکٹرسعادت سعید، ڈاکٹرناصر عباس نیئر اورڈاکٹرامجدطفیل کے مضامین اپنی مثال آپ ہیں۔ ڈاکٹرعقیق اللہ نے شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول پر’فکشن کی تنقید اورکئی چاند تھے سر آسماں‘ بہت اچھا مضمون تحریر کیاہے۔ ڈاکٹرناصر عباس نیئرکی حال ہی میں نظم خوانی اور افسانوں پرمبنی کئی کتب شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے خود کومنفردافسانہ نگارکی حیثیت سے بھی منوالیاہے۔ ناصرعباس نیئر نے ’داغ دہلوی، مابعد نوآبادیاتی تناظر‘ میں کلام ِ داغ کوایک نئے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس تحریرکی محرک طارق ہاشمی کی داغ پر مختصر کتاب بنی۔ جس میں اپنے زمانے کے مقبول ترین شاعرکونوآبادیاتی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اس مقبول بیانیے کا محاکمہ کیاگیا ہے۔ جس کے مطابق داغ دہلوی زبان، رندی اور رنڈی کے شاعر قراردیے جاتے ہیں۔

سلمیٰ اعوان مقبول افسانہ، ناول اورسفرنامہ نگارہیں۔ لیکن ان دنوں وہ دنیاکے عظیم ادیب، شاعر اور دانشوروں کو اردو قارئین سے متعارف کرانے کافریضہ بڑی خوبی سے انجام د ے رہی ہیں۔ ان کی کتاب ’عالمی ادب کے فروزاں قندیلیں‘ بہترین کاوش ہے۔ سلمیٰ اعوان مختلف جرائد میں عالمی مفکرین ادب پرعمدہ مضامین تحریر کررہی ہیں۔ لوح میں انہوں نے ’وسط ایشیاکاایک عظیم شاعر، علی شیرنوائی‘ پربہت عمدہ مضمون لکھاہے۔ ادبی جریدے ’نقاط‘ کے مدیر قاسم یعقوب کا مضمون ’تاریخ کے سفر میں مابعدجدیدیت کا پڑاؤ‘ بھی بہت عمدہ تحریر ہے۔ سعدیہ ممتاز نے اردو کے ابتدائی دورکے شاعر’سراج اورنگ آبادی وحدت الوجودی شاعر‘ کے موضوع پرقلم فرسائی کی ہے۔

’یادآتے ہیںزمانے کیاکیا‘کے تحت خودنوشت کے آغازمیں ’شہاب نامہ‘ کے خالق قدرت اللہ شہاب کی تصویردی گئی ہے۔ اور اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیو کی خودنوشت کا ایک باب’ذوالفقارعلی بھٹو‘ شامل ہے۔ اس باب میں بگھیو صاحب نے چاراپریل انیس سواناسی کی ڈائری میں لکھے بھٹوکی پھانسی کے دن کے پرانے اوراق پڑھ کراپنی یادیں تازہ کی ہیں۔ اس باب کوپڑھ کرقارئین کو ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو کی آپ بیتی کاانتظاررہے گا۔

غزلیہ شاعری کے انتخاب ’غزل شاعری ہے، عشق ہے، کیاہے‘ کاعنوان دیاگیاہے۔ ساٹھ صفحات پرمحیط اس حصے میں باون شعراء کی ایک سو اٹھائیس غزلیں شامل ہیں۔ جن میں سے بیشترمدیرِ لوح کے حسنِ انتخاب کی دلیل ہیں۔ جن میں انورشعور، امجداسلام امجد، توصیف تبسم، سلیم کوثر، صابرظفر، خالدشریف، اجمل سراج اورعباس تابش جیسے مستند شعراء کے دوبدوش علینہ عترت، ریحانہ روحی، اقبال پیرزادہ، رضیہ سبحان، طاہرشیرازی، سیمان اورواحدغالبی جیسے ابھرتے اور نوآموز شعراء کا کلام بھی شامل ہے۔ آغازمیں رنگین تصویرفیض احمدفیض کی ہے۔ چندمنتخب اشعار

کھولتے کب زبان ہم از خود آخر اس نے کیا کرم از خود
دل کواشکوں سے پالتی ہے آنکھ نہیں بھرتایہ جام جم ازخود انورشعور
کچھ وضاحت نہ التجا کیجئے سچ کہا ہے تو حوصلہ کیجئے
ہم نے مانا کہ معتبر ہے دماغ دل نہ مانے اگرتوکیا کیجئے امجداسلام امجد
کہیں پہ سرو، کہیں پرگلاب خوابیدہ اس آب وگل میں ہے کیااضطراب خوابیدہ
اسے چھوؤں تومیرے ہاتھ جگمگاتے ہیں ہے اس بدن میں کوئی ماہتاب خوابیدہ سرمدصہبائی
بچوں کی طرح وقت بتانے میں لگے ہیں دیوارپہ ہم پھول بنانے میں لگے ہیں
دھونے سے بھی جاتی نہیں اس ہاتھ کی خوشبو ہم ہاتھ چھڑا کر بھی چھڑانے میں لگے ہیں عباس تابش
’نہیں منت کش تاب ِ شنیدن داستاں میری‘ کے زیرعنوان امتیازعلی تاج کی رنگین تصویر اورمستنصرحسین تارڑاورمحمدالیاس نے ناولوں کے باب بھی قاری کی توجہ کھینچتے ہیں۔ مستنصرحسین تارڑ کے ناول’منطق الطیر، جدید‘ پر’بہاؤ‘ کی طرح تادیربحث ہوگی۔ ان دونوں ناولوں کے لیے مصنف نے بہت ریسرچ اورتگ ودو کی ہے۔
افسانہ وناول نگارمحمدالیاس کا چھٹا ناول ’حبس‘ حال ہی میں شائع ہواہے۔ محمدالیاس منفرد ناول نگارہیں۔ ان کے کردار نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یابڑے خاندانوں سے وابستہ ہونے کے باوجود انسانوں کے درمیان طبقاتی تفریق پریقین نہیں رکھتے۔ مذہبی اجارہ داری کے بھی وہ سخت خلاف ہیں۔ اوراس پرکھل کرلکھتے ہیں۔ ’پریت نہ جانے‘ کے نام سے محمد الیاس کے ناول کے دوباب انتہائی دلچسپ ہیں۔ اور ناول نگارکے اسلوب کی بخوبی عکاسی کرتے ہیں۔

تراجم کو’قرطاس پہ جہانِ دگربھی ہیں‘ کاعنوان دیاگیاہے۔ جس پرانیس ناگی کی تصویر ہے۔ صدف مرزا نے ’آئس لینڈک ساگا میں عورت کا کردار‘ پرقلم اٹھایاہے۔ صدف مرزا نے پیاٹیفڈرپ کی نظموں کے تراجم بھی بہت عمدگی سے کیے ہیں۔ ’ماحولیات اور مابعدنو آبادیات ‘ راب نکسن کے مضمون کا عنوان ہے جس کا ترجمہ ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی نے کیاہے۔
طنز و مزاح مختصرحصے کولوح میں ’یہی توٹوٹے دلوں کاعلاج ہے‘ کانام دیاگیاہے۔ اورپرفکاہیہ شاعرانورمسعود کی رنگین تصویر اپنی چھب دکھا رہی ہے۔ معروف مزاح نگارڈاکٹرایس ایم معین قریشی ’بھائی، ٹینشن نہیں لینے کا‘ کے ساتھ جلوہ گرہیں۔ ڈاکٹرعزیز رحمان نے ’غزل پر خیالی تنقید ‘ کی ہے۔

انجینئر، موسیقار، گلوکار ڈاکٹرامجد پرویز نے حالیہ برسوں میں برصغیرکے عظیم موسیقاروں اور گلوکاروں پر دوشاندارکتب پیش کی ہیں۔ ’میلوڈی میکرز‘ اور ’میلوڈی سنگرز‘ موسیقی پر عمدہ کتابیں ہیں۔ اس قسم کا کام اردو میں بہت کم ہوا ہے۔ فلم و موسیقی کے شعبے میں ڈاکٹرامجد پرویز ’ایم اشرف، لولی ووڈ کا ایک مقبول موسیقار‘ ان کی کتاب میلوڈی میکرز سے لیاگیا عمدہ مضمون ہے۔ جس سے ایم اشرف کے فن سے قارئین کو روشناس کرایاگیاہے۔ محمدعارف نے ’معمر نوجوان‘ محبوب ظفر کاعمدہ خاکہ تحریر کیا ہے۔

آخرمیں سرمد صہبائی کی کافیاں اورعلی محمدفرشی کے ماہیے ہیں۔ سرمدصہبائی منفردشاعر اورڈرامہ نگارہیں۔ ان کا بچپن میں دیکھاڈرامہ: بچوں کاباغ ‘ اب تک نہیں بھولا۔ ماہیے پرجرمنی میں مقیم ادیب وشاعر حیدرقریشی نے بہت کام کیا ہے۔ ان کی ماہیے پردوکتابیں بھی شائع ہوئی۔ علی محمدفرشی صاحب ان دنوں فیس بک پر بہت متحرک ہیں۔ ان کے ماہیے کمال کے ہیں۔

سب دیکھے بھالے ہیں/خوشحالی فقط اُن کی/جوڈنڈے والے ہیں۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ مہکاپھول جوانی کا/نورسے ناری نکلی تو/ٹوٹاخواب گیانی کا

کیا خوبصورت ماہیے ہیں۔ جن کے سامنے اردو ثلاثی اورجاپانی صنف نہیں جچتی۔ ممتاز احمد شیخ ایک ادبی جن ہیں۔ جنہوں نے چھ ماہ کی مختصر مدت میں اتنا ضخیم اور بھرپور ادبی گلدستہ ادب کے دیوانوں کی خدمت میں پیش کردیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ لوح ہمیشہ قائم ودائم رہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: