تکمیل ِتاریخ کا مقدمہ ——- عمر ابراہیم

0
  • 89
    Shares

ہر انسان، خاندان، معاشرہ، قوم، اور تہذیب کا بنیادی اور فطری حق ہے، کہ تاریخ سے اتنی آگاہ ہویا کی جائے، کہ حال کی حکمت اور مستقبل کی راہ عمل طے کرسکے۔ اگر یہ بنیادی اور فطری حق حاصل نہ ہو، توکائنات اور انسان کا وجود نامکمل اور بے معنی ٹھہرے گا۔ زندگی کی تصویرنامکمل رہے گی، ناقابل فہم رہے گی۔

مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ کائنات اور انسان دونوں نہ صرف با معنی اور بامقصد ہیں، بلکہ تاریخ سے شعوری لاشعوری طور پر وابستہ اور آگاہ بھی ہیں۔ وہ کیسے؟ یہ سوال کچھ اور سوالوں کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ یوں ‘تکمیل ِتاریخ’ کا مقدمہ اور مدعا واضح ہوسکے گا۔ سوال یہ ہیں: تاریخ جاننے کے کون سے ذرائع انسانوں کو حاصل ہیں؟ ان ذرائع کی نوعیت کیا ہے؟ ان کے ماخذات اور کیفیات کیا ہیں؟ کیا یہ ذرائع انسان کا بنیادی اور فطری حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں؟ اور یہ کہ، ان کے اثرات اور نتائج کیا ہیں؟

تاریخ سے آگاہی کے دو بنیادی ذرائع ہیں:
ایک علم وحی دوسرا انسانی علم؛ دیگر ذرائع علم ان کی ذیل میں آتے ہیں۔ انسانی علم کے دائرے میں کم سے کم چھ اور زیادہ سے زیادہ دس ہزار سال کی تاریخ کسی قدر واضح ہوسکی ہے، اس دائرے سے باہر صرف اعداد و شمار، اندازے، مماثلتیں، ظن و قیاس اور آثار ہی آثارہیں؛ اس کے علاوہ اربوں سال کا تخلیقی ارتقاء ہے، جس میں کوئی تسلسل کوئی ربط نہیں، کوئی یقینی بات کوئی یقینی علم نہیں۔ جبکہ علم وحی کی تاریخ زمان و مکاں کی وسعتوں پر محیط ہے۔ انسان کیلیے ماضی کی عبرت، مستقبل کی ہدایت، اورحال کی حکمت عملی ہے۔ یہاں کائنات کی تخلیق و توسیع کابیان ہے، یہاں انسان کی پیدائش کا واقعہ ہے، قوموں کا ارتقاء ہے، تہذیبوں کا عروج و زوال ہے، زندگی کا آغاز ہے، اور زندگی کا انجام ہے، اور انسانی اعمال کی اہمیت اور جوابدہی ہے۔ اہل مذہب دونوں ذرائع استعمال کرتے ہیں، اول اور حتمی درجہ علم وحی کو قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اہل دنیا کا کل انحصار انسانی علم و عقل پرہے۔

تاریخ کی تحقیق تین مراحل میں ذرائع کی صراحت کرتی ہے: براہ راست Primary Source بلواسطہ Secondary Source اور توضیحی و تجزیاتی Tertiary Source انسانی ذرائع ماخذات تک رسائی کیلئے آثار قدیمہ، غاروں کے نقش ونگار، قدیم برتن، دیو مالائی کہانیاں، رزمیہ داستانیں، اور سرکاری دستاویزات وغیرہ کا مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں، ان کی عمرکا اندازہ لگاتے ہیں۔ نقش ونگار، تحریر، علامات، اور تاثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہر شعبہ متعلقہ چیزیں لیکر الگ ہوجاتا ہے، اور صرف اسی پہلو پر تحقیق کرتا ہے، اس طرح تاریخ حیاتیات، تاریخ فنون لطیفہ، تاریخ مذاہب، اور تاریخ اقوام وغیرہ وغیرہ مرتب ہوتی ہیں۔ تاریخ سے آگاہی کے جتنے بھی انسانی ذرائع ہیں، وہ چند ہزار سال ماضی تک بلا واسطہ اور بلواسطہ تعاون کرتے ہیں، تاریخ جوں جوں ہزاروں سے لاکھوں، کروڑوں، اور اربوں سال ماضی میں گُم ہوتی ہے، یہ ذرائع بھی یقین سے قیاس، اور قیاس سے گمان میں گُم ہوجاتے ہیں۔

یوں، انسانی علم کے ذرائع، ان سوالوں کے جواب دینے میں یکسر ناکام ہیں، کہ کائنات کی اصل کیا ہے؟ انسان کی اصل کیا ہے؟ تمام موجودات کی اصل کیا ہے؟ تاریخ سے واقفیت کے جتنے انسانی ذرائع ہیں، وہ سب ’شاید‘، ’غالبا‘، ’تقریبا‘، اور ’اندازا‘ پرانحصار کرتے ہیں۔ انسانی ذرائع کا سب سے بڑا نقص یہ ہے، کہ ہر دور کے انسانوں کی ضرورت پوری نہیں کرتے، یعنی جدید انسانی ذرائع ماقبل جدید اور قبل مسیح، اور ماقبل تاریخ کے انسانوں کی کوئی علمی مدد نہیں کرسکے، ان ادوار میں انسانی علم کا سکہ کہیں نہیں چلتا۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟ ان ادوار کے انسان اور معاشرے کیا تاریخ سے نا واقف ہی رہے؟ کیا اس دور سے پہلے انسانی تاریخ کا سارا سفر لاعلمی اور دور جہالت سے عبارت تھا؟

نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ بلکہ یہ سارا عہد انسانی تہذیبوں کی پیدائش اور تشکیل کا تھا۔ تاریخ کے عظیم الشان ابواب اسی دور میں رقم ہوئے۔ یقینا تاریخ سے واقفیت کے ذرائع ہر دور میں موجود رہے، مگر یہ ذرائع انسانی نہیں تھے، بلکہ مذہبی ذرائع تھے۔

علم وحی کے مراحل انبیاء رسل اوران کی تعلیمات، اہل ایمان، اورابتدائی دو ذرائع کی تشریحات و تفاسیر، اور ان سے اخذشدہ عقائد پر مبنی ہیں۔ یہاں عموما یہ ہوا کہ علم وحی تیسرے مرحلہ میں مسخ کیا گیا، اور پھر نئی نبوتوں اور رسالتوں کی ضرورتیں پیش آتی رہیں، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انسانی معاشرے طویل عرصہ تک کسی بھی ہدایت یا تعلیم سے یکسر محروم رکھے گئے ہوں۔ یہاں تک کہ انسانی علم و تاریخ کی تکمیل فیصلہ آگیا۔ بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہوئی، اور قرآن حکیم نازل ہوا۔ انسانوں کا نظام حیات (دین) اسلام حتمی قرار دے دیا گیا۔ ماضی حال اور مستقبل کی تواریخ، تعلیمات، اور حتمی ہدایات پہنچادی گئیں۔

مذہبی اور انسانی، دونوں ذرائع علم کا کل انحصار ایمانیات پر ہے۔ انسانی علم عقل و مشاہدے، اور تجربے و حسیات پر ایمان رکھتا ہے۔ جبکہ مذہبی ذرائع وحی الٰہی اور تعلیمات انبیاء پرایمان رکھتے ہیں، اور ان کا مکمل فہم بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایک جانب فلسفی اور سائنس دان ہیں، دوسری جانب انبیاء و رسل، صالحین، اور حکماء ہیں۔ انسان پرستی کی عمر بہ مشکل پانچ صدیوں پر پھیلی ہے، جبکہ خدا پرستی آدم علیہ سلام تک، یعنی پہلے انسان سے شروع ہوتی ہے۔ یوں تکمیل تاریخ کا فہم علم وحی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ قطعی طور پر جھوٹ ہے کہ سائنس کائنات یا انسان کی اصل سے مکمل طور پر واقف ہوچکی ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، سائنس پرست صرف سائنسی طریقہ تحقیق پر ایمان رکھتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس میں بھی انہیں کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ مسلمان حکماء (سائنس دان) اس معاملہ میں بھی سیکڑوں سال مقدم رہے ہیں۔ جدید عملی سائنس کی بنیادیں عباسی بغداد اور مسلم اندلس میں رکھی گئی تھیں۔

تکمیل تاریخِ کا مقدمہ محض انسانی علم پرمستحکم نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ کسی بھی سوال کے اطمینان بخش جواب سے عاجز ہے۔ جبکہ علم وحی اور اس کا مکمل انسانی فہم ’تاریخ کی ضروری تفصیل ہر دور میں بہم پہچاتا رہا ہے، اور قرآن کامل پر یہ مقدمہ مکمل ہوچکا ہے۔ یہ تاریخ کی تکمیل کا الہی اعلان ہے۔

عبدالرحمان ابن خلدون اسی عہد (پیدائش: 1332ء -وفات: 1406ء) سے تعلق رکھتے ہیں، وہ نہ صرف عالم اسلام کے مشہور و معروف مورخ، فقیہ، فلسفی اور سیاستدان تھے، بلکہ علم تاریخ نویسی، علم عمرانیات، اور علم معاشیات میں جدید اسلوب کے بانی ہیں۔ انہوں نے العبر کے نام سے مسلمانوں کی تاریخ لکھی تھی جو دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ مقدمتہ فی التاریخ ہے جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاسیات، عمرانیات، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے، یہ مقدمہ تاریخ عالم کی وہ نرسری ہے، جہاںسے بعد کے ہراہم مؤرخ نے اکتساب علم کیا ہے۔ جدید سائنس کی طرح جدید تاریخ نویسی بھی تحقیق واسلوب میں ابن خلدون کی مرہون منت رہی ہے۔ تاریخ نویسی کے اس اولین عالم کی تاریخ ایک مذہبی محقق کی تاریخ ہے، جہاں علم وحی کا درجہ اولین ہے۔ اہل مذہب ہوں یا اہل دنیا، تاریخ نویسی کیلیے جب ابن خلدون کا رخ کرتے ہیں، تو علم وحی سے ہی بسم اللہ کرتے ہیں۔ جس کے بعد مقدمہ یوں شروع ہوتا ہے،

’’بندہ جو اللہ کا فقیر ہے اور اس کے لطف و کرم کا محتاج ہے، عبدالرحمان بن محمد بن خلدون حضرمی عرض پرداز ہے کہ ہر طرح کی تعریفیں اللہ جل شانہ کیلئے ہی ہیں۔ اصل میں عزت و کبریائی اس کی صفات عالیہ ہیں۔ وہ ایسا عالم ہے کہ جس سے نہ سرگوشی کی باتیں پوشیدہ ہیں اور نہ وہ باتیں جن کو خاموشی چھپاتی ہے۔ وہ ایسا قادر ہے کہ آسمان و زمین کی کوئی چیز اسے عاجز نہیں کرسکتی اور نہ اس کی قدرت سے کوئی شے باہر ہے۔ اس نے ہمیں جاندار مٹی سے پیدا کیا اور اسی نے ہمیں زمین پر نسلوں اور قوموں کی صورت میں بسایا۔ اسی نے ہمارے لیے روزیاں اور حصے آسان بنائے۔ ہمارے لیے فنا ہے، اور بقاء و پائیداری صرف اسی رب کائنات کو زیبا ہے۔ اصل میں وہی زندہ ہے، جسے موت نہیں۔ ‘‘

اہل دنیا کی تاریخ کا آغاز کس طرح ہوتا ہے، یہ اقتباس بھرپور ترجمانی کرتا ہے،

’’زندگی کا کہیں کوئی آغاز نہیں، اور اگر کوئی اختتام ہے تو ہماری نظر میں نہیں۔ ہم سب ہمیشہ سے درمیان میں ہیں، ہمارے سارے سلسلے لاپتہ ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا مقام نہیں ملتا، جہاں سے زندگی شروع ہوئی ہو۔ کہیں زندگی کا کوئی شرارہ نہیں ملتا۔ ۔ ۔ کسی زندگی کا کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا۔ تمام مخلوقات کی چار جہتیں ہیں۔ سب خلاء میںمعلق ہیں۔ وقت کے دھارے میں بہہ رہے ہیں۔ درحقیقت صرف وہی ٹھہرے ہوئے ہیں جو مردہ ہیں۔ ہمارے آباؤاجداد کا وہ سلسلہ جو نامعلوم ماضی تک چلاجاتا ہے، اس سے پیچھے یہ دو ٹانگوں والوں، اور پھر چوپایوں تک پہنچتا ہے، وہاں سے خطرناک درندوں میں جانکلتا ہے، اس سے پہلے یہ سمندری نباتات میں کہیں پایا جاتا ہے، اور پھر کسی سمندری چٹان میں منجمد ملتا ہے۔ بات چار ارب سال پیچھے چلی جاتی ہے۔‘‘

(Chapter One, Abrief History of Everyone Who Ever Lived by Adam Rutherford)
ایڈم رتھر فورڈ کا یہ اعتراف لا علمی، انسانی علم کی وہ کیفیت واضح کررہا ہے، جوجدید مغربی تواریخ پرطاری ہے۔ یہ بے معنویت اور بے مقصدیت سے عبارت ہے، جس کی کوئی تہذیبی بنیاد نہیں، کوئی معتبر پہچان نہیں، کوئی معزز مقام نہیں، کوئی آغاز کوئی انجام نہیں۔

دونوں ذرائع تاریخ کے ماخذات وکیفیات قدرے واضح ہیں۔ ان کے مابین تکمیل تاریخ کے تعین کا ایک اور مشاہداتی وتجربی طریقہ بھی ہے، وہ یہ کہ انسانی دنیا پران کے اثرات ونتائج کا جائزہ لیا جائے۔ آغاز سے پندرہویں صدی تک کا دور عظیم تہذیبوں کی پیدائش، بلوغت، اور استحکام کا ہے۔ یہ انسانی معاشرہ سازی کا تعمیری عہد ہے۔ یہ نظری و عملی علوم کی ترویج کا سنہرا دور ہے۔ جبکہ پندرہویں صدی سے اکیسویں صدی تک، انسانی تہذیب مجموعی طور پر زوال پذیر ہے۔ انسان کی قدرو قیمت کچھ نہیں رہ گئی، مال پرستی اور سائنس پرستی نے تہذیب کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ پندرہویں صدی تک انسان کے مستقبل پر ایسی بے یقینی کا شائبہ تک نہ تھا، جو آج تمام تر نام نہاد ترقی کے باوجود اپنا بھرپور وجود رکھتا ہے۔

لہٰذا، تکمیل تاریخِ کا مقدمہ محض انسانی علم پرمستحکم نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ کسی بھی سوال کے اطمینان بخش جواب سے عاجز ہے۔ جبکہ علم وحی اور اس کا مکمل انسانی فہم ’تاریخ کی ضروری تفصیل ہر دور میں بہم پہچاتا رہا ہے، اور قرآن کامل پر یہ مقدمہ مکمل ہوچکا ہے۔ یہ تاریخ کی تکمیل کا الہی اعلان ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہے، وہ علم قرآنی کی تشریح و تفسیر ہے، بیان القرآن کی صراحت و توضیح ہے۔ اب ہم جسے تاریخ کہتے ہیں، وہ صرف قرآن کی تفہیم و تفصیل ہے۔ تکمیل تاریخ کی تعریف اس کے سوا کچھ نہیں کہ جو کچھ علم وحی سے اکتساب علم ہو، اسے قابل فہم بنایا جائے، اور ہرانسان تک پہنچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیئے: مغرب کے تصور تاریخ کا اختتام؟ —- عمر ابراہیم
(Visited 242 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20