عورت: کیسا دن، کیسی رات؟ ——— ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 30
    Shares

کتنا برا لگتا ہے خود کو باربار یہ یقین دلانا کہ میں عورت ہوں۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یہ احساس دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ آخر اس دن کو منانے کا مقصد کیا ہے؟ یہ سوال جب بھی کچے ذہنوں میں آیا ہے تو جواب یہی دیا گیا کہ ظلم کی چکی میں پسنے والی عورت کو انصاف دیا جائے۔ افسوس ہم نے عورت کو کتنے ہی خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ ورنہ تو دنیا میں ہر طرح کی عورت پائی جاتی ہے، اچھی، بہت اچھی اور بہت ہی اچھی۔ احساس کرنے والی، قربانی دینے والی، تخلیق کا حصہ بننے والی اور سب سے بڑھ کر ستی ہو جانے والی۔ ستی کی رسم تو ماضی میں منائی جاتی تھی، کتنا مشکل تھا خاوند نامی شخص کے لیے جلتی بلتی چتا میں کود جانا یا شاید اسے دھکا دینا۔ ان سردار جی کی طرح جو ریل گاڑی کے دروازے پر کھڑے تھے کہ ایک سواری لٹک گئی، چاروں طرف شور مچ گیا، بچاؤ بچاؤ، بچاؤ۔ کافی دیر بعد ٹرین کی زنجیر کھینچ کر اسے روکا گیا، لوگ تالیاں پیٹتے ہوئے سردار جی سے پوچھنے لگے کہ انھوں نے سواری کی جان کیسے بچائی۔ سردار جی غصے سے تلملاتے ہوئے بولے: ’’پہلے یہ بتاؤ مجھے دھکا کس نے دیا تھا۔‘‘ ستی کی رسم آج بھی برقرار ہے بس منظر نامہ بدل گیا ہے۔

آپ جوان ہیں، حسین ہیں، خود مختار ہیں، سونے پر سہاگہ برسر روزگار بھی ہیں لیکن آپ کو اپنی مرضی کا اختیار نہیں۔ لفظ مرضی سے سب کے ذہنوں میں شادی کا خیال آ جاتا ہے جو بالکل درست ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی عمروں کی نبضوں پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ بہت سی خواتین کو زمانے کی کاٹ دار زبانوں سے بچنے کے لیے بے جوڑ شادیوں کا طوق بھی گلے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ زمانہ خوش ہو جائے ہماری خیر ہے۔ کتنے ہی کام دنیا کو آباد رکھنے کے لیے کرنا پڑتے ہیں۔ آپ کی شادی نہیں ہوئی، نہیں جی۔ کیوں؟؟؟ پتہ نہیں۔ ہا۔ ہائے۔ ۔ ۔ اس ہاہو کار مچانے والے کو بتانا پڑتا ہے کہ میں جیتی جاگتی عورت ہوں۔

میری شادی ہو گئی ہے۔ ۔ ۔ لیکن آپ تو بیوہ ہیں۔ ہاں جی لیکن اب نہیں۔ سننے والے پر یہ خبر بجلی بن کر گرتی ہے اور زمانہ اس عورت سے جینے کا حق چھین لیتا ہے۔ بیوہ عورتوں کے لیے تو خصوصی طور پر پھانسی گھاٹ بنا دیے گئے ہیں جن پر روزانہ کئی بار انھیں لٹکایا جاتاہے۔ اگر کوئی دہائی دے کہ میں بھی عورت ہوں، جواب میں کہاجاتاہے کہ بیوہ کو دوسری شادی نہیں کرنی چاہیے۔ بچے رل جائیں گے اور وہ جو دل رل رہا ہے، جان فنا ہو رہی ہے اس پر نو کمنٹس۔ مرد چاہے تو اسی سال کی عمر میں نوعمر لڑکی سے شادی رچا لے، اس کی خیر ہے کیونکہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ درحقیقت اسے عورت بڑھاپے کی سرحد پار نہیں کرنے دیتی۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں، ایک منہ توڑ جواب دینے والے اور دوسرے منہ کی کھانے والے۔ ۔ ۔ اور ان دونوں کے آگے کھڑی ہے عورت۔ آج کی عورت بھی محکوم ہے، کیوں؟ وجہ وہ سب مرد ہیں جو ہمارے وجود کا حصہ بنتے ہیں اور پھر ہم انھیں اپنی صنف کے پر کترنا سکھا دیتے ہیں۔ پہلے ہم ٹارگٹ دکھاتے ہیں، برسوں پرورش کرتے ہیں۔ جب بدتمیزی کی فصل تیار ہو جاتی ہے تو کاٹ کر بیج دوبارہ بو دیا جاتاہے۔ ماں کی ہلہ شیری سے لبریز مرد تشدد انھی عورتوں پر کرتے ہیں جنھوں نے اپنی ماؤں کے بال باپ کے ہاتھ میں دیکھے ہوں۔ روکنے والی بھی کہتی ہیں: ’’تُن کے رکھ۔ شیر بن شیر۔‘‘ پھر شیر کی باقی نسلیں دیکھتی ہیں کہ اس کی دھاڑ اور پچھاڑ کیا ہے۔  اگرچہ میں عورت ہوں لیکن میرا استعمال گالیوں میں خوب مہارت سے کیا جاتاہے۔ سامنے والے کو دندان شکن جواب دینے کے لیے جب تک اس کی ماں بہن کا تذکرہ نہ کیا جائے مزہ نہیں آتا۔ آدھی جنگ تو اس دشنام طرازی سے ہی جیت لی جاتی ہے۔ ایک اصطلاح بہت خوبصورت ہے، عزت دار۔ مجھے آج تک اس لفظ کی سمجھ نہیں آئی یعنی اس کی جانچ کا کوئی پیمانہ ایجاد نہیں ہوا لیکن نظروں نے فیصلہ سنا دیا کہ سامنے والی عزت دار ہے یا نہیں۔

کل میرے بیٹے نے بھی اچانک فیصلہ سنایا کہ عورتیں روتی ہیں، مرد نہیں روتے۔ دل تو چاہا کہ فرنٹ سیٹ پر چوکڑی مار کر بیٹھنے کے جرم میں اسے دو لگا کر رلا دوں لیکن پھر سوچا ماں بیٹے میں کیا ضد، کیا متکا۔ مرد تو مرد ہی ہوتاہے چاہے اتنا سا گولڈ لیف کے پیکٹ جتنا بھی ہو، ہے تو مرد ہی۔ اسلام میں مرد کو رونے کی اجازت ہے یا نہیں، کیا اس کا فتویٰ لینے کی بھی ضرورت ہے؟؟؟

ویسے آج کل ایک نعرہ مستانہ بھی خاصا خواب ناک ہے، میرا جسم میری مرضی۔ جسے سن کر روشن خیال مرد بھی سٹپٹا جاتے ہیں۔ اس میں تھوڑی ترمیم کی ضرورت ہے، جیسا کہ میرا جسم تیری مرضی۔ مردانہ تشفی کے لیے اس کا مظاہرہ بھی کم و بیش ہر عورت کرلیتی ہے۔ ویسے میں پہلے نعرے کے حق میں بھی نہیں ہوں جو حقوق نسواں کے نام پر بھیک کی طرح چوراہوں پر لٹکا دیا گیا ہے۔

میں عورت ہوں، مجھے زندہ رہنے کا احساس چاہیے۔ کوئی پیار سے سراہ لے، کندھے پر تھپکی دے دے۔ دن بھر کی تھکن متشکر نظریں دیکھ کر ہی ٹوٹ جائے۔ تخلیق کے کرب میں جاگتے جسم کے سارے درد دم توڑ جائیں اگر کوئی سوئیوں لگے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دے۔ زندگی سفر سے شروع ہو کر ہم سفر پر ختم ہوجاتی ہے لیکن توجہ کی عدم دستیابی روح چھلنی کر دیتی ہے۔ عورت کی ایک دن کی زندگی مرد کی سو دن کی زندگی پر بھاری ہے۔ جاب کرنے والی عورتیں تو تمغہ حسن کارکردگی کی مستحق ہیں جن کے کاندھوں پر مشقتوں کا ہل بندھا ہوا ہے۔ گھر سنبھالنے والیوں کے حوصلوں کو سو توپوں کی سلامی جنھیں اپنا آپ منوانے کے لیے وہ سارے ہنر آزمانے پڑتے ہیں جنھیں دنیا مکر کے نام سے یاد کرتی ہے۔ توجہ کی طالب ہر آنکھ ہے لیکن دریا سب کو سیراب نہیں کرتا۔  نامہ بر تو ہی بتا، تو نے تو دیکھے ہوں گے کیسے ہوتے ہیں وہ خط، جن کے جواب آتے ہیں؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: