’’آزادی‘‘ اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (3) —– یوول نوح حریری

0
  • 37
    Shares

بہت بڑا ڈیٹا تمہاری نگرانی کر رہا ہے!
لبرل کہانی میں انسان کی آزادی اولین قدر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اختیار ساراکا سارا فرد کے آزاد ارادے سے برآمد ہوتا ہے، جس کا اظہار اس کے جذبات، احساسات، اور خواہشات میں ہوتا ہے۔ سیاست میں، لبرلزم اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ووٹر سے بہتر کسی کی رائے نہیں۔ لہٰذا جمہوری انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ معیشت میں، لبرلزم کا مؤقف ہے کہ گاہک ہمیشہ صحیح ہے۔ اس طرح آزاد منڈی کے اصولوں کی واہ واہ کی جاتی ہے۔ ذاتی معاملات میں، لبرلزم لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ اپنے دل کی سنیں، اپنی آزادی کا بھرپور استعمال کریں، مگر دوسروں کی آزادی میں دخل اندازی سے بچیں۔ یہ شخصی آزادی لبرل انسانی حقوق کی روح ہے۔

مغرب کے سیاسی بیانیہ میں لبرل کی اصطلاح کبھی کبھی زیادہ تنگ دائرے میں استعمال ہوتی ہے، جیسے کچھ لوگ خاص معاملات میں حقوق کی بات کرتے ہیں، جیسے ہم جنس پرستوں میں شادی، ہتھیاروں کی روک تھا اور اسقاط حمل وغیرہ ۔ اکثر نام نہاد قدامت پرست بھی لبرل تصور جہاں تسلیم کرتے ہیں۔ بالخصوص امریکا میں ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس کو جب لڑائی سے فرصت ملتی ہے، یہ ثابت کرتے پھرتے ہیں کہ وہ لبرل اقدار پر زیادہ یقین رکھتے ہیں، جیسے شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ اور انسانی حقوق وغیرہ۔

خاص طور پر ماضی قریب میں دائیں بازو کے ہیروز رونالڈ ریگن اور مارگریٹ تھیچر نہ صرف آزاد معاشی پالیسیوں کے چیمپئن تھے، بلکہ فرد کی آزادی کے معاملات میں بھی کامیاب ثابت ہوئے۔ ۱۹۸۷ کے معروف انٹرویو میں مارگریٹ تھیچر نے کہا تھا ’’معاشرہ نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ بس مردوں اور عورتوں کی ایک زندہ نسل ہے اور ہمارے معیار زندگی کا انحصار اس بات پر ہے اور رہے گا، کہ کون کتنی ذمے داری نبھانے کے لیے تیار ہے۔‘‘

کنزرویٹو جماعت میں تھیچر کے ورثاء لیبر پارٹی کی اس بات سے متفق ہیں کہ سیاسی اختیار فرد کی آزادی سے ہی برآمد ہوتا ہے۔ لہٰذا جب برطانیہ کو یورپی یونین سے علیحدگی کی ضرورت پیش آئی، وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ملکہ ایلزیبتھ یا آرچ بشپ آف کینٹربری سے نہیں پوچھا کہ کیا کرنا ہے؟ یہاں تک کہ پارلیمان سے بھی نہیں پوچھا، بلکہ انہوں نے ریفرنڈم کروایا اور ہر برطانوی سے پوچھ لیا، کہ وہ اس حوالے سے کیا محسوس کرتا ہے؟

شاید آپ کہیں، کہ’’ آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟‘‘ کہ بجائے سوال یہ ہونا چاہیئے تھا، کہ’’ آپ کیا سمجھتے ہیں؟‘‘ مگر یہ عام غلط فہمی ہے۔ ریفرنڈم اور انتخابات ہمیشہ انسانوں کے احساسات سے متعلق ہی ہوتے ہیں، ان کا عقل و شعور سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اگر جمہوری فیصلوں میں کوئی معقولیت ہوتی، تو ہر فرد کو یہ آزادی کبھی نہ دی جاتی، بلکہ ووٹ کا حق دیا ہی نہیں جاتا۔ اس بات کے شواہد عام ہیں، کہ کچھ لوگ دیگر بہت سے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین اور سیاسی شعور کے حامل ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے، جب بات احساسات کی ہو، تو آئن اسٹائن اور رچرڈ ڈاکنز کسی بھی عام آدمی سے برتر نہیں۔ یہ احساسات صرف ووٹرز پر ہی نہیں، سیاستدانوں کی فیصلہ سازی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بریگزٹ ریفرنڈم کے مرحلہ میں جگہ جگہ نظر آیا۔

انسانی احساسات پر ایسا انحصار شاید لبرل جمہوریت کا کمزور پہلو ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بیجنگ میں یا سین فرانسسکو میں اس قابل ہو سکے، کہ لوگوں کے دلوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہیک کر سکے اور اپنی مرضی پر چلا سکے، تو پھر کیا ہو گا؟ جمہوری سیاست محض جمہوری تماشا بن کر رہ جائے گی۔

ایلگوریتھم کیا کہتا ہے؟ سنیے!
فرد کی شخصی آزادی، احساسات اور خواہشات پر لبرلزم کا اعتقاد نہ فطری ہے نہ قدیم ہے۔ ہزاروں سال سے انسانوں کا ایمان رہا ہے کہ حکم صرف آسمانی قوانین کا ہے، اس میں انسانی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اس لیے تقدیس صرف حکم خدا کی ہے۔ فقط چند صدیوں پہلے اختیارات آسمانی دیوتاؤں سے انسانوں کو منتقل ہوئے(۱)۔ جلد یہ اختیارات انسانوں سے ایلگوریتھم کو منتقل ہو جائیں گے۔ جس طرح آسمانی خدائی نے دیوتاؤں کو اختیارات دیے تھے، جس طرح لبرل کہانی نے انسانوں کو اختیارات منتقل کیے، بالکل اسی طرح آنے والا ٹیکنالوجیکل انقلاب شاید بگ ڈیٹا ایلگوریتھم کی اتھارٹی مستحکم کر دے گا اور فرد کی آزادی دفن کر دے گا۔

جیسا کہ گزشتہ باب میں ذکر آ چکا ہے، کہ ہمارے جسم اور دماغ کی سائنسی کارکردگی بتاتی ہے کہ جذبات و احساسات کا کسی روح سے کچھ لینا دینا نہیں، اس سے کوئی آزاد ارادہ برآمد نہیں ہوتا (۲)۔ بلکہ یہ بائیو کیمیکل مکینزم کا نتیجہ ہے یہ طریقہ تمام ممالیہ اور پرندے بقا اور زندگی میں امکانات کے شمار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ احساسات کا بصیرت اور آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا سارا انحصار اعداد و شمار پر ہے۔

جب کوئی بندر، چوہا یا انسان سانپ کو دیکھتا ہے تو خوف زدہ ہو جاتا ہے کیونکہ دماغ کے کروڑوں نیورونز متعلقہ ڈیٹا کا حساب کتاب لگا کر جان لیتے ہیں کہ موت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اخلاقی احساسات جیسے کہ غصہ، شرمندگی اور معافی وغیرہ سب نیورل مکینزم سے برآمد ہوتے ہیں جو انسانی گروہوں میں تعاون و یکجائی کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔ یہ تمام بائیو کیمیکل ایلگوریتھم کروڑوں سال کے ارتقا سے ترقی کی موجودہ شکل اختیار کر سکے ہیں۔ اگر کسی قدیم انسان نے کوئی غلطی کی تو احساسات تشکیل دینے والے جینز نے اگلی نسل میں ان کی منتقلی روک دی۔ اس طرح احساسات معقولیت سے متضاد نہیں بلکہ یہ ارتقائی معقولیت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

ہم عام طور پر یہ سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ احساسات درحقیقت اعداد و شمار کا نتیجہ ہیں۔ کیونکہ ہم ان کے تیز رفتار عمل کو محسوس نہیں کر پاتے اور یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ کوئی پر اسرار آزاد ارادہ ہے جو ہمارے احساسات پیدا کرتا ہے۔ ہمارے احساسات کی تشکیل اور اس کا شماریاتی نظام کائنات کا وہ بہترین فیصلہ ساز پروگرام ہے جو بتاتا ہے کہ آیا ہمیں کیا پڑھنا چاہیے، کس سے شادی کرنی چاہیے اور کس کو ووٹ دینا چاہیے اور کوئی خارجی نظام اس بات کی امید نہیں کر سکتا کہ وہ ہم سے بہتر ہمارے احساس کو سمجھ سکتا ہے۔ تمام عملی مقاصد کے لیے، یہ دلیل معقول ہے کہ کوئی خارجی قوت ہماری خواہشات اور ارادوں کو نہیں جان سکتی، یہی ہمارا آزاد ارادہ ہے۔ اسی دلیل کی بنیاد پر لبرلزم لوگوں کی اس ذہن سازی میں حق بجانب ہے کہ وہ کسی پادری اور سیاسی مداری کے بجائے اپنے دل کی سنیں۔ تاہم جلد کمپیوٹر ایلگوریتھم انسان کی نسبت ان احساسات کا حساب کتاب زیادہ بہتر کر سکیں گے؛ زیادہ بہتر مشورے دے سکیں گے۔ لبرلزم کا آزاد ارادہ ایک دیومالائیت بن کر رہ جائے گا اور اس کے عملی فوائد شاید باقی نہ رہیں۔

ہم اس وقت دو بہت بڑے انقلابات کے درمیان ہیں۔ ایک جانب بائیولوجسٹ انسانی جسم کے اسراروں کا کھوج لگا رہے ہیں۔ خاص طور پر دماغ اور احساسات کا۔ دوسری جانب کمپیوٹر سائنٹسٹ ہمیں ڈیٹا پراسسنگ کی انتہائی بے مثال قوت مہیا کر رہے ہیں۔ جب بائیوٹیک انقلاب انفوٹیک انقلاب میں ضم ہو جائے گا تو یہ بہت بڑا ڈیٹا ایلگوریتھم پیدا کرے گا جو ہمارے احساسات ہم سے بہتر انداز میں سمجھ سکے گا۔ تب شاید اختیارات غالباً انسانوں سے کمپیوٹرز کو منتقل ہو جائیں گے۔ آزاد ارادے سے متعلق ہماری خام خالی ختم ہو جائے گی۔ ادویات کے شعبہ میں یہ پہلے ہی ہو رہا ہے۔ میڈیکل کی دنیا کے اہم ترین فیصلے آج ڈاکٹرز کی مشاورت یا مریض کی کیفیات یا بیماریوں کی نوعیت دیکھ کر نہیں کیے جا رہے بلکہ کمپیوٹرز کے اعداد و شمار پر ہو رہے ہیں جو ہمارے اجسام کا مطالعہ ہم سے بہتر انداز میں کر رہے ہیں۔ چند دہائیوں میں ہمارے بائیو میٹرک ڈیٹا کی مدد سے بگ ایلگوریتھم چوبیس گھنٹے ہماری صحت کی خبر رکھ سکے گا۔ یہ بہت ہی ابتدائی اسٹیج پر انفلوئنزا، کینسر، یا الزایمر کا پتا لگا سکے گا۔ مناسب دوا، خوراک اور دیگر ضروریات سے آگاہ کر سکے گا۔ ہماری مخصوص جسامت، ڈی این اے اور شخصیت کے اعتبار سے رہنمائی کر سکے گا (۳)۔ تاریخ میں پہلی بار لوگ بہترین طبی سہولیات سے بہرہ مند ہو سکیں گے۔ مگر ایک مشکل درپیش ہو گی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی طبی نسخہ ملتا ہی رہے گا کیونکہ ایلگوریتھم جسم میں ہر کمی اور مسئلہ پر نظر رکھے گا اور ٹوکتا رہے گا۔ اگر آپ نے اس کا مشورہ نہ مانا تو ہیلتھ کارڈ بے کار ہو جائے گا۔ جب بائیو میٹرک سینسر کینسر کے چند سیلز کا کھوج لگا کر رپورٹ کر دے گا اور یہ رپورٹ آپ کی والدہ سے لے کر باس تک پہنچ جائے گی، تو پھر آپ کو تمباکو نوشی چھوڑنی ہی پڑے گی۔

فیصلہ سازی کا ڈراما
دوا سازی کے شعبہ میں جو کچھ شروع ہو چکا ہے، وہ اب زیادہ سے زیادہ شعبہ جات میں ہونے جا رہا ہے۔ بائیو میٹرک سینسر کی ایجاد چابی ہے۔ جو لوگ پہن سکتے ہیں یا جسم میں لگوا سکتے ہیں۔ یہ جسم کے حیاتیاتی عمل کو الیکٹرونک معلومات میں ڈھال دیتا ہے۔ اسے کمپیوٹرز ذخیرہ کر سکتے ہیں اور اس کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں۔ بائیو میٹرک ڈیٹا اور کمپیوٹنگ طاقت مل کر انسان کی ساری خواہشات، فیصلے، خیالات اور احساسات ہیک کر سکتے ہیں۔ یہ جان سکتے ہیں کہ درحقیقت کون سا انسان کیا ہے۔ اکثر لوگ خود سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔ ۲۰۵۰ تک شاید ایلگورتھم آپ کو کچھ پر کشش خواتین اور مردوں کی تصاویر دکھائے اور آپ کی آنکھوں کی جنبش کا جائزہ لے، آپ کا بلڈ پریشر نوٹ کرے اور دماغ کی حرکات سمجھے اور پانچ منٹ میں آپ کی پسند آپ کے سامنے پیش کر دے۔ یوں آپ کو بہت سی بورنگ صحبتوں سے بچا لے۔ اگر آپ اس سے بچنا چاہیں گے تب بھی آپ ایمیزون، علی بابا اور سیکرٹ پولیس سے نہیں چھپ سکیں گے۔ جوں ہی آپ ویب استعمال کریں گے، یوٹیوب دیکھیں گے یا سوشل میڈیا پرفیڈ پڑھیں گے، الگوریتھم بہت باریکی سے آپ کا جائزہ لے گا، تجزیہ کرے گا اور کوکا کولا والوں کو بتا دے گا کہ صارف کو ٹھنڈے مشروب کی ضرورت ہے، اس قسم کی معلومات کی قدر و قیمت اربوں ڈالر تک جائے گی۔ جو لوگ خوشی خوشی ایلگوریتھم کی نگرانی قبول کر لیں گے، وہ اچھے مشورے حاصل کر سکیں گے، بہترین فیصلے کر سکیں گے۔ اس کے لیے یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ اپنی خواہش ایلگوریتھم کو بتانے کے بجائے اُسے ہی مشورہ دینے کا موقع دیں کیونکہ وہ آپ کا تجزیہ آپ سے بہتر کر سکے گا۔

انجینئرز ان دنوں ایک ایسا سوفٹ وئیر تیار کر رہے ہیں جو آنکھوں اور چہرے کے پٹھوں کی حرکات سے جذبات و کیفیات معلوم کر سکے۔ ایک اچھا کیمرہ ٹیوی سے منسلک کیجیے اور ایلگوریتھم کو جائزہ لینے دیجیے کہ کس منظر سے آپ پر کیا کیفیت گزرتی ہے۔ اس کے بعد ایلگوریتھم کو بائیو میٹرک سینسر سے منسلک کیجیے، وہ بتا دے گا کہ کس منظر سے دل کی کیا کیفیت ہوئی اور بلڈ پریشر کی صورتحال کیا رہی، دماغ کس مرحلے پر کس طرح کام کر رہا تھا۔

یقیناً الگوریتھم نامکمل ڈیٹا کے سبب مسلسل غلطیاں کرے گا۔ اسے نقص سے پاک ہونے کی ضرورت بھی نہیں۔ بس ضرورت یہ ہے کہ انسانوں سے بہتر فیصلہ سازی کر سکے اور یہ کچھ مشکل نہیں کیونکہ اکثر لوگ خود کو بہتر طریقے سے نہیں سمجھتے اور زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں سنگین غلطیاں کرتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایلگوریتھم کی نسبت انسان ڈیٹا کی کمی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ آپ شاید ایلگوریتھم کی بہت سی خامیاں گنوا دیں اور کہیں کہ لوگ اسے کبھی قبول نہیں کریں گے، یعنی آپ جمہوریت کو دلیل بنائیں گے ۔ مگر جمہوریت کیا ہے؟ ونسٹن چرچل کا مشہور بیان ہے کہ جمہوریت سے بدترین سیاسی نظام کوئی نہیں۔ صحیح یا غلط، لوگ کچھ بھی سوچیں ۔ ہمارے پاس ایلگوریتھم کے سوا کوئی متبادل نظام موجود نہیں۔

جوں جوں سائنسدان انسانی فیصلوں کی حیاتیاتی نوعیت گہرائی میں سمجھ رہے ہیں، ایلگوریتھم پر انحصار کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے حکومتیں اور کارپوریشنز انسانی نظام زندگی کو ہیک کرلیں گی اور ہماری آراء کا انحصار ایلگورتھم کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ ہمیں اس پائلٹ کی طرح الگوریتھم نظام پر بھروسہ کرنا ہو گا جو دوران پرواز مشینی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔

چند ملکوں میں اور چند خاص حالات میں شاید لوگوں پر جبر کیا جائے گا کہ وہ بگ ڈیٹا ایلگوریتھم نظام کے تابع ہو جائیں (۴)۔ ذرا سوچیے، صرف دو دہائیوں میں اربوں لوگ گوگل سرچ انجن ایلگوریتھم پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔ درحقیقت ہم معلومات سرچ نہیں کرتے بلکہ گوگل کرتے ہیں اور ہماری ذاتی قابلیت گھٹتی چلی جاتی ہے۔ آج سچ کا پیمانہ گوگل سرچ انجن ایلگوریتھم بن چکا ہے(۵)۔

ایک بار جب مصنوعی ذہانت ہم سے بہتر فیصلے کرنے لگے گی تو انسانیت کا سارا تصور ہی بدل جائے گا۔ لبرل جمہوریت، عیسائیت اور اسلام کا کیا بنے گا جب فیصلہ سازی انسانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گی؟ (۴)۔ جیسے جیسے فیصلوں کے لیے ہمارا انحصار آرٹیفشل انٹیلجنس پر بڑھتا جائے گا، انسانی زندگی سے فیصلہ سازی کا ڈراما ختم ہو جائے گا۔ سارا نظام ڈیٹا کا بہاؤ بن کر رہ جائے گا۔ ہمارے اجسام بائیو کیمیکل ایلگوریتھم ہو کر رہ جائیں گے۔

فلسفیانہ گاڑی
لوگ شاید اعتراض کریں، کہیں کہ ایلگوریتھم ہمارے لیے کبھی اہم فیصلے نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان فیصلوں کا ایک اخلاقی دائرہ ہوتا ہے اور ایلگوریتھم اخلاقیات نہیں سمجھتے۔ لیکن اب یہ باور کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہ گئی کہ ایلگوریتھم ایسا نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر آج اسمارٹ فون اور خودکار گاڑی جیسے آلات وہ کام کر رہے ہیں جن پر کبھی انسان کی اجارہ داری تھی۔ یہ آلات اخلاقی مسائل سے نمٹ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بچہ کھیلتے کھیلتے اچانک سڑک پر خود کار گاڑی کے سامنے آ جائے تو ایلگوریتھم اعداد و شمار سے اس نتیجے پر پہنچے گا کہ فوری طور پر بچے کو بچانے کے لیے دوسری لین پر منتقل ہو جائے، مگر ایسی صورت میں دوسری لین سے ٹرک سامنے آ گیا تو پچھلی نشست پر سوئے ہوئے گاڑی کے مالک کا بچنا کتنا ممکن ہو گا؟ ستر فیصد ؟ اب ایلگوریتھم کیا کرے گا؟

فلسفی ہزاروں سال سے ’ٹرالی مسائل‘ پر مباحث کر رہے ہیں۔ انہیں ٹرالی مسائل اس لیے کہا جاتا ہے کہ جدید فلسفیانہ مباحث کی ٹیکسٹ بک مثالوں میں اسے ٹرالی کی شکل میں ہی پیش کیا جاتا ہے جو ریلوے ٹریک پر دوڑی چلی جا رہی ہو۔ اب تک ان فلسفیانہ مباحث نے شرمندگی کی حد تک رویوں پر بہت ہی کم اثر مرتب کیا ہے۔ کیونکہ بحرانات کے ادوار میں انسانوں نے فلسفے چھوڑ کر جذبات اور احساسات کی پیروی کی ہے۔

سوشل سائنسز کی تاریخ کا ایک بہت ہی برا تجربہ اُس وقت سامنے آیا، جب دسمبر ۱۹۷۰ میں پرنسٹن تھیولوجیکل سیمینری کے ایک طلبہ گروہ، جو پریسبائٹیرین چرچ میں وزارتوں کے لیے امیدوار تھا، کہا گیا کہ ہر طالب علم قریبی لیکچر ہال تک تیزی سے جائے اور ایک ’اچھے سماروی‘ پر تمثیلی قصہ سنائے۔ ایک ایسے یہودی کا قصہ جسے یروشلم سے اریحا تک سفر کے دوران لوٹ لیا جاتا ہے اور ڈاکو اسے سڑک کنارے زخمی حالت میں چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد وہاں سے ایک یہودی پادری اور لاوی (معاون) گزرتے ہیں مگر وہ زخمی کی کوئی مدد نہیں کرتے۔ ان کے بعد ایک سماروی (ایک یہودی فرقہ جسے انتہائی حقارت سے دیکھا چاہتا ہے) وہاں سے گزرتا ہے اور زخمی کی مدد کرتا ہے۔ اس قصے کا اخلاقی سبق یہ تھا کہ لوگوں کو اُن کے عمدہ اعمال کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے، فرقہ اور مذہبی وابستگی پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ ہر طالب علم بڑے جوش میں لیکچر ہال تک پہنچا اور بہتر سے بہتر انداز میں یہ قصہ سنایا۔ تجربہ کرنے والوں نے ہال کے رستے میں ایک بہروپیا بٹھا دیا جو بدحالی اور بیماری کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ اکثر طلبہ نے رک کر اس کی مدد تو درکنار حال تک نہ پوچھا، بلکہ خستہ حال بیمار سے بچتے بچاتے ہال تک پہنچے۔ ہال تک جلد از جلد پہنچنے کے جذبے نے اُن میں مدد کا جذبہ دبا دیا تھا۔ اس تجربے میں یہ سب نا کام ہوئے تھے۔

انسانوں نے فلسفیانہ موشگافیوں اور اخلاقیات کے بے شمار کلیات گھڑ کر تاریخ کو مثالیوں سے بوجھل بنا دیا ہے۔ حقیقی مثالی رویے کم ہی سامنے آئے۔ کتنے عیسائی ہیں جو اپنا دوسرا گال بھی آگے کر دیتے ہیں؟ کتنے بدھ بھکشو ہیں جو انانیت کے فریب سے آزاد ہوئے ہوں؟ اور کتنے یہودی ہیں جو اپنے پڑوسیوں سے وہی سلوک کرتے ہیں جو سلوک وہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں؟

یہی ہے فطرت کا وہ چناؤ جس نے انسانوں کو تشکیل دیا ہے۔ ممالیہ کی طرح انسان بھی زندگی اور موت کے فیصلے تیزی سے کرتے ہیں۔ ہم نے غصہ، شہوت اور خوف کروڑوں آباؤ اجداد سے میراث میں پایا ہے۔ جو فطرت کے چناؤ میں ’کوالٹی کنٹرول‘ سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے کوئی بہتری نہیں آئی۔ ذہنی تناؤ سے پریشان اور غصیلے ڈرائیور ہر سال دس لاکھ لوگوں کو صرف ٹریفک حادثات میں مار دیتے ہیں۔ مذکورہ دو مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخلاقیات کے عملی مظاہر بڑے مسائل سے دوچار رہے ہیں(۷)۔

جب کہ کمپیوٹر ایلگوریتھم کے ساتھ کوئی اخلاقی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ فطرت کے کسی چناؤ کا نتیجہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے کوئی جذبات ہوتے ہیں۔ اس لیے بحران کے لمحات میں ایلگوریتھم انسانوں سے بہتر اخلاقیات کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہر خودکار گاڑی ایک جیسی اخلاقی ہدایات پر کاربند ہو گی اور حادثات کے خدشات کی شرح ڈرامائی حد تک کم ہو جائے گی۔ اس طرح اخلاقیات کا فلسفہ انجینئرنگ کا مسئلہ بن جائے گا (اخلاقیات انجینئرڈ کی جائیں گی۔ مترجم)۔

فلسفی ایلگوریتھم سے یقیناً غلطیاں ہوں گی۔ بہت سے لوگ زخمی ہوں گے۔ راہگیر مر جائیں گے۔ قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔ پہلی بار ایسا ہو گا کہ آپ کسی فلسفی ایلگوریتھم کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ایلگوریتھم کو صرف انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانی ہے۔ یہ منطق صرف ڈرائیونگ تک ہی نہیں، دیگر کئی معاملات میں بھی یہ اسی طرح صادق آتی ہے۔ مثال کے طور پر نوکریوں کی درخواستوں میں سے بہترین کے انتخاب کے لیے ایلگوریتھم کی مدد زیادہ مفید ہو گی۔ کیونکہ یہ ہر تعصب اور جانب داری سے آزاد ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اخلاقی ہدایات کی پروگرامنگ کے لیے فلسفیوں کی کافی اسامیاں مستقبل میں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ڈیجیٹل آمریت
مصنوعی ذہانت عموماً لوگوں کو ڈرا دیتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تابعدار نہیں۔ سائنس فکشن فلموں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ روبوٹ اپنے ہی مالکان کے خلاف میدان میں اتر آئے۔ سڑکوں پر نکل آئے۔ قتل عام شروع کر دیا حالانکہ حقیقت بالکل برعکس ہے۔ روبوٹ ہمیشہ تابع رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے مالک چڑ جائیں۔ جب تک روبوٹ نیک دل مالکان کی اندھی تابعداری کریں، کوئی غلط بات نہیں۔ یہاں تک کہ حالت جنگ پہلی بار ایسا ہو گا کہ (ایلگوریتھم) اخلاقیات میدان جنگ میں عملاً نظر آئیں گی۔ انسان جذبات اور غصے میں آ کر مفتوحین کو پائمال کرتے ہیں۔ ان کا استحصال کرتے ہیں۔ مگر ایلگوریتھم روبوٹ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ انہیں ذاتی خوف یا نفرت کا خدشہ ہی نہیں ہو گا۔

اس کے باوجود ہمیں قاتل روبوٹس تیار کرنے سے پہلے یہ یاد رکھنا ہو گا کہ یہ ہمیشہ اپنے کوڈ آف کنڈکٹ پر چلتے ہیں۔ جب تک یہ کوڈ صبر و برداشت اور نیک عملی پر مبنی ہوں گے روبوٹ ایک انسانی فوجی کا بہتر متبادل ہو گا۔ لیکن اگر یہ کوڈ ظلم و جبر اور استحصال پر مبنی ہوا تو تباہی آ جائے گی۔ روبوٹ کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ اُن کی مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ ان کے مالکان کی مکارانہ اور ظالمانہ ذہنیت ہو سکتی ہے۔ ایسے قاتل روبوٹوں سے مسلح ظالم آمر بہت تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے کبھی یہ خوف نہیں ہو گا کہ روبوٹ کبھی بغاوت کر سکیں گے، خواہ وہ کتنے ہی احمقانہ احکامات ان پر مسلط کرے۔(۸)

یہ خطرہ قاتل مشینوں تک محدود نہیں رہے گا۔ جاسوسی کا نظام بھی اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اچھی حکومت کے تحت سرویلنس ایلگوریتھم بہت ہی پسندیدہ نتائج سامنے لا سکتے ہیں۔ مگر یہی بگ ڈیٹا مستقبل کے بگ برادر کے لیے مددگار بھی ہو سکتا ہے۔ یوں آر ویلین سرویلنس سسٹم شاید ہر شہری کی جاسوسی پر منتج ہو۔

درحقیقت یہ معاملہ شاید آر ویل نظام کے تصور سے بھی ماورا ہو۔ ایک ایسی حکومت جو نہ صرف ہم سب کی خارجی سرگرمیوں پر نگراں ہو بلکہ داخلی زندگی میں بھی دخیل ہو۔ ممکن ہے کہ ایسی کوئی حکومت ہر شہری کو بائیو میٹرک ڈیوائس پہننے یا نصب کرنے پر مجبور کرے۔ مثال کے طور پر فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے (غالبا غزہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں) کا سارا ڈیٹا اسرائیل کی گرفت میں ہے۔ جب یہاں سے کوئی فون کال ملاتا ہے یا سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ کرتا ہے، اسرائیلی مائیکروفونز، اسپائی سوفٹ وئیر، ڈرونزکی گرفت میں سارا ڈیٹا آ جاتا ہے، اور اسے چیک کیا جاتا ہے۔ یہی وہ انفوٹیک ہے کہ تھوڑے سے اسرائیلی فوجی بغیر جانی نقصان پچیس لاکھ فلسطینیوں پر قابو رکھتے ہیں۔

بیسویں صدی کے اواخر میں جمہوریتوں نے آمریتوں کو پچھاڑ دیا۔ اس کی وجہ بہتر ڈیٹا پراسیسنگ تھی۔ معلومات اور فیصلے لوگوں اور اداروں کے درمیان رہ کر کیے گئے۔ جب کہ آمریتوں نے معلومات اور ڈیٹا پراسیسنگ کو ایک ہی مقام پر محصور کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ سوویت یونین نے امریکا کے مقابلے میں بُرے فیصلے کیے۔ یہی وجہ تھی کہ روسی معیشت امریکی معیشت سے آگے نہ نکل سکی۔

تاہم اب ایلگوریتھم صورتحال کا رخ پلٹ دے گا۔ یہ ممکن ہو سکے گا کہ معلومات کا ذخیرہ بہت کم وقت میں ایک ہی جگہ جمع کیا جا سکے گا۔ مصنوعی ذہانت اب نظاموں کو مرکزیت عطا کرے گا۔ جیسے ہی ایلگوریتھم ہمیں بہتر انداز میں سمجھنے لگیں گے۔ آمرانہ حکومتیں شہریوں پر بھرپور کنٹرول حاصل کر سکیں گی۔ ان حکومتوں کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت یکسر نا کام ہو جائے گی۔ یہ حکومت نہ صرف جان سکے گی کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں بلکہ وہ آپ کو وہ کچھ محسوس کرنے پر مجبور کرے گی جو وہ چاہے گی۔ جمہوریت اپنی موجودہ حالت میں زندہ نہیں رہ پائے گی۔ لوگ ڈیجیٹل ڈکٹیٹرشپ میں زندگی گزارنے کے عادی ہو جائیں گے۔

مصنوعی ذہانت اور فطری حماقت
یہاں خوشی کی ایک خبر یہ ہے کہ چند دہائیوں تک آرٹیفشل انٹیلی جنس کی ٖڈراؤنی رات سے ہمارا پالا نہیں پڑنے والا۔ اس دوران اس بات کا خطرہ نہیں کہ انسانیت صفحہ ہستی سے ہی مٹا دی جائے گی یا غلام بنا لی جائے گی۔ فی الحال ہم ایلگوریتھم سے کام لینا شروع کریں گے۔ وہ ابھی انسانوں پر بالادستی کی حیثیت میں نہیں ہیں۔ مصنوعی ذہانت میں احساس و شعور کبھی بھی پیدا نہیں ہو گا۔

یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ذہانت اور شعور و احساس بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ آرٹیفشل انٹیلی جنس کبھی بھی باشعور یا حساس نہیں ہو سکتے۔ ذہانت میں مسائل حل کرنے کی اہلیت ہوتی ہے جبکہ شعور غم، خوشی، درد، محبت وغیرہ محسوس کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہم نہیں جانتے ہو سکتا ہے کہ آرٹیفشل انٹیلی جنس شعور کی کوئی صورت اپنے لیے پیدا کر لے!

ہماری علمی حالت ابھی ایسی نہیں کہ ہم کوئی باشعور کمپیوٹر سسٹم ایجاد کر سکیں۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کو کافی عرصہ تک انسانی شعور سے کام چلانا پڑے گا۔ مگر انسان کی حماقتیں مشینی ذہانت سے کام لے کر دنیا کو تباہی تک لے جا سکتی ہیں (حقیقت میں تو یہی ہوتا رہا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی نے فطری تہذیب میں کافی بگاڑ پیدا کیا ہے۔ (مترجم)

صرف ڈیجیٹل آمریت کا خطرہ ہی ہمارا منتظر نہیں۔ بگ ڈیٹا ایلگوریتھم شاید آزادی بھی ختم کر دے۔ یہ شاید معاشروں میں انتہائی عدم برابری پیدا کر دے۔ تمام دولت اور طاقت شاید چند عالمی اشرافیہ کے ہاتھوں میں چلی جائے۔ جب کہ اکثریت استحصال کے کرب سے بھی دوچار نہ ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یعنی ’لا تعلقی‘ کے بحران میں مبتلا کر دی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی
۱۔ یہ دعوٰی بے بنیاد ہے، آج بھی انسانوں کی اکثریت خدا پرست ہے اور احکام الٰہی کو ہی حتمی حکم مانتی ہے۔ پروفیسر ہراری کے مطالعہ میں مسلسل یہ محسوس ہوتا ہے جیسے یورپ اور امریکا دنیا کی اکثریتی آبادی ہے جبکہ باقی دنیا معمولی سی اقلیت ہے۔

۲۔یہ سائنسی توجیح ہے دلیل قاطع نہیں۔ اس لیے اس کا درجہ محض دعوے کا ہے جسے قبول عام حاصل نہیں ہے۔

۳۔میڈیکل کی دنیا میں یہ ترقی واقعی انقلاب ثابت ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر موذی امراض کے ضمن میں انتہائی مفید ہوسکتی ہے۔

۴۔ نئے جبری ورلڈ آرڈر کے لیے ذہن سازی کا سا اسلوب ہے ۔

۵۔ کافی مبالغہ آرائی محسوس ہوتی ہے۔ یقینا گوگل معلومات کے لیے سب سے بڑا سرچ انجن ہوگا، لیکن اس کا ڈیٹا بھی انسان ہی مرتب کرتے ہیں اور آپریٹ کرتے ہیں۔ کم از کم مشرقی اور مذہبی معاشروں میں گوگل سچ کا پیمانہ ہرگز نہیں ہے۔ لوگ اسے معلومات کا ذریعہ ضرور سمجھتے ہیں مگر پروفیسر کی طرح کوئی مقدس صحیفہ نہیں سمجھتے۔ اس کتاب میں مصنف کا سائنس ٹیکنالوجی پر اندھا ایمان جا بہ جا ملے گا جو سراسر نامعقول رویہ ہے ، مگر مشکل یہ ہے کہ عالمی اشرافیہ کا رویہ یہی ہے اور مفاد بھی اسی میں ہے، اور ممکنہ ایجنڈے کی روح بھی یہی ہے۔

۶۔اسلام کے حوالے سے یہ کہنا ہی سراسر غلط فہمی ہے کہ فیصلہ سازی انسانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گی کیونکہ مسلمان کی فیصلہ سازی امر الٰہی کی پیروی میں ہوتی ہے۔ لہٰذا جب تک وہ ہوش وحواس میں ہے کسی بھی دوسری قوت کو یہ حق نہیں دے سکتا۔ جبر کی بات اور ہے ۔ ظلم وجبر سے تو آج بھی انسانوں کی زندگی کم عذاب میں نہیں ہے۔

۷۔ یہاں تضاد ہے۔ چند پیراگراف پیچھے مصنف انسان کی ارتقائی معقولیت کے معترف لگ رہے تھے کہ’’اخلاقی احساسات جیسے کہ غصہ، شرمندگی اورمعافی وغیرہ سب نیورل مکینزم سے برآمد ہوتے ہیںجوانسانی گروہوں میں تعاون ویکجائی کے امکانات بڑھادیتے ہیں۔ یہ تمام بائیوکیمیکل ایلگوریتھم کروڑوں سال کے ارتقا سے ترقی کی موجودہ شکل اختیار کرسکے ہیں۔ اگر کسی قدیم انسان نے کوئی غلطی کی تواحساسات تشکیل دینے والے جینزنے اگلی نسل میں ان کی منتقلی روک دی۔ اس طرح احساسات معقولیت سے متضاد نہیں بلکہ یہ ارتقائی معقولیت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ ‘‘

۸۔ اس مقام پر انسان کی ایل گوریتھم پر بالادستی صاف محسوس ہوتی ہے۔ دلیل یہاں دوہرے پن کا شکار ہے۔

ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

پہلا باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

دوسرے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

(Visited 364 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: