ٹھیلے والی لڑکی —– مطربہ شیخ کا افسانہ

1
  • 214
    Shares

فوقیہ نے گھر کے کام جلدی جلدی نبٹائے، اور پھر پرس اٹھا کر گھر سے باہر نکلی، اس نے آج بیوٹی سیلون سے وقت لیا ہوا تھا، اپنے اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اتر کر وہ سامنے موجود بلڈنگ کی طرف بڑھی جس میں ایک بیوٹی سیلون، ایک بوتیک اور ایک سلمنگ سینٹر قائم تھا، جب سے وہ شادی ہو کر اس اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوئی تھی، اس سیلون میں باقاعدگی سے آتی تھی اور نہ صرف سیلون کی انچارج بلکہ سلمنگ سینٹر اور بوتیک کی مالکہ سے بھی اسکی اچھی سلام دعا تھی، اور ان تینوں کا آپس میں بھی ایکا تھا، کئ سال سے وہ اپنے کاروبار اسی طرح ایکے کے ساتھ کر رہی تھیں، قریب پہنچنے پر وہ چونکی۔ ایک جدیدقسم کا ٹھیلہ جس پر مختلف پھلوں اور چنے کی چاٹ وغیرہ رکھے تھے موجود تھا، ٹھیلے کے ساتھ ایک لڑکی کھڑی تھی، فوقیہ نے خاموشی سے دیکھا اور سیلون کی بیل بجا دی، دروازہ کھلنے پر وہ اندر داخل ہو گئ، ارے آو آو، سیلون کی انچارج نوین نے پرجوش استقبال کیا، لیکن فوقیہ نے سوال شروع کردیئے یہ ٹھیلہ اور لڑکی، تم تینوں تو کسی کی گاڑی سامنے کھڑی برداشت نہیں کر سکتیں کجا کہ یہ اتنا بڑا کارٹ وہ بھی لڑکی کے ساتھ، نوین ہنسنے لگی، بے چاری کو جاب کی ضرورت تھی، لیکن ہم تینوں کے پاس ہی گنجائش نہیں ہے اور ہر لڑکی سیلون کا کام ہی سیکھے گی کیا، ہم نے اسکو یہ چاٹ کا کاروبار سیٹ کر دیا ہے، اسکو روزگار بھی مل گیا ہے اور ہم لوگوں کو بھی آسانی ہو گئ ہے، اور تم جیسی چٹوریوں کو بھی اچھی صاف سھتری چاٹ کھانے کو ملے گی، ابھی منگواتی ہوں تمھارے لئے فروٹ چاٹ، نوین کھکھلائ، لیکن مجھے اعتراض ہے، اسطرح رش لگے گا، اور اوباش لوگ بھی کھڑے ہونے لگیں گے، گارڈ بھی تو رکھا ہوا ہے ہم نے، کوئ نہیں کھڑا ہو سکے گا، ہم نے سختی سے سمجھا دیا ہے۔ کہ سب کو پارسل دو، کوئ ضرورت نہیں کسی سے غیر ضروری بات کرنے کی۔ بہت مجبور ہے، تین بہنیں، ماں۔ کوئ سہارا نہیں، باپ بیٹیاں پیدا کر کے چھوڑ گیا، بہت محنتی ماں۔ بیٹیاں ہیں۔ بچپن سے کام کر رہی ہیں، سمجھدار بہت ہے، تم چاہو تو مدد کر سکتی ہو چند ہزار روپے سے، ٹھیک ہے فوقیہ نے کہا، وہ مطمئن نہیں ہوئی تھی لیکن چپ رہی، مختلف سروسز اور بال سیٹ کروا کر جب وہ تین گھنٹے کے بعد باہر نکلی تو ٹھیلے کے قریب ایک آدمی کھڑا چاٹ لے رہا تھا، جب تک وہ لڑکی چاٹ بنا کر دیتی، اس آدمی نے با آواز بلند گنگنانا اور کھجانا شروع کر دیا، فوقیہ کا خون کھول گیا، وہ واپس سیلون میں گھسی اور باآواز بلند نوین سے بولی دیکھو میں نے کہا تھا تم سے کہ رش ہو گا، اور لوگوں کو موقع ملے گا، نوین کو ہنسی آگئ، ہنسو مت، فوقیہ غرائی، تمھارا گارڈ باہر کھڑا ہے، لیکن وہ بھی اسکو منع نہیں کر رہا، نوین نے باہر جھانکا، بس چلا گیا وہ، اچھا میں گارڈ کو سمجھا دونگی، کہ کسی کو گنگنانے اور کھجانے نہ دے، تم سیریس نہیں لے رہی ہو، مجھے یہ خوف ہے کہ لڑکی کو کوئی نقصان پہنچائے اور تم لوگوں پر بات آئے، نوین سنجیدہ ہو گئ، تھوڑے پیسے کما لے، پھر ہم نے سوچا ہے کسی قریبی بلڈنگ میں اسکو جگہ دلوا دیں گے، ابھی کہاں سے دلوائیں، ہم تو خود محنت کش ہیں، رحم کرو یار، تم ایسی تو نہیں ہو، مائی ڈئیر رحم ہی کر رہی ہوں، مجھے شدید افسوس ہو رہا ہے، کہ میں اسکے لئے کچھ کر نہیں سکتی، اپنی قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ مل کر کچھ رقم جمع کر لو، ہم ضرور کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں، بے بس محسوس کرنے کے علاوہ، ہاں یہ ٹھیک کہا، فوقیہ کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑے، میں بات کرتی ہوں، شاباش بس یہی کام کرو، غصہ نہیں کرو، اتنی محنت سے فیشل ہوا ہے، فوقیہ مسکرادی، اور باہر نکل کر صرف اسکی مدد کرنے کی خاطر دو پلیٹ چاٹ بنانے کے لئے کہا، اس دوران اسکا جائزہ لیا، کافی خوش شکل تھی، بے داغ رنگت اور جوانی کی اٹھان، عمر یہی کوئ بیس سال ہو گی، لیکن ہاتھ مشاقی سے کام کر رہے تھے، فوقیہ کوترس آیا، اور سوچنے لگی، کیا یہ ساری زندگی اسی طرح چاٹ بیچے گی، جیسے کہ نوین ساری زندگی دوسری خواتین کو سنوارتی رہی ہے، خود کبھی نہیں سنور سکی ہے، نوین کی شادی نہیں ہوئی تھی، وہ بھی بیس سال کی عمر سے اس سیلون میں آئ تھی، سیلون کی مالکہ نے اسکو مہارت کی انتہاء پر پہنچا دیا۔ مختلف کورسز کروائے، اور خود دوسرے علاقوں میں سیلون کی شاخیں کھولتی رہی، نوین دوسری شاخوں میں لڑکیوں کو ٹریننگ دیتے اور اپنی شاخ پر آنے والی اپنی ہی جیسی خواتین کے نخرے اٹھاتےاٹھاتے پچاس برس کی ہو گئ تھی، فوقیہ نے اس سے ایک بار پوچھا، شادی کیوں نہیں کی، تو نوین مسکرائ، کسی نے کروائ ہی نہیں، گھر کے حالات کمانے کا کہتے رہے اور باجی نے کہا، شادی کرو گی تو تمھارا میاں بھی تمھاری کمائ کھائے گا، جیسے میرا میاں کھاتا ہے اسلئے زندگی خود گزارو، اور مصروف رہو، یہ تو کوئی بات نہ ہوئ، غلط کہا تمھاری باجی نے، باتیں تو بس باتیں ہوتی ہیں، کیا صحیح کیا غلط، بس زندگی گزر رہی ہے، میں مطمئن ہوں، ویسے بھی ایسے آدمی سے شادی کیوں کرتی جو مجھ سے میرے پیسے کی خاطر شادی کرتا، گویا میری ذات کی کوئی اہمیت ہی نہیں، فوقیہ نے بحث مناسب نہیں سمجھی تھی، یہ لیں باجی، لڑکی کی آواز پر وہ چونکی، اور چاٹ لے کر پیسے دیئے اور گھر واپس آ گئ۔

گھر کے کاموں اور بچوں کی باتوں میں وہ سب بھول گئ، ہاں آتے جاتے اسکی نظر جب بھی ٹھیلے پر پڑتی یا جب بھی وہ سیلون جاتی، ٹھیلے والی لڑکی کی مدد کے لئے پر عزم ہوتی لیکن گھر واپسی پر سب بھول جاتی نہ ہی اپنی کزنز اور سہیلیوں سے ذکر کیا تھا، ایک دن وہ میاں اور بچوں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں ڈنر کرنے گئ، وہاں اسکو ٹھیلے والی لڑکی ایک خوش شکل نوجوان کے ساتھ نظر آئ وہ دونوں اپنے آپ میں مگن بیٹھے تھے، لڑکا دھیمے دھیمے مستقل باتیں کر رہا تھا، اور وہ بس مسکرائے جا رہی تھی، فوقیہ کو وہ لڑکا دیکھا ہوا لگا، لیکن اسکو یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے، وہ اسی ادھیڑبن میں رہی، کہ قریب جائے اور پوچھے بلکہ ڈانٹے کہ تم یہ کیا گل کھلا رہی ہو، لیکن میاں کے ڈر سے اسکی ہمت نہیں ہوئ، ویسے ہی ایک بار میاں نے ٹوک دیا تھا کہ کہاں گم ہو بچوں کو کھلاو، جب تک وہ کھانا کھاتے، ٹھیلے والی لڑکی اور لڑکا کھا پی کر نکل گئے۔

فوقیہ نے سوچ لیا صبح ہر حال میں سیلون جا کر نوین کو بتائے گی۔ لیکن گھر کی مصروفیات میں لگ کر وہ سیلون جانے کا وقت نہیں نکال سکی، تین چار دن کے بعد جب اسے ایک تقریب میں جانے کے لئے میک اپ کروانے کی ضرورت پڑی تو وہ شام کے وقت سیلون پہنچی تو ٹھیلے پر لڑکی موجود نہیں تھی، اسے یاد آیا کہ اسے نوین کو بتانا تھا، جیسے ہی دروازہ کھلا وہ تیزی سے اندر داخل ہوئ، لیکن نوین نظر نہ آئ، اس نے ورکر لڑکی سے کہا، نوین کو فورا بلاو، وہ تو آج نہیں آئ ہیں، انکےگھر میں کچھ مسئلہ ہو گیا ہے، آپ بتائیں، کیا کروانا ہے، فوقیہ نے کوئ بھی بات کرنی مناسب نہیں سمجھی۔ خاموشی سے میک اپ کروا کر تقریب میں چلی گئ۔

ہفتہ گزر گیا، فوقیہ گروسری لینے نکلی، واپسی پر اسکو ٹھیلے والی لڑکی نظر آئ جو اسی لڑکے کے ساتھ بائیک پر جا رہی تھی، فوقیہ نے ڈرائیور سے کہا گاڑی اس بائیک کے پیچھے لگاو جلدی، ڈرائیور نے حکم کی تعمیل کی، لیکن موٹر بائیک تو اسکے اپارٹمنٹ والی سڑک پر ہی مڑ گئ، اور تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ بھی بائیک کے پیچھے سیلون کے سامنے ہی رک گئے۔ لڑکے نے سیلون کی بیل دی، اور لڑکی اندر داخل ہو گئ، لڑکا خود باہر ہی بائیک پر بیٹھ گیا۔ فوقیہ بھی گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوئ، تو دیکھا، نوین ماتھے پر بل لئے موجود تھی، اور لڑکی شائد کسی اندرونی کمرے میں تھی، نوین نے فوقیہ کو توجہ نہیں دی، بلکہ ورکرز پر چیخنا شروع کر دیا کہ جلدی جلدی کام ختم کرو، عصر کے بعد کلوز کریں گے، اور ایک کمرے میں گھس گئ، فوقیہ چپ چاپ بیٹھ گئ۔ کیا کروانا ہے تم کو، بالاآخر کافی دیر کے بعد نوین کمرے سے نکلی اور اسکو بیٹھا دیکھ کر چونکی، کچھ نہیں کروانا ایک ضرور ی بات کرنی ہے، آرام سے بیٹھ جاو، یار وقت نہیں ہے، تم دیکھ رہی ہو، کسٹمرز ہیں، عصر کے بعد کلوز کرنا ہے، گھر میں ایک تقریب ہے، یہ ٹھیلے والی اندر کیا کر رہی ہے کیا اسکو کام سکھانا شروع کر دیا، نوین پھٹ پڑی کاش یہی کام سکھاتی، تم ٹھیک کہتی تھیں، بلاوجہ باہر کھڑا کیا اسکو میرے بھائ کو پھنسا لیا اس نے، آج نکاح کررہے ہیں دونوں کا۔ اوہ تو یہ تمھارا بھائ ہے تب ہی کہوں دیکھا بھالا لگ رہا، یہ تو اچھی بات ہے فوقیہ بے ساختہ بول پڑی، خاک اچھی بات ہے شریف لڑکیوں کے یہ لچھن ہوتے ہیں بھلا، آنکھ مٹکا کر کے شادی کرنا، میرا بھائ مجھے چھوڑنے آتا تھا، تاڑ لیا اس نے اور مالک بن گئ اسکی، فوقیہ کو حیرت ہوئ، ایسا نہ کہو وہ واقعی شریف ہی ہے، تمھارا بھائ متوجہ ہو گیا تو کیا ہوا، آخر تم نے اسکی شادی کرنی ہی تو تھی، اچھا ہوا پسند سے کر دی، لڑکی تمھاری احسان مند رہے گی، اسلئے تھوڑی اسکی مدد کی تھی کہ ہمارے گھر گھس کر بیٹھ جائے، اوہو مائ ڈئیر، اس وقت تم کو رحم دل ہونے کی ضرورت ہے، آخر وہ ایک لڑکی ہے، اسکا بھی دل ہے اور وہ بھی گھر بنانے اور بسانے کی خواہش رکھتی ہو گی، اگر اس نے کوشش کر لی تو برا نہیں کیا، آخر وہ اور کیا کرتی، کیا ساری زندگی اسی طرح ٹھیلے پر کھڑی رہتی، جب کہ نہ ہی میں نے اور نہ ہی کسی اور نے اسکی مدد کے لئے کوئ دکان وغیرہ کا بندوبست کیا، ہاں آٹھ مہینے ہو گئے تھے، نوین نے کہا اور دھپ سے بیٹھ گئ، لیکن ہمارا بھائ ہمارا سہارا ہے، اس نے چھین لیا، یہ تمھاری سوچ ہے، وہ کہاں جائے گی چھین کر، نہ ہی تمھارے بھائ کی اتنی آمدنی ہے کہ وہ تم سے الگ ہو گا، بے فکر رہو، تم سے چھوٹا ہے بہناپے کے رعب اور پیار میں رکھو، موقع ہی کہ دینا کہ وہ الگ ہونے کا سوچے، اسی لئے تو شادی کر دی کہ کم بخت مزید گل نہ کھلائیں، قابو ہی نہیں جذبات پر، فوقیہ کو ہنسی آگئ، چلو شرافت سے نکاح کر رہے یہ اچھی بات ہے، اتنے میں دروازے کی بیل بجی، نوین نے دروازہ کھولا، بوتیک کی مالکہ روبی دو شاندار جوڑے لے کر اندر داخل ہوئ، یہ لو نوین بھائ کا شادی کا تحفہ، دلہن اور تمھارا جوڑا، آخر دولہا کی بڑی بہن ہو، نوین نے کہا اس تکلف کی کیا ضرورت تھی، کیوں نہیں تھی، کیا پرانے کپڑے پہنو گی بھائ کی شادی پر، ایسی بھی کیا سادگی بلکہ کنجوسی، وہ ہنسی، نوین نے منہ بنایا۔ موقع ہی نہیں دیا جلد بازوں نے، فوقیہ اور روبی کھکھلا کر ہنسیں۔ روبی بولی، نوین خرانٹ نند نہ بنو، خوشی خوشی بھائ کی شادی کرو۔ جس طرح تم اسکی مدد کرنے کے لئے پیش پیش تھیں اسی طرح شادی بھی خوشی خوشی کرو تاکہ تمھارے گھر میں بھی خوشیاں پھیلیں، بہاروں کے لئے کے راستے کھلیں، نوین مسکراتی ہوئ جوڑا لے کر کمرے کی طرف بڑھی، فوقیہ نے روبی سے کہا، سب خواتین کو آپکی طرح معاون و مددگار ہونا چاہیئے، روبی مسکرائ، تم کو بھی ضرور کوئ تحفہ دینا چاہیئے، میں جا رہی ہوں تحفہ اور مٹھائ لینے، بلکہ میں تو آج وومن ڈے کا کیک لے کر آئ تھی، گاڑی میں ہی رکھا رہ گیا اس قضیے میں، ابھی لاتی ہوں، سلمنگ سینٹر کی بیل بھی بجا دینا، وہاں کی ورکرز کو ہی بلا لوکچھ ہلا گلا ہی کر لیں، نوین نے تو حد کر دی سب کچھ اتنی خاموشی سے۔ فوقیہ ہنستے ہوئے باہر نکل آئ، باہر نکل کر اس نے خالی ٹھیلے کو دیکھا اور طمانیت کا سانس لیا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: