قوم اور دانش ور ——– سلیم احمد

0
  • 242
    Shares

سلیم احمد کی انیس سو اسی کی دھائی میں لکھی گئی ایک یادگار تحریر جو آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہے۔


موجودہ زمانہ فتنئہ الفاظ کا زمانہ ہے۔ روز طرح طرح کے الفاظ ہمارے کانوں میں پہنچتے ہیں اور ہمارے ذہنوں کو جو پہلے ہی سے تھکے ہوئے اور الجھے ہوئے ہیں اور زیادہ پریشان خیالی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسا لگتا ہے جیسے ہم ایک ایسے بازار میں کھڑے ہیں جس میں بے شمار سودے والے چیخ چیخ کر اپنے سودے بیچ رہے ہیں اور ہر بیچنے والے کا ایک مخصوص نعرہ ہے اور ہر نعرہ لگانے والا صرف یہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے مال پر ٹوٹ پڑیں۔ وہ چیختا ہے، چلّاتا ہے، خوش نما اور پُرکشش الفاظ کی بارش کرتا ہے اور سودا خریدنے والے کبھی اِدھر بھاگتے ہیں، کبھی اُدھر اور آخری میں خالی جیب اور خالی ذہنوں کے سوا ان کے پاس کچھ باقی نہیں رہتا۔ اس صورت حال میں ہمیں ہر قسم کی فریب کاری سے بچنے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے بدقسمتی سے ہمارے پاس اس کی سب سے زیادہ کمی ہے۔ ہم طرح طرح کے لفظوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی رک کر نہیں سوچتے کہ ان لفظوں کا کیا مطلب ہے۔ ہم کسی خیال کا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ کسی نظریے کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ کسی بات کے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ کس حد تک صحیح اور غلط ہے اور ہمیں دھوکہ دینے والے ہمارے اس کمزوری سے واقف ہیں۔

پچھلے دور میں سیاست کے ایک بازی گر نے ہمیں ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کے نعرے پر لگایا اور ہم سحر زدہ بچوں کی طرح اس کی بانسری کے پیچھے چلنے لگے ہم نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ اسلام اور سوشلزم کا ملاپ کیسے ہو سکتا ہے۔ ان کا ملاپ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی اسلامی شراب کا نعرہ لگائے یا اس سے بھی آگے بڑھ کر اسلامی کفر کا نظریہ پیش کرے، لیکن ہم اس نعرے یا نظریے کا تجزیہ نہیں کر سکے اور سات سال کی طویل مدّت اندھیروں میں بھٹکتے رہے۔ بدقسمتی سے یہ صورتِ حال آج بھی موجود ہے۔ آج بھی طرح طرح کے مداری طرح طرح کے لفظوں کی ڈگڈگی بجا کر ہمیں اپنی آوازوں پر نچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہماری قوّتِ فیصلہ ہمارا ساتھ دینے سے انکار کر رہی ہے۔ ایک آواز اُٹھتی ہے ’اسلام سیکولر مذہب ہے‘ کوئی کہتا ہے ’ہمیں غریبوں کا نظامِ مصطفیٰ چاہیے‘۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن سے قومیتوں کا فلسفہ نکال رہے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ سنتے ہیں اور ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے۔

کسی قوم کو سچے اور باضمیر دانشوروں کی ضرورت ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ دانشور گہرے اور کھرے تجزیے کا بار گراں اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ ان کی حیثیت اندھیرے میں چراغ جلانے والوں کی ہوتی ہے۔ وہ کنفیوژن اور انتشار خیال کی بھول بھلیوں میں صحیح راستے کی نشاندہی کرتے ہیں اور ہر خیال کو جانچ پرکھ کر بتاتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں اور وہ کہاں اور کیوں پیدا ہوا ہے۔

ہماری بدقسمتی صرف یہ نہیں ہے کہ قوم دانشوروں سے بے نیاز ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دانشور قوم سے بے نیاز ہیں۔ قوم کو مسخرے چاہئیں، کھلاڑی چاہئیں، ایکٹر اور بابِ نشاط چاہئیں، اگر نہیں چاہئیں تو وہ لوگ نہیں چاہئیں جو اسے شعور کی روشنی دکھا سکیں۔ ہمیں سر سید اور حالی کی ضرورت نہیں ہے نہ شبلی کی، نہ اکبر کی، نہ اقبال کی۔ ہم اپنے پیغمبروں سے بے نیاز ہو چکے ہیں اور اپنے بازیگروں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

دوسری طرف دانشوروں کا یہ حال ہے کہ وہ زمین و آسمان کے قلابے ملا سکتے ہیں، لیکن اگر قوم کوئی سیدھی سی بات ان سے پوچھے تو جواب نہیں دے سکتے۔ کتنے سوال ہیں جو قوم کے ذہن میں ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ کتنے مسائل ہیں کہ دلوں میں اضطراب کی بیلوں کی طرح پھیل رہے ہیں۔ کتنے مصائب اور دکھ درد ہیں کہ ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں مگر دانشوروں کو ان سے کوئی غرض نہیں۔ وہ مستعار خیالات کی دکانوں میں بے حسی کا مال سجائے بیٹھے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کا اپنے گھر کی ضرورت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وہ انقلاب فرانس کی تاریخ کے حافظ ہیں، انقلابِ روس پر گھنٹوں بول سکتے ہیں، مارکس اور انگلز کا فلسفہ ازبر، ہیگل اور نطشے منہ زبانی یاد۔ فرائڈ اور ہائیڈگر کے نظریات انگلیوں پر، لیکن کوئی پوچھے کہ تمہاری اپنی قوم جن قیامتوں سے گزر رہی ہے کیا اس پر کوئی حرف زندہ تمہارے پاس ہے تو زبان کو گویا تالے لگ جاتے ہیں اور ساری دانشوری پر جھاڑ کر سروں سے پرواز کر جاتی ہے۔ قوم کا سر اس کے دھڑ سے الگ ہو گیا ہے اور ہمارا اجتماعی شعور چھپکلی کی اس دم کی طرح ہے جو جسم مردہ سے الگ ہو کر تڑپ رہی ہے۔ اقبال نے کہا تھا شاعر قوم کا دیدۂ بینا ہوتا ہے۔ شاعر سے مراد صرف شاعر نہیں ہے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو قوم کے لیے کچھ سوچتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔ ہم اس دیدۂ بینا سے محروم ہو کر کہاں پہنچ گئے ہیں۔ قوم کو اس کا احساس ہو جائے تو شاید کچھ بات بنے، لیکن بقولِ غالب ’’کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے‘‘۔

کوئی قوم اپنے دانشوروں کی طرف یا کسی قوم کے دانشور اپنی قوم کی طرف وہ رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں جو ہماری قوم اور اس کے دانشوروں کا ہے۔ اس کے یقیناً کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ ہم اپنی شکایت کے جوش میں اگر انہیں نظر انداز کر دیں تو یہ نہ صرف دونوں کے ساتھ زیادتی ہو گی بلکہ ہم اس دو طرفہ نقصان کی تلافی نہیں کر سکیں گے۔

ہمارے لیے پہلا سوال یہ ہے کہ ایک ایسی قوم کی حیثیت سے جس نے اپنی طویل تاریخ میں بے شمار دانشور پیدا کیے اور اس کمال کی قدر دانی کا ریکارڈ قائم کیا۔ اب ہماری حالت یہ کیوں ہو گئی ہے کہ ہم ان کے رویے سے بھی بے خبر اور بے پروا ہو گئے ہیں۔ ابھی کل تک دور غلامی میں ہم نے اپنی مجبوریوں اور پسماندگیوں کے باوجود اپنی تاریخی روایات کو قائم رکھا اور اپنے دانشوروں کو قوم کے محسنوں کی حیثیت سے جانا۔ پھر آزادی کے بعد ہمارے رویے میں ایسی تبدیلی کیوں پیدا ہوئی جس نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ ہمیں اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

قبل اس کے کہ ہم موضوع زیر بحث کے اسباب کا تجزیہ کریں، آئیے ایسے ناموں کی ایک فہرست بنائیں جو انیسویں صدی کے اواخر سے بیسویں صدی کے ربع اول تک قومی زندگی کے افق پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ مثلاً سرسید، حالی، ڈپٹی نذیر احمد، شبلی، محسن الملک، وقار الملک، اکبر، اقبال، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، یہ فہرست نا مکمل ہے۔ مگر اس کو ایک نظر دیکھ کر ہی یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس میں اکثریت ایسے ناموں کی ہے جو ہمارے علم و ادب کے بھی معتبر نام ہیں، یہ بات ہم بعد میں آنے والوں کے لیے نہیں کہہ سکتے، بیسویں صدی کی نصف دہائیاں ختم ہوتے ہوتے قومی زندگی اور دانشوری کی سرحدیں الگ الگ ہونے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ دونوں شعبے ایک دوسرے سے بالکل غیر متعلق ہو جاتے ہیں، ابک اہل سیاست اور اہل قیادت الگ ہیں۔ ارباب دانش الگ، محمد حسن عسکری صاحب نے اس مسئلے کو ادیبوں کے حوالے سے چھیڑا ہے اور بہت وضاحت سے ادیبوں کے رویے اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔

بدقسمتی صرف یہ نہیں ہے کہ قوم دانشوروں سے بے نیاز ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دانشور قوم سے بے نیاز ہیں۔ قوم کو مسخرے چاہئیں، کھلاڑی چاہئیں، ایکٹر اور بابِ نشاط چاہئیں، اگر نہیں چاہئیں تو وہ لوگ نہیں چاہئیں جو اسے شعور کی روشنی دکھا سکیں۔

ہمارے یہاں چوں کہ ادیبوں سے ایک مخصوص طبقہ مراد لیا جاتا ہے اور ادب شعر و غزل یا افسانہ و ناول تک محدود ہے۔ اس لیے میں نے دانشور کا لفظ استعمال کیا ہے جو ایک وسیع تر معنویت کا حامل ہے اس میں مورخ، ماہرین علوم، ماہرین قانون اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جو قوم کے علمی اور فکری سرمایہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر اور بالخصوص آزادی کے بعد ہم ایسے لوگ کیوں نہ پیدا کر سکے جو قومی زندگی اور ذہنی اور فکری میدان دونوں میں سرگرم عمل ہوں۔

محمد حسن عسکری کے تجزیے کے مطابق اس کا پہلا سبب جدید تعلیم کا ایک مخصوص اثر تھا۔ ہم نے سر سید سے مولانا ظفر علی خان تک جو نام گنوائے ہیں ان میں ایک بات مشترک ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر پرانے نظام تعلیم کے پیدا کردہ ہیں اور ان میں جو لوگ جدید نظام تعلیم سے وابستہ ہیں ان میں بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے قدیم تہذیبی، علمی اور فکری سرمایہ سے گہرا شغف رکھتے ہیں اور جدید مغربی علوم کے ساتھ مشرقی علوم کا علم بھی رکھتے ہیں۔

اس کے برعکس جدید دانشور علمی اعتبار سے یک رخ ہیں۔ وہ جدید مغربی علوم کا علم رکھتے ہیں، لیکن اپنے تہذیبی اور علمی سرمایہ سے ناواقف ہیں یا اس سے گہرا تعلق نہیں رکھتے۔ اس تعلیمی پس منظر کے سبب سے انہیں قوم کی تاریخ روایات اور امنگوں اور آدرشوں سے وہ نسبت پیدا نہیں ہونے پائی جو قومی زندگی میں کوئی پر معنی کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہے۔

مسئلے کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ جدید دانشور شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے ہماری شہری اور دیہی زندگی میں زیادہ فاصلہ حائل نہیں تھا اور شہر اور دیہات ایک دوسرے کے قریب اور ہم آہنگی کی فضا رکھتے تھے، لیکن اب شہری زندگی دیہی زندگی سے بالکل مختلف ہو گئی ہے، اس لیے جدید دانشور جو صرف شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی قوم کی اکثریت جو دیہاتوں میں رہتی ہے اس کی نفسیاتی ضروریات اور عام مسائل سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ جو کچھ سوچتے ہیں وہ قوم کی اکثریت کی سوچ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور اس کا اظہار ایک ایسی زبان اور ایسی اصطلاحات میں ہوتا ہے جو قوم کے قلب و شعور میں اترنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔

ایک تیسرا بڑا سبب قوم اور دانشور دونوں میں جہت اور مقصد کا فقدان ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جس زمانے میں قوم کسی مشترک مقصد پر متفق ہو جاتی ہے اور اس کے لیے جدو جہد کا آغاز کرتی ہے تو دانشوروں میں بھی ایک رخ اور سمت کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے، لیکن عام حالات میں قوم کی بے سمت سرگرمیوں میں دانشوروں کو بھی فکر و احساس کا کوئی مشترک زاویہ نہیں ملتا۔

تین بڑے سبب میں نے اس احتیاط کے ساتھ بیان کیے ہیں کہ الزام کا بار کسی ایک فریق پر نہ ڈالا جائے۔ میں قوم کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہتا ہوں نہ دانشوروں کو۔ میرا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ایک امر واقعہ کو معروضی طور پر اس کے معاشرتی اور نفسیاتی پس منظر میں دیکھا جائے اور اس کے تدارک کی کوئی صورت نکالی جائے کیوں کہ قوم کا اپنے ارباب دانش سے اور ارباب دانش کا اپنی قوم سے بے تعلق ہو جانا ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے نتائج ہماری اجتماعی زندگی کے لیے کسی طرح بھی خطرے سے خالی نہیں ہیں۔

اب ہم نے قوم اور دانشوروں کے درمیان فصل اور علیحدگی کے جو تین بڑے سبب بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں اگر ہم موجودہ صورت حال کا کوئی تدارک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں۔

  1. ہماررا نظام ایسا ہونا چاہیے جو ہمارے جدید علوم کے ساتھ اپنی قوم کے قدیم علمی تہذیبی اور فکری سرمائے سے بھی گہری واقفیت پیدا کر سکے اور ہماری ذہنی تربیت اس نہج پر ہو کہ ہم اپنے حال اور مستقبل کے ساتھ اپنے ماضی کو بھی دیکھ اور سمجھ سکیں اور قومی زندگی کے تسلسل کی حفاظت کر سکیں۔ ساتھ ہی دانشوروں کو انفرادی طور پر بھی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی فکر و دانش کی جڑیں اپنی قوم کی تاریخ میں تلاش کر سکیں اور اپنے حال کو اپنے ماضی سے ربط دے سکیں۔
  2. دانشوروں کو اپنی قوم کی اکثریت کے مسائل اور ذہنی اور نفسیاتی ضروریات سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے دیہی آبادی سے تعلق پیدا کرنا چاہیے اور ایک ایسی اجتماعی کوشش ہونی چاہیے جس میں دانشوروں کی دیہی آبادی کے درمیان کچھ وقت گزارنے اور ان سے براہ راست واقفیت اور دل چسپی پیدا کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔
  3. ایک ایسی اجتماعی فضا پیدا ہونی چاہیے جس میں قوم اور اس کے دانشور دونوں مل کر کسی مشترک مقصد کا احساس پیدا کر سکیں اور گویا ایک اجتماعی مقصد کے حصول کے لیے ایک ہی وجود کے دو حصوں کی حیثیت سے کام کر سکیں۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ گفتگو دانشوروں سے شروع ہو اور ادیبوں اور شاعروں پر ختم ہو جائے، لیکن خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرا اپنا تعلق بقولِ غالب اسی مقہور و مردود طبقے سے ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں یہی طبقہ رہ گیا ہے جو فکر و دانش جیسے غیر متعلق موضوعات پر اب بھی کچھ بولتا رہتا ہے۔ اس لیے اپنے کالموں پر پہلا رد عمل مجھے اسی طبقے سے ملتا ہے۔ مسئلۂ زیر بحث کے سلسلے میں بھی مجھ سے ادیبوں اور شاعروں ہی نے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ قوم اور دانشوروں کا تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ قوم دانشوروں سے بے اعتنائی کرتی ہے اور دانشور قوم سے بے تعلق ہو گئے ہیں، لیکن اس کی وجوہ اس سے زیادہ وسیع ہیں جو میں نے بیان کی ہیں۔

نظامِ تعلیم کا اثر، شہری اور دیہی زندگی کا فرق، قوم اور دانشوروں میں سمت اور مقصد کا عدد تعین، یہ سب اسباب بھی ہوں گے، لیکن اصل سبب یہ ہے کہ ہماری قوم میں ایک بہت سطحی قسم کی مادیت پرستی پیدا ہو گئی ہے۔ قوم کا ہر فرد صرف ان مسائل سے تعلق رکھتا ہے جو اس کی معاش کو متاثر کرتے ہیں اور کسی طرح اس کے مادی مفاد سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ جتنی باتیں ہیں لوگوں کو ان سے دل چسپی نہیں ہیں۔ بالخصوص ایسی باتوں سے جن کا اثر دماغ پر بھی پڑتا ہو لوگ بارہ کوس دور بھاگتے ہیں۔ یہ مادیت پرستی قوم میں اتنی گہری ہو گئی ہے کہ قوم کے دو طبقے بھی جن کا تعلق بہر حال کسی نہ کسی طرح علم و دانش سے بنتا ہے، مثلاً اساتذہ اور صحافی وہ بھی صرف اپنے پونے ڈیوڑھے سے کام رکھتے ہیں اور اس سے زیادہ کسی سے دل چسپی لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم کے ہر طبقے میں کتاب کا تقدس بری طرح مجروح ہوا ہے اور کتاب سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو معاشرہ ایک عضوِ زائد سے زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسی مادہ پرستی کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ معاشرے میں صرف اہل زر یا اہل اقتدار کی پرستش ہوتی ہے اور قدروں کے بجائے قیمتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے کی مجموعی ذہنیت میں جب تک کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور چیک بُک کے بجائے کتاب کا تقدس بحال نہیں ہوتا اس وقت تک قوم اور دانشوروں کے درمیان کوئی تعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ باتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور یقیناً ان پر غور و فکر ہونا چاہیے، لیکن قوم میں یہ مادہ پرستی اچانک تو نہیں پیدا ہو گئی ہے۔ ہر اجتماعی مظہر کی ایک تاریخ ہوتی ہے اور یقیناً اس کی بھی ایک تاریخ ہو گی۔

قوم ادیبوں کے پاس یہ سیکھنے جاتی تھی کہ انسان روحانی طور پر کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ ادیب اسے یہ بتاتے تھے کہ اصل بات تو مادی اور جسمانی طور پر زندہ رہنا ہے۔ پہلے تو لوگوں نے ان باتوں کو حیرت اور دل چسپی سے سنا، کیوں کہ یہ نئی باتیں تھیں اور ان کی کوئی روایت ہماری علمی و ادبی تاریخ میں نہیں تھی۔ شاید انہیں پہلے یقین بھی نہ آیا ہو کہ خود ہمارے دانشور اور ادیب یہ سوچتے ہیں کہ انسان کا اصل مسئلہ پیٹ بھرنا ہے۔ بہر حال جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ ادیب اور دانشور سوچتے ہیں اور انہیں یہی سبق دینا چاہتے ہیں تو فطری طور پر انہوں نے کتابوں کو اٹھا کر طاق بُرد کر دیا اور پیٹ کا مسئلہ حل کرنے میں مصروف ہو گئے۔

مثلاً میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قوم میں یہ مادہ پرستی کیوں پیدا ہوئی؟ مجھے اپنی قوم کا جو علم ہے اس کی روشنی میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایسی قوم ہے جس پر سب سے زیادہ اثر صوفیائے کرام کا پڑا ہے اور ان کی تعلیمات سر تا سر روحانی ہیں، پھر قوم میں یہ رجحان کیوں پیدا ہوا؟ میرا خیال ہے کہ مادہ پرستی کا رجحان پہلے قوم میں پیدا نہیں ہوا بلکہ دانشوروں میں اور پھر ان کے اثرات سے قوم کے عام طبقات میں پھیلا، مثلاً ترقی پسند تحریک کے اثرات کو دیکھیے۔ ترقی پسندوں نے عوام کو یہ بتانا چاہا کہ انسانوں کا اصل مسئلہ معاش ہے۔ انہوں نے کہا علم، ایمان، دانش، اخلاقی اقدار یہ سب ثانوی باتیں ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ آدمی کو بھوک لگتی ہے۔ چنانچہ اصل اہمیت کتاب کی نہیں روٹی کی ہے۔ قوم ادیبوں کے پاس یہ سیکھنے جاتی تھی کہ انسان روحانی طور پر کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ ادیب اسے یہ بتاتے تھے کہ اصل بات تو مادی اور جسمانی طور پر زندہ رہنا ہے۔ پہلے تو لوگوں نے ان باتوں کو حیرت اور دل چسپی سے سنا، کیوں کہ یہ نئی باتیں تھیں اور ان کی کوئی روایت ہماری علمی و ادبی تاریخ میں نہیں تھی۔ شاید انہیں پہلے یقین بھی نہ آیا ہو کہ خود ہمارے دانشور اور ادیب یہ سوچتے ہیں کہ انسان کا اصل مسئلہ پیٹ بھرنا ہے۔

بہر حال جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ ادیب اور دانشور سوچتے ہیں اور انہیں یہی سبق دینا چاہتے ہیں تو فطری طور پر انہوں نے کتابوں کو اٹھا کر طاق بُرد کر دیا اور پیٹ کا مسئلہ حل کرنے میں مصروف ہو گئے۔ یہ صرف ایک سطحی سی مثال ہے۔ ورنہ اس خیال کی جڑیں اس سے زیادہ گہرائی میں موجود ہیں اور اس کا تجزیہ کسی موقع پر زیادہ وضاحت سے کیا جا سکتا ہے۔ بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ قوم میں بڑھتی اور پھیلتی ہوئی مادیت پرستی بھی مسئلہ زیرِ بحث میں ایک اہم سبب کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: آزادیِء رائے کو بھونکنے دو: سلیم احمد کی یادگار تحریر

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: