خالصتان ریفرنڈم 2020، کشمیر اور پاکستان ——- ثمینہ تبسم

0
  • 154
    Shares

“خالصتان اور پاکستان کے تعلقات بالکل امریکہ اور کینیڈا کی طرح ہونگے۔ نہ کوئی بارڈر، نہ ویزہ، فری تجارت، مضبوط معیشت!”

اپنے بیڈ روم سے باہر نکلتے نکلتے میں ٹھٹھک کر رکی اور فوری ردعمل کے طور پہ ٹی وی کی آواز اونچی کر دی۔ ایک بزرگ سکھ لیڈر اپنی تحریک خالصتان کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ 2020 میں دنیا بھر کے سو سے زائد شہروں میں ریفرنڈم کروایا جائے گا تاکہ دنیا بھر میں آباد سکھ کمیونٹی کی رائے لی جا سکے کہ آیا وہ خالصتان کے حق میں ہیں یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ہم انڈیا کی طرف سے کشمیریوں پہ کئے جانے ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم کشمیر کا دکھ سمجھتے ہیں۔ ہم اس مشکل کی گھڑی میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں!

میرے حیران ہونے کی وجہ یہ تھی کہ میرے اپنے شہر برامپٹن میں اتنی بڑی ریلی ہوئی اور میں اس سے بے خبر تھی۔ تقریب کے آخر میں لگنے والے نعروں نے مجھے مزید حیران کر دیا۔

“خالصتان زندہ باد”
“کشمیر زندہ باد”
“پاکستان زندہ باد”

پچھلے کئی دنوں سے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں ہونے والے مظاہروں میں سکھوں اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف اکٹھے احتجاج کرتا دیکھ کر میں چونکی ضرور تھی لیکن اس وقت پاکستان، خالصتان، کشمیر اور کینیڈا کے نام اکٹھے لئے جانا مجھے بدلتے ہوئے وقت کا احساس دلا رہا تھا!

آخر یہ سکھ اور کشمیری اکٹھے کیسے ہو گئے ہیں؟

اپنے ذہن میں بھنبھیری کی طرح گھومتے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لئے میں “گوگل چاچا” کے سامنے آن بیٹھی۔ میں تو صرف چند سوالوں پہ پریشان تھی مگر جب تحریک خالصتان کی تاریخ پڑھنی شروع کی تو گھنٹوں کسی اور بات کا ہوش ہی نہ رہا!

میری عادت ہے کہ جو بات یا موضوع میرے دل کو لگ جائے اسے نظر انداز نہیں کرتی بلکہ اس کی کھوج میں نکل جاتی ہوں۔ میری گھنٹوں کی ریسرچ کا نچوڑ یہ کچھ پوائنٹس ہیں جو میں آپ سے شیئر کر رہی ہوں کہ ایک ٹیچر ہونے کی حیثیت سے میں آنے والے کل کی کھڑکی کھول کر مستقبل کا نظارہ کرنا پسند بھی کرتی ہوں اور اس کی روشنی آپ تک پہنچانا اپنا فرض بھی سمجھتی ہوں !

خالصتان ۔۔۔ کل اور آج!

_ خالصتان انڈین سکھوں کی انڈیا سے آزادی کی سالہاسال پرانی تحریک ہے۔ سکھ چاہتے ہیں کہ وہ انڈین پنجاب میں ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں کشمیر کا کچھ حصہ اور پاکستانی پنجاب کا کچھ حصہ ملا کر اپنا ایک الگ ملک بنائیں۔ وہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت پنجاب کے ٹکڑے کر دیئے جانے پہ شدید صدمے کا شکار ہیں۔

_ انڈیا پاکستان کی تقسیم کے فورا بعد سکھوں کی سیاسی جماعت اکالی دل نے خالصتان کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔

_ 1966 میں اندرا گاندھی نے پنجاب ری اورگنائزیشن ایکٹ پاس کر کے انڈین پنجاب میں ہریانہ اور ہماچل پردیش کو شامل کر کے چندی گڑھ کو اسکا مرکز قرار دے دیا۔

_ 1971میں نارتھ امریکہ اور برطانیہ میں آباد ہو جانے والے سکھوں نے اپنے اپنے شہروں میں تحریک خالصتان کی بنیاد رکھی۔

_ 1973 میں آنند پور صاحب مطالبہ پیش کیا گیا جس کے تحت سکھوں کے مذہبی اور سیاسی مقام کو ہندوؤں سے الگ کر کے سکھ ازم کے تحت مان دینے کا مطالبہ ہوا۔

_ 1979 میں جگجیت سنگھ چوہان نے خالصتان نیشنل کونسل کی بنیاد رکھی۔

_ 1980 میں خالصتان کی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔

_ 1982 0 کی دہائی میں اکالی دل اور جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ نے دھرم ید مورچہ کی بنیاد رکھی تاکہ مل کر آنند پور صاحب مطالبہ کو زندہ کیا جا سکے۔

_ 1980 کی دہائی کا پہلا حصہ سکھوں کے لئے ایک سیاہ دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے سکھوں نے انتقام اور تشدد کا طریقہ اپنایا۔ ہزاروں قتل اور گرفتاریاں ہوئیں۔ یہاں تک کہ انڈین حکومت کی طرف سے پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

_ 1984 میں یکم سے آٹھ جون تک آپریشن بلیو سٹار کے تحت نہ صرف ہزاروں سکھوں کو قتل کر دیا گیا بلکہ ان کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی گئی۔

_ 1984 اکتوبر کی اکتیس تاریخ کو آپریشن بلیو سٹار کا بدلہ لینے کے لئے اندرا گاندھی کو اس کے اپنے سکھ سیکیورٹی گارڈز نے قتل کر دیا۔

_ 1985 میں حالات پہ قابو پانے کے لئے راجیو لونگووال معاہدہ ہوا۔ جس کے تحت سکھوں کی سیاسی، مذہبی، معاشی اور سماجی حیثیت کو تسلیم کیا گیا۔

_ 1985 میں سکھ شدت پسندوں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر ایئر انڈیا کی مانٹریال سے بمبئی جانے والی ایک فلائیٹ کو بم دھماکے سے اڑا دیا جس میں 329 مسافر مارے گئے۔

_ 1986 کے بعد پھر سے معاملات تشدد اور قتل و غارتگری کی طرف چل پڑے اور ملک سے باہر بھی لوگوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔

_ 2001 تک حالات بہت خراب رہے اور سکھوں نے شدت پسندی کا رویہ اپنائے رکھا۔

_2002 میں انڈیا نے الزام لگایا کہ پنجاب میں حالات کی خرابی کے اصل ذمہ دار پاکستان، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں بسنے والے با رسوخ افراد ہیں جو دامے درمے سخنے سکھوں کی مدد کر رہے ہیں۔

_ 2015 میں آپریشن بلیو سٹار کی اکتیسویں سالگرہ کے موقع پر 25 نوجوان سکھوں کی پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے سانحے نے سکھوں کے غم و غصے کو ہوا دی۔

_ 2017 میں کینیڈا کے پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو کے دورہ بھارت پہ ان کے ساتھ سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا کیونکہ انڈین گورنمنٹ کے خیال میں کینیڈا بھارت کو توڑنے کی سازش میں سکھوں کی حمایت اور مدد کرتا ہے۔

_ 2019 آج کا سچ یہ ہے کہ انڈیا سے باہر رہنے کے باوجود ہر سکھ اپنے مذہب اور کلچر سے پوری طرح جڑا ہوا ہے۔ سکھوں کی اکثریت تحریک خالصتان کی حمایت کرتی ہے اور بے چینی سے 2020 کا انتظار کر رہی ہے کہ کب وہ وقت آئے کہ جب وہ اپنے آزاد خالصتان کے حصول کے لیے اپنی طاقت ووٹ کی صورت جمع کر کے دنیا کو احساس دلا سکیں کہ ان کے لئے ان کا آزاد ملک کتنی اہمیت رکھتا ہے۔

تاریخ سکھوں کی جدوجہد کے شواہد اور انڈیا کے مظالم کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ بالکل یہی صورتحال کشمیر میں بھی ہے۔ 1947 کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب انڈیا نے کشمیریوں اور سکھوں کو بار بار ڈسا نہ ہو ۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان عورتوں اور بچیوں کی بے حرمتی اور قتلِ عام روز کا معمول ہیں۔ اس پہ طرفہ تماشہ یہ کہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے سارا زور پاکستان پہ الزام تراشیاں کرنے پہ لگایا جاتا ہے۔ اس رویئے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انسانی ہمدردی کے نام پہ میری تمام دعائیں اور ہمدردیاں اپنی پنجابی اور کشمیری برادری کے ساتھ ہیں!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: