خواتین کا عالمی دن: مسائل، خدشات اور تاویلات —- لالہ صحرائی

0
  • 40
    Shares

درپیش سماجی مسائل پر پختہ فکر نقطۂ نظر باور کرانے یا حسب ضرورت جرآت مندانہ قدم اٹھانے سے ہم کافی حد تک محروم ہی رہتے ہیں، خاص طور پہ بعض حل طلب سماجی مسائل جن کیلئے مغرب سے کوئی آواز اٹھے، ان معاملات کو لازمی طور پر مذہب یا معاشرتی اقدار کیساتھ تقابل کرکے تاویلات، خدشات یا تفاوت کی بھینٹ ہی چڑھا دیا جاتا ہے۔

مغرب سے اٹھنے والی ہر تحریک پر تحفظات کا اظہار بعض صورتوں میں بلاشبہ جائز ہے مگر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر کسی تحریک میں کسی حقیقی معاشرتی مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے تو ہمیں دو ٹوک اس کی مخالفت کرنے کی بجائے اپنے سوشل فیبرک اور معاشرتی حدود کے اندر رہتے ہوئے ان مسائل کو اپنے انداز میں حل کرنے کی سعی ضرور کرنی چاہئے۔

خواتین کا عالمی دن صرف ایک دن کی سیلیبریشن نہیں بلکہ اس کے پیچھے اقوام متحدہ کی پوری ایک منظم تحریک موجود ہے جو بدلتی ہوئی دنیا میں عورت کی سماجی اور معاشی سطح پر برابری، تحفظ اور ایمپاورمنٹ کو یقینی بنانے کی ہمہ جہت اور عالمگیر کوششیں کر رہی ہے، ایمپاورمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کو ان کے ڈومین میں فیصلے کرنے کے اختیار بھی اسی طرح سونپے جائیں جس طرح مردوں کو حاصل ہیں۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے تازہ پالیسی بیان میں کہا ہے کہ ہم یو۔این۔او کے پلیٹ فارم پر خواتین کی برابری کو یقینی بنا چکے ہیں، دنیا بھر میں ہماری ٹیمیں جس کسی پراجیکٹ پر بھی کام کر رہی ہیں ان میں خواتین کو قابلیت کی بنیاد پر لیڈنگ رول ادا کرنے اور اپنے دائرہ اختیار میں اپنے فیصلے خود کرنے کا مکمل اختیار دیدیا گیا ہے، لیکن دنیاوی معاشروں میں صورتحال جوں کی توں ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پچھلی چند دہائیوں کی جدوجہد کے نتیجے میں اب تک صرف چھ اکانومیز سامنے آئی ہیں جو اپنے سسٹم میں خواتین کو مکمل برابری کی بنیاد پر قانونی حقوق فراہم کر رہی ہیں، اگر یہی رفتار رہی تو عالمگیر اکنامک۔جینڈر۔گیپ کو ختم کرنے میں کم و بیش 170 سال مزید لگ سکتے ہیں۔

سیکریٹری صاحب کیمطابق اس ناکامی کی وجہ دنیا بھر میں مستحکم مردانہ سماج کی مزاحمت ہے جو سخت رویئے اور ردعمل کی مظہر ہے، اس صورت میں ہمیں اپنی کوششوں کو دوگنا کر دینا چاہئے تاکہ کم وقت میں زیادہ نتائج حاصل کر سکیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کا موجودہ نظام مردوں کے نقطۂ نظر سے تخلیق شدہ ہے، ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ اس میں خواتین کے فیصلوں کا بھی بھرپور حصہ موجود ہو جو شہری ماحول، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ و پبلک سروسز کو بہتر بنانے اور جنسی ہراسمنٹ، گھریلو تشدد، معاشی حق تلفیوں اور خواتین کیلئے معاشرتی گھٹن کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو۔

خاص طور پہ مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کو برابر کا حصہ دینے کیلئے انہیں سائینس و ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھمیٹکس کے شعبوں میں آگے لانے کی شدید ضرورت ہے، اس مقصد کیلئے دنیا میں کچھ ایسے پروگرامز بھی چل رہے ہیں جن میں خواتین کو ان شعبوں میں خصوصی مہارت دی جا رہی ہے بلکہ ان خواتین کو باقی نسوانی آبادی کیلئے ٹَیک۔لیڈرز کی حیثیت سے بھی ٹرینڈ کیا جا رہا ہے۔

اس نظریئے کے ایڈووکیٹس اس بات کی بھی ترویج کرتے ہیں کہ خواتین کو بالائی سطح تک فیصلوں میں رسائی حاصل ہونے سے دنیا میں جنگی ماحول، بین الاقوامی جھگڑوں اور تناؤ میں بھی خاطرخواہ کمی نظر آئے گی۔

یہاں تک کی گفتگو میں یہ بات بالکل واضح ہو جانی چاہئے کہ خواتین کا عالمی دن صرف ایک دن کی سیلیبریشن نہیں بلکہ یہ سارا سال جاری رہنے والی ایک منظم عالمگیر تحریک ہے جو اس متذکرہ بدلاؤ کیلئے ہمارے معاشرے کا دروازہ بھی کھٹکھٹا رہی ہے۔

پھر بھی یقین نہیں آرہا تو اس بات کو یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ سال بہ سال اس تحریک میں نظریاتی طاقت کیسے اپنا گھر کر رہی ہے۔

سال 2016 کیلئے اس تحریک کا سلوگن تھا۔
#MakeItHappen
یعنی اپنی قوت جمع کرکے اپنے ایجنڈے کو کامیاب بنایا جائے۔

سال 2017 کا سلوگن تھا۔
#BeBoldForChange
یعنی مطلوبہ تبدیلی کیلئے بہادر بن جائیں۔

سال 2018 کا سلوگن تھا۔
#PressForProgress
یعنی اپنی ترقی کیلئے اپنا دباؤ برقرار رکھیں۔

اور سال 2019 کا سلوگن ہے۔
#BalanceForBetter
یعنی سماجی بہتری کیلئے خواتین کو مردانہ حقوق کے برابر لایا جائے۔

ہم اپنے سماجی سسٹم کو دیکھیں تو ترقی یافتہ چھ ممالک کو چھوڑ کے باقی دنیا کی طرح ہماری خواتین بھی ان متذکرہ شعبوں میں بہت پیچھے ہیں، پھر جدید پروفیشنل تعلیم، کارپوریٹ کلچر، بڑھتے ہوئے ورکنگ۔وومن۔کلچر، گلوبل چینجز اور آگہی کے پیش نظر اس تحریک کا اثر اب ہمارے معاشرے میں بھی نظر آنے لگا ہے۔

اس تحریک کو چونکہ لبرل طبقہ لیڈ کر رہا ہے اسلئے ہم نے اس کی مبادیات کو سنجیدگی سے دیکھے بغیر اسے ایک مغربی تحریک سمجھ کے یہ طے کرلیا ہے کہ اسے بہر صورت خود سے دور ہی رکھا جائے، حالانکہ یہ ساری باتیں جو حل طلب سمجھی جا رہی ہیں انہیں ہمارا دین بطور خاص موضوع بناتا ہے اور بہت اچھے اور سلجھے ہوئے انداز میں بیان کرتا ہے، ضرورت اس چیز کی ہے کہ اس موضوع کو دینی حوالے سے آشکار کیا جائے نہ کہ حسب روایت اسے بھی آبسکیورینٹیزم کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔

جہاں تک ان کے سلوگنز کا تعلق ہے تو اسے بھی اپنے مذہبی رنگ میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ اس سال کا سلوگن بیلنس۔فار۔بیٹر ہے، اس میں ایسا کونسا مطالبہ ہے جو ہمارا دین پورا نہیں کرتا…؟

اسلامی تعلیمات میں بھی خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں لیکن جب ہم ان حقوق کو چھپا کے رکھیں گے تو بہتے ہوئے پانی کی طرح سماج کا نسوانی فہم پھر لازمی طور پر کسی ڈھلوان کی طرف ہی لڑھکے گا خواہ وہ مغرب کی طرف ہو یا اس سے بھی پرے واقع ہو۔

ان مطالبات میں ایسا کیا ہے جو دینی اعتبار سے اس سلوگن کے تحت آپ نہیں دے سکتے، جب ان مطالبات میں کوئی ناپسندیدہ وجہ نہیں اور ہمارے پاس نظریاتی طور پر نہ کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں تو پھر اس تحریک کو مغرب پسندوں کے ہاتھ میں دینے یا اسے دھکا دینے کی بجائے اپنا لینا چاہیئے تاکہ وہ خلا پیدا نہ ہو جس میں مغربی نظریات جڑ پکڑ سکیں۔

جب یہ جائز حقوق آپ کے اپنے گھر سے ملیں گے تو انہیں باہر کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، اور اگر یہی حقوق مغرب کی معاونت سے ملیں گے تو وہ لازمی طور پر مغرب کے ہی گن گائیں گی۔

یہ کوئی انفرادی سبجیکٹ نہیں جسے ہم اپنی اقدار کی حرمت بچانے کا نام لیکر دبا سکیں گے بلکہ یہ ایک عالمگیر تحریک ہے جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے چل رہی ہے جس کا مطمع نظر ہے کہ 2030 تک اس سیارے کو Parity 50/50 پر مرکوز کیا جائے، یعنی خواتین کی سماجی اور مالی حیثیت کو مردوں کے ہم پلہ کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا اس تحریک کی آواز کو مزید توانا کر رہا ہے، آپ کسی سرگوشی کو تو نظر انداز کر سکتے ہیں مگر کسی ایمپلیفائر کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اسلئے ہمیں سوچنا چاہئے کہ جو چیز دنیا بھر میں سیلیبریٹ ہو رہی ہے، زیادہ دیر تک ہم اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، نہ ہی اس دن یا اس تحریک کو اب نظر انداز کر سکتے ہیں کیونکہ کچھ سال پہلے کی طرح اب یہ محض ایک انفرمیشن نہیں بلکہ یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جو ہر معاشرے میں ایک نظریئے کی طرح جگہ بنا رہی ہے، لہذا اس کے مضمرات کو کاؤنٹر کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جس طرح ریڈ کراس کی اہمیت کے پیش نظر اسلامی دنیا میں اسے قابل قبول بنانے کیلئے ہلالِ احمر کے قالب میں ڈھالا گیا تھا اسی طرح حقوق نسواں کو جنسی آزادی سے علیحدہ کرکے اسلامی اصولوں کے تحت ری۔فریم اور ریفائن کرکے اپنا لیا جائے۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اوپر سے اس تحریک کو اسلامائز کرکے درپردہ اپنا موجودہ رویہ جاری رکھا جائے بلکہ نسوانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے وہ حقیقی قدم اٹھانے چاہئیں جو اسلامی تعلیمات میں موجود ہیں، انہیں سامنے لانے اور صدق دل سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ آبسکیورینٹزم کے تحت وہ چھپا کے رکھنے کی چیز ہے۔

Its the right time to throw out obscurantism from our society.

اس بات میں بھی شک نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارے ہاں اہمیت صرف حقوق نسواں کی ہے، اس قسم کی آزادیٔ نسواں کی کوئی اہمیت نہیں جو مغرب میں رائج ہے، لیکن جب ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہیں گے کہ ہمارے معاشرے میں حق تلفی کی شرح بہت زیادہ ہے اور اسے درست کرنے کیلئے ہمیں اس میدان میں اپنے اصولوں کیساتھ فوری کام شروع کر دینا چاہئے تو پھر نتیجہ وہی ہوگا جس کا مظاہرہ، میرا جسم میری مرضی یا اپنا کھانا خود گرم کرلو، جیسے نعروں کی صورت میں پچھلے سال دیکھنے کو ملا تھا یا اس سال اسی جیسا کچھ نیا سننے کو ملے گا۔

آزاد خیال طبقات نے جس طرح لبرلزم کو پولیوٹ کیا ہے، اسی طرح بدقسمتی سے حقوق نسواں کے معاملات کو بھی سماجی ٹکراؤ کا باعث بنا دیا ہے جو اس جینوئین کاز کو سبوتاژ کرنے کا باعث نہ بھی بنے تو سماجی ٹکراؤ کی وجہ سے ناپسندیدہ ضرور بن جائے گا۔

اسلئے خواتین کے ہاتھ میں ایسے ناپسندیدہ سلوگن کندہ کئے ہوئے پلے۔کارڈ تھمانے والے نادان دوست خواتین و حضرات کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہئے کہ غیرضروری باتوں کو چھوڑ کے صرف انہی باتوں کو اس ایجنڈے میں شامل کریں جو خواتین کے حقیقی مسائل رفع کرنے میں معاون ہوں اور معاشرتی ہیجان یا طبقاتی ٹکراؤ کا باعث نہ بنیں۔

ان حقیقی مسائل کا کچھ تذکرہ اوپر ہو چکا ہے، مزید یہ ہے کہ ایک تازہ تحقیق کے مطابق یورپ میں ورکنگ وومن کی تنخواہیں مردوں کے مقابلے میں پندرہ فیصد تک کم ہیں، یہ معاملہ یورپ میں ترجیحی بنیادوں پر صنفی امتیاز اور استحصال کی علامت قرار دیا گیا ہے اور اس کی بیخ کنی کو چارٹر آف ڈیمانڈ پہ پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ہمارے ہاں بھی یہی صورتحال ہے، بینکنگ سیکٹر، کارپوریٹ صنعتی سیکٹر، آئی۔ٹی، انجینئرنگ اور میڈیکل سیکٹر میں خواتین کی تنخواہیں اور سہولیات کافی حد تک معقول ہیں پھر بھی کام کی نوعیت، پروگریسیو سٹڈی، سکل اپڈیشن اور محنت کے اعتبار سے انہیں مزید بہتر سہولیات پیش کی جانی چاہئیں لیکن نان۔کارپوریٹ سیکٹرز اور تعلیمی میدان میں خدمت گزار خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا، خواتین ٹیچرز بھی کم از کم اتنی ہی تنخواہ اور سہولیات کی حقدار ہیں جو دوسرے سیکٹرز میں دی جا رہی ہیں لیکن پرائیویٹ اور سرکاری دونوں سرکلز میں انہیں بالکل نظر انداز رکھا گیا ہے۔

پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر میں نسبتاً اچھا مشاہرہ دیا جاتا ہے لیکن جدید سکول سسٹمز جس قدر بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں اور پرائیویٹ ٹیچرز کو جس قدر محنت کرنی پڑتی ہے اس کے مقابلے میں تیس پینتیس ہزار تک کی تنخواہ بالکل اَن۔جسٹیفائیڈ ہے، ایسے اسکول سسٹمز میں پرائمری ٹیچر کی تنخواہ پچیس سے پچاس ہزار، مڈل درجے میں پچاس سے پچھتر ہزار اور سیکنڈری و او۔لیول سسٹمز میں پچھتر سے ایک لاکھ روپے تک ہونی چاہئے۔

پرائیویٹ سیکٹرز میں پڑھانے والی ایک ایک ٹیچر کو پانچ پانچ کلاسز دی جاتی ہیں، پھر ان سب کا ہوم ورک چیک کرنے کیلئے گھر جا کے بھی انہیں چار سے چھ گھنٹے تک مسلسل کام کرنا پڑتا ہے، ورکشاپس، ایس او پیز، اسائنمنٹس، نت نئی میتھڈالوجیز اور ذاتی سکل ڈویلپمنٹ اضافی آزار ہیں جو ایک طرف ان کیلئے امور خانہ داری میں مشکلات کا باعث بنتے ہیں تو دوسری طرف صحت کے مسائل کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کی ینگ ٹیچرز کو بھی شولڈر، گردن اور اعصابی تناؤ کا رجحان سوفیصد تک لاحق ہوتا جا رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ صرف بیجا ورک لوڈ ہے، کم تنخواہ میں یہ مشکلات دیگر کسی بھی شعبے کی ورکنگ وومن کو اس قدر درپیش نہیں جتنی کارپوریٹ ٹیچرز کو درپیش ہیں۔

پھر یہ بھی ہے کہ تمام برانڈڈ اسکول سسٹمز نے اپنی پرائمری نرسریز کسی ذیلی برانڈ کے نام سے چلا رکھی ہیں جہاں تنخواہوں کی صورتحال اور بھی مخدوش ہے ایسے تمام اسکول جو بڑے برانڈز کے ذیلی ادارے ہیں وہاں دس پندرہ ہزار سے زیادہ تنخواہ نہیں دی جاتی، اس طبقے کی خواتین کو اپنی مالی ضروریات کیلئے پھر اپنے گھر پہ چار سے چھ گھنٹے تک ٹیوشن پڑھانا پڑتی ہے جو نتیجۃً ویسا ہی آزار ہے جیسا پہلے طبقے کو لاحق ہے۔

اس گفتگو کے آئینے میں یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ پروفیشنل ڈومین۔ز اور خانگی ماحول میں ہر دو طرف خواتین کے حقوق کی ادائیگی یہاں بھی استحصال کی حد تک کم ہے، جائیداد، تعلیم، عزت، تحفظ، اہمیت اور دیگر گھریلو و دفتری معاملات میں بھی ان کا خاطرخواہ حق ادا نہیں کیا جاتا حالانکہ جن معاملات میں شریعت اور سماجی قوانین نے جو جو حقوق وضع کر رکھے ہیں ان معاملات میں انہیں وہ سب حقوق ہر طبقے کے اندر، بلا حیل و حجت اور خندہ پیشانی سے ادا کئے جانے چاہئیں۔

اور اس بات کو سمجھنا بھی کچھ مشکل نہیں کہ آزاد خیال لوگ حقوق نسواں اور آزادیٔ نسواں کو جس طرح سے باہم خلط ملط کر رہے ہیں وہ ان مسائل کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھانے کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کے اندر گھریلو ساخت کو بھی بہت بری طرح سے مجروح کر رہے ہیں۔

سماجی معاملات اُن لایعنی تصورات سے بربادی کی طرف جا رہے ہیں جو آزادی نسواں پر مشتمل ہے، یہ بلاوجہ کا درآمدشدہ وہ زہریلا کنسیپٹ ہے جس نے یورپ میں گھر کا ادارہ اور رشتوں کا احترام بالکل تباہ کر دیا ہے، بدقسمتی سے یہاں بھی اس تحریک کو ایک ایسا طبقہ لیڈ کر رہا ہے جو اپنے مخصوص مقاصد کے تحت اس رجحان کی پرورش بھی کر رہا ہے جس میں نہ صرف مرد و زن کے اختلاط کو روشن خیالی کے نام پر سوشل نارمز کے اوپر فوقیت دی جا رہی ہے بلکہ فرد کی آزادی کے نام پر خواتین کو گھریلو پابندیوں سے آزاد کرانے کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔

تعلیم یافتہ ہونے کا ثبوت ترکی بہ ترکی جواب دینے میں نہیں بلکہ معاملہ فہمی کا ثبوت دینے میں پنہاں ہے لیکن روشن خیالی کے بہکاوے میں آنے والی خواتین کا عائلی زندگی میں خوشگوار سروائیول ایک قسم کے ہتھ چھٹ انداز اور ترکی بہ ترکی زبان درازی کی بنا پر اب نہ ہونے کے برابر ہوتا جا رہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ انہیں احساس زیاں بھی نہیں بلکہ اس معاملے میں روشن خیال مارکیٹ کے اندر ایک نیا آرگومنٹ در آیا ہے کہ مرد کو عقلمند عورت پسند ہی نہیں یا مرد عقلمند عورت کو فیس ہی نہیں کر سکتا۔

ایسا نعرہ بلند کرنیوالوں کو یہ سمجھانا بنتا ہے کہ جب یہ سماج مردانہ عقل سے چل رہا ہے تو مرد میں اتنی عقل بھی موجود ہے کہ وہ اپنے کیرئیر میں جہاں سو قسم کے دیگر عقلمندوں کا مقابلہ کرتا ہے وہاں عقلمند عورت اس کیلئے کوئی بہت بڑا چیلنج نہیں ہے، پھر کہیں کوئی ایک مرد بھی ایسا نہیں ملے گا جو ازدواجی ساتھی کیلئے ترجیحاً کسی احمق عورت کی تلاش میں ہو لہذا اس بوگس آرگومنٹ سے خواتین کو گمراہ کرنے کی بجائے انہیں یہ باور کرانا چاہئے کہ حقیقت صرف یہ ہے کہ جو خواتین مرد کا اعتماد حاصل کرکے کام کرنے کی بجائے اپنی آزاد حیثیت کو اجاگر کرنے کیلئے اپنی مرضی کے سماجی تعلقات بنانے اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کو ترجیح بنا لیتی ہیں وہ اپنا گھر آباد نہیں کر پاتیں، ایسی عقلمند کے بھی کیا کہنے جو فیک تصورات کے پیچھے لگ کے اپنے اصل ڈومین کو سنبھال ہی نہ سکے اور فیس سیونگ کیلئے اس قسم کے احساس برتری پر مبنی نعروں میں پناہ تلاش کرے جن میں کوئی آبرومند مستقبل پنہاں نہیں ہے۔

حقیقت میں خواتین کو احساس برتری، آلتو فالتو حقوق یا مغربی طرز کی آزادیٔ نسواں کیلئے لڑنے کی بجائے آسان نکاح، جہیز سے چھٹکارہ اور ازدواجی زندگی کی مصیبتیں کم کرنے کیلئے ایک ایسے رُول آف بزنس یا میٹریمونیل چارٹر آف ڈیمانڈ کی سخت ضرورت ہے جس میں وہ خانگی زندگی کے اندر سسرال والوں کے اَن-رِٹن-لاز کی چکی میں پسنے سے بچ رہے اور پروفیشنلی جو کچھ کرنا چاہتی ہے اسے شریک حیات کے باہمی اعتماد کیساتھ انجام دے، ہمارے سماج کی خواتین کا یہ بنیادی مسئلہ ہے اور انہیں چاہئے کہ اپنی کوششوں کا دائرہ صرف اسی طرح کے مفید مقاصد کے ارد گرد ہی قائم کریں۔

روشن خیالی کے ذوق میں گرفتار خواتین کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ شادی کے بعد گھر کی رونق اور خاندان کا ادارہ صرف انہی کے دم قدم سے آباد اور قائم و دائم ہے لہذا روشن خیالی کے چکر میں اتنا بھی باہر نہ نکل جائیں کہ واپس گھر جانا مشکل ہو جائے یا خاندان کا ادارہ آپ کی دسترس سے باہر ہو جائے، دوسری طرف مردوں سے بھی گزارش ہے کہ عورت کو بھی انسان سمجھیں اور انہیں مناسب حد تک ہر ضروری رعائیت اور سہولت ضرور دیں جس میں انہیں گھر کے اندر قیدی اور حبس بیجا کا احساس نہ ہو بلکہ آپ کے گھر میں انہیں اپنائیت اور تحفظ کا بھرپور احساس رہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کا مفید استعمال بھی کر سکیں۔

اور بطور خاص اب اس معاشرے کو بھی چاہئے کہ اس تحریک کو مثبت انداز میں ہینڈل کرنے کیلئے اپنے رسم و رواج کو ری۔وزٹ کرکے ان کی خامیوں کو دور کرے جو خواتین کے استحصال کا باعث ہیں جبکہ ہمارا مذہبی و ملکی آئین حقوق نسواں کی مکمل پاسداری کا سبق بھی دیتا ہے، لہذا اس تحریک کو ٹھکرانے کی بجائے ہمیں جرآت مندانہ قدم اٹھانا چاہئے تاکہ کوئی اس تحریک کو مس۔یوز کرکے مزید کسی معاشرتی اپ۔سیٹ کا باعث نہ بنا سکے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: