ریحام خان کا دوپٹہ ——- راحیلہ خان

0
  • 61
    Shares

ریحام خان کو ہم نے اس وقت جانا جب یہ عمران خان کے نکاح میں آئیں اور انکا پیج بھی لائک کیا۔ ۔ جہاں میں نے سرچ کیا ہوگا بہت سے مردوں نے بھی متاثر ہو کر ہی کیا ہوگا۔ ۔ ۔
انکی پوسٹ پر اور انکے چاہنے والوں کی وال پر مادر ملت تک کا خطاب دینے میں کسی نے عار محسوس نہں کیا۔ ۔
یہ ایک جدوجہد کرنے والی خاتون پٹھان پاکستانی ہیں جنہوں نے وقت اور حالات کے پیشِ نظر خود کو تبدیل کرنا مناسب سمجھا ۔ ۔ وہ کہتی ہیں کہ اپنے پہلے خاند سے تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے انہیں بچوں کو لیکر دوسرے ملک جانا پڑا وہاں انہوں نے زندہ رہنے کے لئے نوکری کی بچوں کی کفالت کی خود میڈیا سے وابستہ ہو گئیں اور واپس پاکستان آگئیں ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ایک چینل میں کام شروع کیا انکی شہرت کی وجہ انکا وہ انٹریو بنا جو عمران خان سے کیا گیا۔ ۔
عمران خان خود ساری عمر سٹرگل کرتے رہیں ہیں اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ خواتین کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ۔
عمران خان نے انکے ماضی پر تبصرے کئے اور خوشی کا اظہار کیا کہ وہ ایک سٹرونگ اور کانفیڈینٹ خاتون ہیں اور کیونکہ وہ ایک ایسے پاکستان کے صوبے سے بھی تعلق رکھتیں تھیں جہاں عورت کی آزاد خیالی اور کھلے عام باہر نکلنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تو اس بات سے متاثر ہوکر انہوں نے ریحام خان کو پروپوز کیا۔ ۔
یہاں تک یہ عمل انتہائی قابل تحسین ہے اور واقعی میں شدید متاثر بھی ہوئی، اس وقت میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتی تھی لیکن مجھے یاد ہے اس وقت بھی اکثر جہاں تنقیدی پوسٹ کرتی تو اکثر اس جماعت کے کچھ نابالغ اذہان ایسا ردعمل دیتے کہ مجھے اخلاقی دائرہ سےکچھ باہر آکر انہیں سمجھانا پڑتا۔ ۔
لیکن جب میں اچھے اقدام کی تعریف کرتی تو یہی لوگ مجھے باجی، محترمہ سے کم پر مخاطب نا کرتے۔ ۔
میں اس وقت سوچتی تھی کہ انکو اگر عمران خان نے سدھار لیا تو یہ ایک کھیپ ہے، ایک پوری نسل ہے، اگر یہ سدھر گئی تو عمران خان کو وزیر اعظم بننے کی بھی ضرورت نہیں وہ ایک لافانی کردار اور ایک عظیم لیڈر کے طور پر سرخرو ہو جائیں گے۔ ۔
لیکن بدقسمتی سے ایسا نا ہو سکا۔ ۔

ریحام خان کا اگر میں تجزیہ کروں تو یہ ایک ایسی ہی خاتون ہیں جو شادی کے بعد شوہر کے ساتھ ساتھ انکی ہر چیز کو اپنا سمجھنا شروع کر دیتی ہیں۔ زیادہ حکمت سے کام نہیں لیتیں خود بھی کچھ کرنا چاہتی ہیں اور اپنے شوہر کو بھی سپورٹ کرتیں ہیں ۔ ۔
لیکن ایک بہت بڑی غلطی یا حماقت یہ کہہ لیں کہ یہ انکی پہلی شادی نہیں تھی انکے ساتھ انکے نوجوان تین عدد بچے بھی تھے۔ ۔ اسکے علاوہ عمران خان بھی دو بچوں کے باپ تھے۔ ایسے وقت میں انہوں نے جلدبازی یا جزباتیت میں ہر اس چیز میں انوالو ہونے کی کوشش کی جو انکا کام نہیں تھا۔ ۔ ۔
انہیں یہ سوچنا چاہیئے تھا کہ اگر عمران خان کو کسی ایسی عورت کی چاہ ہوتی جو سوشل اور سیاست میں آنے کی خواہش مند ہو تو دنیا بھری پڑی تھی وہ کسی سے بھی شادی کر سکتے تھے۔ وہ کیا وجوہات تھیں جسکی بِنا پر انہیں وہ گھر لائے اور انکے بچوں کو بھی قبول کیا ۔ ۔ ۔ اگر وہ کچھ عرصہ مزید گزارہ کرتیں تو یقیناً آج حالات مختلف ہوتے۔ ۔

ہوا یہ کہ انکے اختلافات جو کہ انتہائی ذاتی نوعیت کے ہونگےمگر چونکہ وہ لیڈر تھے تو انکے سپورٹرز پر گراں گزرا اور وہ ایک دم سے ”مادر ملت“ کے مقام سے کہیں نیچے گرادی گئیں۔ یہ لوگ مخالف جماعت سے شاید گھبرا گئے تھے اور اس سے بچنے کے لئے انہوں نے ریحام خان پر غیر اخلاقی حملے بھی کئے۔ اس کے بعد ایک نا رکنے والا سلسلہ چل نکلا ۔ ۔ ریحام خان نے لائیو فیس بک اور مختلف ٹی وی چینلز پر آکر یکے بعد دیگرے ایسے انٹریوز دیئے جس سے انکی ذاتی متاہل زندگی سب پر آشکار ہو گئی۔ ۔ ۔ شاید وہ کسی کے ہاتھوں استعمال بھی ہوئی ہوں اور کسی کے کہنے پر بھی یہ سب کہا ہو ۔ ۔ اور طلاق کے بعد بدلے کی آگ میں بھی انسان عقل سے پیدل ہو جاتا ہے۔ ۔ اس پہ تحریک انصاف کے سورٹرز نے ملکر انکی ذات پر دھڑا دھڑ ایسے حملے کئے کہ بچنا ناممکن ہو گیا۔
انکی ایک اور بڑی غلطی یہی تھی کہ طلاق کے بعد پرسنل لائف کو ڈسکس کیا ۔ ۔ ۔ یہ ایک اچھی حرکت نہیں تھی اور انہیں ہوش میں رہ کر بیانات دینے چاہیئے تھے۔

مجھے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ سپورٹرز گالی گلوچ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف میری ریحام خان سے یہ گزارش ہے کہ آپ پاکستان میں آزاد تھیں آپکو شکر آدا کرنا چاہئے تھا کہ اپنے ملک میں واپس آگئی تھیں۔ یا تو آپ پہلے شادی نا کرتیں ۔ ۔ ۔ اور کر چکی تھیں تو اسے نبھانے کی کوشش کرتیں ۔ اگر طلاق بھی ہوچکی تھی تو بھی آرام سے کہیں کوئی فلاحی کاموں میں حصہ لیتیں اور اپنی اور اپنے بچوں کی کو بہتر پاکستانی بناتیں۔
فوج کے خلاف بیانات دینا اور عالمی سطح پر ملک کی بدنامی سے گریز کرنا چاہئے ۔ ۔ ۔ ان لوگوں سے دور رہیئے جن کے گھر بار پاکستان میں نہیں اور انکا اوڑھنا بچھونا دوسرے ممالک کی پیداوار ہے۔
ابھی بھی وقت ہے اور اس ملک میں فلاحی تنظیموں کے ساتھ ملکر کچھ نیا کرنے کی کوشش کجئے۔ یہ لوگ تو بدیسیوں کو اتنی عزت دیتے ہیں تو آپ تو پھر پاکستانی ہیں۔
ملکی معاملات پہ تنقید صرف اس ملک کی عوام کا حق ہے۔ ۔ جو یہاں جئے گا اور یہیں مرے گا یہ زمیں اُس کی ہے۔
فوج ہمارا دفاع کرتی ہے ملک کی سلامتی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔
مجھے امید ہے آپ ایک قدم آگے بڑھیں گی اور پورا پاکستان دو قدم آگے بڑھکر آپکو خوش آمدید کہے گا۔ یہی ہماری پہچان ہے اور یہی خلوص اس ملک کے باسیوں کا خاصہ ہے۔

مجھے دُکھ ہے کہ کاش وہ دوپٹہ جو ریحام خان نے اوڑھ لیا تھا اسے وہ پھینکنے پر مجبور نا ہوتیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: